سیدنا معاویہ بن حیدہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ کے پاس آنے سے پہلے اِن سے زیادہ قسمیں اٹھائیں تھیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے۔ بہز راوی نے دونوں ہتھیلیوں کو جمع کر کے اشارہ کیا۔ ایک روایت میں ہے: یہاں تک کہ میں نے ان اپنی انگلیوں کی تعداد جتنی قسمیں اٹھائیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے، بہرحال اب میں آپ کے پاس آ گیا ہوں، جبکہ میں ایسا شخص ہوں کہ جسے کسی چیز کوئی سمجھ نہیں ہے، الا یہ کہ وہ امور جو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مجھے سمجھا دیں گے، اب میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ ہمارے ربّ نے آپ کو ہماری طرف کس چیز کے ساتھ مبعوث کیاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کے ساتھ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کی نشانی کیا ہے، اسلام کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا یہ کہنا کہ میں نے اپنا چہرہ (اللہ کے لیے) مطیع کر دیا ہے اور میں (شرکیہ دین سے) باز آ گیا ہوں، پھر تو نماز قائم کرے، زکاۃ ادا کرے اور ہر مسلمان، دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو مدد کرنے والے بھائی، اللہ تعالیٰ شرک کرنے والا مشرک سے اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد اس کا کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتے، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے کیا ہوا ہے کہ میں آگ سے بچانے کے لیے تم کو کمروں سے پکڑ رہا ہوں، خبردار! بیشک میرا ربّ مجھے بلانے والا ہے اور وہ مجھ سے یہ سوال کرنے والا ہے کہ کیا تم نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دیا تھا، اور میں یہ کہتے ہوئے جواب دوں گا کہ اے میرے ربّ! میں نے ان تک پہنچا دیا تھا، خبردار! موجودہ لوگ، غیر موجود لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تم کو (قیامت کے دن) بلایا جائے گا، جبکہ تمہارے منہ، منہ بند سے بندھے ہوئے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سب سے پہلے یہ چیز بولے گی۔ ایک روایت میںہے: تمہاری طرف سے سب سے پہلے بولنے والی چیز ران اور ہتھیلی ہو گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ ہمارا دین ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارا دین ہے اور تم جہاں بھی نیکی کرو گے، تم کو کفایت کرے گی۔