مسنداحمد

Musnad Ahmad

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

جہنم والوںکی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات

۔ (۱۳۰۸۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: یَاآدَمُ! قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، فَیَقُوْلُ: لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ فِیْیَدَیْکِ،یَا رَبِّ! وَمَا بَعْثُ النَّارِ، قَالَ: مِنْ کُلِّ اَلْفٍ تِسْعَمِائَۃٍ وَ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ، قَالَ: فَحِیْنَئِذٍیَشِیْبُ الْمَوْلُوْدُ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرٰی النَّاسَ سُکَارٰی وَمَا ھُمْ بِسُکَارٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ۔)) قَالَ: فَیَقُوْلُ: فَاَیُّنَا ذٰلِکَ الْوَاحِدُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تِسْعَمِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ مِنْ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ وَمِنْکُمْ وَاحِدٌ۔)) قَالَ: فَقَالَ النَّاسُ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَفَلَاتَرْضَوْنَ اَنْ تَکُوْنُوْا رُبُعَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَاللّٰہِ! اِنِّی لَاَرْجُوْ اَنْ تَکُوْنُوْا رُبُعَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ، وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاَرْجُوْ اَنْ تَکُوْنُوْا ثُلُثَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ، وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لاَرْجُوْ اَنْ تَکُوْنُوْا نِصْفَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَکَبَّرَ النَّاسُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَااَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ فِی النَّاسِ اِلَّا کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَائِ فِی الثَّوْرِ الْاَسْوَدِ اَوْ کَالشَّعْرَۃِ السَّوْدَائِ فِی الثَّوْرِ الْاَبْیَضِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۰۴)

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم! اٹھ کر جہنم کا حصہ الگ کرو، وہ کہیں گے: اے میرے ربّ! میں حاضر ہوں، ہر بھلائی تیرے ہاتھ میںہے، جہنم کا حصہ کتنا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ہزار میں نو سو ننانوے ۔ اس وقت (گھبراہٹ کا ایسا عالم طاری ہو گا کہ) بچے بوڑھے بن جائیں گے،ہر حاملہ اپنے حمل کو گرادے گی اور لوگ بے ہوش دکھائی دیں گے، حالانکہ وہ بے ہوش نہیں ہوں گے، درحقیقت اللہ تعالیٰ کا عذاب شدید اور سخت ہوگا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! نجات پانے والا وہ ایک آدمی ہم میں سے کون ہوگا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (یاجوج ماجوج کی تعداداتنی زیادہ ہو گی کہ) نو سو ننانوے افراد ان سے ہوں گے اور تم میں سے ایک ہو گا۔ یہ سن کر صحابہ کرام نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ جنت میں ایک چوتھائی تعداد تمہاری ہو گی، اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ جنت میں ایک چوتھائی تعداد تمہاری ہوگی، اللہ کی قسم ! مجھے تو یہ امید ہے کہ جنت میں ایک تہائی تعداد تمہاری ہوگی، اللہ کی قسم! بلکہ مجھے تو یہ امید ہے کہ جنت میں نصف تعداد تمہاری ہوگی۔ یہ سن کر صحابہ کرام نے خوشی سے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن دوسرے لوگوں کے بہ نسبت تمہاری تعداد یوں گی، جیسے سیاہ رنگ کے بیل کے جسم پر معمولی سفید بال ہوتے ہیں یا سفید رنگ کے بیل کے جسم پر سیاہ بال ہوتے ہیں۔

۔ (۱۳۰۸۷)۔ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَبْعَثُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُنَادِیًایُّنَادِیْ: یَا آدَمُ! اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکَ اَنْ تَبْعَثَ بَعْثًا مِنْ ذُرِّیَّتِکَ اِلَی النَّارِ فَیَقُوْلُ آدَمُ: یَارَبِّ! وَمِنْ کَمْ؟ قَالَ: فَیُقَالُ لَہُ: مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ: مَنْ ہٰذَا النَّاجِیْ مِنَّا بَعْدَ ہٰذَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ مَا اَنْتُمْ فِی النَّاسِ اِلَّا کَالشَّامَۃِ فِی صَدْرِ الْبَعِیْرِ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۷)

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایک اعلان کرنے والے کو بھیجے گا، وہ یہ اعلان کرے گا: اے آدم! اللہ تجھے حکم دیتا ہے کہ تو اپنی اولاد میں سے جہنم کا حصہ جہنم کی طرف بھیج دے، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے رب ! کتنے لوگوں میں سے کتنے؟ ان سے کہا جائے گا: ہر سو میں سے ننانوے کو جہنم کی طرف بھیج دے۔ یہ سن کر ایک صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ نجات پانے والا کون ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اس دن لوگوں میں تمہاری تعداد اس طرح ہوگی، جیسے اونٹ کے سینے پر تل کا نشان ہوتا ہے۔

۔ (۱۳۰۸۸)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا جَمَعَ اللّٰہُ الْاَوَّلِیْنَ وَالْآخِرِیْنَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ رُفِعَ لِکِلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ، فَقِیْلَ: ہٰذِہٖغَدْرَۃُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ۔)) (مسند احمد: ۴۸۳۹)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا تو ہر دھوکہ باز کے لیے بطور علامت ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کے دھوکے کی علامت ہے۔

۔ (۱۳۰۸۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِیُعْرَفُ بِہٖعِنْدَاِسْتِہِ۔)) (مسنداحمد: ۱۱۳۲۳)

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر دھوکہ باز کے لیے اس کی دبر کے پاس ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، اس سے اس کی پہچان ہوگی۔

۔ (۱۳۰۹۰)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْکَافِرَ لَیَجُرُّ لِسَانَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَرَائَ ہُ قَدْرَ فَرْسَخَیْنِیَتَوَطَّؤُہُ النَّاسُ۔)) (مسند احمد: ۵۶۷۱)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کافر کی زبان دو دو فر سخوں (یعنی چھ چھ میلوں) کے برابر لمبی ہو جائے گی اور کافر اسے اپنے پیچھے گھسیٹ رہا ہوگا اور لوگ اس کو روند رہے ہوں گے۔