مسنداحمد

Musnad Ahmad

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا

۔ (۱۳۱۰۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنِّیْ لَاَوَّلُ النَّاسِ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ عَنْ جُمْجُمَتِیْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ وَاُعْطٰی لِوَائَ الْحَمْدِ وَلَافَخْرَ، وَاَنَا سَیِّدُ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَافَخْرَ، وَاَنَا اَوَّلُ مَنْ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَافَخْرَ، وَاِنِّیْ آتِیْ بَابَ الْجَنَّۃِ فَآخُذُ بِحَلْقَتِہَا، فَیَقُوْلُوْنَ: مَنْ ھٰذَا؟ فَاَقُوْلُ: اَنَا مُحَمَّدٌ، فَیَفْتَحُوْنَ لِیْ، فَاَدْخُلُ فَاِذَا الْجَبَّارُ عَزَّوَجَلَّ مُسْتَقْبِلِیْ، فَاَسْجُدُ لَہُ، فَیَقُوْلُ: اِرْفَعْ رَاْسَکَ یَامُحَمَّدُ! وَتَکَلَّمْ یُسْمَعْ مِنْکَ وَقُلْ یُقْبَلُ مِنْکَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعُ، فَاَرْفَعُ رَاْسِیْ، فَاَقُوْلُ: اُمَّتِیْ اُمَّتِیْیَارَبِّ! فَیَقُوْلُ: اِذْھَبْ اِلٰی اُمَّتِکَ فَمَنْ وَجَدْتَّ فِیْ قَلْبِہِ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِنْ شَعِیْرٍ مِنَ الْاِیْمَانِ، فَاَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ فَاُقْبِلُ فَمَنْ وَجَدْتُّ فِیْ قَلْبِہِ ذٰلِکَ، فَاُدْخِلُہُ الْجَنَّۃَ فَاِذَا الْجَبَّارُ عَزَّوَجَلَّ مُسْتَقْبِلِیْ فَاَسْجُدُ لَہُ، فَیَقُوْلُ: اِرْفَعْ رَاْسَکَ یَامُحَمَّدُ! وَتَکَلَّمْ یُسْمَعْ مِنْکَ وَقُلْ یُقْبَلْ مِنْکَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَاَرْفَعُ رَاْسِیْ، فَاَقُوْلُ: اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ اَیْ رَبِّ! فَیَقُوْلُ اِذْھَبْ اِلٰی اُمَّتِکَ فَمَنْ وَجَدْتَّ فِیْ قَلْبِہٖنِصْفَحَبَّۃٍ مِّنْ شَعِیْرٍ مِّنَ الْاِیْمَانِ فَاَدْخِلْہُمُ الْجَنَّۃَ، فَاَذْھَبُ فَمَنْ وَجَدْتُّ فِیْ قَلْبِہِ مِثْقَالَ ذٰلِکَ اُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ، فَاِذَا الْجَبَّارُ عَزَّوَجَلَّ مُسْتَقْبِلِیْ فَاَسْجُدُ لَہُ فَیَقُوْلُ: اِرْفَعْ رَاْسَکَ یَامُحَمَّدُ! وَتَکَلَّّمْ یُسْمَعْ مِنْکَ وَقُلْ یُقْبَلْ مِنْکَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَاَرْفَعُ رَاْسِیْ، فَاَقُوْلُ: اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ فَیَقُوْلُ اِذْھَبْ اِلٰی اُمَّتِکَ، فَمَنْ وَجَدْتَّ فِیْ قَلْبِہِ مِثَقْالَ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِّنَ الْاِیْمَانِ فَاَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ، فَاَذْھَبُ فَمَنْ وَجَدْتُّ فِیْ قَلْبِہِ مِثْقَالَ ذٰلِکَ اَدْخَلْتُہُمُ الْجَنَّۃَ وَفَرَغَ اللّٰہُ مِنْ حِسَابِ النَّاسِ وَاَدْخَلَ مَنْ بَقِیَ مِنْ اُمَّتِیَ النَّارَ مَعَ اَھْلِ النَّارِ فَیَقُوْلُ اَھْلُ النَّارِ: مَا اَغْنٰی عَنْکُمْ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ، لَاتُشْرِکُوْنَ بِہٖشَیْئًا، فَیَقُوْلُ الْجَبَّارُعَزَّوَجَلَّ: فَبِعِزَّتِیْ لَاُعْتِقَنَّھُمْ مِنَ النَّارِ، فَیُرْسِلُ اِلَیْہِمْ فَیَخْرُجُوْنَ وَقَدِ امْتُحِشُوْا فَیُدْخَلُوْنَ فِیْ نَہْرِ الْحَیَاۃِ فَیَنْبُتُوْنَ فِیْہِ کَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّۃُ فِیْ غُثَائِ السَّیْلِ وَیُکْتَبُ بَیْنَ اَعْیُنِہِمْ ہٰؤُلَائِ عُتَقَائُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَیُذْھَبُ بِہِمْ فَیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ فَیَقُوْلُ لَھُمْ اَھْلُ الْجَنَّۃِ: ھٰؤُلَائِ الْجَہَنَّمِیُّوْنَ، فَیَقُوْلُ الْجَبَّارُ: بَلْ ھٰؤُلَائِ عُتَقَائُ الْجَبَّارِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۹۶)

سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے میرے وجود سے زمین پھٹے گی اور اس بات پر مجھے فخر نہیں ہے، قیامت کے دن مجھے حمد کا جھنڈا دیا جائے گا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، قیامت کے دن میں سب لوگوں کا سردار ہوں گا، اس پر بھی فخر نہیں کرتا اور قیامت کے دن میں ہی سب سے پہلے جنت میں جاؤں گا اور اس پر بھی مجھے فخر نہیں ہے، میںجنت کے دروازے پر جا کر اس کے کڑے کو پکڑوں گا، وہ پوچھیں گے کہ کون ہے؟ میں کہوں گا: میں محمد ہوں، پس وہ میرے لیے جنت کا دروازہ کھول دیں گے، جب میںجنت کے اندر داخل ہوں گا تو اللہ تعالیٰ میرے سامنے ہوگا، میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا:اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، کہو تمہاری بات قبول کی جائے گی، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی،چنانچہ میں سجدہ سے اپنا سر اٹھا کر کہوں گا:اے رب! میری امت، میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم اپنی امت کی طرف جاؤ اور جس آدمی کے دل میں جو کے برابر بھی ایمان ہو، اسے جنت میں لے آؤ، میں آکر جس جس آدمی کے دل میں اتنا ایمان پاؤں گا اسے جنت میں داخل کردوں گا، پھر جب اللہ تعالیٰ میرے سامنے آئے گا تو میں اس کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ،کہوتمہاری بات سنی جائے گی،بات کرو، تمہاری بات مقبول ہوگی، سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول ہوگی، سو میں سجدہ سے سر اٹھا کر کہوں گا: اے رب! میری امت، میری امت، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم اپنی امت کی طرف جاؤ اورجس کے دل میں نصف جو کے برابر بھی ایمان پاؤ، اسے جنت میں لے آؤ، چنانچہ میں جا ؤں گا اور جن لوگوں کے دلوں میں اتنا ایمان پاؤں گا، ان کو جنت میں لے آؤں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ میرے سامنے ہوگا اور میں پھر اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، کہو تمہاری بات مقبول ہو گی،سفارش کرو، تمہاری قبول کی جائے گی،میں سجدہ سے سر اٹھا کر عرض کروں گا: اے رب! میری امت، میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم اپنی امت کی طرف جاؤ اورجس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان پاؤ، اسے جنت میں لے آؤ۔ پس میں جس جس کے دل میں اتنا ایمان پاؤں گا، اسے جنت میں لے آؤں گا، اُدھر اللہ تعالیٰ لوگوں کے محاسبہ سے فارغ ہوکر میری امت کے باقی لوگوں کو جہنمیوں کے ساتھ جہنم میں داخل کر چکا ہوگا، لیکن اہل جہنم ان سے کہیں گے: تم تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، لیکن تمہیں اس بات کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا: مجھے اپنی عزت کی قسم: میں ان لوگوں کو ضرور بالضرور جہنم سے آزاد کروں گا، پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو ان کی طرف بھیجے گا، چنانچہ ان کو جہنم سے نکالا جائے گا، جبکہ وہ جل جل کر سیاہ ہو چکے ہوں گے، پھر ان کو نہر حیات میں ڈالا جائے گا، وہ وہاں اس طرح اگ آئیں گے، جیسے سیلاب کے پتے تنکوں اور جھاگ وغیرہ میں دانے اگتے ہیں، ان کی آنکھیں کے درمیان یعنی ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ بندے اللہ تعالیٰ کے آزاد کیے ہوئے ہیں، پھر انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت ان جہنم والے کہیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ فرمائے گا:نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں۔

۔ (۱۳۱۰۶)۔ وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُخْرَجُ مِنَ النَّارِ قَوْمٌ شَفَاعَۃَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیُسَمَّوْنَ الْجَہَنَّمِیِّیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۳۹)

سیدناعمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شفاعت کی وجہ سے جہنم سے ایک قوم کو نکالا جائے گا، ان کو جہنمی کے نام سے پکارا جائے گا۔

۔ (۱۳۱۰۷)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُخْرِجُ اللّٰہُ قَوْمًا مُنْتِنِیْنَ قَدْ مَحَشَتْہُمُ النَّارُ بِشَفَاعَۃِ الشَّافِعِیْنَ، فَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ فَیُسَمُّوْنَ الْجَہَنَّمِیُّوْنَ قَالَ حَجَّاجٌ: اَلْجَہَنَّمِیِّیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۱۷)

سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفارش کرنے والوں کی سفارش کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ایک گروہ کو جہنم سے نکالے گا، جو سڑچکے ہوں گے اور آگ نے انہیں جلا کر سیاہ کر دیا ہوگا، پھر ان کو جنت میں داخل کر دے گا، ان کو جہنمی کا نام دیا جائے گا۔ راویٔ حدیث حجاج نے جہنمیوں کی بجائے لفظ جہنمیین کہا ہے۔

۔ (۱۳۱۰۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُخْرَجُ قَوْمٌ مِّنَ النَّارِ بَعْدَ مَا مَحَشَتْہُمُ النَّارُ یُقَالُ لَھُمُ الْجَہَنَّمِیُّوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۱۲)

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم سے بعض لوگوں کو نکالا جائے گا، جبکہ آگ نے جلا جلا کر ان کو کالا سیاہ کر دیا ہوگا، انہیں جہنمی کہا جائے گا۔