مسنداحمد

Musnad Ahmad

ایمان اور اسلام کی کتاب

ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان


۔ (۱۰۲)۔عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْئِ قِلَّۃُ الْکَلَامِ فِیْمَا لَا یَعْنِیْہِ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۷)

سیدنا حسین بن علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بندے کے حسنِ اسلام میں سے یہ ہے کہ جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اس کے بارے میں باتیں کم کرے۔ اور ایک روایت میں ہے: جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اسے چھوڑ دے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۲) تخریج: حسن بشواہدہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۸۸۶(انظر: ۱۷۳۷)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …یہ ایک جامع حدیث ہے اور نبیٔ کریم کے صاحب ِ جوامع الکلم ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: اہل علم نے اس حدیث کو بڑی شان و عظمت والا قرار دیا اور اس کو ان چار فرمودات ِ نبویہ میں شمار کیا، جن پر اسلام کے احکام سہارا لیتے ہیں، بعض نے اس حدیث کو اسلام کا تیسرا حصہ قرار دیا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۲۹) یہ حدیث تمام اسلامی احکام کا ملجاو ماوی ہے، اس حدیث کا مسلمان کے ہر معاملے سے گہرا تعلق ہے، جب بھی کوئی اقدام کرنا چاہے یا بولنا چاہے تو اس کے نتائج اور فوائد پر غور کر لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں ندامت ہو۔