مسنداحمد

Musnad Ahmad

نماز کی کتاب

نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان

۔ (۱۰۵۰)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْروٍؓ أَنَّ رَجُلًا جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَلصَّلَاۃُ)) قَالَ: ثُمَّ مَہْ؟ قَالَ: (اَلصَّلَاۃُ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَہْ؟ قَالَ: ( اَلصَّلَاۃُ) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَلَمَّا غَلَبَ عَلَیْہِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَلْجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ الرَّجُلُ: فَاِنَّ لِیْ وَالِدَیْنِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((آمُرُکَ بِالْوَالِدَیْنِ خَیْرًا۔)) قَالَ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ نَبِیًّا لَأُجَاہِدَنَّ وَلَأَتْرُکَنَّہُمَا، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَنْتَ أَعْلَمُ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۰۲)

سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور اس نے سب سے افضل عمل کا سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز۔ اس نے کہا: پھر کون سے ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز۔ اس نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز۔ ایسے تین دفعہ ہوا، پھر جب اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر زیادہ سوالات کیے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا۔ اس آدمی نے کہا: میرے والدین بھی زندہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تجھے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! میں ضرور ضرور جہاد کروں گا اور ضرور ضرور ان کو چھوڑ دوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو خود زیادہ جانتا ہے۔

۔ (۱۰۵۱)۔عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اسْتَقِیْمُوْا وَلَنْ تُحْصُوْا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اسْتَقِیْمُوْا تُفْلِحُوْا) وَاعْلَمُوْا أَنَّ خَیْرَ أَعْمَالِکُمُ الصَّلَاۃُ وَلَنْ یُحَافِظَ عَلَی الْوُضُوْئِ اِلَّا مُؤْمِنٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۸۰۰)

مولائے رسول سیدنا ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: راہِ صواب پر چلتے رہو اور تم ہر گز احاطہ نہیں کر سکو گے، ایک روایت میں ہے: تم راہِ صواب پر چلتے رہو، کامیاب ہو جاؤ گے، اور جان لو کہ نماز تمہارا سب سے بہترعمل ہے اور ہر گز وضو کی حفاظت نہیں کرتا مگر مؤمن۔

۔ (۱۰۵۲)۔عَنْ حَنْظَلَۃَ الْکَاتِبِؓ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ حَافَظَ عَلَی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ رُکُوْعِہِنَّ وَسُجُوْدِہِنَّ وَمَوَاقِیْتِہِنَّ وَعَلِمَ أَنَّہَا حَقٌ مِنْ عِنْدِاللّٰہِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) أَوْ قَالَ: ((وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یَرَاہَا حَقًّا لِلّٰہِ حُرِّمَ عَلَی النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۳۵)

سیدنا حنظلہ کاتب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے پانچ نمازوں کے رکوع، سجود اور اوقات کی اچھی طرح حفاظت کی اور یہ جان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق ہیں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ایک روایت میں ہے: اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔ اور ایک روایت میں ہے: وہ ان نمازوں کو اللہ تعالیٰ کا حق سمجھتا ہے، تو وہ آگ پر حرام ہو جائے گا۔

۔ (۱۰۵۳)۔ عَنْ أَبِیْ عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((أَفْضَلُ الْعَمَلِ الصَّلَاۃُ لِوَقْتِہَا وَبِرُّ الْوَالِدَیْنِ وَالْجِہَادُ)) (مسند أحمد: ۲۳۵۰۸)

ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز کو وقت پر ادا کرنا، والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور جہاد کرنا افضل اعمال ہیں۔

۔ (۱۰۵۴)۔عَنْ أُمِّ فَرْوَۃَؓ وَکَانَتْ قَدْ بَایَعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَفْضَلِ الْعَمَلِ، فَقَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ لِأَوَّلِ وَقْتِہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۴۵)

سیدہ ام فروہ ؓ، جنھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیعت کی تھی، کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے افضل عمل کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نمازکو اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔

۔ (۱۰۵۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ فَرْوَۃَ وَکَانَتْ مِمَّنْ بَایَعَ أَنَّہَا سَمِعْتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ الْأَعْمَالَ فَقَالَ: ((اِنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ تَعْجِیْلُ الصَّلَاۃِ لِأَوَّلِ وَقْتِہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۴۶)

۔ (تیسری سند) سیدہ ام فروہؓ، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیعت کرنے والوں میں سے تھیں، کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اعمال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب عمل یہ ہے کہ نماز کو اس کے پہلے وقت میں معجل کر کے ادا کیا جائے۔