مسنداحمد

Musnad Ahmad

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا


۔ (۱۳۱۰۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُخْرَجُ قَوْمٌ مِّنَ النَّارِ بَعْدَ مَا مَحَشَتْہُمُ النَّارُ یُقَالُ لَھُمُ الْجَہَنَّمِیُّوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۱۲)

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم سے بعض لوگوں کو نکالا جائے گا، جبکہ آگ نے جلا جلا کر ان کو کالا سیاہ کر دیا ہوگا، انہیں جہنمی کہا جائے گا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۳۱۰۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… ان احادیث ِ مبارکہ میں دو قسم کی سفارشوں کا ذکر ہے۔ جو توحید پرست اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل ہو جائیں گے، جب ان کی سزا پوری ہو جائے گی، یا جب اللہ تعالیٰ کی رحمت تقاضا کرے گی تو ان کو آگ سے نکال لیا جائے گا۔