مسنداحمد

Musnad Ahmad

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

جہنم والوںکی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات


۔ (۱۳۰۸۸)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا جَمَعَ اللّٰہُ الْاَوَّلِیْنَ وَالْآخِرِیْنَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ رُفِعَ لِکِلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ، فَقِیْلَ: ہٰذِہٖغَدْرَۃُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ۔)) (مسند احمد: ۴۸۳۹)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا تو ہر دھوکہ باز کے لیے بطور علامت ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کے دھوکے کی علامت ہے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۳۰۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۷۷، ومسلم: ۱۷۳۵(انظر: ۴۸۳۹)