مسنداحمد

Musnad Ahmad

نمازوں کے اوقات کے ابواب

ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان

۔ (۱۱۱۱)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الظُّہْرَ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۷۱)

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس وقت نمازِ ظہر ادا کی، جب سورج ڈھل گیا تھا۔

۔ (۱۱۱۲)۔وَعَنْہُ أَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ صَلَاۃَ الظُّہْرِ أَیَّامَ الشِّتَائِ وَمَا نَدْرِیْ مَا ذَھَبَ مِنَ النَّہَارِ أَکْثَرُ أَوْ مَا َبقِیَ مِنْہُ۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۶۱)

سیدنا انس ؓہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سردیوں کے دنوں میں نمازِ ظہر ادا کرتے تھے، لیکن ہمیں یہ علم نہیں ہوتا تھا کہ دن کا جو حصہ گزر چکا ہے، وہ زیادہ ہے یا جو حصہ باقی ہے۔

۔ (۱۱۱۳)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَؓقَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الظُّہْرَ اِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَانَ بِلَالٌ یُؤَذِّنُ اِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ) (مسند أحمد: ۲۱۳۲۹)

سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ظہر کی نماز اس وقت ادا کرتے جو سورج ڈھل جاتا تھا، ایک روایت میں ہے: سیدنا بلال ؓ اس وقت اذان دیتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا تھا۔

۔ (۱۱۱۴)۔عَنْ خَبَّابِ (بْنِ الْأَرَتِّؓ) قَالَ: شَکَوْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شِدَّۃَ الرَّمْضَائِ فَلَمْ یُشْکِنَا، قَالَ شُعْبَۃُ: یَعْنِیْ فِی الظُّہْرِ۔ (مسند أحمد: ۲۱۳۶۶)

سیدنا خباب بن ارت ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے گرم ریت کی شدت کی شکایت کی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ کیا۔ امام شعبہ کہتے ہیں: یہ شکایت نمازِ ظہر کے بارے میں تھی۔

۔ (۱۱۱۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: مَا رَأَیْتُ أَحَدًا کَانَ أَشَدَّ تَعْجِیْلًا لِلظُّہْرِ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا أَبِیْ بَکْرٍ وَلَا عُمُرَ۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۵۲)

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کسی ایسے فرد کو نہیں دیکھا جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمر ؓکی بہ نسبت نمازِ ظہر کو جلدی ادا کرنے والا ہو۔

۔ (۱۱۱۶)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَشَدَّ تَعْجِیْلًا لِلظُّہْرِ مِنْکُمْ وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِیْلًا لِلْعَصْرِمِنْہُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۷۱۸۳)

سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تمہاری بہ نسبت ظہر کو زیادہ جلدی ادا کرنے والے تھے، لیکن تم اُن کی بہ نسبت عصر کو زیادہ جلدی ادا کرنے والے ہو۔