مسنداحمد

Musnad Ahmad

نماز کی کتاب

تارکِ نماز کو کافر قرار دینے کی دلیل کا بیان

۔ (۱۰۸۸)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَیْنَ الْعَبْدِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ أَوِ الشِّرْکِ تَرْکُ الصَّلَاۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۰۴۲)

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بندے اور کفر یا شرک کے درمیان نماز کے چھوڑنے کا فرق ہے۔

۔ (۱۰۸۹)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عن أَبِیْہِؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْعَہْدُ الَّذِیْ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمُ الصَّلَاۃُ، فَمَنْ تَرَکَہَا فَقَدْ کَفَرَ)) (مسند أحمد: ۲۳۳۲۵)

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک دن نماز کا ذکر کیا اور فرمایا: جس نے نماز کی اچھی طرح حفاظت کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے روز نور، دلیل اور نجات ہو گی اور جس نے اس کی پوری طرح حفاظت نہ کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نہ نور ہو گی، نہ دلیل اور نہ نجات اور ایسا آدمی قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔