TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز کی کتاب - نماز کی کتاب - Book 20 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 20 of Musnad Ahmad, with 14 chapters and 97 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

97 Hadith · 14 Chapters
نماز کی فرضیت اور اس کے فرض ہونے کے وقت کا بیان
۔ (۱۰۰۲)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِیْ بِمَا افْتَرَضَ اللّٰہُ عَلَیَّ مِنَ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ: ((اِفْتَرَضَ اللّٰہُ عَلٰی عِبَادِہِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا۔)) قَالَ: ھَلْ عَلَیَّ قَبْلَہُنَّ أَوْ بَعْدَہُنَّ؟ قَالَ: ((اِفْتَرَضَ اللّٰہُ عَلٰی عِبَادِہِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا۔)) قَالَہَا ثَلَاثًا، قَالَ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ! لَا أَزِیْدُ فِیْہِنَّ شَیْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْہُنَّ شَیْئًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((دَخَلَ الْجَنَّۃَ اِنْ صَدَقَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۵۱)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو نمازیں فرض کی ہیں، مجھے ان کے بارے میں بتلائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اس نے کہا: کیا مجھ پر اِن سے پہلے یا اِن کے بعد بھی کوئی نماز فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ تین دفعہ ارشاد فرمایا، پھر اس بندے نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ مین میری جان ہے! نہ میں ان میں کسی چیز کی زیادتی کروں گا اور نہ کمی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۰۲) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۲۲۸ (انظر: ۱۳۸۱۵)
1002
Sahih
نماز کی فرضیت اور اس کے فرض ہونے کے وقت کا بیان
۔ (۱۰۰۳)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: فُرِضَ عَلَی نَبِیِّکُمْ خَمْسُوْنَ صَلَاۃً، فَسَأَلَ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ فَجَعَلَہَا خَمْسًا۔ (مسند أحمد:۲۸۹۱)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تمہارے نبی پر پچاس نمازیں فرض کی گئی تھیں، پھر انھوں نے اپنے ربّ سے سوال کیا، پس اس نے ان کو پانچ کر دیا۔
Takhreej
(۱۰۰۳) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۰۰، وأخرج نحوہ ابوداود: ۲۴۷ (انظر: ۲۸۹۱)
1003
Sahih
نماز کی فرضیت اور اس کے فرض ہونے کے وقت کا بیان
۔ (۱۰۰۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ أُمِرَ نَبِیُّکُمْ بِخَمْسِیْنَ صَلَاۃً، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۲۸۹۲)
۔ (دوسری سند) تمہارے نبی کو پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا،…۔
Takhreej
(۱۰۰۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1004
Sahih
نماز کی فرضیت اور اس کے فرض ہونے کے وقت کا بیان
۔ (۱۰۰۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (مِنْ حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ سَیَأْتِیْ بِتَمَامَہِ فِیْ الْاِسْرَائِ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((فَرَضَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلٰی أُمَّتِیْ خَمْسِیْنَ صَلَاۃً، قَالَ: فَرَجَعْتُ بِذٰلِکَ حَتّٰی أَمُرَّ عَلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَقَالَ: مَا ذَا فَرَضَ رَبُّکَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلٰی أُمَّتِکَ؟ قُلْتُ: فَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسِیْنَ صَلَاۃً، فَقَالَ لَہُ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ: رَاجِعْ رَبَّکَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فَاِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِیْقُ ذٰلِکَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَوَضَعَ شَطْرَہَا فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّکَ فَاِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِیْقُ ذٰلِکَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّیْ، فَقَالَ: ہِیَ خَمْسٌ وَہِیَ خَمْسُوْنَ، لَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۱۲)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے (یہ ایک طویل حدیث ہے، سیدنا ابی بن کعب ؓ سے مروی ہے، یہ پوری حدیث اسراء میں آئے گی، اس مقام پر یہ حصہ جو آگے آ رہا ہے، مطلوب ہے:) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، پس میں یہ چیزیں لے کر لوٹ پڑا، جب میں موسیؑ کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا: تیرے ربّ نے تیری امت پر کیا کچھ فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: جی اُن پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں، یہ سن کر موسیؑ نے کہا: اپنے ربّ سے بات کرو، تیری امت اس عمل کی طاقت نہیں رکھے گی، پس میں نے اپنے ربّ سے بات کی تو اللہ تعالیٰ نے آدھی نمازیں معاف کر دیں، پھر میں موسیؑ کی طرف لوٹا اور ان کو بتایا، لیکن انھوں نے پھر کہا: اپنے ربّ سے پھر بات کرو کیونکہ تمہاری امت اتنی نمازوںکی طاقت نہیں رکھے گی، پس میں نے اپنے ربّ سے پھر بات کی تو اللہ تعالیٰ نے کہا: یہ پانچ ہیں اور یہ پچاس ہیں، میرے ہاں قول تبدیل نہیں کیا جاتا۔
Takhreej
(۱۰۰۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۹، ومسلم: ۱۶۳ (انظر: ۲۱۲۸۸)
1005
Sahih
نماز کی فرضیت اور اس کے فرض ہونے کے وقت کا بیان
۔ (۱۰۰۶)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلَاۃُ رَکْعَتَیْنِ فَزَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ صَلَاۃِ الْحَضَرِ وَتَرَکَ صَلَاۃَ السَّفَرِ فِیْ نَحْوِہَا۔ (مسند أحمد: ۲۶۴۹۴)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئی، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا اور سفری نماز کو اسی طرح رہنے دیا۔
Takhreej
(۱۰۰۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۹، ومسلم: ۱۶۳ (انظر: ۲۱۲۸۸)
Explanation
فوائد:… اس موضوع پر سیدہ عائشہ ؓسے مروی حدیث یہ ہے، وہ کہتی ہیں: فُرِضَتِ الصَّلَاۃُ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ فِیْ الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَاُقِرَّتِ صَلَاۃُ السَّفَرِ وَزِیْدَ فِیْ الْحَضَرِ۔ … حضر و سفر کی نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھی، پھر اس (مقدار) کو سفر ی نماز قرار دیا گیا اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا۔
1006
Zaeef
نماز کی فرضیت اور اس کے فرض ہونے کے وقت کا بیان
۔ (۱۰۰۷)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاۃَ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکُمْ عَلَی الْمُقِیْمِ أَرْبَعًا وَعَلَی الْمُسَافِرِ رَکْعَتَیْنِ وَعَلَی الْخَائِفِ رَکْعَۃً۔ (مسند أحمد:۲۱۲۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان کے مطابق مقیم پر نماز کی چار، مسافر پر دو اور ڈرنے والے پر ایک رکعت فرض کی۔
Takhreej
(۱۰۰۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۸۷ (انظر: ۲۱۲۴)
1007
Sahih
نماز کی فرضیت اور اس کے فرض ہونے کے وقت کا بیان
۔ (۱۰۰۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: کَانَتِ الصَّلَاۃُ خَمْسِیْنَ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ سَبْعَ مِرَارٍ، وَالْغَسْلُ مِنَ الْبَوْلِ سَبْعَ مِرَارٍ، فَلَمْ یَزَلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْأَلُ حَتّٰی جُعِلَتِ الصَّلَاۃُ خَمْسًا وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ مَرَّۃً وَالْغَسْلُ مِنَ الْبَوْلِ مَرَّۃً۔ (مسند أحمد: ۵۸۸۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نمازیں پچاس تھیں، غسلِ جنابت بھی سات دفعہ تھا اور پیشاب کو دھونا بھی سات بار تھا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سوال کرتے رہے، یہاں تک کہ پانچ نمازیں، ایک بار غسل جنابت اور ایک بار پیشاب کے دھونے کو مشروع قرار دیا گیا۔
Takhreej
(۱۰۰۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ایوب بن جابر الیمامی وعبدُ اللہ بنُ عصمۃ مختلف فیہ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۴۷ (انظر: ۵۸۸۴)
Explanation
فوائد:… ابو داؤد میں یہ الفاظ ہیں: ((غَسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ۔)) یعنی پیشاب والے کپڑے کو دھونا۔ (عبداللہ رفیق)
1008
Zaeef
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
۔ (۱۰۰۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ وَرَمْضَانُ اِلٰی رَمْضَانَ مُکَفِّرَاتٌ لِمَا بَیْنَہُنَّ، مَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ۔)) (مسند أحمد: ۹۱۸۶)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پانچ نمازیں، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک اپنے درمیان والے گناہوںکا کفارہ بنتے ہیں، جب تک بڑے گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔
Takhreej
(۱۰۰۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۳ (انظر: ۹۱۹۷)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ نیکی کے کام اس شرط کے ساتھ گناہوں کا کفارہ ہیں کہ کبائر سے دور رہا جائے۔ گویا اگر کوئی بڑے گناہوں سے نہیں بچتا تو اس کے لیے صغائر معاف کیے جانے کا کوئی وعدہ نہیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ مذکورہ نیکیوں سے صغائر ہی معاف ہوں گے، کبائر نہیں۔ کبائر کی معافی کے لیے توبہ کرنی ہوگی۔ (عبداللہ رفیق)
1009
Sahih
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
۔ (۱۰۱۰)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ اِلَی الصَّلَاۃِ الَّتِیْ قَبْلَہَا کَفَّارَۃٌ، وَالْجُمْعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ الَّتِیْ قَبْلَہَا کَفَّارَۃٌ، وَالشَّہْرُ اِلَی الشَّہْرِ الَّذِیْ قَبْلَہُ کَفَّارَۃٌ اِلَّامِنْ ثَـلَاثٍ۔)) قَالَ: فَعَرَفْنَا أَ نَّہُ أَمْرٌ حَدَثَ، ((اِلَّا مِنَ الشِّرْکِ بِاللّٰہِ وَنَکْثِ الصَّفْقَۃِ وَ تَرْکِ السُّنَّۃِ۔)) قَالَ: ((أَمَّا نَکْثُ الصَّفْقَۃِ فَاَنْ تُعْطِیَ رَجُلًا بَیْعَتَکَ ثُمَّ تُقَاتِلَہُ بِسَیْفِکَ، وَأَمَّا تَرْکُ السُّنَّۃِ فَالْخُرُوْجُ مِنَ الْجَمَاعَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۸۴)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز پچھلی نماز تک کفارہ ہے، جمعہ پچھلے جمعہ تک کفارہ ہے اور ماہِ رمضان پچھلے مہینے تک کفارہ ہے، مگر تین گناہوں سے۔ ہم نے پہچان لیا کہ کوئی نئی صورتِ حال واقع ہوئی ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، معاہدے کو توڑنا اور سنت کو ترک کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: معاہدے کو توڑنا یہ ہے کہ تو کسی آدمی سے عہد و پیمان کرے، لیکن پھر تو تلوار کے ساتھ اس کے ساتھ لڑنا شروع کر دے، اور سنت کو ترک کرنے سے مراد جماعت سے خارج ہونا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۰) تخریج: صحیح دون قولہ: الا من ثلاث…۔ واسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل الانصاری الروای عن ابی ھریرۃ۔ أخرجہ الحاکم: ۱/۱۱۹(انظر: ۱۰۵۷۶)
1010
Sahih
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
۔ (۱۰۱۱)۔ عَنْ أَبِیْ عُثْمَانَ قَالَ: کُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّؓ تَحْتَ شَجَرَۃٍ وَأَخَذَ مِنْہَا غُصْنًا یَابِسًا فَہَزَّہُ حَتّٰی تَحَاتَّ وَرَقُہُ، ثُمَّ قَالَ: یَا أَبَا عُثْمَانَ! أَلَا تَسْأَلُنِیْ لِمَ أَفْعَلُ ہٰذَا؟ قُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُہُ؟ قَالَ: ہٰکَذَا فَعَلَ بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ تَحْتَ شَجَرَۃٍ فَأَخَذَ مِنْہَا غُصْنًا یَابِسًا فَہَزَّہُ حَتّٰی تَحَاتَّ وَرَقُہُ، فَقَالَ: یَا سَلْمَانُ! أَلَا تَسْأَلُنِیْ لِمَ أَفْعَلُ ہٰذَا؟ قُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُہُ؟ قَالَ: ((اِنَّ الْمُسْلِمَ اِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ صَلَّی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ تَحَاتَتْ خَطَایَاہُ کَمَا یَتَحَاتُّ ھٰذَا الْوَرَقُ، وَقَالَ:{وَأَقِمِ الصَّلَاۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ، اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ، ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذَّاکِرِیْنَ}۔ (مسند أحمد: ۲۴۱۰۸)
ابو عثمان کہتے ہیں: میں سیدنا سلمان فارسی ؓ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا، انھوں نے اس کی خشک ٹہنی کو پکڑا اور اس کو ہلایا، یہاں تک کہ اس کے پتے گر گئے، پھر کہا: اے ابو عثمان! کیا تم مجھ سے یہ سوال نہیں کرتے کہ میںنے ایسے کیوں کیاہے؟ میں نے کہا: جی آپ نے ایسے کیوں کیا ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمارے ساتھ ایسے کیا تھا، جبکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے خشک شاخ کو پکڑ کر ہلایا، یہاں تک کہ اس کے پتے گرگئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: سلمان! کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرو گے کہ میں نے ایسے کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: جی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایسے کیوں کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک مسلمان جب وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے، پھر پانچ نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح گر جاتے ہیں، جیسے یہ پتے گر جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، یقینا نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لیے۔ (سورۂ ہود: ۱۱۴)
Takhreej
(۱۰۱۱) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ بتمامہ ومختصرا الطیالسی: ۶۵۲، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۷، والدارمی: ۷۱۹، والطبرانی فی الکبیر : ۶۱۵۱ (انظر: ۲۳۷۰۷)
1011
Sahih
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
۔ (۱۰۱۲)۔ عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَائِ وَالْوَرَقُ یَتَہَافَتُ فَأَخَذَ بِغُصْنَیْنِ مِنْ شَجَرَۃٍ، قَالَ: فَجَعَلَ ذٰلِکَ الْوَرَقُ یَتَہَافَتُ، قَالَ: فَقَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ!)) قُلْتُ: لَبَّیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لَیُصَلِّی الصَّلَاۃَ یُرِیْدُ بِہَا وَجْہَ اللّٰہِ تَعَالٰی فَتَہَافَتُ عَنْہُ ذُنُوْبُہُ کَمَا یَتَہَافَتُ ھٰذَا الْوَرَقُ عَنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ)) (مسند أحمد: ۲۱۸۸۹)
سیدنا ابوذرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سردیوں کے موسم میں نکلے، جبکہ پتے گر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک درخت کی دو شاخیں پکڑیں اور ان سے پتے جھڑنا شروع ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے ابو ذر!)) میں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک مسلمان بندہ جب نماز ادا کرتا ہے، جبکہ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہو تو اس سے اس کے گناہ اس طرح گرتے ہیں، جیسے اس درخت سے یہ پتے گر رہے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۱۲) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۱۵۵۶)
1012
Sahih
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
۔ (۱۰۱۳)۔عَنِ الْحَارِثِ مَوْلٰی عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ)ؓ قَالَ: جَلَسَ عُثْمَانُ یَوْمًا وَجَلَسْنَا مَعَہُ فجَائَہُ الْمُؤَذِّنُ فَدَعَا بِمَائٍ فِیْ اِنَائٍ أَظُنُّہُ سَیَکُوْنُ فِیْہِ مُدٌّ فتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ وُضُوْئِیْ ہٰذَا، ثُمَّ قَالَ: ((وَمَنْ تَوَضَّأَ وُضُوْئِیْ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی صَلَاۃَ الظُّہْرِ غُفِرَ لَہُ مَا کَانَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ الصُّبْحِ، ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ صَلَاِۃ الظُّہِْر، ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ، ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ صلاۃ الْمَغْرِبَ ثُمَّ لَعَلَّہُ أَنْ یَبِیْتَ یَتَمَرَّغُ لَیْلَتَہُ ثُمَّ اِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّی الصُّبْحَ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ صَلَاۃِ الْعِشَائِ، وَہُنَّ الْحَسَنَاتُ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ۔)) قَالُوْا: ہٰذِہِ الْحَسَنَاتُ فَمَا الْبَاقِیَاتُ یَا عُثْمَانُ؟ قَالَ: ہُنَّ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ (مسند أحمد: ۵۱۳)
مولائے عثمان حارث کہتے ہیں: ایک دن سیدنا عثمان ؓبیٹھے ہوئے تھے، ہم بھی اُن کے ارد گرد بیٹھ گئے، جب مؤذن آیا تو انھوں نے ایک برتن میں پانی منگوایا، میرا خیال ہے کہ وہ ایک مُدّ پانی ہو گا، پس انھوں نے وضو کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے میرے وضو کی طرح وضو کیا اور فرمایا: جس نے میری وضو کی طرح وضو کیا اور پھر کھڑا ہوا اور نمازِ ظہر ادا کی، اس کے وہ گناہ بخش دیئے جائیں گے جو اِس ظہر اور فجر کے درمیان ہوں گے، پھر جب وہ عصر کی نماز پڑھے گا تو عصر اور ظہر کے درمیان والے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، جب وہ مغرب پڑھے گا تو اِس نماز اور عصر کی نماز کے درمیان والے گنا بخش دیئے جائیں گے، جب وہ عشا پڑھے گا تو عشا اور مغرب کے درمیان والے گناہ بخش دیئے جائیں گے، پھر ممکن ہے کہ وہ رات گزارے اور الٹ پلٹ ہوتا رہے، پھر جب اٹھے گا اور وضو کر کے نمازِ فجر ادا کرے گا تو اِس نماز اور عشا کی نماز کے درمیان کے گناہ بخش دیئے جائیں، یہ نیکیاں ہیں، جو برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ لوگوں نے کہا: یہ تو نیکیاں ہیں، باقی رہنے والی چیزیں کون سی ہیں، اے عثمان!؟ انھوں نے کیا: وہ یہ اذکار ہیں: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ،لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔
Takhreej
(۱۰۱۳) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ البزار: ۴۰۵ وابویعلی (انظر: ۵۱۳)
1013
Sahih
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
۔ (۱۰۱۴)۔ عَنْ حُمْرَانَ قَالَ: کَانَ عُثْمَانُؓ یَغْتَسِلُ کُلَّ یَوْمٍ مَرَّۃً مِنْ مُنْذُ أَسْلَمَ فَوَضَعْتُ وَضُوْئً ا لَہُ ذَاتَ یَوْمٍ لِلصَّلٰوۃِ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَالَ: اِنِّیْ أَرَدتُّ أَنْ أُحَدِّثَکُمْ بِحَدِیْثٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: بَدَا لِیْ أَنْ لَا أُحَدِّثُکُمُوْہُ، فَقَالَ الْحَکْمُ بْنُ الْعَاصِ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنْ کَانَ خَیْرًا فَنَأْخُذُ بِہِ أَوْ شَرًّا فَنَتَّقِیْہِ، قَالَ: فَقَالَ: فَاِنِّیْ مُحَدِّثُکُمْ بِہِ، تَوَضَّأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھٰذَا الْوُضُوْئَ ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ ھٰذَا الْوُضُوْئَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَأَتَمَّ رُکُوْعَہَا وَسُجُوْدَہَا کَفَرَّت عَنْہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ الْصَلوۃِ الْأُخْرٰی مَالَمْ یُصِبْ مَقْتَلَۃً۔)) یَعْنِیْ کَبِیْرِۃً۔ (مسند أحمد: ۴۸۴)
حمران کہتے ہیں: سیدنا عثمان ؓقبولیت ِ اسلام کے بعد ہر روز غسل کرتے تھے، ایک دن میں نے ان کے لیے نماز کے لیے وضو کا پانی رکھا، پس جب انھوں نے وضو کیا تو کہا: میں نے تم کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ میں وہ تم کو بیان نہیں کروں گا۔ حکم بن عاص نے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر وہ بھلائی پر مشتمل ہو گی تو ہم اس پر عمل کریں گے اور اگر اس میں کسی شرّ کا تعین کیا گیا تو ہم اس سے بچیں گے، یہ سن کر سیدنا عثمان ؓ نے کہا: ٹھیک ہے، میں تم لوگوں کو بیان کر دیتا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس وضو کی طرف وضو کیا اور پھر فرمایا: جس نے اس وضو کے مطابق وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر نماز کے لیے کھڑا ہوا اور رکوع و سجود کو مکمل کیا، تو یہ نماز اپنے اور سابقہ نماز کے درمیان والے گناہوں کا کفارہ بن جائے گی، جب تک تباہ کرنے والے (یعنی کبیرہ) گناہ سے بچا جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۱۴) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ بنحوہ مسلم: ۲۲۸(انظر: ۴۸۴)
1014
Sahih
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
۔ (۱۰۱۵)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوْئَ کَمَا أَمَرَہُ اللّٰہُ فَالصَّلَوَاتُ الْمَکْتُوْبَاتُ کَفَّارَاتٌ لِمَا بَیْنَہُنَّ)) (مسند أحمد: ۴۰۶)
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضو مکمل کیا تو فرضی نمازیں اپنے مابین ہونے والے گناہوں کا کفارہ بننے والی ہیں۔
Takhreej
(۱۰۱۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۱ (انظر: ۴۰۶)
1015
Sahih
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
۔ (۱۰۱۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: (أرَأَیْتَ لَوْ کَانَ بِفِنَائِ أَحَدِکُمْ نَہْرٌ یَجْرِیْ یغْتَسِلُ مِنْہُ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ مَا کَانَ یَبْقٰی مِنْ دَرَنِہِ۔)) قَالُوْا: لَا شَیْئَ، قَالَ: ((اِنَّ الصَّلٰوۃَ تُذْہِبُ الذُّنُوْبَ کَمَا یُذْہِبُ الْمَائُ الدَّرَنَ۔)) (مسند أحمد: ۵۱۸)
سیدنا عثمان بن عفان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے گھر کے صحن میں جاری نہر ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ دفعہ غسل کرتا ہو، کیا اس کی میل کچیل باقی رہے گی؟ انھوںنے کہا: جی کچھ بھی باقی نہیں رہے گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز بھی گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتی ہے، جیسے پانی میل کو ختم کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۶)تخریجہ : اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۹۷ (انظر: ۵۱۸)
1016
Sahih
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
۔ (۱۰۱۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: (أَرَأَیْتُمْ لَوْ أَنَّ نَہْرًا بِبَابِ أَحَدِکُمْ یَغْتَسِلُ مِنْہُ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسَ مرَّاتٍ ما تَقُوْلُوْنَ ھَلْ یَبْقٰی مِنْ دَرَنِہِ؟) قَالُوْا: لَا یَبْقٰی مِنْ دَرَنِہِ شَیْئٌ، قَالَ: ((ذَاکَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ یَمْحُوْ اللّٰہُ بِہَا اَلخْطایا)۔ (مسند أحمد: ۸۹۱۱)
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کے دروازے کے پاس نہر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار غسل کرتا ہو، کیا اس کی میل باقی رہے گی؟ لوگوں نے کہا: اس کی میل میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پانچ نمازوں کی بھی یہی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۲۸، ومسلم: ۶۶۷(انظر: ۸۹۲۴)
1017
Sahih
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
۔ (۱۰۱۸)۔عَنْ عَامِرِبْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُوْنَ: کَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ مِنْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ أَحَدُہُمَا أَفْضَلَ مِنَ الْآخَرِ، فَتُوُفِّیَ الَّذِیْ ہُوَ أَفْضَلُہُمَا ثُمَّ عُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَہُ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ثُمَّ تُوُفِّیَ فَذُکِرَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضْلُ الْأَوَّلِ عَلَی الْآخَرِ، فَقَالَ: ((أَلَمْ یَکُنْ یُصَلِّیْ؟)) فَقَالُوْا: بَلٰی یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَانَ لَا بَأْسَ بِہِ، فَقَالَ: ((مَا یُدْرِیْکُمْ مَاذَا بَلَغَتْ بِہِ صَلَاتُہُ۔)) ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذٰلِکَ: ((اِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاۃِ کَمَثَلِ نَہْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَذْبٍ بِبَابِ أَحَدِکُمْ یَقْتَحِمُ فِیْہِ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ فَمَا تُرَوْنَ یُبْقِیْ مِنْ دَرَنِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۳۴)
عامر بن سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد ؓاور صحابۂ کرام میں کچھ مزید لوگوں سے بھی سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں دو آدمی بھائی تھے اور ان میں سے ایک دوسرے سے افضل تھا اور وہ فوت ہو گیا، جو زیادہ فضیلت والا تھا، اس کے بعد دوسرا بھائی مزید چالیس دنوں تک زندہ رہا اور پھر فوت ہو گیا، لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے پہلے فوت ہونے والی کی دوسرے پر فضیلت کو ذکر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا دوسرے نے (چالیس روز) نمازیں نہیں پڑھیں؟ صحابہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! اس پر کوئی اعتراض نہیں (یعنی وہ بھی آدمی اچھا ہی تھا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تمہیں کیا علم کہ اس کی ان نمازوں نے اس کو کہاں تک پہنچا دیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز کی مثال اس جاری نہر کی سی ہے، جو ڈوبنے کے بقدر گہری ہو، میٹھے پانی کی ہو اور تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ دفعہ گھستا ہو (یعنی اس میں داخل ہو کر نہاتا ہو)، تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ اس کی کوئی میل کچیل باقی چھوڑے گی؟
Takhreej
(۱۰۱۸) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۳۱۰، والحاکم: ۱/ ۲۰۰ (انظر: ۱۵۳۴)
1018
Sahih
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
۔ (۱۰۱۹)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ کَمَثَلِ نَہْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَی بَابِ أَحَدِکُمْ یَغْتَسِلُ مِنْہُ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۴۶۱)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پانچ نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے، جو چل رہی ہو، ڈوبنے کے بقدر گہری ہو اور تم میں سے کسی کے دروازے پر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار نہاتا ہو۔
Takhreej
(۱۰۱۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۶۸ (انظر: ۱۴۴۰۸)
1019
Sahih
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
۔ (۱۰۲۰)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ جَعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا جَعَلَہُ اللّٰہُ فِی النَّارِ۔)) وَقَالَ: وَأُخْرٰی أَقُوْلُہَا لَمْ أَسْمَعْہَا مِنْہُ، مَنْ مَاتَ لَا یَجْعَلُ لِلّٰہِ نِدًّا أَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ، وَاِنَّ ہٰذِہِ الصَّلَوَاتِ کَفَّارَاتٌ لِمَا بَیْنَہُنَّ مَا اجْتُنِبَ الْمَقْتَلُ۔ (مسند أحمد: ۳۸۱۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک بنایا، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں ڈال دے گا۔ پھر سیدنا ابن مسعود ؓ نے کہا: دوسری بات میں خود کہہ رہا ہوں، میں نے یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے نہیں سنی ہے: جو آدمی اس حال میں مرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں بناتا تو وہ اِس کو جنت میں داخل کرے گا اور یقینا یہ نمازیں اپنے درمیان والے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں، جب تک تباہ کرنے والے (یعنی کبیرہ) گناہ سے بچا جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۲۰) تخریج: صحیح۔ أخرجہ ابویعلی: ۵۰۹۰، والطبرانی فی الکبیر : ۱۰۴۱۶، وفی الاوسط : ۲۲۳۲(انظر: ۳۸۱۱)
1020
Sahih
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
۔ (۱۰۲۱)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَا مِنْ اِمْرَیئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُہُ صَلَاۃٌ مَکْتُوْبَۃٌ فَیَقُوْمُ فَیَتَوَضَّأُ فَیُحْسِنُ الْوُضُوْئَ وَیُصَلِّیْ فَیُحْسِنُ الصَّلَاۃَ اِلَّا غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ بِہَا مَاکَانَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ الصَّلَاۃِ الَّتِیْ کَانَتْ قَبْلَہَا مِنْ ذُنُوْبِہِ، ثُمَّ یَحْضُرُ صَلَاۃً مَکْتُوْبَۃً فَیُصَلِّیْ فَیُحْسِنُ الصَّلٰوَۃَ اِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ الصَّلٰوۃِ الَّتِیْ کَانَتْ قَبْلَہَا مِنْ ذُنُوْبِہِ، ثُمَّ یَحْضُرُ صَلَاۃً مَکْتُوْبَۃً فَیُصَلِّیْ فَیُحْسِنُ الصَّلٰوۃَ اِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ الصَّلٰوۃِ الَّتِیْ کَانَتْ قَبْلَہَا مِنْ ذُنُوْبِہِ)) (مسند أحمد: ۲۲۵۹۲)
سیدنا ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس مسلمان کے پاس فرضی نماز کا وقت ہو جاتا ہے، پس وہ کھڑا ہوتا ہے، وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے، پھر وہ نماز پڑھتا ہے اور اچھی نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس نماز کی وجہ سے اِس نماز اور اس سے پہلے والی نماز کے درمیان والے اس کے گناہ معاف کر دیتاہے، پھر اگلی فرضی نماز کا وقت ہو جاتا ہے، پس وہ نماز ادا کرتا ہے اور اچھی طرح نماز ادا کرتا ہے، اِس سے اُس کے اِس نماز اور اِس سے پہلے والی نماز کے درمیان کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، بعد ازاں اگلی فرضی نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور وہ نماز پڑھتا ہے اور اچھی نماز پڑھتا ہے، اِس سے اُس کے اِس نماز سے اِس سے پہلی والی نماز کے درمیان والے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۲۱) صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابویعلی، و أخرجہ مختصرا الطبرانی فی الکبیر : ۸۰۳۱ (انظر: ۲۲۲۳۷)
1021
Sahih

Chapters

14
01
نماز کی فرضیت اور اس کے فرض ہونے کے وقت کا بیان
7 Hadith
02
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
14 Hadith
03
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
12 Hadith
04
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
15 Hadith
05
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
7 Hadith
06
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
07
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
08
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
5 Hadith
09
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
11 Hadith
10
جان بوجھ کر یا نشے کی وجہ سے نماز کو ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
2 Hadith
11
تارکِ نماز کو کافر قرار دینے کی دلیل کا بیان
3 Hadith
12
ان لوگوں کی دلیل کا بیان کہ جنھوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں قرار دیا اور اس کے لیے وہی امید رکھی جو کبیرہ گناہوں والوں کے لیے رکھی جاتی ہے
1 Hadith
13
ان حالات کا بیان جو نماز کو پیش آئے
1 Hadith
14
بچوں کو نماز کا حکم دینے کا بیان اور ان لوگوں کی تفصیل کہ جن سے قلم اٹھا لیا گیا ہے
5 Hadith
No chapter matched that.