TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان - جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان - جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 11 of جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 33 · 8 Hadith
۔ (۱۳۲۲۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا ھَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَۃُ ثَنَا الْعَلَائُ بْنُ زِیَادٍ الْعَدَوِیُّ حَدَّثَنِیْیَزِیْدُ اَخُوْ مُطَرِّفٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِیْ عُقْبَۃُ کُلُّ ھٰوُلَائِ یَقُوْلُ: حَدَّثَنِیْ مُطَرِّفٌ اَنَّ عِیَاضَ بْنَ حِمَارٍ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) حَدَّثَہُ اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: فِیْ خُطْبَتِہٖ: ((اِنَّاللّٰہَعَزَّوَجَلَّاَمَرَنِیْ اَنْ اُعَلِّمَکُمْ مَاجَہِلْتُمْ۔)) فَذَکَرَ اَھْلَ النَّارِ وَعَدَّ مِنْہُمُ الضَّعِیْفَ الَّّذِیْ لاَ زَبْرَ لَہُ، الذَّیْنَ ھُمْ فِیْکُمْ تَبَعٌ لَا یَبْتَغُوْنَ اَھْلاً وَلَا مَالًا، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِمُطَرِّفٍ: یَا اَبَا عَبْدِاللّٰہِ! اَمِنَ الْمَوَالِیْ ھُوَ اَمْ مِنَ الْعَرَبِ؟ قَالَ: ھُوَ التَّابِعَۃُیَکُوْنُ لِلرَّجُلِ یُصِیْبُ مِنْ خَدَمِہٖسَفَاحًاغَیْرَ نِکَاحٍ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۳۰)
سیدنا عیاض بن حمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دوران ِ خطبہ یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان امور کی تعلیم دوں جو تم نہیں جانتے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل ِ جہنم کا تذکرہ کیا اور ان میں ایسے لوگوں کا بھی ذکر کیا جو کمزور ہوتے ہیں او رعقل سے عاری ہیں (یعنی جو آدمی ان کو پناہ دیتا ہے، اس سے خیانت کرتے ہیں اور اس کی حرمت تک کا خیال نہیں رکھتے) ، یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے پیرو ہو کر رہتے ہیں اور وہ اہل و مال کے متلاشی نہیں ہوتے۔ عقبہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے مطرف (حدیث کے راوی) سے کہا اے ابو عبداللہ! یہ لوگ غلاموں میں سے ہیں یا عربوں میں سے؟ انھوں نے کہا: وہ آدمی کے تابع ہوتے ہیں، لیکن اس کی لونڈیوں سے زنا کرتے ہیں۔
Takhreej
(۱۳۲۲۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۶۵ (انظر: ۱۸۳۴۰)
13221
Sahih
۔ (۱۳۲۲۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ عَنْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((یَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ یَتَکَلَّمُیَقُوْلُ: وُکِّلْتُ الْیَوْمَ بِثَلَاثَۃٍ،بِکُلِّ جَبَّارٍ، وَبِمَنْ جَعَلَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ،َ وَبِمَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ، فَیَنْطَوِیْ عَلَیْہِمْ فَیَقْذِفُہُمْ فِیْ غَمَرَاتِ جَہَنَّمَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۷۴)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم سے ایک گردن نکلے گی اور وہ کہے گی: آج تین قسم کے لوگوں کو میرے سپرد کر دیا گیا ہے، ایک وہ جو ظالم و سرکش ہو، دوسرا وہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اورتیسرا وہ جس نے کسی جان کو ناحق قتل کیا، پھر وہ اس قسم کے لوگوں کو لپیٹ کر جہنم کی گہرائیوں میں پھینک دے گی۔
Takhreej
(۱۳۲۲۲) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ البزار: ۳۵۰۰، وابویعلی: ۱۱۴۶، والطبرانی فی الاوسط : ۳۲۰، وابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۱۶۰ (انظر: ۱۱۳۵۴)
13222
Sahih
۔ (۱۳۲۲۳)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ عِنْدَ ذِکْرِ اَھْلِ النَّارِ: ((کُلُّ جَعْظَرِیٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَکْبِرٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل ِ جہنم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ہر بدمزاج (و بدخلق)،اکڑ کر چلنے والا، متکبر، بہت زیادہ مال جمع کرنے والا اور بہت زیادہ بخل کرنے والا یہ سب جہنمی لوگ ہیں۔
Takhreej
(۱۳۲۲۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الحاکم مطولا: ۲/ ۴۹۹ (انظر: ۶۵۸۰)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَھْلِ الْجَنَّۃِ؟ اَلضُّعَفَائُ الْمَظْلُوْمُوْنَ، اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَھْلِ النَّارِ؟کُلُّ شَدِیْدٍ جَعْظَرِيٍّ)) … کیا میں تمہارے لیے جنت والوں کی نشاندہی نہ کر دوں؟ وہ تو کمزور اور مظلوم لوگ ہیں۔ کیا میں تمھیں جہنم والوں کے بارے میں نہ بتلاؤں؟ وہ سخت اور مغرور لوگ ہیں۔ (احمد: ۲/ ۵۰۸، صحیحہ:۹۳۲) ان احادیث میں بد خلقی و بدمزاجی، غرور وگھمنڈ، بڑائی و تکبر، شہرت و ناموری، مال و دولت اور کنجوسی و بخیلی کی مذمت کی گئی ہے اور ان صفات کے حاملین کو دوزخی کہا گیا ہے، جبکہ کمزور، غریب اور گوشۂ خمول میں رہنے والے لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جن کو معاشرے میں کوئی امتیازی مقام حاصل نہیں ہوتا، وہ مغلوب اور بے بس ہوتے ہیں اور کوئی بھی ان کو وقعت نہیں دیتا،لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز و مکرم ہوتے ہیں۔
13223
Sahih
۔ (۱۳۲۲۴)۔ وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی عَنْ اَبِیْ لَیْلٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ بِصَلاَۃٍ لَیْسَتْ بِفَرِیْضَۃٍ فَمَرَّ بِذِکْرِ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ فَقَالَ: ((اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ وَیْحٌ اَوْوَیْلٌ لِاَھْلِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۶۵)
سیدنا ابو لیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک نماز میں قراء ت کر رہے تھے، جبکہ وہ نماز فرض نہیں تھی، جب آپ جنت اور جہنم کے ذکرکے پاس سے گزرے تو آپ نے یہ دعا کی: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ وَیْحٌ اَوْوَیْلٌ لِاَھْلِ النَّارِ۔ (میں جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں، اہل جہنم کے لیے ہلاکت ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۲۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن ابی لیلی، وقد اختلف علیہ، أخرجہ ابوداود: ۸۸۱، وابن ماجہ: ۱۳۵۲(انظر: ۱۹۰۵۵)
13224
Zaeef
۔ (۱۳۲۲۵)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَعْظُمُ اَھْلُ النَّارِ فِی النَّارِ حَتّٰی اِنَّ بَیْنَ شَحْمَۃِ اُذُنِ اَحَدِھِمْ اِلٰی عَاتِقِہٖمَسِیْرَۃَ سَبْعِمِائَۃِ عَامٍ، وَاِنَّ غِلَظَ جِلْدِہٖسَبْعُوْنَذِرَاعًاوَاِنَّضِرْسَہُ مِثْلُ اُحُدٍ۔)) (مسند احمد: ۴۸۰۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم میں اہل ِ جہنم کے جسم اتنے بڑے ہوجائیں گے کہ ان کے کانوں اور کندھوں کے درمیان سات سو برس کی مسافت کے برابر فاصلہ ہوگا اور ان کی جلد کی موٹائی ستر ہاتھ اور ان کی ایک ایک داڑھ اُحد پہاڑ کے برابر ہوگی۔
Takhreej
(۱۳۲۲۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی یحیی الطویل، وابویحیی القتات مختلف فی الاحتجاج بہ علی ضعف فیہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۳۴۸۲، وعبد بن حمید: ۸۰۸ (انظر: ۴۸۰۰)
13225
Zaeef
۔ (۱۳۲۲۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ضِرْسُ الْکَافِرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِثْلُ اُحُدٍ وَعَرَضُ جِلْدِہٖسَبْعُوْنَذِرَاعًاوَفَخِذُہُمِثْلُوَرِقَانِوَمَقْعَدُہُمِنَالنَّارِمِثْلُمَابَیْنِیْ وَبَیْنَ الرَّبَذَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۲۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ تعالیٰ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی، اس کی جلد کی موٹائی ستر ہاتھ ہوگی، اس کی ران و رقان پہاڑ کے برابر ہو گی اوراس کے سرین یہاں سے ربذہ مقام تک مسافت جتنے بڑے ہو جائیں گے۔
Takhreej
(۱۳۲۲۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۵۷۹، ۲۵۷۸، ۲۵۷۷، وأخرج قصۃ ضرس الکافر فقط مسلم: ۲۸۵۱ (انظر: ۸۳۴۵)
13226
Sahih
۔ (۱۳۲۲۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہُ وَفِیْہِ: ((وَفَخِذُہُ مِثْلُ الْبَیْضَائِ وَمَقْعَدُہُ مِنَ النَّارِ کَمَا بَیْنَ قَدِیْدٍ اِلٰی مَکَّۃَ وَکَثَافَۃُ جِلْدِہٖاِثْنَانِوَاَرْبَعُوْنَذِرَاعًابِذِرَاعِالْجَبَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۴۴)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنمی کی ران بیضاء پہاڑ کے برابر، اس کے سرین اتنے برے ہو جائیں گے کہ جیسے قدید سے مکہ تک کی مسافت ہے اور اس کی جلد کی موٹائی کسی بڑے آدمی کے ہاتھ کے حساب سے بیالیس ہاتھ ہو جائے گی۔
Takhreej
(۱۳۲۲۷) تخریج: صحیح بطرقہ، وانظر الحدیث بالطریق الاول
13227
Sahih
۔ (۱۳۲۲۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَقْعَدُ الْکَافِرِ فِی النَّارِ مَسِیْرَۃُ ثَلَاثَۃُ اَیَّامٍ، وَکُلُّ ضِرْسٍ مِثْلُ اُحُدٍ، وَفَخِذُہُ مِثْلُ وَرِقَانِ، وَجِلْدُہُ سِوٰی لَحْمِہٖوَعِظَامِہٖاَرْبَعُوْنَذِرَاعًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۵۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم میں کافر کے سرین تین دنوں کے سفر کے برابر ہوجائیں گے،اس کی ہر داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو جائے گی، اس کی ران ورقان پہاڑ کے برابر ہو جائے گی اور اس کی جلد کی موٹائی چالیس ہاتھ ہو گی، جبکہ گوشت اور ہڈیاں اس کے علاوہ ہوں گی۔
Takhreej
(۱۳۲۲۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۱۱۲۳۲، والحاکم: ۴/۵۹۸(انظر: ۱۱۲۳۲)
Explanation
فوائد:… چونکہ اہل ِ جہنم کو تعذیب دینا مقصود ہو گاِ اس لیے ان کے اجسام اور اعضاء بہت بڑے بڑے کر دئیے جائیں گے۔
13228
Sahih

Chapters

33
01
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
6 Hadith
02
جنت اور جہنم کا تکرار
2 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
3 Hadith
04
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
4 Hadith
05
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
2 Hadith
06
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
4 Hadith
07
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان ، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
6 Hadith
08
جہنم کی وسعت اور اس کی دیواروں کا بیان
2 Hadith
09
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
3 Hadith
10
جہنم سے ڈرانے کا بیان
4 Hadith
11
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
8 Hadith
12
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
8 Hadith
13
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
1 Hadith
14
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
5 Hadith
15
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
5 Hadith
16
مشرکوں کی اولاد کا بیان
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
5 Hadith
18
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
3 Hadith
19
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
2 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
4 Hadith
21
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
4 Hadith
22
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
7 Hadith
23
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
7 Hadith
24
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
5 Hadith
25
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
9 Hadith
26
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
8 Hadith
27
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
6 Hadith
28
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
5 Hadith
29
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
11 Hadith
30
جو جنتی جنت میں جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے مل جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے دل چاہیں گے اور آنکھیں پسند کریں گی۔
3 Hadith
31
اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی، اور یہی چیز اہل جنت پر سب سے بڑی نعمت ہوگی
1 Hadith
32
موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
5 Hadith
33
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
6 Hadith
No chapter matched that.