سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا: کون سا عمل سب سے زیادہ فضلیت والا اور کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے بعد کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد ، جو کہ افضل اور اشرف عمل ہے۔ اس نے کہا: پھر کون سا، اے اللہ کے رسول!؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج مبرور۔
فوائد:… اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی ذات و صفات کو من و عن تسلیم کیا جائے اور صفات کے تقاضوں پر یقینِ کامل رکھا جائے‘ بطور مثال رزق دینا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور رزق کے لئے جائز اسباب و ذرائع استعمال کرنے کا حکم بھی اللہ تعالیٰ نے دیا ہے‘ اب جو انسان حرام وسائل کے ذریعے رزق اکٹھا کرتا ہے یا حلال اسباب استعمال کرنے کے بعد کمی کے ڈر سے صدقہ نہیں کرتا یا نماز کے وقت دوکان بند کر کے نماز نہیں پڑھتا‘ تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رزّاق ہونے کا تقاضا پورا نہیں کررہا‘ اور اسے اللہ تعالیٰ کی صفت رزق دینا پر مکمل اعتماد نہیں ہے‘ ایمان و ایقان صرف خیالی پلاؤ کا نام نہیں بلکہ اعمال کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے۔ اللہ کے رسول پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی حقانیت کو تسلیم کیا جائے اور اس کے افعال و اقوال و تقریرات پر عمل کیا جائے۔ حج مبرور وہ ہے جس میں حاجی اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی نافرمانی سے محفوظ رہتا ہے،اسی طرح اللہ کی راہ میں جہادکرنا بڑی فضیلت والا عمل ہے۔
سیدنا عمر بن خطابؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اسے کہا جائے گا: تو جنت کے آٹھ دروازوں میں جس دروازے سے چاہتا ہے، داخل ہو جا۔
Takhreej
(۵۲) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ الطیالسی: ۳۰(انظر: ۹۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے مفہوم والی احادیث پچھلے باب میں گزر چکی ہے۔
سیدنا معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو لے کر نکلے، جب صبح ہوئی تو نمازِ فجر پڑھائی اور لوگ پھر سوار ہوئے اور چل پڑے، جب سورج طلوع ہوا تو رات کو چلتے رہنے کی وجہ سے لوگ اونگھنے لگ گئے، جبکہ سیدنا معاذ ؓ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلتے رہے، جبکہ لوگ سواریوں کو چرانے کے لیے ان کو لے کر بڑے راستوں کی طرف الگ الگ ہو گئے، بہرحال اُدھر سیدنا معاذؓ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل رہے تھے، ان کی اونٹنی چرتی بھی گئی اور چلتی بھی رہی، اچانک وہ پھسل پڑھی، سیدنا معاذؓ نے لگام کھینچی، لیکن وہ دوڑنے لگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی بھی اس کی وجہ سے بدکنے لگی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر سے کپڑا اٹھایا اور پیچھے متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ پورے لشکر میں سے سیدنا معاذ ؓہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آواز دیتے ہوئے فرمایا: اے معاذ! انھوں نے کہا: جی میں حاضر ہوں، اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اتنے قریب ہو گئے کہ ایک سواری دوسری کے ساتھ مل گئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ خیال تو نہیں تھا کہ لوگ اس قدر ہم سے دور رہ جائیں گے۔ سیدنا معاذ ؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! لوگوں کو اونگھ آنے لگ گئی اور ان کی سواریاں چرنے کے لیے دور دور تک بکھر گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی اونگھ رہا ہوں۔ بہرحال جب سیدنا معاذؓ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ خوش ہیں اور ان کے ساتھ خلوت میں ہیں تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایک ایسی بات پوچھ لینے کی اجازت دیں، جس نے مجھے بیمار اور پریشان کر رکھا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتے ہو، سوال کر لو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے ایسا عمل بتا دیں کہ جو مجھے جنت میں داخل کر دے میں آپ سے اس کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے سوال نہیں کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واہ، واہ، واہ،تم نے بڑے عمل کے بارے میں سوال کر دیا ہے، تم نے تو بڑے عمل کے بارے میں سوال کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ جملہ دوہرایا اور پھر فرمایا: لیکن یہ عمل اس آدمی کے لیے آسان ہے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید کوئی بات بیان نہ کی، البتہ ان ہی الفاظ کو تین دفعہ دوہرایا تاکہ سیدنا معاذؓاس کو اچھی طرح یاد کر لیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (وہ عمل یہ ہے کہ) تم اللہ تعالیٰ اورآخرت کے دن پر ایمان لاؤ، نماز قائم کرو، صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ (اور پھر تم اس سلسلے کو جاری رکھو) یہاں تک کہ اسی پر وفات پا جاؤ۔ انھوںنے آگے سے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ بات دوبارہ ارشاد فرماؤ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ دوہرا دی، پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! اگر تم چاہتے ہو تو میں اس دین کی اصل اور اس کی کوہان کی چوٹی کی وضاحت کر دیتا ہوں۔ سیدنا معاذ ؓ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مجھے بیان کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس دین کی اصل یہ ہے کہ تم یہ گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہوں، اور اس دین کا سہارا اور ستون یہ ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوۃ ادا کی جائے اور اس کی کوہان کی چوٹی جہاد فی سبیل اللہ ہے، مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے سے قتال کروں، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ وہ نماز قائم کریں، زکوۃ ادا کریں اور یہ شہادت دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ یکتا و یگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، جب لوگ یہ امور سر انجام دیں گے تو وہ خود بھی بچ جائیں گے اور اپنے خونوں اور مالوں کو بھی بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! فرضی نماز کے بعد جنت کے درجات کو پانے کیلئے جہاد فی سبیل اللہ ہی ایک ایسا عمل ہے، جس میں چہرے کو متغیر کیا جائے اور قدموں کو خاک آلود کیا جائے او ربندے کے ترازو کو سب سے زیادہ بھاری کرنے والا یہ عمل ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے میں کوئی چوپایہ خرچ کرو یا اللہ کے راستے میں کسی کو سواری دے دو۔
Takhreej
(۵۳) تخریج: صحیح بطرقہ و شواہدہ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۷۲(انظر: ۲۲۱۲۲)
حسن بصری کہتے ہیں: ہم مدینہ منورہ میں تھے کہ سیدنا ابوہریرہؓ نے ہمیں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن اعمال آئیں گے، (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) نماز آئے گی اور کہے گی: اے میرے ربّ! میں نماز ہوں، اللہ تعالیٰ کہے گا: بیشک تو خیر پر ہے۔ اسی طرح صدقہ آ کر کہے گا: اے میرے ربّ! میں صدقہ ہوں، اللہ تعالیٰ کہے گا: بیشک تو خیر پر ہے۔ پھر روزہ آ کر کہے گا: اے میرے ربّ! میں روزہ ہوں، اللہ تعالیٰ کہے گا: بیشک تو خیر پر ہے۔ پھر دوسرے اعمال آئیں گے اور اللہ تعالیٰ یہی کہتا رہے گا کہ تم خیر پر ہو، پھر اسلام آئے گااور کہے گا: اے میرے ربّ! تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں، اللہ تعالیٰ کہے گا: بیشک تو خیر پر ہے اورتیرے ذریعے آج میں مؤاخذہ کروں گا اور تیرے ذریعے عطا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا: {وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِی الْآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ}… جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں سے ہو گا۔ (سورۂ آل عمران: ۸۵)
Takhreej
(۵۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، عباد بن راشد ضعفہ ابن معین و ابوداود و ابن حبان۔ أخرجہ ابویعلی: ۶۲۳۱، والطبرانی فی الاوسط : ۷۶۰۷(انظر: ۸۷۴۲)
Explanation
فوائد: …اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر عمل کو ایک خاص وجود عطا کرے گا، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اس حدیث ِ مبارک کے آخری حصے سے معلوم ہوا کہ آخرت میں نجات کے لیے اسلام کا سہارا لینا ضروری ہے، ضرورت اس بات کی ہے ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اور بالخصوص اپنے گھروں میں اسلام کو نافذ کریں، دورِ حاضر کے اکثر مسلمانوں میں بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ اسلام کی چند شقوں پر عمل کر کے اپنے آپ کو کامل مسلمان سمجھ بیٹھے ہیں، اس نظریے کی وجہ سے ان کی عملی زندگی میں جمود اور ٹھہراؤ آ گیا ہے اور ان میں مزید عمل کی خواہش ہی ختم ہو گئی ہے۔
سیدنا عمر بن خطابؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ہمارے پاس ایک آدمی آیا، اس کے کپڑے بہت زیادہ سفید اور بال بہت زیادہ سیاہ تھے، نہ تو اس پر سفر کی کوئی علامت نظر آ رہی تھی اور نہ ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا، بہرحال وہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس طرح بیٹھ گیا کہ اپنے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں کے ساتھ ملا دیئے اور اپنے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رانوں پر رکھ دیئے اور کہا: اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتاؤ کہ اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز قائم کرے، زکوۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور اگر طاقت ہو تو بیت اللہ کا حج کرے۔ اس نے آگے سے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ ہمیں بڑا تعجب ہوا کہ یہ شخص سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ بہرحال اس نے پھر سوال کیا اور کہا: آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالی، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور ساری کی ساری تقدیر، وہ اچھی ہو یا بری، پر ایمان لائے۔ اس نے کہا: جی، آپ نے سچ کہا ہے۔ اس نے تیسرا سوال کرتے ہوئے کہا: اب آپ مجھے احسان کے بارے میں بتائیں، احسان کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اور اگر تو نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ اس نے پھر سوال کیا: آپ مجھے قیامت کے بارے میں بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسئول، قیامت کے بارے میں سائل سے زیادہ علم نہیں رکھتا۔ اس نے کہا: تو پھر آپ مجھے اس کی علامتوں کے بارے میں بتا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ ہیں: لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی، تو دیکھے گا کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسموں والے بکریوں کے چرواہے عمارتوں پر غرور کریں گے۔ سیدنا عمرؓ کہتے ہیں: پھر وہ بندہ چلا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ زمانے، ایک روایت کے مطابق تین دنوں تک اس کے بارے میں خاموش رہے اور پھر مجھ سے فرمایا: عمر! کیا تم جانتے ہو کہ یہ سائل کون تھا؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حضرت جبریلؑتھے، وہ تم لوگوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔
Takhreej
(۵۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸(انظر: ۳۶۷)
Explanation
فوائد: …یہ حدیث ِ جبریل ہے، ایمان اور اسلام کا معاملہ تو واضح ہے اور احسان کسی تیسری چیز کا نام نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا ایک انداز ہے اور وہ یہ کہ عبادت میں ایسی پختگی ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کا لحاظ رکھا جائے، اس کے مراقبے کا نظریہ مضبوط کر لیا جائے، تمام دنیوی معاملات کو خیر آباد کہہ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کا تصور قائم کر لیا جائے اور دورانِ عبادت اس کی عظمت و جلالت کا استحضار کیا جائے۔ یہ عبادت کا وہ انداز ہے، جس سے دل میں راحت پیدا ہوتی ہے اور جس کی مقدار میں اضافہ کرنے کی خواہش بڑھتی چلی جاتی ہے۔
لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی۔ اس کا راجح مفہوم یہ ہے کہ والدین کی نافرمانی عام ہو جائے گی اور اولاد کا اپنے ماں باپ کو ڈانٹنا، ان کو برا بھلا کہنا، ان پر سب و شتم کرنا اور ان پر حکم چلانا، اس کا انداز ایسے ہی ہو گاجیسے آقا اپنے غلام اور لونڈی کے ساتھ رویہ اختیار کرتا ہے، آج کل والدین کی نافرمانی عروج پر ہے اور جب اولاد گستاخانہ رویے پر اترتی ہے تو کوئی شریف یہ اندازہ ہی نہیں کر سکتا ہے کہ آیا یہ باپ بیٹا ہیں۔
سیدنا ابو عامر اشعریؓ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: پھر وہ سوال کرنے والا آدمی چلا گیا، جب ہمیں اس کا کوئی راستہ نظر نہ آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! سبحان اللہ! سبحان اللہ! (یعنی بڑا تعجب ہے) یہ جبرائیل ؑتھے جو لوگوں کو دین سکھلانے کے لیے آئے تھے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ جب بھی میرے پاس آتے تھے تو میں ان کو پہچانتا ہوتا تھا، ماسوائے اس دفعہ کے۔
Takhreej
(۵۶) تخریج: اسنادہ ضعیف علی نکارۃ فی بعض الفاظہ، وقد اختلف فیہ علی شھر (انظر: ۱۷۱۶۷)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے، اتنے میں جبرائیلؑآ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس طرح بیٹھ گئے کہ اپنی ہتھیلیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں بیان کرو کہ وہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع کر دے اور یہ شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ انھوں نے کہا: جب میں یہ امور سرانجام دے دوں گا تو میں مسلمان ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب تو یہ اعمال کرے گا تو تو مسلمان ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیں کہ ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کِتَابُ پر، نبیوں پر، موت اور موت کے بعددوبارہ زندہ ہونے پر، جنت و جہنم پر، حساب اور میزان پر اور ساری کی ساری تقدیر پر، وہ اچھی ہو یا بری۔ انھوں نے کہا: جب میں یہ اعمال کروں گا تو مؤمن ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب تو ایسا کرے گا تو مؤمن ہو جائے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ تو بتلا د و کہ احسان کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے اس طرح عمل کرے کہ گویا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے، پس اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو بیشک وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بیان کرو کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، اس کا تعلق تو غیب والی ان پانچ چیزوں سے ہے، جن کو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ } (بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میںمرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔) (سورۂ لقمان: ۳۴)، البتہ اگر تو چاہتا ہے تو میں تجھے اس کی علامتیں بیان کر دیتا ہوں۔ انھوں نے کہا: جی بالکل، اے اللہ کے رسول! آپ مجھے بیان کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو دیکھے گا کہ لونڈی اپنی مالکہ یا آقا کو جنم دے گی اور بکریوں کے چرواہے عمارتوں میں فخر کرنے لگیں گے اور ننگے پاؤں والے بھوکے اور فقیر لوگوں کے سردار بن جائیں گے، یہ قیامت کی علامتیں ہیں۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بکریوں کے چرواہوں اور ننگے پاؤں والے بھوکوں اور فقیروں سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرب۔
Takhreej
(۵۷) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ البزار: ۲۴(انظر: ۲۹۲۴)
سیدنا ابوہریرہؓ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: جب ننگے جسموں اور ننگے پاؤں والے اکھڑ مزاج اور سنگ دل لوگ… اس میں مزید یہ الفاظ ہیں: جب چھوٹی چھوٹی بھیڑ بکریوں کے چرواہے عمارتوں میں فخر کریں گے۔ آیت کے بعد یہ الفاظ بھی اس روایت میں ہیں: پھر وہ آدمی چلا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو دوبارہ میرے پاس بلاؤ۔ لوگوں نے اسے تلاش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لانا چاہا، لیکن وہ سرے سے اسے دیکھ ہی نہ سکے (کہ کہاں گیا ہے)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیلؑ تھے، جو لوگوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔
فوائد:… یہ حدیث ِ جبریل کئی عقائد و احکام پر مشتمل ہے، ہر قاری کو چاہیے کہ وہ بغور اس کا مطالعہ کرے اور اس میں بیان کیے گئے تمام تقاضوں کو پورا کرے، اس میں قیامت کی جو علامتیں بیان کی گئیں ہیں، وہ پوری ہو چکی ہیں۔
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام (اعضاء سے متعلقہ) علانیہ چیز ہے اور ایمان دل سے متعلقہ مخفی چیز ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف تین دفعہ اشارہ کیا اور پھر فرمایا: تقوی یہاں ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، تفرد بہ علی بن مسعدۃ، وھو ضعیف یعتبر بہ فی المتابعات والشواھد، وأما قولہ التقوی ھھنا فلہ شاھد من حدیث ابی ھریرۃ عند مسلم: ۲۵۶۴۔ أخرجہ ابو یعلی: ۲۹۲۳، والبزار: ۲۰ (انظر: ۱۲۳۸۱)
Explanation
فوائد:… تقوی اور پرہیز گاری کی بنیاد دل ہی ہے، لیکن جب دل میں تقوی پیدا ہو جائے تو اعضاء و جوارح اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، یعنی دل میں تقوی ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وجود کا رجحان بھی نیکیوں کی طرف ہو۔
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے سے ہی منع کر دیا گیا تھا، اس لیے ہمیں یہ بات پسند تھی کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوالات کرے اور ہم سنیں، ایک دن ایسے ہی ہوا کہ ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے بتلایا کہ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: تو پھر آپ بتلائیے کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: ان پہاڑوں کو کس نے پیدا کر کے ان میں بہت کچھ رکھ دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: تو پھر اس ذات کی قسم جس نے آسمان کو پیدا کیا، زمین کو پیدا کیا اور ان پہاڑوں کو گاڑھا! کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ بات بھی کی تھی کہ ایک دن رات میں ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے مالوں میں زکوۃ فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کا قاصد یہ بھی کہتا تھا کہ ہم پر ایک سال میں رمضان کے روزے بھی فرض ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان روزوں کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے پھر کہا: آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ جو آدمی طاقت رکھتا ہو، اس پر بیت اللہ کا حج کرنا بھی فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ یہ سارا کچھ سن کر وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چل دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے! میں ان (عبادات) میں نہ زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو ضرور ضرور جنت میں داخل ہو گا۔
اسی (انسؓ) سے روایت میں ایک اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: میں آپ کی لائی ہوئی چیزوں پر ایمان لایا ہوں اور میں اپنی قوم کے پیچھے رہ جانے والے افراد کا قاصد ہوں، بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والا ضمام بن ثعلبہ ہوں۔
Takhreej
(۶۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …شریعت کا اصول یہ ہے کہ ضرورت کے وقت اہل علم سے سوال کیا جائے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} … پس تم اہل علم سے سوال کرو، اگر تم نہیں جانتے۔ (سورۂ نحل: ۴۳، سورۂ انبیاء: ۷)
لیکن دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلا ضرورت سوال کرنے سے منع بھی کر رکھا تھا، اس لیے ان آداب کو جاننے والے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے میں احتیاط کرتے تھے، لیکن ان کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ سوالات کا سلسلہ ہونا چاہیے تاکہ مختلف احکام کی وضاحت ہوتی رہے، اس لیے وہ یہ چاہتے تھے کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آدمی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوالات کرے۔
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ور کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دن رات میں پانچ نمازیں۔ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر اس نے روزوں کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے روزے۔ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی روزہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر زکوۃ کا ذکر ہوا اور اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی زکوۃ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ بالآخر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان عبادات میں نہ کوئی زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہو گیا ہے۔
سیدنا معاویہ بن حیدہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ کے پاس آنے سے پہلے اِن سے زیادہ قسمیں اٹھائیں تھیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے۔ بہز راوی نے دونوں ہتھیلیوں کو جمع کر کے اشارہ کیا۔ ایک روایت میں ہے: یہاں تک کہ میں نے ان اپنی انگلیوں کی تعداد جتنی قسمیں اٹھائیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے، بہرحال اب میں آپ کے پاس آ گیا ہوں، جبکہ میں ایسا شخص ہوں کہ جسے کسی چیز کوئی سمجھ نہیں ہے، الا یہ کہ وہ امور جو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مجھے سمجھا دیں گے، اب میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ ہمارے ربّ نے آپ کو ہماری طرف کس چیز کے ساتھ مبعوث کیاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کے ساتھ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کی نشانی کیا ہے، اسلام کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا یہ کہنا کہ میں نے اپنا چہرہ (اللہ کے لیے) مطیع کر دیا ہے اور میں (شرکیہ دین سے) باز آ گیا ہوں، پھر تو نماز قائم کرے، زکاۃ ادا کرے اور ہر مسلمان، دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
Takhreej
(۶۳) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۴، والنسائی: ۵/ ۴ (انظر: ۲۰۰۴۳)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو مدد کرنے والے بھائی، اللہ تعالیٰ شرک کرنے والا مشرک سے اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد اس کا کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتے، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے کیا ہوا ہے کہ میں آگ سے بچانے کے لیے تم کو کمروں سے پکڑ رہا ہوں، خبردار! بیشک میرا ربّ مجھے بلانے والا ہے اور وہ مجھ سے یہ سوال کرنے والا ہے کہ کیا تم نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دیا تھا، اور میں یہ کہتے ہوئے جواب دوں گا کہ اے میرے ربّ! میں نے ان تک پہنچا دیا تھا، خبردار! موجودہ لوگ، غیر موجود لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دیں۔
Takhreej
(۶۵) تخریج: انظر الحدیث رقم: ۶۳
Explanation
فوائد: …مراد یہ ہے کہ لوگوں کا رویہ تو ہوتا ہے کہ وہ برائیاں کر کے آگ میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو مختلف حکمتوں کے ذریعے اس طرح روکنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو پکڑ رہے ہیں۔ لوگو! یہ بات ذہن نشین کر لو کہ ہم یہ شہادت دیتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تک مکمل دین پہنچا دیا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبلیغِ دین کے حوالے سے جو ذمہ داری ہمیں سونپی تھی، چند افراد کے علاوہ اس دور کے تمام مسلمان اس کو پورا کرنے سے غافل ہیں، سرے سے والدین کو یہ شعور نہیں ہے کہ ان کی اولاد کے حوالے سے ان پر کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ہم نے بزعم خود مساجد و مدارس سے متعلقہ لوگوں کو اس مِشن کا مکمل ذمہ دار سمجھ لیا، جبکہ نہ ہم اُن کے وجود کو کوئی اہمیت دیتے ہیں اور نہ ان کی باتوں کو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تم کو (قیامت کے دن) بلایا جائے گا، جبکہ تمہارے منہ، منہ بند سے بندھے ہوئے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سب سے پہلے یہ چیز بولے گی۔ ایک روایت میںہے: تمہاری طرف سے سب سے پہلے بولنے والی چیز ران اور ہتھیلی ہو گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ ہمارا دین ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارا دین ہے اور تم جہاں بھی نیکی کرو گے، تم کو کفایت کرے گی۔
Takhreej
(۶۶) تخریج: انظر الحدیث رقم: ۶۳
Explanation
فوائد: …قیامت والے دن لوگوں کو مختلف مراحل سے گزارا جائے گا، بعض مراحل پر لوگ اپنی زبانوں سے باتیں کریں گے، لیکن بعض مقامات پر ان کی زبانوں کو بند کر کے ان کے مختلف اعضا کو بولنے کی طاقت دی جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰی اَفْوَاھِھِمْ وَتُکَلِّمُنَا اَیْدِیْھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ} … ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وہ کرتے تھے۔ (سورۂ یس: ۶۵)
سیدنا ابو رزین عقیلیؓ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ یکتا و یگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ اللہ اور اس کا رسول، باقی تمام چیزوں کی بہ نسبت تجھے سب سے زیادہ محبوب ہوں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کی بہ نسبت تجھے آگ میں جل جانا زیادہ پسند ہو اور یہ کہ تو کسی غیر رشتہ دار سے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے۔ جب اس طرح ہو جائے گا ، یعنی جب یہ امور سرانجام دے لے گا تو تیرے دل میں ایمان کی محبت اس طرح داخل ہو جائے گی، جیسے سخت گرمی والے دن میں پیاسے کے اندر پانی کی محبت سرایت کر جاتی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میں مومن ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا جو آدمی نیکی کرے، جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہو کہ یہ نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو اس کا بدلہ دینے والا ہے، اسی طرح جو آدمی برائی کرے، جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہو کہ یہ واقعی برائی ہے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے اور وہ یہ جانتا ہو کہ صرف وہی بخشتا ہے تو وہ مؤمن ہو گا۔
Takhreej
(۶۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، سلیمان بن موسی الاشدق لم یدرک احدا من الصحابۃ (انظر: ۱۶۱۹۴)
Explanation
فوائد: …یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن نیک لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنا اور شرک کو آگ میں ڈالے جانے سے زیادہ ناپسند سمجھنا، یہ دو باتیں دوسری شرعی نصوص سے ثابت ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ عبد القیس کا وفد جب مدینہ منورہ پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وفد یا اس قوم کا تعلق کن سے ہے؟ انھوں نے کہا: ہم ربیعہ سے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وفد یا قوم کو مرحبا، رسوائی اور ندامت کے بغیر آ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم دور کا سفر کر کے آپ کے پاس آئے ہیں، چونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان کافروں کا یہ مضر قبیلہ رکاوٹ بنا ہوا ہے، اس لیے ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں آ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کوئی ایسا حکم دیں کہ ہم اس کے ذریعے جنت میں داخل ہو جائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی تعلیم دیں، پھر ان لوگوں نے پینے کے برتنوں کے بارے میں سوال کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو چار چیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کا حکم دیا اور پھر پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ ایمان باللہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کدو کے برتن، سبز مٹکوں، کھجور کے تنے سے بنائے ہوئے برتن اور تارکول والے برتن سے منع کیا اور فرمایا: یہ امور یاد کر لو اور اپنے پچھلے لوگوں کو بھی ان کی خبر دو۔
فوائد: … رسوائی اور ندامت کا بغیر آ گئے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رضامندی سے اسلام قبول کرنے کی توفیق دے دی اور اس طرح یہ لوگ لڑائی، شکست اور قیدی بننے کی ذلت سے بچ گئے۔
حرمت والے مہینے تو چار ہیں، لیکن مضر قبیلے کے کافر صرف رجب کی تعظیم زیادہ کرتے تھے اوروہ اس مہینے میں اپنے دشمن کو بھی نہیں چھیڑتے تھے، اس لیے ربیعہ خاندان کے لوگوں نے یہ تفصیل بیان کر کے اپنا عذر پیش کیا۔ اس حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں جن چار برتنوں سے منع کیا گیا ہے، شراب کی حرمت کے ساتھ ساتھ ان برتنوں کو استعمال کرنے سے بھی منع کر دیا تھا، کیونکہ ان میں نشہ جلدی پیدا ہو جاتا تھا، بعد میں ان کو استعمال کرنے کی عام اجازت دے دی گئی تھی، اب کوئی برتن، برتن ہونے کی وجہ سے حرام نہیں ہے، مزید تفصیل کتاب الاشربۃ میں آئے گی۔
عبد اللہ یشکری کہتے ہیں: میں خچر لانے کے لیے کوفہ گیا، جب میں بازار پہنچا تو دیکھا کہ وہ ابھی تک بند تھا، میں نے اپنے ساتھی سے کہا: اگر ہم مسجد میں چلے جائیں (تو بہتر ہو گا)، جبکہ مسجد کی جگہ کھجور والوں کے درمیان تھی، ہم نے دیکھا کہ مسجد میں قیس قبیلے کا ایک آدمی تھا، لوگ اسے ابن منتفق کہتے تھے، وہ یہ بیان کر رہا تھا: ایک آدمی نے میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات بیان کیں، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منیٰ میں تلاش کیا، لیکن کسی نے مجھے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس وقت عرفات میں ہوں گے، میں وہاں تک پہنچ گیا، لیکن جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آنا چاہا تو مجھے کہا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستے سے پرے ہٹ جا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بندے کو بلاؤ، اس کے اعضاء ناکارہ ہو جائے، کیا ہے اس کو۔ چنانچہ میں دھکیلتے ہوئے آگے بڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑ لی اور کہا: دو چیزوں کے بارے میں میں سوال کروں گا، کون سا عمل مجھے آگ سے نجات دلائے گا اور کون سا عمل مجھے جنت میں داخل کرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور پھر اپنے سر کو جھکا لیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چہرے کے ساتھ میری طرف متوجہ ہوئے اورفرمایا: تو نے سوال تو بڑا مختصر کیا ہے، لیکن حقیقت میں بڑی عظیم اور لمبی بات کر دی ہے، بہرحال اب میری بات کو سمجھ، تو نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا، فرضی نماز ادا کرنی ہے، فرضی زکوۃ دینی ہے، رمضان کے روزے رکھنے ہیں اور لوگوں کی طرف سے جو چیز تو اپنے حق میں پسند کرتا ہے، ان کے حق میں بھی اسی چیز کا انتخاب کر اور لوگوں کی طرف سے جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے، تو لوگوں کو بھی اس چیز سے محفوظ رکھ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب سواری کے راستے سے ہٹ جا۔
Takhreej
(۶۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ الیشکری ابن ابی عقیل ، ذکرہ الحافظ ابن حجر فی التعجیل وقال: روی عنہ ابنہ المغیرۃ، لیس بالمشھور۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۵۴۷۸(انظر: ۲۷۱۵۳)
اس (ابن منتفق) کی ایک اور روایت میں اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ایسے عمل پر میری رہنمائی فرمائیں کہ وہ مجھے جنت میں داخل کر دے اور آگ سے دور کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واہ، واہ، تو نے بات تو بڑی مختصر کی ہے، لیکن سوال بہت بڑا کر دیا ہے، (بہرحال اب اس کا جواب یہ ہے کہ) تو اللہ تعالیٰ سے ڈر، اس کے ساتھ شرک نہ کر، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر، بیت اللہ کا حج کر اور رمضان کے روزے رکھ، اب سواری کے راستے سے پرے ہٹ جا۔
Takhreej
(۷۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے لیے جن امورِ اسلام کا ذکر کیا ہے، وہ دوسری احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہیں۔