مسنداحمد

Musnad Ahmad

نماز کی کتاب

نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان

۔ (۱۰۷۵)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْروٍ ثَنَا خَارِجَۃُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ مِنْ وَلَدِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ عن أَبِیْہِ قَالَ: اِنْصَرَفْنَا مِنَ الظُّہْرِ مَعَ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ فَدَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ فَقَالَ: یَا جَارِیَۃُ! اُنْظُرِیْ ھَلْ حَانَتِ الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: قَالَت: نَعَمْ، فَقُلْنَا لَہُ: اِنَّمَا اِنْصَرَفْنَا مِنَ الظُّہْرِ الْآنَ مَعَ الْاِمَامِ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ قَالَ: ہٰکَذَا کَانَ یُصَلِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۱۳۲۷۲)

عبد اللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت کہتے ہیں: ہم ظہر سے فارغ ہو کر خارجہ بن زید کے ساتھ سیدنا انس بن مالکؓ کے پاس گئے، انھوں نے کہا: لڑکی! دیکھو، کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس ہم نے ان سے کہا: ہم تو ابھی امام کے ساتھ ظہر پڑھ کر فارغ ہوئے ہیں، بہرحال انھوں نے عصر کی نماز پڑھی اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو اس طرح نماز پڑھتے تھے۔

۔ (۱۰۷۶)۔عَنْ زَیَادِ بْنِ أَبِیْ زَیَادٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: اِنْصَرَفْتُ مِنَ الظُّہْرِ أَنَا وَعُمَرُ حِیْنَ صَلَّاہَا ہِشَامُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ بِالنَّاسِ اِذْ کَانَ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ اِلَی عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ نَعُوْدُہُ فِیْ شَکْوٰی لَہُ، قَالَ: فَمَا قَعَدْنَا، مَا سَأَلْنَا عَنْہُ اِلَّا قِیَامًا، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَدَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِیْ دَارِہِ وَہِیَ اِلٰی جَنْبِ دَارِ أَبِیْ طَلْحَۃَ، قَالَ: فَلَمَّا قَعَدْنَا أَتَتْہُ الْجَارِیَۃُ فَقَالَتْ: اَلصَّلَاۃَ یَا أَبَا حَمْزَۃَ! قَالَ: قُلْنَا: اَیُّ الصَّلَاۃِ رَحِمَکَ اللّٰہُ؟ قَالَ: الْعَصْرُ، قَالَ: فَقُلْنَا: اِنَّمَا صَلَّیْنَا الظُّہْرَ الْآنَ، قَالَ: فَقَالَ: اِنَّکُمْ تَرَکْتُمُ الصَّلَاۃَ حَتّٰی نَسِیْتُمُوْہَا، أَوْ قَالَ: نُسِّیْتُمُوْہَا حَتّٰی تَرَکْتُمُوْہَا، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔)) وَمَدَّ اِصْبَعَہُ السَّبَّابَۃَ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند أحمد: ۱۳۵۱۷)

مولائے ابن عباس زیاد بن ابی زیاد کہتے ہیں: میں اور عمر نمازِ ظہر سے فارغ ہوئے، مدینہ کے گورنر ہشام بن اسماعیل نے نماز پڑھائی تھی، پھر ہم عمرو بن عبد اللہ بن ابی طلحہ کی تیمار داری کرنے کے لیے ان کی طرف گئے، وہ بیمار تھے، پس ہم ان کے پاس بیٹھے نہیں، کھڑے کھڑے ہی ان کا حال دریافت کر لیا اور پھر ہم وہاں سے پلٹ کر سیدنا انس بن مالکؓ کے پاس ان کے گھر میں گئے، ان کا گھر ابو طلحہ کے گھر کے پہلو میں تھا، ہم ان کے پاس بیٹھے ہی تھے کہ ایک لڑکی نے آ کر کہا: ابو حمزہ! نماز پڑھو، ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، کون سی نماز؟ انھوں نے کہا: نمازِ عصر، ہم نے کہا: ہم نے تو ابھی ابھی ظہر کی نماز پڑھی ہے، انھوں نے کہا: تم نے نماز کو چھوڑ دیا ہے، یہاں تک کہ تم اس کو بھول گئے ہو، یا کہا: تم کونماز اس طرح بھلا دی گئی ہے کہ تم نے اس کو چھوڑ دیا ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح (قریب قریب کر کے) بھیجا گیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو کھڑا کر کے اشارہ کیا۔

۔ (۱۰۷۷)۔عَنْ عَلِیٍّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ یَا عَلِیُّ لَا تُؤَخِّرُہُنَّ، اَلصَّلَاۃُ اِذَا اَتَتْ وَالْجَنَازَۃُ اِذَا حَضَرَتْ وَالْأَیِّمُ اِذَا وَجَدْتَ کُفُوًا۔)) (مسند أحمد: ۸۲۸)

سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے علی! تین چیزوں کو لیٹ نہیں کرنا، نماز جب اس کا وقت آ جائے، جنازہ جب حاضر ہو جائے اوروہ عورت کہ جس کا خاوند نہ، جب تو اس کے لیے کوئی مناسب آدمی پا لے۔

۔ (۱۰۷۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ أَنَّ الرَّجُلَ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَۃَ عَنِ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ذَاکَ الشَّیْطَانُ بَالَ فِیْ أُذُنِہِ، أَوْ فِیْ أُذُنَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۳۵۵۷)

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: بیشک فلاں آدمی آج رات نماز سے بھی سویا رہا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: شیطان اس آدمی کے کانوں میں پیشاب کر گیا۔

۔ (۱۰۸۰)۔عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((سَیَکُوْنُ مِنْ بَعْدِیْ أَئِمَۃٌ یُمِیْتُوْنَ الصَّلَاۃَ عَنْ مَوَاقِیْتِہَا، فَصَلُّوْا الصَّلَاۃَ لِوَقْتِہَا وَاجْعَلُوْا صَلَاتَکُمْ مَعَہُمْ سُبْحَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۵۲)

سیدنا شداد بن اوس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے کہ وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں گے، پس تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لینا اور ان کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز کو نفلی بنا لینا۔

۔ (۱۰۸۱)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ قَالَ: أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ عَاصِمُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّہَا سَتَکُوْنُ مِنْ بَعْدِیْ أُمَرَائُ یُصَلُّوْنَ الصَّلَاۃَ لِوَقْتِہَا وَیُؤَخِّرُوْنَہَا عَنْ وَقْتِہَا، فَصَلُّوْہَا مَعَہُمْ، فَاِنْ صَلَّوْہَا لِوَقْتِہَا وَصَلَّیْتُمُوْہَا مَعَہُمْ فَلَکُمْ وَلَہُمْ وَاِنْ أَخَّرُوْہَا عَنْ وَقْتِہَا فَصَلَّیْتُمُوْہَا مَعَہُمْ فَلَکُمْ وَعَلَیْہِمْ، مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ مَاتَ مِیْتَۃً جَاہِلِیَّۃً، وَمَنْ نَکَثَ الْعَہْدَ وَمَاتَ نَاکِثًا لِلْعَہْدِ جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَا حُجّۃَ لَہُ۔)) قُلْتُ لَہُ: مَنْ أَخْبَرَکَ ھٰذَا الْخَبْرَ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِیْہِ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ، یُخْبِرُ عَامِرُ بْنُ رَبِیْعَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۱۵۷۶۹)

سیدنا عاصم بن عبیداللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک میرے بعد عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو بسا اوقات وقت پر نماز پڑھیں گے اور کبھی کبھار اس کو وقت سے مؤخر کر دیں گے، پس اگر وہ وقت پر نماز پڑھیں اور تم بھی ان کے ساتھ پڑھو تو اس کا ثواب تمہارے لیے بھی ہو گا اور ان کے لیے بھی، لیکن اگر وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں اور تم بھی ان کے ساتھ پڑھو، تو تمہیں تو ثواب ملے گا، لیکن اس کا وبال ان پر ہو گا، جوجماعت سے علیحدہ ہو گیا، وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور جس نے معاہدہ توڑ دیا، عہد کو توڑنے والے کی حیثیت سے ہی مرے گا اور قیامت کے روز وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے حق میں کوئی حجت نہیں ہو گی۔

۔ (۱۰۸۲)۔عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَؓ قَالَ: بَیْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِیْ مِسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُسْنِدِیْ ظُہُوْرِنَا اِلَی قِبْلَۃِ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعَۃُ رَہْطٍ، أَرْبَعَۃٌ مَوَالِیْنَا وَثَلَاثَۃٌ مِنْ عَرَبِنَا، اِذْا خَرَجَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الظُّہْرِ حَتَّی انْتَہٰی اِلَیْنَا فَقَالَ: ((مَا یُجْلِسُکُمْ ہَاہُنَا؟)) قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! نَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ، قَالَ: فَأَرَمَّ قَلِیْلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((أَتَدْرُوْنَ مَا یَقُوْلُ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ؟)) قَالَ: قُلْنَا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَاِنَّ رَبَّکُمْ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: مَنْ صَلَّی الصَّلَاۃَ لِوَقْتِہَا وَحَافَظَ عَلَیْہَا وَلَمْ یُضَیِّعْہَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّہَا فَلَہُ عَلَیَّ عَہْدٌ أَنْ أُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَمْ یُصَلِّہَا لِوَقْتِہَا وَلَمْ یُحَافِظْ عَلَیْہَا وَضَیَّعَہَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّہَا فلَاَ عَہْدَ لَہُ، اِنْ شِئْتُ عَذَّبْتُہُ وَاِنْ شِئْتُ غَفَرْتُ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۳۱۲)

سیدنا کعب بن عجرہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد ِ نبوی میں بیٹھا ہوا تھا، ہم سات افراد اِس مسجد کی قبلہ والی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، چار ہمارے غلام تھے اور ہم تین عرب تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے، یہاں تک ہمارے پاس پہنچے، یہ نمازِ ظہر کا وقت تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھایا ہوا ہے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے اور پھر اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا ربّ کیا کہتا ہے؟ ہم نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک تمہارا ربّ کہتا ہے: جس نے بروقت نماز ادا کی اور اس کی مکمل حفاظت کی اور اس کے حق کو ہلکا سمجھتے ہوئے اس کو ضائع نہیں کیا، پاس اس کے لیے مجھ پر عہد ہے کہ میں اس کو جنت میں داخل کروں گا، اور جس نے نماز کو وقت پر ادا نہ کیا اور اس کی مکمل حفاظت نہ کی اور اس کے حق کو ہلکا سمجھتے ہوئے اس کو ضائع کر دیا، اس کے لیے میرا کوئی عہد نہیں ہے، اگر میں چاہوں تو اس کو عذاب دوں اور چاہوں تو معاف کر دوں۔

۔ (۱۰۸۳)۔ عَنْ أَبِیْ یَسْرٍ الْأَنْصَارِیِّ کَعْبِ بْنِ عَمْروٍؓ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِنْکُمْ مَنْ یُصَلِّی الصَّلَاۃَ کَامِلَۃً وَمِنْکُمْ مَنْ یُصَلِّی النِّصْفَ وَالثُّلُثَ وَالرُّبُعَ حَتّٰی بَلَغَ الْعُشْرَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۰۷)

صحابیٔ رسول سیدنا ابو یسر کعب بن عمرو انصاری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم میں کوئی آدمی پوری نماز پڑھتا ہے، کوئی نصف ادا کرتا ہے، کوئی ایک تہائی اور کوئی ایک چوتھائی، …۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ دسویں حصے تک پہنچ گئے۔

۔ (۱۰۸۴)۔عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِیَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ فَاتَتْہُ الصَّلَاۃُ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلُہُ وَمَالُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۰۴۲)

سیدنا نوفل بن معاویہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس کی نماز اس سے رہ گئی تو گویا کہ اس کا اہل اور مال اس سے چھین لیے گئے۔

۔ (۱۰۸۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّہَا قَالَتْ: مَا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلَاۃَ لِوَقْتِہَا الْآخَرِ مَرَّتَیْنِ حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند أحمد: ۲۵۱۲۱)

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز کو اس کے آخری وقت میں دو دفعہ ادا نہیں کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو فوت کر دیا تھا۔