مسنداحمد

Musnad Ahmad

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان


۔ (۱۳۰۶۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقْبِضُ اللّٰہُ الْاَرْضَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَیَطْوِی السَّمَائَ بِیَمِیْنِہِ ثُمَّ یَقُوْلُ: اَنَا الْمَلِکُ اَیْنَ مُلُوْکُ الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۸۸۵۰)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس زمین کو اپنی مٹھی میں بند کر لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، زمین والے بادشاہ کہاں ہیں؟

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۳۰۶۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۱۹، ومسلم: ۲۷۸۷ (انظر: ۸۸۶۳)