TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - Book 177 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 177 of Musnad Ahmad, with 33 chapters and 157 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

157 Hadith · 33 Chapters
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
۔ (۱۳۱۸۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِاَھْلِ النَّارِ وَاَھْلِ الْجَنَّۃِ، اَمَّا اَھْلُ الْجَنَّۃِ فَکُلُّ ضَعِیْفٍ مُتَضَعَّفٍ اَشْعَثَ ذِیْ طِمْرَیْنِ لَوْ اَقْسَمَ عَلٰی اللّٰہ لَاَبَرَّہُ، وَاَمَّا اَھْلُ النَّارِ فَکُلُّ جَعْظَرِیٍّ جَوَّاظٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ذِیْ تَبَعٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۰۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتلانہ دوں کہ جہنم والے کو ن ہیں اور جنت والے کون ہیں؟ ہر وہ آدمی جو دنیوی طور پر کمزور ہو، جسے لوگ کمزور سمجھتے ہوں، پراگندہ اور غبار آلودہ ہو اور دو بوسیدہ سی چادریں پہن رکھی ہوں،یہ لوگ جنتی ہیں، ان کا اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مقام ہے کہ اگر ان میں سے کوئی اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھادے تو وہ ان کی قسم کو ضرور پورا کر دیتا ہے اور سخت مزاج، بد اخلاق، متکبر، مال و دولت جمع کرنے والا و بخیل اور موٹا تازہ آدمی (جو از راہِ تکبر) لوگوں سے آگے آگے چلنا پسند کرتا ہو، وہ جہنمی ہے۔
Takhreej
(۱۳۱۸۵) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۳۹۸۷ (انظر: ۱۲۴۷۶)
13185
Sahih
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
۔ (۱۳۱۸۶)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَھْلُ النَّارِ کُلُّ جَعْظَرِیٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَکْبِرٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ وَاَھْلُ الْجَنَّۃِ الضُّعَفَائُ الْمَغْلُوْبُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۷۰۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر وہ آدمی جو بد مزاج ،متکبر ، مال و دولت جمع کرنے والا اور بخیل ہو، وہ جہنمی ہے۔اور جو لوگ دنیوی لحاظ سے کمزور اور مغلوب سمجھے جاتے ہوں، وہ جنتی ہیں۔
Takhreej
(۱۳۱۸۶) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۷۰۱۰)
13186
Sahih
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
۔ (۱۳۱۸۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِأَھْلِ الْجَنَّۃِ؟ ھُمُ الضُّعَفَائُ الْمَظْلُوْمُوْنَ، اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَھْلِ النَّارِ؟ کُلُّ شَدِیْدٍ جَعْظَرِیٍّ۔)) (مسند احمد: ۸۸۰۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتلا نہ دوں کہ کون لوگ جنتی ہیں؟ جو دنیوی لحاظ سے کمزور اور مظلوم ہوں ۔ اورکیامیں تمہیں یہ بھی بتلا نہ دوں کہ جہنمی لوگ کون ہیں؟ ہر وہ آدمی جو سخت مزاج اور بد مزاج ہو، وہ جہنمی ہے۔
Takhreej
(۱۳۱۸۷) تخریج: صحیح لغیرہ، ٔخرجہ بنحوہ ابویعلی: ۶۱۲۷، والطبرانی فی الاوسط : ۴۲۷۵، والبیھقی فی الشعب : ۸۱۷۶(انظر: ۸۸۲۱)
13187
Sahih
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
۔ (۱۳۱۸۸)۔ وَعَنْ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکِ بْنِ جُعْشَمِ نِ الْمُدْلِجِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((یَا سُرَاقَۃُ! اَلَا اُخْبِرُکَ بِاَھْلِ الْجَنَّۃِ وَاَھْلِ النَّارِ؟)) قَالَ: بَلٰییَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَمَّا اَھْلُ النَّارِفَکُلُّ جَعْظَرِیٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَکْبِرٍ وَاَمَّا اَھْلُ الْجَنَّۃِ الضُّعَفَائُ الْمَغْلُوْبُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۲۸)
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: سراقہ ! کیا میں تم کو بتلا نہ دوں کہ کون لوگ جتنی ہیں اور کون لوگ جہنمی ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ضرور، اے اللہ کے رسول !آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر بد اخلاق ، بد مزاج اور متکبر آدمی جہنمی ہے اور جو لوگ دنیوی لحاظ سے کمزور اور مغلوب ہوں، وہ جنتی ہیں۔
Takhreej
(۱۳۱۸۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۶۰، والطبران فی الکبیر : ۶۵۸۹، وفی الاوسط : ۳۱۸۱ (انظر: ۱۷۵۸۵)
13188
Sahih
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
۔ (۱۳۱۸۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَاَعْلَمُ اَوَّلَ ثَلَاثَۃٍیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ: اَلشَّہِیْدُ وَعَبْدٌ اَدّٰی حَقَّ اللّٰہِ وَحَقَّ مَوَالِیْہِ وَفَقِیْرٌ عَفِیْفٌ مَُتَعَفِّفٌ، وَاِنِّیْ لَاَعْلَمُ اَوَّلَ ثَلَاثٍ یَدْخُلُوْنَ النَّارَ: سُلْطَانٌ مُتَسَلِّطٌ، وَذُوْ ثَرْوَۃٍ مِنْ مَالٍ لَایُؤَدِّیْ حَقَّہُ، وَفَقِیْرٌ فَخُوْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۰۸)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے جانے والے تین قسم کے لوگوں کو میں جانتا ہوں: شہید ، وہ غلام جو اللہ کے حقوق اور اپنے مالکوں کے حقوق صحیح طو رپر ادا کرتا ہو اور وہ پاکدامن فقیر جو دست ِ سوال دراز کرنے سے بچتا ہے، اور میں جہنم میں سب سے پہلے جانے والے تین قسم کے لوگوں کو (بھی) جانتا ہوں: وہ بادشاہ جو زبردستی لوگوں پر حکمرانی کرے، مال دار جو مال کے حقوق کو پورا نہ کرے اور غریب آدمی جو متکبر ہو۔
Takhreej
(۱۳۱۸۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، عامر العقیلی بن عقبۃ ، قال الذھبی: لا یعرف، وکذا ابوہ لا یعرف، أخرجہ الترمذی: ۱۶۴۲، واقتصر علی اول ثلاثۃ یدخلون الجنۃ (انظر: ۱۰۲۰۵)
13189
Zaeef
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
۔ (۱۳۱۹۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمَّا اَھْلُ النَّارِالَّذِیْنَ ھُمْ اَھْلُہَا لَایَمُوْتُوْنَ وَلاَ یَحْیَوْنَ وَاَمَّا اُنَاسٌ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِہِمُ الرَّحْمَۃَ فَیُمِیْتُہُمْ فِی النَّارِ فَیَدْخُلُ عَلَیْہِمُ الشُّفَعَائُ فَیَاْخُذُ الرَّجُلُ اَنْصَارَہُ فَیَبُثُّہُمْ اَوْ قَالَ: فَیَنْبُتُوْنَ عَلٰی نَہْرِ الْحَیَائِ اَوْ قَالَ: الْحَیَوَانِ اَوْقَالَ: اَلْحَیَاۃِ اَوْ قَالَ: نَہْرِ الْجَنَّۃِ فَیَنْبُتُوْنَ نَبَاتَ الْحَبَّۃِ فِیْ حَمِیْلِ السَّیْلِ۔)) قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمَا تَرَوْنَ الشَّجَرَۃَ تَکُوْنُ خَضْرَائَ ثُمَّ تَکُوْنُ صَفْرَائَ اَوْ قَالَ تَکُوْنُ صَفْرَائَ ثُمَّ تَکُوْنُ خَضْرَائَ۔)) قَالَ: فَقَالَ بَعْضُہُمْ: کَاَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ بِالْبَادِیَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۲۹)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اہل جہنم، جنہوں نے جہنم میں ہی رہنا ہو گا، وہ وہاں نہ مریں گے اور نہ جی سکیں گے، اور اللہ تعالیٰ جن جہنمیوں پر رحم کرنا چاہتا ہو گا، وہ انہیں جہنم میں موت دے دے گا، پھر سفارش کرنے والے ان کے پاس پہنچیں گے اوران کے مدد گار ان کو لے جائیں گے اور ان کو نَہْرُ الْحَیَائِ یا نَھْرُ الْحَیَوَانِ یا نَھْرُ الْحَیَاۃِ یا نَہْرُ الْجَنَّۃِ میں ڈال دیں گے اور اس میں وہ اس طرح اگیں گے، جیسے جیسے سیلاب کی جھاگ میں دانہ اگتا ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں درخت سبز ہوتے ہیں پھر زرد ہو جاتے ہیں، یا وہ زرد ہوتے ہیں اور سبز ہو جاتے ہیں۔ یہ سن کر صحابہ نے ایک دوسرے سے کہا: ایسے لگتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو دیہات میں رہتے تھے۔
Takhreej
(۱۳۱۹۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۵ (انظر: ۱۱۰۱۶)
Explanation
فوائد:… ـ(۱) اس فصل میں اہل جنت اور اہل جہنم کی بعض صفات بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد کے مطابق جو لوگ دنیا میں کمزور ہیں، لوگ جنہیں کم زور ، حقیر یا گھٹیا سمجھتے ہیں۔ اور جنہوں نے سر پر بالوں کی لٹیں رکھی ہوئی ہیں۔ جو خیال رکھنے کے باوجود بکھر جاتے ہیں۔ در حقیقت یہ لوگ دین دار ہیں۔ اور جنت میں جائیں گے۔ ان کے بالمقابل جو لوگ تند مزاج ، بد اخلاق ، مال کے حریص اور بخیل ہیں اور متکبرانہ مزاج ہونے کی وجہ سے لوگوں سے آگے آگے چلنا پسند کرتے ہیں ایسے لوگوں کا انجام جہنم ہے۔ (۲) نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جام ِ شہادت نوش کرنے والے، اور وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کے اور اپنے آقاؤں کے حقوق کو صحیح طو رپر بجا لانے والے اور وہ غریب جو دوسروں کے سامنے اپنی احتیاج کے اظہار اور دست سوال دراز کرنے سے اجتناب کرنے والے یہ تینوں قسم کے لوگ سب سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ (۳) او رلوگوں پر زبردستی حاکم بننے والے اور غریب ہونے کے باوجود متکبرانہ مزاج رکھنے والے لوگ سب سے پہلے جہنم میں جائیں گے۔ (۴) اس فصل سے یہ بھی معلوم ہواکہ اہل جہنم کی حالت نہیں تو زندوں کی سی ہوگی۔اور نہیں مردوں کی سی۔ ان کی زندگی موت سے اور موت زندگی سے بد تر ہوگی۔ (۵) اور اللہ تعالیٰ جن جہنمیوں پر کرم کرنا چاہے گا انہیں موت سے دو چار کر دے گا پھر سفارش کرنے والے لوگ جا کران کوجہنم سے باہر نکال لائیں گے۔ (۶) نیز فصل کی آخری حدیث سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو اپنی بات سمجھانے کے لیے مثالوں سے مدد لی جاسکتی ہے۔
13190
Sahih
جنت اور جہنم کا تکرار
۔ (۱۳۱۹۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِحْتَجَّتِ الْجَنَّۃُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ الْجَنَّۃُ: یَارَبِّ! مَالِیْ لَایَدْخُلُنِیْ اِلَّا فُقَرَائُ النَّاسِ وَسَقَطُہُمْ، وَقَالَتِ النَّارُ: مَالِیْ لَایَدْخُلُنِیْ اِلَّا الْجَبَّارُوْنَ وَالْمُتَکِّبُرُوْنَ، فَقَالَ لِلنَّارِ: اَنْتِ عَذَابِیْ اُصِیْبُ بِکِ مَنْ اَشَائُ، وَقَالَ لِلْجَنَّۃِ: اَنْتِ رَحْمَتِیْ اُصِیْبُ بِکِ مَنْ اَشَائُ وَلِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْکُمَا مِلْؤُھَا ، فَاَمَّا الْجَنَّۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ یُنْشِیئُ لَھَا مَا یَشَائُ وَاَمَّا النَّارُ فَیُلْقَوْنَ فِیْہَا وَتَقُوْلُ: ھَلْ مِنْ مَزِیْدٍ حَتّٰییَضَعَ قَدَمَہُ فِیْہَا فَہُنَالِکَ تَمْتَلِی ئُ وَیُزْوٰی بَعْضُہَا اِلٰی بَعْضٍ وَتَقُوْلُ قَطْ قَطْ قَطْ۔)) (مسند احمد: ۷۷۰۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت اور جہنم کا کچھ تکرار ہوا، جنت نے کہا: اے میرے ربّ! میرا بھی کیا حال ہے کہ میرے اندر صرف فقیر اور مفلس قسم کے لوگ آئیں گے، اور جہنم نے کہا: میرا بھی کیا حال ہے کہ میرے اندر صرف ظالم اور متکبر قسم کے لوگ داخل ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے آگ سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے، میں جن بندوں کے بارے چاہوں گا، تجھے ان پر مسلط کر د وں گا، اور اس نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، میں جس کے بارے میں چاہوں گا، تیرے ذریعے اس پر مہربانی کروں گا، میں نے تم میں سے ہر ایک کو بھرنا ہے۔ رہا مسئلہ جنت کا تو اس کے لیے تو اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق بھی پیدا کرے گا، لیکن جہنم کا معاملہ یہ ہو گا کہ لوگوں کو تو جہنم میں ڈال دیا جائے گا، لیکن جہنم ابھی تک یہ کہہ رہی ہو گی کہ کیا کوئی مزید افراد ہیں، بالآخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا اور اس طرح وہ بھر جائے گی اور اس کا بعض حصہ بعض کی طرف سکڑ جائے گا۔ اور وہ کہہ اٹھے گی کہ بس بس، کافی ہیں، کافی ہیںـ۔
Takhreej
(۱۳۱۹۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۸۴۹، ۷۴۴۹، ومسلم: ۲۸۴۶ (انظر: ۷۷۱۸)
13191
Sahih
جنت اور جہنم کا تکرار
۔ (۱۳۱۹۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِفْتَخَرَتِ الْجَنَّۃُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ: یَارَبِّیَدْخُلُنِی الْجَبَابِرَۃُ وَالْمُتَکَبِّرُوْنَ وَالْمُلُوْکُ وَالْاَشْرَافُ، وَقَالَتِ الْجَنَّۃُ: اَیْ رَبِّ یَدْخُلُنِی الضُّعَفَائُ وَالْفُقَرَائُ وَالْمَسَاکِیْنُ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لِلنَّارِ: اَنْتِ عَذَابِیْ اُصِیْبُ بِکَ مَنْ اَشَائُ، وَقَالَ لِلْجَنَّۃِ: اَنْتِ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ وَلِکُلٍّ مِنْکُمَا مِلْؤُھَا، فَیُلْقٰی فِی النَّارِ اَھْلُہَا فَتَقُوْلُ: ھَلْ مِنْ مَزِیْدٍ قَالَ: وَیُلْقٰی فِیْہَا وَتَقُوْلُ ھَلْ مِنْ مَزِیْدٍ، وَیُلْقٰی فِیْہَا فَتَقُوْلُ: ھَلْ مِنْ مَزِیْدٍ، حَتّٰییَاْتِیَہَا تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ فَیَضَعُ قَدَمَہُ عَلَیْہَا فَتُزْوٰی فَتَقُوْلُ: قَدِیْ قَدِیْ وَاَمَّا الْجَنَّۃُ، فَیَبْقٰی فِیْہَا اَھْلُہَا مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَّبْقٰی فَیُنْشِیئُ اللّٰہُ لَھَا خَلْقًا مَایَشَائُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت اور جہنم نے ایک دوسرے پر برتری کا اظہار کیا، جہنم نے کہا: اے میرے ربّ! ! میرے اندر ظالم ، جابر، متکبر ، حکمران اور سردار قسم کے لوگ داخل ہوں گے، اور جنت نے کہا: اے میرے ربّ ! میرے اندر کمزور ، فقیر اور مسکین قسم کے لو گ داخل ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے جہنم سے کہا: تو میرا عذاب ہے، میں جن لوگوں کو عذاب سے دوچار کرنا چاہوں گا، تجھے ان پر مسلط کروں گا، اور اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، جو ہر چیز سے وسیع ہے، اور تم دونوں کو بھر دیاجائے گا، اہل جہنم کو جہنم میں ڈالا جائے گا، لیکن جہنم مزید افراد کا مطالبہ کرے گی، پھر لوگوںکو اس میں ڈالا جائے گے، لیکن یہی کہے گی کیا مزید ہیں، پھر لوگوں کو اس میں ڈالا جائے گا، لیکن وہ کہے گی کہ کیا مزید ہیں (ابھی تک گنجائش باقی ہے)، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو وہ سکڑ جائے گی اور اس کے کنارے ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی: بس بس۔ رہا مسئلہ جنت کا تو اس میں مزید افراد کی گنجائش بچ جائے گی، اس لیے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جتنی چاہے گا، نئی مخلوق پیدا کرے گا۔
Takhreej
(۱۳۱۹۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۸۴۹، ۷۴۴۹، ومسلم: ۲۸۴۶ (انظر: ۱۱۰۹۹)
Explanation
فوائد:… (۱) اس فصل کی احادیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جنت اور جہنم کو قوت گویائی عطا فرمائے گا اور وہ آپس میں اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوں گی۔ (۲) نیز معلوم ہوا کہ دنیوی طور پر جو لوگ کمزور ہیں وہ جنت میں جائیں گے اور ظالم ،جابر، متکبر قسم کے لوگ جہنم کے حق دار ہوں گے۔ (۳) نیز معلوم ہوا کہ جنت اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے جن بندوں پر رحم کرنا چاہے گا ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ ـ(۴)اور جہنم اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے اللہ تعالیٰ جن بندوں کو عذاب دینا چاہے گا انہیںجہنم میں داخل کرے گا۔ (۵) یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت اور جہنم میں کوئی جگہ خالی نہیں رہنے دی جائے گی دونوں کو اچھی طرح بھرا جائے گا۔ (۶) نیز معلوم ہوا کہ جب اہل جنت جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ باقی جنت کو بھرنے کے لیے ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا۔ (۷) اسی طرح جب جہنم میں اہل جہنم کو ڈالا جائے گا تو جہنم مزید آدمیوں کا مطالبہ کر ے گی۔ مزید لوگ اس میں ڈالے جائیں گے وہ مزید کا مطالبہ کرے گی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم جہنم کے اوپر رکھ دے گا تو وہ بھر جائے گی اور کہے گی کہ اب بس… بس … یہی کافی ہیں۔
13192
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
۔ (۱۳۱۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حُفَّتِ الْجَنَّۃُ بِالْمَکَارِہٖوَحُفَّتِالنَّارُبِالشَّہَوَاتِ۔)) (مسنداحمد: ۷۵۲۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کو ناپسندیدہ امور کے ساتھ اور جہنم کو لذت والے امور کے ساتھ گھیرا گیا ہے۔
Takhreej
(۱۳۱۹۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۸۷، ومسلم: ۲۸۲۳(انظر: ۷۵۳۰)
Explanation
فوائد:… کوئی شک نہیں کہ اعمالِ صالحہ میں ہی تسکین ہے، لیکن اس ذمہ داری کے لیے پابند رہنا پڑتا ہے، اور برائیوں میں بے سکونی ہے، لیکن آزادی بڑی ملتی ہے۔ بہرحال انجام کو دیکھ کر پابندی کو اپنا لینا عقلمندی ہے۔
13193
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
۔ (۱۳۱۹۴)۔ وَعَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۸۷)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۱۳۱۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۲۲(انظر: ۱۲۵۵۹)
13194
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
۔ (۱۳۱۹۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَمَّا خَلَقَ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ، اَرْسَلَ جِبْرِیْلَ قَالَ: اُنْظُرْ اِلَیْہَا وِاِلٰی مَا اَعْدَدْتُّ لِاَھْلِہَا فِیْہَا فَجَائَ فَنَظَرَ اِلَیْہَا وَاِلٰی مَا اَعَدَّ اللّٰہُ لِاَھْلِہَا فِیْہَا فَرَجَعَ اِلَیْہِ، قَالَ: وَعِزَّتِکَ! لَا یَسْمَعُ بِہَا اَحَدٌ اِلَّا دَخَلَہَا، فَاَمَرَ بِہَا فَحُجِبَتْ بِالْمَکَارِہِ قَالَ: اِرْجِعْ اِلَیْہَافَانْظُرْ اِلَیْہَا وَاِلٰی مَا اَعْدَدْتُّ لِاَھْلِہَا فِیْہَا، قَالَ: فَرَجَعَ اِلَیْہَا وَاِذَا ھِیَ قَدْ حُجِبَتْ بِالْمَکَارِہٖ،فَرَجَعَاِلَیْہِ، فَقَالَ: وَعِزَّتِکَ! قَدْ خَشِیْتُ اَنْ لَا یَدْخُلُہَا اَحَدٌ، قَالَ: اِذْھَبْ اِلَی النَّارِ فَانْظُرْ اِلَیْہَا وَاِلٰی مَااَعْدَدْتُّ لِاَھْلِہَا فِیْہَا، فَاِذَا ھِیَیَرْکَبُ بَعْضُہَا بَعْضًا، فَرَجَعَ قَالَ: وَعِزَّتِکَ لَقَدْ خَشِیْتُ اَنْ لَّا یَسْمَعَ بِہَا اَحَدٌ فَیَدْخُلُہَا فَاَمَرَ بِہَا فَحُفَّتْ بِالشَّہَوَاتِ، فَقَالَ: وَعِزَّتِکَ لَقَدْ خَشِیْتُ اَنْ لَّا یَنْجُوَ مِنْہَا اَحَدٌ اِلَّا دَخَلَہَا۔)) (مسند احمد: ۸۳۷۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا اور اس سے کہا: جنت کو اور اس میں اہل جنت کے لیے تیار کردہ چیزوں کو دیکھو، انھوں نے جنت میں آکر اسے دیکھا اور وہاں اللہ تعالیٰ نے اہل ِ جنت کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے، اسے بھی دیکھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف واپس آکر کہا: تیری عزت کی قسم! اس کے بارے میں تو جو بھی سنے گا، وہ اس میں داخل ہو گا۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جنت کے ارد گرد ناپسندیدہ کاموں کی باڑ لگا دی گئی، اور ان کو دوبارہ حکم دیا کہ اب جا کر جنت کو دیکھواور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اپنے بندوں کے لیے جنت میں تیار کی ہیں، جبرائیل علیہ السلام جنت کی طرف گئے اور اس کے ارد گرد انسانوں کے ناپسندیدہ کاموں کی باڑ لگی ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف واپس جا کر کہا: تیری عزت کی قسم! مجھے تو اندیشہ ہے کہ ایک آدمی بھی جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو حکم دیا کہ جاؤ اور جہنم اور اس میں اہل جہنم کے لیے تیار کردہ چیزوں کو دیکھ کر آؤ، انہوں نے جا کر دیکھا کہ جہنم کے بعض حصے بعض حصوں پر چڑھ رہے ہیں، وہ واپس چلے گئے اور جا کر کہا: تیری عزت کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ جو کوئی بھی ا س جہنم کے بارے میں سنے گا، وہ اس میں داخل نہیں ہو گا، اُدھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جہنم کے ارد گرد شہوات یعنی انسانوں کے پسندیدہ کاموں کی باڑ لگا دی گئی، جبرائیل علیہ السلام نے ان کو دیکھ کر کہا: تیری عزت کی قسم! مجھے تو لگتا ہے کہ کوئی آدمی بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔
Takhreej
(۱۳۱۹۵) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۷۴۴، والترمذی: ۲۵۶۰، والنسائی: ۷/ ۳ (انظر: ۸۳۹۸)
Explanation
فوائد:… جنت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اس میں ہر قسم کا آرام، راحت اور آسائش موجود ہے۔ تاہم اس کے ارد گرد ایسے مشکل کاموں کی باڑ لگا دی گئی ہے، جن پر عمل کرنا عام طور پر انسان مشکل سمجھتے ہیں، اس کے برعکس جہنم عذاب کا مقام ہے، جہاں پر دکھ، تکلیف اور سزائیں ہی سزائیں ہیں، مگر جہنم کے اردگرد ایسے پر کشش کاموں کی باڑہے، جنہیں سب لوگ خوشی سے کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جہنم میں جائیں گے۔
13195
Sahih
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
۔ (۱۳۱۹۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ اَھْلِ النَّارِ یَرٰی مَقْعَدَہُ مِنَ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُ: لَوْ اَنَّ اللّٰہَ ھَدَانِیْ، فَیَکُوْنُ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً، قَالَ: وَکُلُّ اَھْلِ الْجَنَّۃِیَرٰی مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، فَیَقُوْلُ: لَوْلَا اَنَّ اللّٰہَ ھَدَانِیْ، قَالَ: فَیَکُوْنُ لَہُ شُکْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۶۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر جہنمی جنت میں اپنی جگہ کو دیکھے گا اور کہے گا: کاش کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی ہوتی، اس طرح سے یہ چیز اس کے لیے باعث ِ حسرت ہوگی، اور ہر جتنی جہنم میں اپنی جگہ دیکھے گا اور کہے گا: اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں اس مقام میں ہوتا، اس طرح سے یہ چیز اس کے لیے مزید شکر کا باعث بنے گی۔
Takhreej
(۱۳۱۹۶) تخریج: أخرجہ بنحوہ البخاری: ۶۵۶۹ (انظر: ۱۰۶۵۲)
13196
Sahih
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
۔ (۱۳۱۹۷)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْتٰی بِالرَّجُلِ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُ لَہُ: یَا ابْنَ آدَمَ کَیْفَ وَجَدْتَّ مَنْزِلَکَ؟ فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ خَیْرَ مَنْزِلٍ، فَیَقُوْلُ: سَلْ وَتَمَنَّ، فَیَقُوْلُ: مَا اَسْاَلُ وَاَتَمَنّٰی اِلَّا اَنْ تَرُدَّنِیْ اِلَی الدُّنْیَا فَاُقْتَلَ فِیْ سَبِیْلِکَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا یَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّہَادَۃِ، وَیُوْتٰی بِالرَّجُلِ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَیَقُوْلُ لَہُ: اِبْنَ اٰدَمَ کَیْفَ وَجَدْتَّ مَنْزِلَکَ؟ فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ! شَرَّ مَنْزِلٍ، فَیَقُوْلُ: اَتَفْتَدِیْ مِنْہُ بِطِلَاعِ الْاَرْضِ ذَھَبًا؟ فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ! نَعَمْ، فَیَقُوْلُ:کَذَبْتَ قَدْ سَاَلْتُکَ اَقَلَّ مِنْ ذٰلِکَ وَاَیْسَرَ فَلَمْ تَفْعَلْ، فَیُرَدُّ اِلَی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۹۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک جنتی آدمی کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: ابن آدم! تم نے اپنے ٹھکانے کو کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! ! بہترین ٹھکانہ، اللہ تعالیٰ کہے گا: مزید سوال کرو اورمزید تمنا کرو۔ وہ کہے گا:میں کوئی سوال نہیں کرتا اور میں کوئی تمنا نہیں کرتا، مگر یہ کہ تو مجھے دنیا میں واپس لوٹا دے تاکہ میں دس دفعہ تیرے راستے میں شہید ہو سکوں، اس کی اس بات کی وجہ شہادت کی فضیلت ہو گی، پھر ایک جہنمی آدمی کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے پوچھے گا: آدم کے بیٹے! کیسا پایا تو نے اپنے ٹھکانے کو؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! بدترین جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اگر روئے زمین کے برابر تیرے پاس سونا ہوتو کیا تو اس جگہ سے بچنے کے لیے وہ دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، میرے ربّ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، میں نے تو تجھ سے اس سے کم اور آسان بات کامطالبہ کیا تھا لیکن تو نے تو وہ بھی نہیں کیا تھا، پھر اسے جہنم کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۳۱۹۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۲۹، وابن حبان: ۷۳۵۰، والحاکم: ۲/ ۷۵ (انظر: ۱۳۱۶۲)
Explanation
فوائد:… آخرت کی ناکامی ملنے کے بعد زمین بھر سونا دینے کے لیے تیار ہے، لیکن آج دنیا میں ہلکی سی پابندی کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔
13197
Sahih
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
۔ (۱۳۱۹۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْتٰی بِاَنْعَمِ اَھْلِ الدُّنْیَا مِنْ اَھْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُصْبَغُ فِی النَّارِ صَبْغَۃً ثُمَّ یُقَالُ لَہُ: یَا ابْنَ آدَمَ! ھَلْ رَاَیْتَ خَیْرًا قَطُّ؟ ھَلْ مَرَّ بِکَ نَعِیْمٌ قَطُّ؟ فَیَقُوْلُ: لَا، وَاللّٰہِ! یَارَبِّ! وَیَوْتٰی بِاَشَدِّ النَّاسِ فِی الدُّنْیَا مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَیُصْبَغُ فِی الْجَنَّۃِ صَبْغَۃً فَیُقَالُ لَہُ: ابْنَ آدَمَ ھَلْ رَأَیْتَ بُوْسًا قَطُّ؟ ھَلْ مَرَّ بِکَ شِدَّۃٌ قَطُّ؟ فَیَقُوْلُ: لَا وَاللّٰہِ! یَارَبِّ! مَا مَرَّ بِیْ بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَاَیْتُ شِدَّۃً قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۴۳)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ تعالیٰ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک جہنمی کو لایا جائے گا، جو دنیا میں سب سے زیادہ خوش حال تھا، اسے جہنم میں ایک غوطہ دیا جائے گا اور پھر اس سے کہا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی اچھائی دیکھی ہے؟ کیا کبھی تو نے کوئی نعمت استعمال کی؟ وہ کہے گا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے میرے ربّ! اسی طرح ایک جنتی آدمی کو بلایا جائے گا، جو دنیا میں سب سے زیادہ دکھوں اور شدتوں والا تھا، اسے جنت میں ایک چکر دیا جائے گا، اس کے بعد اس سے پوچھا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی ہے؟ کیا کبھی تجھے کوئی پریشانی آئی ہے؟ وہ کہے گا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے میرے رب! نہ مجھے کوئی تکلیف آئی ہے اور نہ کبھی کوئی پریشانی دیکھی ہے۔
Takhreej
(۱۳۱۹۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۰۷ (انظر: ۱۳۱۱۲)
Explanation
فوائد:… یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ موجودہ حالات کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے، ماضی کو بھول جاتاہے، وہ جیسا بھی ہو، یہی معاملہ اہل جنت اور اہل جہنم کا ہو گا۔
13198
Sahih
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
۔ (۱۳۱۹۹)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ بَیْنَا نَحْنُ صُفُوْفًا خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الظُّہْرِ اَوِ الْعَصْرِ اِذْ رَاَیْنَاہُیَتَنَاوَلُ شَیْئًا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُوَ فِی الصَّلاَۃِ لِیَاْخُذَہُ ثُمَّ تَنَاوَلَہُ لِیَاْخُذَہُ ثُمَّ حِیْلَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ ثُمَّ تَاَخَّرَ وَتَاَخَّرْنَا ثُمَّ تَاَخَّرَ الثَّانِیَۃَ وَتَاَخَّرْنَا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌): یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! رَاَیْنَاکَ الْیَوْمَ تَصْنَعُ فِی صَلَاتِکَ شَیْئًا لَمْ تَکُنْ تَصْنَعُہُ؟ قَالَ: ((اِنَّہُ عُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ بِمَا فِیْہَا مِنَ الزَّھْرَۃِ فَتَنَاوَلَتُ قِطَفًا مِنْ عِنَبِہَا ِلآتِیَکُمْ بِہٖوَلَوْاَخَذْتُہُلَاَکَلَمِنْہُمَنْبَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ، لَایَنْتَقِصُوْنَہُ فَحِیْلَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ، وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَلَمَّا وَجَدْتُّ حَرَّ شُعَاعِہَا تَاَخَّرْتُ وَاَکْثَرُ مَنْ رَاَیْتُ فِیْہَا النِّسَائُ اللَّاتِیْ اِنِ ائْتُمِنَّ اَفْشَیْنَ وَاِنْ سَاَلْنَ اَحْفَیْنَ۔)) قَالَ اَبِیْ: قَالَ زَکَرِیَّا بْنُ عَدِیٍّ: اَلْحَفْنَ وَاِنْ اُعْطِیْنَ لَمْ یَشْکُرْنَ، وَرَاَیْتُ فِیْہَا لُحَیَّ بْنَ عَمْرٍو یَجُرُّ قُصْبَہُ وَاَشْبَہُ مَنْ رَاَیْتُ بِہٖمَعْبَدُبْنُاَکْثَمَ۔)) قَالَمَعْبَدٌ: اَیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ! یُخْشٰی عَلَیَّ مِنْ شُبْہِہٖفَاِنَّہُوَالِدٌقَالَ: ((لَا،اَنْتَمُوْمِنٌوَھُوَ کَافِرٌ وَھُوَ اَوَّلُ مَنْ جَمَعَ الْعَرَبَ عَلَی الْاَصْنَامِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۷۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ظہر یا عصر کی نماز کی بات ہے، ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں صفیں بنائے یہ نماز ادا کر رہے تھے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے دوران اپنے سامنے کسی چیز کو بار بار پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اور اس کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی، پھر آپ پیچھے کو ہٹے اور ہم بھی پیچھے ہٹ گئے، آپ دوبارہ پیچھے کو ہوئے،ہم بھی پیچھے ہوگئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج ہم نے آپ کو نماز کے دوران ایسا عمل کرتے دیکھا ہے کہ آپ اس سے قبل تو نماز میں ایسا کوئی عمل نہیں کرتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے سامنے جنت اپنی نعمتوں سمیت پیش کی گئی، میں نے اس کے انگوروں کا گچھا توڑنا چاہا تاکہ تمہیں دکھاؤں، اور اگر میںاس کو پکڑ لیتا اورزمین و آسمان کے درمیان موجود تمام مخلوقات اسے کھاتیں، تب بھی اس میں کوئی کمی نہ ہوتی، لیکن پھر میرے اور اس کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی، اسی طرح میرے سامنے جہنم کوپیش کیا گیا، جب میں نے اس کی شعاعوں کی حرارت محسوس کی تومیںپیچھے کو ہٹا، میںنے اس میں زیادہ تعداد ان عورتوں کی دیکھی کہ جنہیں جب کسی چیز کا امین بنایا جاتا ہے تو وہ اسے راز نہیں رکھتیں، اسی طرح جب سوال کرتی ہیں تو خوب اصرار کرتی ہیں، اور جب انہیں کوئی چیز دے دی جاتی ہے تو وہ خیانت کرتی ہیں، اور میںنے جہنم میں لحی بن عمرو کو دیکھا، وہ اپنی انتڑیوں کو گھسیٹ رہا تھا،اس کی شکل معبد بن اکثم کے مشابہ تھی۔ یہ سن کر سیدنا معبد بن اکثم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی اس مشابہت سے ڈر لگ رہا ہے، کیونکہ آخر وہ نسبی طور پر والد بنتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، (اس کا تجھے کوئی نقصان نہیں ہو گا، کیونکہ) تم مومن ہو اور وہ کافر تھا، بلکہ یہ وہی شخص ہے جو عربوں کو سب سے پہلے بت پرستی کی طرف لے گیا۔
Takhreej
(۱۳۱۹۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لتفرد عبد اللہ بن محمد بن عقیل بہ بھذہ السیاقۃ، أخرجہ عبد بن حمید: ۱۰۳۶ (انظر: ۲۱۲۵۰)
Explanation
فوائد:… بعض روایتوں میں لحی بن عمرو کی بجائے عمرو بن لحی ہے اور یہی صحیح ہے۔
13199
Zaeef
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
۔ (۱۳۲۰۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اسْتَجَارَ عَبْدٌ مِّنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ اِلَّا قَالَتِ النَّارُ: اَلّٰلہُمَّ اَجِرْہُ مِنِّیْ وَلَا یَسْاَلُ الْجَنَّۃَ اِلَّاقَالَتِ الْجَنَّۃُ: اَلّٰلہُمَّ اَدْخِلْہُ اِیَّایَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۹۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے، تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ! اس کو مجھ سے دور رکھنا، اسی طرح جوآدمی اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہے، توجنت کہتی ہے: اے اللہ! اس بندے کو میرے اندر داخل کرنا۔
Takhreej
(۱۳۲۰۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۵۷۲، والنسائی: ۸/۲۷۹، وابن ماجہ: ۴۳۴۰ (انظر: ۱۲۱۷۰)
Explanation
فوائد:… اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کرم نوازی ہے تو ہمیں بھی باشعور رہنا چاہیے اور کثرت سے جنت کا سوال کرنا چاہیے اور جہنم سے پناہ مانگنی چاہیے۔
13200
Sahih
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
۔ (۱۳۲۰۱)۔ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہٖوَالنَّارُمِثْلُذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۳۹۲۳)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے زیادہ تمہارے قریب ہے اور جہنم بھی اسی طرح ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۰۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۸۸(انظر: ۳۹۲۳)
Explanation
فوائد:… بس موت کے قریب ہونے کی دیر ہے، سب کچھ واضح ہو جائے گا اور جنت یا جہنم کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ نَسْأَلُ اللّٰہَ الْجَنَّۃَ وَنَعُوْذُ بِہٖ مِنَ النَّارِ۔
13201
Sahih
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
۔ (۱۳۲۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : وَعَمْرٌو عَنْ یَحْیٰی بْنِ جَعْدَۃَ: ((اِنَّ نَارَکُمْ ہٰذِہٖجُزْئٌمِنْسَبْعِیْنَ جُزْئً ا مِنْ نَارِ جَہَنَّمَ وَضُرِبَتْ بِالْبَحْرِ مَرَّتَیْنِ وَلَوْلَا ذٰلِکَ مَاجَعَلَ اللّٰہُ فِیْہَا مَنْفَعَۃً لِاَحَدٍ۔)) (مسند احمد: ۷۳۲۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری یہ دنیا والی آگ، جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے، جہنم کی آگ کو دو دفعہ سمندر پر ما رکر ہلکا اور ٹھنڈا کیا گیا، اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو کوئی آدمی بھی اس سے فائدہ نہ اٹھا سکتا۔
Takhreej
(۱۳۲۰۲) تخریج: صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ البیھقی فی البعث والنشور : ۵۰۰، وابن حبان: ۷۴۶۲، وأخرجہ بنحوہ البخاری: ۳۲۶۵، ومسلم: ۲۸۴۳، وھو الحدیث الآتی برقم (۱۳۲۰۴) (انظر: ۷۳۲۷)
13202
Sahih
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
۔ (۱۳۲۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : وَعَمْرٌو عَنْ یَحْیٰی بْنِ جَعْدَۃَ: ((اِنَّ نَارَکُمْ ہٰذِہٖجُزْئٌمِنْسَبْعِیْنَ جُزْئً ا مِنْ نَارِ جَہَنَّمَ وَضُرِبَتْ بِالْبَحْرِ مَرَّتَیْنِ وَلَوْلَا ذٰلِکَ مَاجَعَلَ اللّٰہُ فِیْہَا مَنْفَعَۃً لِاَحَدٍ۔)) (مسند احمد: ۷۳۲۳)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا کی یہ آگ جہنم کی آگ کا (۱۰۰) واں حصہ ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۰۳) تخریج: اسنادہ قوی، وقد صح الحدیث من طرق عن ابی ھریرۃ بلفظ: ((سبعین جزء ا)) (انظر: ۸۹۲۱)
13203
Sahih
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
۔ (۱۳۲۰۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَارُکُمْ ہٰذِہٖمَایُوْقِدُ بَنُوْ آدَمَ جُزْئٌ وَاحِدٌ مِنْ سَبْعِیْنَ جُزْئً ا مِنْ حَرِّ جَہَنَّمَ۔)) قَالُوْا: وَاللّٰہِ! اِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃًیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَاِنَّہَا فُضِّلَتْ عَلَیْہَا بِتِسْعٍ وَسِتِّیْنَ جُزْئً ا کُلُّہُنَّ مِثْلُ حَرِّھَا۔)) (مسند احمد: ۸۱۱۱)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری یہ آگ، جسے انسان جلاتے ہیں، جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو عذاب دینے کے لیے تو یہی آگ کافی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہرحال جہنم کی آگ اِس آگ کی بہ نسبت مزید انہتر گنا تیز ہے، ہر ایک کی حرارت اس کی طرح ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۰۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۶۵، ومسلم: ۲۸۴۳(انظر: ۸۱۲۶)
13204
Sahih

Chapters

33
01
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
6 Hadith
02
جنت اور جہنم کا تکرار
2 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
3 Hadith
04
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
4 Hadith
05
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
2 Hadith
06
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
4 Hadith
07
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان ، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
6 Hadith
08
جہنم کی وسعت اور اس کی دیواروں کا بیان
2 Hadith
09
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
3 Hadith
10
جہنم سے ڈرانے کا بیان
4 Hadith
11
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
8 Hadith
12
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
8 Hadith
13
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
1 Hadith
14
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
5 Hadith
15
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
5 Hadith
16
مشرکوں کی اولاد کا بیان
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
5 Hadith
18
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
3 Hadith
19
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
2 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
4 Hadith
21
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
4 Hadith
22
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
7 Hadith
23
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
7 Hadith
24
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
5 Hadith
25
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
9 Hadith
26
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
8 Hadith
27
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
6 Hadith
28
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
5 Hadith
29
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
11 Hadith
30
جو جنتی جنت میں جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے مل جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے دل چاہیں گے اور آنکھیں پسند کریں گی۔
3 Hadith
31
اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی، اور یہی چیز اہل جنت پر سب سے بڑی نعمت ہوگی
1 Hadith
32
موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
5 Hadith
33
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
6 Hadith
No chapter matched that.