TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے

Chapter 25 of جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 25 of 33 · 9 Hadith
۔ (۱۳۲۸۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖوَاَقَامَالصَّلَاۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ فَاِنَّ حَقًّا عَلٰی اللّٰہِ اَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ھَاجَرَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْ جَلَسَ فِیْ اَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ فِیْہَا۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَفَلَا نُخْبِرُ النَّاسَ؟ قَالَ: اِنَّ فِیْ الْجَنَّۃِ مِائَۃَ دَرَجَۃٍ اَعَدَّھَا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ لِلْمُجَاہِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ، بَیْنَ کُلِّ دَرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ، فَاِذَا سَاَلْتُمُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَسَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ، فَاِنَّہُ وَسْطُ الْجَنَّۃِ وَاَعْلٰی الْجَنَّۃِ وَفَوْقَہُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ وَمِنْہُ تَفْجُرُ اَوْ تَنْفَجِرُ اَنْہَارُ الْجَنَّۃِ۔)) شَکَّ اَبُوْ عَامِرٍ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ)۔ (مسند احمد: ۸۴۰۰)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی اور ماہِ رمضان کے روزے رکھے، تو اس کا اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے، اس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی ہو یا اپنی جائے پیدائش میں ہی زندگی گزار دی ہو۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم لوگوں کو آپ کی یہ بات بتلا نہ دیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (یاد رکھو کہ) جنت میں سو درجے ہیں،اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے ان کو تیار کر رکھا ہے، ان میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، تم جب بھی اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو، وہ جنت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے، اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔
Takhreej
(۱۳۲۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۹۰ (انظر: ۸۴۱۹)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ توحید و اعتقاد اور نماز روزے کے علاوہ دوسرے اعمالِ صالحہ کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔
13288
Sahih
۔ (۱۳۲۸۹)۔ وَعَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْجَنَّۃُ مِائَۃُ دَرَجَۃٍ، مَا بَیْنَ کُلِّ دَرَجَتَیْنِ مَسِیْرَۃُ مِائَۃِ عَامٍ وَقَالَ عَفَّانُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ): کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ اِلَی الْاَرْضِ وَالْفِرْدَوْسُ اَعْلَاھَا دَرَجَۃً وَمِنْہَا تَخْرُجُ الْاَنْہَارُ الْاَرْبَعَۃُ وَالْعَرْشُ مِنْ فَوْقِہَا وَاِذَا سَاَلْتُمُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۷۱)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے مابین ایک سو سال کی مسافت کا یا زمین و آسمان کے درمیان کا فاصلہ ہے، سب سے اعلیٰ درجہ جنت الفردوس ہے، اسی سے چار نہریں نکلتی ہیں، اسی درجے پراللہ تعالیٰ کا عرش ہے، تم جب بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو جنت الفردوس طلب کیا کرو۔
Takhreej
(۱۳۲۸۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۵۳۱(انظر: ۲۲۶۹۵)
13289
Sahih
۔ (۱۳۲۹۰)۔ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۳۷)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۹۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۵۳۰، وأخرجہ مختصرا ابن ماجہ: ۴۳۳۱(انظر: ۲۲۰۸۷)
13290
Sahih
۔ (۱۳۲۹۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ اَبِیْہِ (اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ اَرْبَعٌ ثِنْتَانِ مِنْ ذَھَبٍ حِلْیَتُہُمَا وَاٰنِیَتُہُمَا وَمَا فِیْہِمَا وَثِنْتَانِ مِنْ فِضَّۃٍ آنِیَتُہُمَا وَحِلْیَتُہُمَا وَمَا فِیْہِمَا، وَلَیْسَ بَیْنَ الْقَوْمِ وَبْیَنَ اَنْ یَّنْظُرُوْا اِلٰی رَبِّہِمْ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا رِدَائُ الْکِبْرِیَائِ عَلٰی وَجْہِہٖفِیْ جَنَّۃِ عَدْنٍ، وَہٰذِہِ الْاَنْہَارُ تَشْخَبُ مِنْ جَنَّۃِ عَدْنٍ ثُمَّ تَصْدَعُ بَعْد ذٰلِکَ اَنْہَارًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۶۹)
سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنات الفردوس چا رہیں، ان میں دو ایسی ہیں کہ ان میں رہنے والوں کا لباس، برتن اور ان کی ہر چیز سونے کی ہے اور دو ایسی ہے کہ ان کے برتن، ان میں رہنے والے کا لباس اور ان کی ہر چیز چاندی کی ہے، عدن والی بہشت میں اہل جنت اور اللہ تعالیٰ کی رؤیت کے درمیان صرف اللہ تعالیٰ کی کبریائی کی چادر ہو گی، یہ نہریں عدن بہشت سے ہی شروع ہوتی ہیں، اس کے بعد ان سے مزید نہریںنکل جاتی ہیں۔
Takhreej
(۱۳۲۹۱) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ لضعف ابی قدامۃ الحارث بن عبید الایادی أخرجہ الطیالسی: ۵۲۹، وابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۱۴۸، والدارمی: ۲۸۲۲، وابوعوانۃ: ۱/ ۱۵۷ (انظر: ۱۹۷۳۱)
13291
Zaeef
۔ (۱۳۲۹۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْجَنَّۃُ مِائَۃُ دَرَجَۃٍ، مَا بَیْنَ کُلِّ دَرَجَتَیْنِ مِائَۃُ عَامٍ۔)) (مسند احمد: ۷۹۱۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے سو درجے ہیں اور اس کے ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۹۲) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۵۲۹(انظر: ۷۹۲۳)
13292
Sahih
۔ (۱۳۲۹۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ لِلْجَنَّۃِ مِائَۃَ دَرَجَۃٍ لَوْ اَنَّ الْعَالَمِیْنَ اجْتَمَعُوْا فِیْ اِحْدَاھُنَّ لَوَسِعَتْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۵۶)
سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے سو درجے ہیں اور ہر درجہ اس قدر وسیع ہے کہ اگر دنیا کے تمام لوگ کسی ایک درجہ میں جمع ہوجائیں تو وہ اس میں سما جائیں گے۔
Takhreej
(۱۳۲۹۳) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: لو ان العالمین … وھذا اسناد ضعیف لضعف دراج بن سمعان فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ الترمذی: ۲۵۳۲(انظر: ۱۱۲۳۶)
13293
Sahih
۔ (۱۳۲۹۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَامِرٌ وَسُرَیْجٌ قَالَا: ثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ ہِلَالِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ اَھْلَ الْجَنَّۃِ لَیَتَزَاوَرُوْنَ فِیْہَا۔)) قَالَ سُرَیْجٌ: ((لَیَتَرَاؤَوْنَ فِیْہَا کَمَا تَرَاؤَوْنَ الْکَوْکَبَ الشَّرْقِیَّ وَالْکَوْکَبَ الْغَرْبِیَّ الْغَارِبَ فِی الْاُفُقِ الطَّالِعَ فِیْ تَفَاضُلِ الدَّرَجَاتِ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اُولٰئِکَ النَّبِیُّوْنَ؟ قَالَ: ((بَلٰی وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! اَقْوَامٌ آمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖوَصَدَّقُواالْمُرْسَلِیْنَ۔)) وَقَالَ سُرَیْجٌ: ((وَاَقْوَامٌ آمَنُوْا بِاللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۰۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جنت، جنت میں درجات کے تفاوت کے باوجود ایک دوسرے کو اس طرح دیکھیں گے، جیسے تم آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے پر غروب ہوتے، طلوع ہوتے ہوئے ستارے کو دیکھ لیتے ہو۔ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ انبیاء ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! یہ درجات ان لوگوں کے ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور تمام رسولوں کی تصدیق کی۔
Takhreej
(۱۳۲۹۴) تخریج: متن الحدیث صحیح، لکن من حدیث ابی سعید الخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، وھو حدیث رواہ البخاری: ۳۲۵۶، أخرجہ الترمذی: ۲۵۵۶ (انظر: ۸۴۲۳)
13294
Sahih
۔ (۱۳۲۹۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَھْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی لَیَرَاھُمْ مَنْ تَحْتَہُمْ کَمَا تَرَوْْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِی الْاُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ وَاَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرَ مِنْہُمْ وَاَنْعَمَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۰۴)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں نچلے درجات والے لوگ اونچے درجات والوں کو اس طرح دیکھ سکیں گے، جیسے تم آسمان کے دوردراز کناروں پر چمکتے ستاروں کو دیکھتے ہو اور سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمرفاروق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی ایسے ہی جنتیوں میں سے ہیں، (جو جنت کے اعلی درجات پر فائز ہوں گے)، اور کیا خوب مقام ہے ان کا۔
Takhreej
(۱۳۲۹۵) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۳۶۵۸ (انظر: ۱۱۸۸۲)
13295
Sahih
۔ (۱۳۲۹۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَھْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی لَیَرَاھُمْ مَنْ تَحْتَھُمْ کَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِیْ الْاُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ، وَاَبُوْ بَکْرٍ وعُمَرُ مِنْہُمْ وَاَنْعَمَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۳۱)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں بلند درجات والے کو ان سے کم درجوں والے لوگ اس طرح دیکھیںگے، جیسے تم لوگ آسمان کے کنارے پر دمکتے ستارے کو دیکھتے ہو، اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ایسے ہی بلند مقام لوگوں میں سے ہیں اور کیا خوب مقام ہے ان کا۔
Takhreej
(۱۳۲۹۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… بات تو جنت کے درجات کی چل رہی تھی، بیچ میں ان درجات کے حقداروں خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق اور خلیفۂ دوم سیدنا عمر فاروق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی بات چل پڑی، کیا مقام ہے صدیق و فاروق کا۔
13296
Sahih

Chapters

33
01
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
6 Hadith
02
جنت اور جہنم کا تکرار
2 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
3 Hadith
04
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
4 Hadith
05
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
2 Hadith
06
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
4 Hadith
07
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان ، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
6 Hadith
08
جہنم کی وسعت اور اس کی دیواروں کا بیان
2 Hadith
09
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
3 Hadith
10
جہنم سے ڈرانے کا بیان
4 Hadith
11
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
8 Hadith
12
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
8 Hadith
13
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
1 Hadith
14
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
5 Hadith
15
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
5 Hadith
16
مشرکوں کی اولاد کا بیان
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
5 Hadith
18
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
3 Hadith
19
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
2 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
4 Hadith
21
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
4 Hadith
22
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
7 Hadith
23
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
7 Hadith
24
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
5 Hadith
25
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
9 Hadith
26
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
8 Hadith
27
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
6 Hadith
28
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
5 Hadith
29
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
11 Hadith
30
جو جنتی جنت میں جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے مل جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے دل چاہیں گے اور آنکھیں پسند کریں گی۔
3 Hadith
31
اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی، اور یہی چیز اہل جنت پر سب سے بڑی نعمت ہوگی
1 Hadith
32
موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
5 Hadith
33
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
6 Hadith
No chapter matched that.