مسنداحمد

Musnad Ahmad

جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل

اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان

۔ (۱۳۲۲۹)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا یَطُوْفُوْنَ بِالْبَیْتِ وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَہُ مِحْجَنٌ، فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (({یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖوَلَاتَمُوْتُنَّاِلَّاوَاَنْتُمْمُّسْلِمُوْنَ} لَوْاَنَّقَطْرَۃً مِّنَ الزَّقُّوْمِ قُطِرَتْ لَاَمَرَّتْ عَلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ عَیْشَہُمْ، کَیْفَ مَنْ لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا الزَّقُّوْمُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۵)

مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خمد دار چھڑی لیے بیٹھے تھے، جبکہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، انھوں نے کہا: کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {یٰـــٓـــاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ} (اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ تم اسلام پر قائم دائم ہو۔) (سورۂ آل عمران:۱۰۲) اور اگر جہنم کے زقوم کا ایک قطرہ زمین پر ٹپکا دیا جائے تو وہ روئے زمین پر بسنے والوں کی زندگی کو کڑوا کر دے گا، (ذرا سوچو کہ) ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کی خوراک ہی زقوم ہوگا۔

۔ (۱۳۲۳۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ اَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ یُہْرَاقُ فِی الدُّنْیَا لَاَنْتَنَ اَھْلَ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۴۹)

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر جہنم میں سے پیپ کا ایک ڈول دنیا میں بہادیا جائے تو تمام دنیا والوں کو اپنی بد بو سے بے چین اور بدبودار کر دے گا۔

۔ (۱۳۲۳۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْحَمِیْمَ لَیُصَبُّ عَلٰی رُؤُوْ سِہِمْ فَیَنْفُذُ الْجُمْجُمَۃَ حَتّٰییَخْلُصَ اِلٰی جَوْفِہٖفَیَسْلُتُ مَا فِیْ جَوْفِہٖحَتّٰییَمْرُقَ مِنْ قَدَمَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۸۵۱)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم کا کھولتا ہوا پانی جہنمیوں کے سروں پر ڈالا جائے گا، وہ کھوپڑی کے اندر سے ہوتا ہوا ان کے پیٹ میں جا پہنچے گا، پھر ان کے پیٹ کے اندر والے اعضاء کو کاٹ اور جلا کر ان کے قدموں کے نیچے سے جا نکلے گا۔

۔ (۱۳۲۳۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ اِسْحٰقَ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَخْطُبُ وَھُوَ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَھْوَنَ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ یُجْعَلُ فِی اَخْمَصِ قَدَمَیْہِ نَعْلَانِ مِنْ نَّارٍ یَغْلِیْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۰۳)

سیدنانعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک خطبے میں کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جہنم میں سب سے کم عذاب والا آدمی وہ ہے کہ جس کے پاؤں میں آگ کے دو جوتے پہنا دیئے جائیں گے، جن کی حرارت سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔

۔ (۱۳۲۳۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَھْوَنُ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ عَلَیْہِ نَعْلَانِ یَغْلِیْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ۔)) (مسند احمد: ۹۵۷۳)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فرمایا: جہنم میں سب سے کم اور ہلکے عذاب والا آدمی وہ ہوگا جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے اور ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔

۔ (۱۳۲۳۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((اَھْوَنُ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ فِیْ رِجْلَیْہِ نَعْلَانِ یَغْلِیْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ، وَمِنْہُمْ فِی النَّارِ اِلٰی کَعْبَیْہِ مَعَ اِجْرَائِ الْعَذَابِ، وَمِنْہُمْ مَنْ فِی النَّارِ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ مَعَ اِجْرَائِ الْعَذَابِ وَمِنْہُمْ مَنْ ھُوَ فِی النَّارِ اِلٰی صَدْرِہٖمَعَاِجْرَائِالْعَذَابِ،وَمِنْہُمْمَنْقَدِاغْتُمِرَفِی النَّارِ۔)) قَالَ عَفَّانٌ: (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) ((مَعَ اِجْرَا ئِ الْعَذَابِ قَدِ اغْتُمِرَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۶)

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنمیوں میں سب سے کم عذاب والا آدمی وہ ہوگا، جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے، ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا، بعض جہنمی ایسے ہوں گے کہ ان کے ٹخنوں تک آگ ہوگی اور اس کے ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیاجائے گا، بعض کے گھٹنوں تک آگ ہو گی اور اس کے ساتھ اور عذاب بھی دیا جائے گا، بعض کے سینہ تک آگ ہوگی اور اس کے سا تھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا اور بعض تو ایسے ہوں گے کہ مکمل طور پر آگ میںڈوبے ہوئے ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا۔

۔ (۱۳۲۳۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُنْصَبُ لِلْکَافِرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِقْدَارُ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ کَمَا لَمْ یَعْمَلْ فِی الدُّنْیَا، وَاِنَّ الْکَافِرَ یَرٰی جَہَنَّمَ وَیَظُنُّ اَنَّہَا مُوَاقِعَتُہُ مِنْ مَسِیْرَۃِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۳۷)

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر کے لیے قیامت کے دن پچاس ہزار سال کی مدت مقرر کی جائے گی، جیسا کہ اس نے دنیا میں عمل نہیں کیا تھا اور کافر جہنم کو دیکھ رہا ہوگا اور اسے یہ خیال آ رہا ہو گا کہ جہنم اسے چالیس برس کی مسافت سے بھی اپنی طرف کھینچ لے گی۔