TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جہنم والوںکی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات - جہنم والوںکی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات - قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 30 · 5 Hadith
۔ (۱۳۰۸۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: یَاآدَمُ! قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، فَیَقُوْلُ: لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ فِیْیَدَیْکِ،یَا رَبِّ! وَمَا بَعْثُ النَّارِ، قَالَ: مِنْ کُلِّ اَلْفٍ تِسْعَمِائَۃٍ وَ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ، قَالَ: فَحِیْنَئِذٍیَشِیْبُ الْمَوْلُوْدُ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرٰی النَّاسَ سُکَارٰی وَمَا ھُمْ بِسُکَارٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ۔)) قَالَ: فَیَقُوْلُ: فَاَیُّنَا ذٰلِکَ الْوَاحِدُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تِسْعَمِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ مِنْ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ وَمِنْکُمْ وَاحِدٌ۔)) قَالَ: فَقَالَ النَّاسُ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَفَلَاتَرْضَوْنَ اَنْ تَکُوْنُوْا رُبُعَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَاللّٰہِ! اِنِّی لَاَرْجُوْ اَنْ تَکُوْنُوْا رُبُعَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ، وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاَرْجُوْ اَنْ تَکُوْنُوْا ثُلُثَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ، وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لاَرْجُوْ اَنْ تَکُوْنُوْا نِصْفَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَکَبَّرَ النَّاسُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَااَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ فِی النَّاسِ اِلَّا کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَائِ فِی الثَّوْرِ الْاَسْوَدِ اَوْ کَالشَّعْرَۃِ السَّوْدَائِ فِی الثَّوْرِ الْاَبْیَضِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۰۴)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم! اٹھ کر جہنم کا حصہ الگ کرو، وہ کہیں گے: اے میرے ربّ! میں حاضر ہوں، ہر بھلائی تیرے ہاتھ میںہے، جہنم کا حصہ کتنا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ہزار میں نو سو ننانوے ۔ اس وقت (گھبراہٹ کا ایسا عالم طاری ہو گا کہ) بچے بوڑھے بن جائیں گے،ہر حاملہ اپنے حمل کو گرادے گی اور لوگ بے ہوش دکھائی دیں گے، حالانکہ وہ بے ہوش نہیں ہوں گے، درحقیقت اللہ تعالیٰ کا عذاب شدید اور سخت ہوگا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! نجات پانے والا وہ ایک آدمی ہم میں سے کون ہوگا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (یاجوج ماجوج کی تعداداتنی زیادہ ہو گی کہ) نو سو ننانوے افراد ان سے ہوں گے اور تم میں سے ایک ہو گا۔ یہ سن کر صحابہ کرام نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ جنت میں ایک چوتھائی تعداد تمہاری ہو گی، اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ جنت میں ایک چوتھائی تعداد تمہاری ہوگی، اللہ کی قسم ! مجھے تو یہ امید ہے کہ جنت میں ایک تہائی تعداد تمہاری ہوگی، اللہ کی قسم! بلکہ مجھے تو یہ امید ہے کہ جنت میں نصف تعداد تمہاری ہوگی۔ یہ سن کر صحابہ کرام نے خوشی سے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن دوسرے لوگوں کے بہ نسبت تمہاری تعداد یوں گی، جیسے سیاہ رنگ کے بیل کے جسم پر معمولی سفید بال ہوتے ہیں یا سفید رنگ کے بیل کے جسم پر سیاہ بال ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۱۳۰۸۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۴۸، ۴۷۴۱، ومسلم: ۲۲۲ (انظر: ۱۱۲۸۴)
Explanation
فوائد:… اس روایت سے معلوم ہوا کہ ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم میں جائیں گے، لیکن درج ذیل روایت میں ایک سو میں سے ننانوے کا ذکر ہے، پہلی روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ہے، اس لیے اس کو راجح قرار دیں گے، لیکن جمع تطبیق کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ لوگوں کے مختلف گروہوں کے بارے میں نسبتیں بھی مختلف ہوں۔
13086
Sahih
۔ (۱۳۰۸۷)۔ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَبْعَثُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُنَادِیًایُّنَادِیْ: یَا آدَمُ! اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکَ اَنْ تَبْعَثَ بَعْثًا مِنْ ذُرِّیَّتِکَ اِلَی النَّارِ فَیَقُوْلُ آدَمُ: یَارَبِّ! وَمِنْ کَمْ؟ قَالَ: فَیُقَالُ لَہُ: مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ: مَنْ ہٰذَا النَّاجِیْ مِنَّا بَعْدَ ہٰذَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ مَا اَنْتُمْ فِی النَّاسِ اِلَّا کَالشَّامَۃِ فِی صَدْرِ الْبَعِیْرِ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۷)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایک اعلان کرنے والے کو بھیجے گا، وہ یہ اعلان کرے گا: اے آدم! اللہ تجھے حکم دیتا ہے کہ تو اپنی اولاد میں سے جہنم کا حصہ جہنم کی طرف بھیج دے، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے رب ! کتنے لوگوں میں سے کتنے؟ ان سے کہا جائے گا: ہر سو میں سے ننانوے کو جہنم کی طرف بھیج دے۔ یہ سن کر ایک صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ نجات پانے والا کون ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اس دن لوگوں میں تمہاری تعداد اس طرح ہوگی، جیسے اونٹ کے سینے پر تل کا نشان ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۸۷) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی بنحوہ مطولا: ۵۱۲۴ (انظر: ۳۶۷۷)
Explanation
فوائد:… دونوں احادیث میں امت ِ مسلمہ کو پرامید رہنے کا مژدہ دیا گیا ہے، بہرحال زیادہ سے زیادہ توشۂ آخرت جمع کرنا چاہیے۔
13087
Sahih
۔ (۱۳۰۸۸)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا جَمَعَ اللّٰہُ الْاَوَّلِیْنَ وَالْآخِرِیْنَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ رُفِعَ لِکِلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ، فَقِیْلَ: ہٰذِہٖغَدْرَۃُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ۔)) (مسند احمد: ۴۸۳۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا تو ہر دھوکہ باز کے لیے بطور علامت ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کے دھوکے کی علامت ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۷۷، ومسلم: ۱۷۳۵(انظر: ۴۸۳۹)
13088
Sahih
۔ (۱۳۰۸۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِیُعْرَفُ بِہٖعِنْدَاِسْتِہِ۔)) (مسنداحمد: ۱۱۳۲۳)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر دھوکہ باز کے لیے اس کی دبر کے پاس ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، اس سے اس کی پہچان ہوگی۔
Takhreej
(۱۳۰۸۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۳۸ (انظر: ۱۱۳۰۳)
13089
Sahih
۔ (۱۳۰۹۰)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْکَافِرَ لَیَجُرُّ لِسَانَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَرَائَ ہُ قَدْرَ فَرْسَخَیْنِیَتَوَطَّؤُہُ النَّاسُ۔)) (مسند احمد: ۵۶۷۱)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کافر کی زبان دو دو فر سخوں (یعنی چھ چھ میلوں) کے برابر لمبی ہو جائے گی اور کافر اسے اپنے پیچھے گھسیٹ رہا ہوگا اور لوگ اس کو روند رہے ہوں گے۔
Takhreej
(۱۳۰۹۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو العجلان المحاربی، قال الذھبی فی المیزان و المغنی : مجھول، أخرجہ الترمذی: ۲۵۸۰(انظر: ۵۶۷۱)
Explanation
فوائد:… یہ ثابت ہے کہ بعض نافرمانوں کے جہنم میں بڑے بڑے وجود بنا دیئے جائیں گے۔
13090
Zaeef

Chapters

30
01
اس بارے میں سیدنا ابو رزین لقیط بن عامر بن منتفق عقیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی جامع حدیث
6 Hadith
02
قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان
3 Hadith
03
لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے ، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
8 Hadith
04
حشر اور اس میں لوگوں کی کیفیت کا بیان
4 Hadith
05
قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان
6 Hadith
06
جہنم والوںکی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات
5 Hadith
07
قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان قیامت کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کاحریص ہونا
7 Hadith
08
شفاعت کے منکرین کا رد
1 Hadith
09
حشر والوں کے لیے شفاعت عظمیٰ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خاص ہونا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سب سے پہلا سفارشی ہونا
1 Hadith
10
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث
1 Hadith
11
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
1 Hadith
12
بسلسلۂ شفاعت سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
2 Hadith
13
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، اور اس میں اصدقائ، انبیاء اور شہداء کی شفاعت کا تذکرہ
1 Hadith
14
امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا
4 Hadith
15
فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
3 Hadith
16
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
6 Hadith
17
امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
5 Hadith
18
کوثر اور اس کی صفات کا بیان
4 Hadith
19
حوض کا سر چشمہ کوثر کی نہر ہو گی
1 Hadith
20
حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات
3 Hadith
21
عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا
5 Hadith
22
ان لوگوں کا تذکرہ، جنہیں حوض کو ثر سے دھتکار دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
7 Hadith
23
حوضِ کوثر پر آنے والے لوگوں کی کثرت اوراس حوض کی صفات کے ساتھ ساتھ اس پر آنے والے بعض لوگوں کی صفات کا بیان
4 Hadith
24
نامہ اعمال کی وصولی اور ترازو کا بیان
4 Hadith
25
محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
8 Hadith
26
قیامت کے دن زمین اور انسان کے اعضاء کی انسان کے خلاف شہادت
2 Hadith
27
قیامت کے دن قصاص اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے جانے کا بیان
7 Hadith
28
فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
8 Hadith
29
مومنوں کی آزمائش اور ان کو جہنم سے بچانے کے لیے ان کے بدلے کافروں کو جہنم میں ڈالنے کا بیان
4 Hadith
30
پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.