سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے چونسٹھ شعبے ہے، ان میں سب سے بلند اور عالی شعبہ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ کہنا ہے اور سب سے کم مرتبہ شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے۔
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے پچھہتر چھہتر شعبے ہیں، ان میں افضل شعبہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور کم تر شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
سیدنا نواس بن سمعان انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی ہے، ایک صراطِ مستقیم ہے، اس راستے کے دونوں اطراف میں دو دیواریں ہیں، جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں، راستے کے دروازے پر ایک داعی یہ کہہ رہا ہے: لوگو! سارے کے سارے راستے میں داخل ہو جاؤ اور اس سے زائل نہ ہو جاؤ اور جب کوئی آدمی کسی دورازے کو کھولنا چاہتا ہے تو راستے کے بیچ میں سے ایک داعی یوں آواز دیتا ہے: تو ہلاک ہو جائے، اس کو نہ کھول، اگر تو نے اس کو کھول دیا تو اس میں گھس جائے گا۔ (اس مثال کی وضاحت یہ ہے کہ) راستہ، اسلام ہے اور دیواریں، اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں اور کھلے دروازے، اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور ہیں اور راستے کے سرے پر داعی، اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور راستے کے بیچ والا داعی ہر مسلمان کے دل میں موجود اللہ تعالیٰ کا واعظ ہے۔
۔ (دوسری روایت) سیدنا نواسؓ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی ہے، ایک صراطِ مستقیم ہے، اس کی دونوں جانبوں میں دیواریں ہیں، ان میں کھلے ہوئے دروازے ہیں، جن پر پردے لٹک رہے ہیں اور ایک داعی راستے کے سرے پر ہے اور ایک داعی بندے کے اوپر اوپر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سلامتی والے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے، راستے کے دونوں جانبوں میں جو دروازے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، جب تک آدمی اللہ تعالیٰ کے پردے کو چاک نہیں کرتا، اس وقت تک وہ اس کی حدوں میں نہیں گھستا اور جو داعی اوپر سے بلا رہا ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا واعظ ہے۔