TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مشرکوں کی اولاد کا بیان - مشرکوں کی اولاد کا بیان - جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 16 of جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 16 of 33 · 3 Hadith
۔ (۱۳۲۴۷)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ ((وَالْمَوْلُوْدُ فِی الْجَنَّۃِ وَالْمَوْؤُوْدَۃُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۶۱)
مولائے غطیب عبد اللہ بن ابی قیس، ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئے اور ان کو سلام کہا، انھوں نے پوچھا: کون ہے؟ اس نے بتایا: جی میں غطیف بن عازب کا غلام عبد اللہ ہوں، انھوں نے کہا: جو عفیف کے بیٹے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے ام المومنین! پھر اس نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا کہ آیا اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دو رکعتیں ادا کی ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پھر اس نے کافروں کی اولادکا حکم دریافت کیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ: وہ آخرت میں اپنے آباء کے ساتھ ہوں گے۔ میںنے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ عمل کے بغیر ہی اپنے آباء کے ساتھ (برے انجام میں شریک ہوں گے)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے۔
Takhreej
(۱۳۲۴۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۴۷۱۲ (انظر: ۲۴۵۴۵)
13248
Sahih
۔ (۱۳۲۴۹)۔ وَعَنْْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلَّا عَلٰی ہٰذِہِ الْمِلَّۃِ،حَتّٰییُبِیِّنَ عَنْہُ لِسَانُہُ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُشْرِّکَانِہٖ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!کَیْفَ مَاکَانَ قَبْلَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۷۴۳۸)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے،وہ اِس ملت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ بولنا شروع کر دے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مشرک بنا دیتے ہیں۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جو بچے اس عمرسے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں، ان کا انجام کیا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے۔
Takhreej
(۱۳۲۴۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۹۹، ومسلم: ۲۶۵۸ (انظر: ۷۴۴۵)
13249
Sahih
۔ (۱۳۲۵۰)۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُئِلَ عَنْ ذَرَارِیِّ الْمُشْرِکِیْنَ فَقَالَ: ((اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۳۱۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کیا عمل کرنے تھے۔
Takhreej
(۱۳۲۵۰) تخریج: انظر الحدیث رقم (۱۳۲۴۴)
Explanation
فوائد:… مشرکین کے مرنے والے نابالغ بچوں کا انجام کیا ہو گا؟ بعض احادیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے توقف کیا، بعض میں وضاحت کر دی کہ وہ اپنے بڑے کے ساتھ ہوں گے اور بعض میں ان کو جنتی قرار دیا گیا۔ درج ذیل دلائل سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وہ بھی جنت میں جائیں گے: (۱)ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَا کُنَّا مَعَذِّبِیْنَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُوْلًا}(سورۂ بنی اسرائیل: ۱۵) یعنی: ہم کسی شخص کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتے، جب تک رسول اس کی طرف رسول نہ بھیج دیں۔ (۲)سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک طویل حدیث بیان کرتے ہیں، اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ایک خواب بیان کیا، اس میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرشتوں نے مجھے کہا: دراز قد آدمی، جو آپ نے خوبصورت باغ میں دیکھے تھے، وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے ارد گرد وہ تمام بچے تھے، جو فطرت پر فوت ہوئے۔ کسی مسلمان نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: کیا مشرکوں کے بچے بھی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور مشرکوں کے بچے بھی تھے۔ (بخاری: ۷۰۴۷) یہ اس موضوع پر انتہائی واضح نص ہے، اس کا نسخ بھی ممکن نہیں ہے۔ (۳) بنو صریم کی ایک خاتون حسناء بنت معاویہ اپنے چچا سے بیان کرتی ہیں، وہ کہتے ہیں : میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنت میں کون ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلنَّبِیُّ فِی الْجَنَّۃِ ، وَالشَّہِیْدُ فِی الْجَنَّۃِ ، وَالْمَوْلُوْدِ فِی الْجَنَّۃِ۔))(مسند احمد) یعنی: نبی جنت میں ہو گا، شہید جنت میں ہو گا اور نابالغ بچہ جنت میں ہو گا۔ یہ حدیث مبارکہ بھی عام ہے، جو تمام بچوں کو شامل ہے۔ ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے مرنے والے نابالغ بچے جنت میں داخل ہوں گے۔ امام بخاری، امام نووی، حافظ ابن حجر، امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیمM کا یہی مسلک ہے۔ جن احادیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں توقف کا اظہار کیا، اِن علمائے اسلام نے ان احادیث کو اس مسئلہ کی حقیقت کی وضاحت سے پہلے پر محمول کیا۔ بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود وضاحت کر دی کہ وہ جنت میں ہی داخل ہوں گے۔ لیکن درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کا دوبارہ امتحان ہو گا: سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا اسود بن سریع اور سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((یُؤْتٰی بِاَرْبَعَۃٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: بِالْمَوْلُوْدِ، وَبِالْمَعْتُوْہِ، وَبِمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَۃِ، وَالشَّیْخِ الْفَانِيْ،کُلُّھُمْ یَتَکَلَّمُ بِحُجَّتِہِ، فَیَقُوْلُ الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لِعُنُقٍ مِنَ النَّارِ: اَبْرِزْ، فَیَقُوْلُ لَھُمْ: اِنِّيْ کُنْتُ اَبْعَثُ اِلٰی عِبَادِيْ رُسُلاً مِنْ اَنْفُسِھِمْ ، وَاِنِّي رَسُوْلُ نَفْسِيْ اِلَیْکُمْ، اُدْخُلُوْا ھٰذِہٖ فَیَقُوْلُ مَنْ کُتِبَ عَلَیْہِِ الشَّقَائُ: یَارَبِّ! اَیْنَ نَدْخُلُھَا وَمِنْھَا کُنَّا نَفِرُّ؟ قَالَ: وَمَنْ کُتِبَ عَلَیْہِ السَّعَادَۃُ یَمْضِيْ فَیَقْتَحِمُ فِیْھَا مُسْرِعًا، قَالَ: فَیَقُوْلُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: اَنْتُمْ لِرُسُلِيْ اَشَدُّ تَکْذِیْبًا وَمَعْصِیَۃً، فَیَدْخُلُ ھٰؤُلَائِ الْجَنَّۃَ، وَھٰؤُلَائِ النَّارَ۔)) (مسند ابی یعلی:۳/ ۱۰۴۴، مسند البزار: صـ۲۳۲، المعجم الاوسط، المعجم الکبیر، الصحیحۃ: ۲۴۶۸) یعنی: روزِ قیامت اِن چار افراد کو لایا جائے گا: بچہ، مجنون، دو رسولوں کے درمیانی وقفے میںمرنے والا اور بہت بوڑھا۔ ان میں سے ہر کوئی اپنی اپنی دلیلیں پیش کرے گا، اللہ تعالیٰ آگ کی گردن سے فرمائے گا: نمایاں ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں اپنے بندوں کی طرف ان میں سے رسول بھیجتا رہا اور اب میں تم لوگوں کے لیے اپنا قاصد خود ہوں اور کہتا ہوں کہ (سب کے سب) اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ بدبخت لوگ کہیں گے:اے ہمارے ربّ! ہم اس میں کیسے داخل ہوں، ہم تو اس سے دور بھاگتے تھے؟ سعادت مند لوگ (اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے) چل پڑیں گے اور اس میں جلدی جلدی اور زبردستی گھسیں گے۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم (آگ میں داخل نہ ہونے والے بدبخت) لوگ میرے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کی نافرمانی کرنے میں بڑے دلیر ہوتے۔ اب یہ جنت میں داخل ہوں گے اور یہ آگ میں۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: اس حدیث میںمذکورہ بچے سے مراد وہ ہے، جس کے والدین کافر ہوں۔ (صحیحہ: ۵/ ۶۰۵) کیونکہ بالاتفاق مسلمانوں کی بچے جنت میں داخل ہوںگے۔ میں نے پاکستان کے ایک محقق عالمِ دین کے سامنے مذکورہ بالا بحث اور یہ حدیث رکھی اور جمع و تطبیق کا سوال کیا، انھوں نے کہا: جن احادیث میں مشرکوں کے نابالغ بچوں کے جنتی ہونے کا ثبوت ملتا ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا بعض احادیث میں ہے، ان سے مراد وہ بچے ہیں، جو حشر کے میدان میں ہونے والے امتحان میں کامیاب ہوں گے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ حافظ عبدالمنان نورپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ کا موقف بھی امتحان والا ہی ہے۔ (دیکھیں احکام ومسائل: ۲/ ۳۵۸)
13250
Sahih

Chapters

33
01
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
6 Hadith
02
جنت اور جہنم کا تکرار
2 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
3 Hadith
04
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
4 Hadith
05
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
2 Hadith
06
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
4 Hadith
07
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان ، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
6 Hadith
08
جہنم کی وسعت اور اس کی دیواروں کا بیان
2 Hadith
09
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
3 Hadith
10
جہنم سے ڈرانے کا بیان
4 Hadith
11
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
8 Hadith
12
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
8 Hadith
13
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
1 Hadith
14
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
5 Hadith
15
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
5 Hadith
16
مشرکوں کی اولاد کا بیان
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
5 Hadith
18
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
3 Hadith
19
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
2 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
4 Hadith
21
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
4 Hadith
22
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
7 Hadith
23
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
7 Hadith
24
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
5 Hadith
25
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
9 Hadith
26
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
8 Hadith
27
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
6 Hadith
28
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
5 Hadith
29
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
11 Hadith
30
جو جنتی جنت میں جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے مل جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے دل چاہیں گے اور آنکھیں پسند کریں گی۔
3 Hadith
31
اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی، اور یہی چیز اہل جنت پر سب سے بڑی نعمت ہوگی
1 Hadith
32
موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
5 Hadith
33
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
6 Hadith
No chapter matched that.