مسنداحمد

Musnad Ahmad

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان

۔ (۱۳۰۶۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِتَقُمِ السَّاعَۃُ وَ ثَوْبُہُمَا بَیْنَہُمَا لَایَطْوِیَانِہِ وَلَایَتَبَایَعَانِہِ، وَلْتَقُمِ السَّاعَۃُ وَقَدْ حَلَبَ لِقْحَتَہُ وَلَایَطْعَمُھَا، وَلَتَقُمُ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ لُقْمَتَہُ اِلٰی فِیْہِ وَلَایَطْعَمُہَا، وَلْتَقُمِ السَّاعَۃُ وَالرَّجُلُ یَلِیْطُ حَوْضَہُ لَایَسْقِیْ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۸۸۱۰)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو آدمی کپڑے کی خرید و فروخت کر رہے ہوں گے، ان کے سامنے کپڑا پڑا ہوگا، لیکن نہ وہ اسے لپیٹ سکیں گے اور نہ بیع پوری ہو گی کہ قیامت برپا ہو جائے گی، ایک ایک آدمی اونٹنی کا دودھ دوہ چکا ہوگا، مگر ابھی تک اسے پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی، اسی طرح ایک آدمی اپنے منہ کی طرف لقمہ اٹھائے گا، لیکن ابھی تک کھائے گا نہیں کہ قیامت برپا ہو جائے گی اور ایک آدمی اپنے حوض کو پلستر کر رہاہو گا، مگر اس سے پانی پینے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔

۔ (۱۳۰۶۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَتْرُکُوْنَ الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی خَیْرِ مَا کَانَتْ عَلَیْہِ لَایَغْشَاھَا اِلَّا الْعَوَافِیْ۔)) قَالَ: یُرِیْدُ عَوَافِیَ السِّبَاعِ وَالطَّیْرِ ((وَآخِرُ مَنْ یُّحْشَرُ رَاعِیَانِ مِنْ مُّزَیْنَۃَیَنْعِقَانِ بِغَنَمِہِمَا فَیَجِدَانِھَا وُحُوْشًا حَتّٰی اِذَا بَلَغَا ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ حُشِرَا عَلٰی وُجُوْھِہِمَا اَوْ خَرَّا عَلٰی وُجُوْھِہِمَا۔)) (مسند احمد: ۷۱۹۳)

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا: لوگ مدینہ کو خیر آباد کہہ دیں گے، حالانکہ وہ ان کے لیے سب سے بہتر ہو گا، (درندے اور پرندے جیسے) روزی کے متلاشی جانور اس کو اپنی آماجگاہ بنا لیں گے، سب سے آخر میں مزینہ قبیلے کے دو چرواہے اپنی بکریوں کو ڈانٹتے للکارتے مدینہ کی طرف آئیں گے، (جب پہنچیں گے تو) اسے اجاڑ اور ویران پائیں گا، جب وہ ثنیۂ وداع تک پہنچیں گے تو چہروں کے بل ان کو اکٹھا کیا جائے گا یا چہروں کے بل وہ گر پڑیں گے۔

۔ (۱۳۰۶۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقْبِضُ اللّٰہُ الْاَرْضَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَیَطْوِی السَّمَائَ بِیَمِیْنِہِ ثُمَّ یَقُوْلُ: اَنَا الْمَلِکُ اَیْنَ مُلُوْکُ الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۸۸۵۰)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس زمین کو اپنی مٹھی میں بند کر لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، زمین والے بادشاہ کہاں ہیں؟