TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نمازوں کے اوقات کے ابواب - نمازوں کے اوقات کے ابواب - Book 21 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 21 of Musnad Ahmad, with 23 chapters and 144 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

144 Hadith · 23 Chapters
جامع اوقات کا بیان
۔ (۱۰۹۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَمَّنِیْ جِبْرِیْلُ عِنْدَ الْبَیْتِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَرَّتَیْنِ عِنْدَ الْبَیْتِ) فَصَلّٰی بِیَ الظُّہْرَ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَکَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاکِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: حِیْنَ کَانَ الْفَیْئُ بِقَدْرِ الشِّرَاکِ) ثُمَّ صَلّٰی بِیَ الْعَصْرَ حِیْنَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ، ثُمَّ صَلّٰی بِیَ الْمَغْرِبَ حِیْنَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ثُمَّ صَلّٰی بِیَ الْعِشَائَ حِیْنَ غَابَ الْشَفَقُ ثُمَّ صَلّٰی بِیَ الْفَجْرَ حِیْنَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَی الْصَائِمِ، ثُمَّ صَلّٰی الْغَدَ الظُّہْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ثُمَّ صَلّٰی بِیَ الْعَصْرَ حِیْنَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَیْہِ، ثُمَّ صَلّٰی بِیَ الْمَغْرِبَ حِیْنَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعِشَائَ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ الُأَوَّلِ، ثُمَّ صَلّٰی بِیَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ثُمَّ اِلْتَفَتَ اِلَیَّ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! ھٰذَا وَقْتُ الْأَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِکَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ھٰذَا وَقْتُکَ وَوَقْتُ النَّبِیِّیْنَ قَبْلَکَ) اَلْوَقْتُ فِیْمَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۳۰۸۱)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: حضرت جبریل ؑنے بیت اللہ کے پاس دو دفعہ میری امامت کروائی، پس مجھے نمازِ ظہر اس وقت پڑھائی کہ سورج ڈھل چکا تھا اور سایہ ایک تسمے کے برابر تھا، نمازِ عصر اس وقت پڑھائی، جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو گیا، نمازِ مغرب اس وقت پڑھائی، جب روزے دار افطاری کرتا ہے،نمازِ عشاء اس وقت پڑھائی جب شَفَق غائب ہو گئی، نمازِ فجر اس وقت پڑھائی جب روزے دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے، پھر اگلے دن نمازِ ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، نمازِ عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا، نمازِ مغرب اس وقت پڑھائی جب روزے دار افطار کرتا ہے، نمازِ عشاء رات کے پہلے ایک تہائی حصے کے وقت میں پڑھائی اور نمازِ فجر اس وقت پڑھائی جب روشنی ہو چکی تھی اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے محمد! یہ آپ سے پہلے والے انبیاء کا وقت ہے، ایک روایت میں ہے: یہ آپ کا اور آپ سے پہلے والے انبیاء کا وقت ہے، ان ہر دو وقتوںکے درمیان متعلقہ نماز کا وقت ہے۔
Takhreej
(۱۰۹۸) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۹۳، والترمذی: ۱۴۹(انظر: ۳۰۸۱)
1098
Sahih
جامع اوقات کا بیان
۔ (۱۰۹۹)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَعْنَاہُ وَفِیْہِ: ((وَصَلَّی الصُّبْحَ حِیْنَ کَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ، ثُمَّ قَالَ: اَلصَّلَاۃُ فِیْمَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۲۶۹)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: اور (دوسرے دن) نمازِ فجر اس وقت پڑھائی کہ قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جائے اور پھر کہا: اِن دو وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔
Takhreej
(۱۰۹۹) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱/ ۱۴۷، والطبرانی فی الکبیر : ۵۴۴۳ (انظر: ۱۱۲۴۹)
1099
Sahih
جامع اوقات کا بیان
۔ (۱۱۰۰)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ وَھُوَ الأنْصَارِیُّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ ہٗ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہِ، فَصَلَّی الظُّہْرَ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَائَہُ الْعَصْرَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہُ، فَصَلَّی الْعَصْرَ حِیْنَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ، أَوْ قَالَ: صَارَ ظِلُّہُ مِثْلَہُ، ثُمَّ جَائَ الْمَغْرِبَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہْ، فَصَلّٰی حِیْنَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَائَہُ الْعِشَائَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہْ، فَصَلّٰی حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ جَائَہُ الْفَجْرَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہْ، فَصَلّٰی حِیْنَ بَرَقَ الْفَجَرُ أَوْ قَالَ: حِیْنَ سَطَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ جَائَہُ مِنَ الْغَدِ لِلظُّہْرِ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہْ، فَصَلَّی الظُّہْرَ حِیْنَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ، ثُمَّ جَائَہُ لِلْعَصْرِفَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہْ، فَصَلَّی الْعَصْرَ حِیْنَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَیْہِ، ثُمَّ جَائَہُ لِلْمَغْرِبِ حِیْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ یَزَلْ عَنْہُ، ثُمَّ جَائَہُ لِلْعِشَائِ حِیْنَ ذَہَبَ نِصْفُ اللَّیْلِ أَوْ قَالَ: ثُلُثُ اللَّیْلِ فَصَلَّی الْعِشَائَ، ثُمَّ جَائَہُ لِلْفَجْرِ حِیْنَ أَسْفَرَ جِدًّا فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہْ، فَصَلَّی الْفَجْرَ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ وَقْتٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۵۹۲)
سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاریؓ سے مروی ہے کہ جبریلؑ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور کہا: کھڑ ے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس نمازِ ظہر پڑھائی، جب سورج ڈھل گیا تھا، پھر عصر کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور عصر کی نماز پڑھو، پس نماز عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا تھا، مغرب کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس یہ نماز اس وقت پڑھی جب سورج غروب ہو گیا، عشا کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس یہ اس وقت پڑھی جو شَفَق غروب ہو گئی، فجر کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس یہ نماز اس وقت پڑھی جو فجر طلوع ہوئی، اگلے دن ظہر کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس نمازِ ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، عصر کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس نمازِ عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا، پھر مغرب کے لیے آئے، جب سورج غروب ہوا، یہ (دو دنوں کا) ایک ہی وقت تھا، اس سے نہ ہٹے، پھر عشاء کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب نصف یا ایک تہائی رات گزر چکی تھی، پس اس وقت نمازِ عشا پڑھائی، پھر فجر کے لیے اس وقت تشریف لائے جب بہت روشنی ہو چکی تھی اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس اس وقت نمازِ فجر پڑھائی اور پھر فرمایا: اِن ہر دو وقتوںکے درمیان متعلقہ نماز کا وقت ہے۔
Takhreej
(۱۱۰۰) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۱۵۰، والنسائی: ۱/ ۲۶۳(انظر: ۱۴۵۳۸)
1100
Sahih
جامع اوقات کا بیان
۔ (۱۱۰۱)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْروِ (بْنِ الْعَاصِ)ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَقْتُ الظُّہْرِ اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ کَطُوْلِہِ مَا لَمْ یَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الْمَغْرِبَ مَا لَمْ یَغْرُبِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الْعِشَائِ اِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ الْأَوْسَطِ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الصُّبْحِِ مِنْ طُلُوْعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ، فَاِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِکْ عَنِ الصَّلَاۃِ فَاِنَّہَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرَنَیِ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند أحمد: ۶۹۶۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ظہر کا وقت سورج ڈھلنے سے سے آدمی کو سایہ اس کے قد کے برابر ہونے تک ہے، یعنی عصر کا وقت شروع ہونے تک، نمازِ عصر کا وقت سورج کے زرد ہونے تک ہے، مغرب کی نماز کا وقت شَفَق کے غروب ہونے تک ہے،عشا کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے اور نماز فجر کا وقت طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک ہے، جب سورج طلوع ہونے لگے تو نماز سے رک جا، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوںکے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۱۰۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۱۲ (انظر: ۶۹۶۶)
1101
Sahih
جامع اوقات کا بیان
۔ (۱۱۰۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ لِلصَّلَاۃِ أَوَّلًا وَ آخِرًا، وَاِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الظُّہْرِ حِیْنَ تَزُوْلُ الشَّمْسُ وَاِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِیْنَ یَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ، وَاِنَّ أَوّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ حِیْنَ یَدْخُلُ وَقْتُہَا وَاِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِیْنَ تَصْفَرُّالشَّمْسُ، وَاِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِیْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ وَاِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِیْنَ یَغِیْبُ الْأُفُقُ، وَاِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ حِیْنَ یَغِیْبُ الْأُفُقُ وَاِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِیْنَ یَنْتَصِفُ اللَّیْلُ، وَاِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِیْنَ یَطْلُعُ الْفَجْرُ وَاِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِیْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ۔)) (مسند أحمد: ۷۱۷۲)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک نماز کا ایک ابتدائی وقت ہے اور ایک آخری وقت ہے اور نمازِ ظہر کا ابتدائی وقت سورج کا ڈھلنا ہے اور آخری وقت عصر کے وقت کے داخل ہونے تک ہے، عصر کا ابتدائی وقت اس کے داخل ہونے سے شروع ہوتا ہے اور آخری سورج کے زرد ہونے تک ہے، مغرب کا ابتدائی وقت غروب ِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور آخری وقت افق یعنی شَفَق کے غروب ہونے تک جاری رہتا ہے ، عشاء کا ابتدائی وقت غروبِ شفق سے شروع ہوتا ہے اور آخری وقت رات کے نصف ہونے تک جاری رہتا ہے اور نمازِ فجر کا ابتدائی وقت طلوعِ فجر سے شروع ہوتا ہے اور اس کا آخری وقت طلوع آفتاب تک جاری رہتا ہے۔
Takhreej
(۱۱۰۲) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۱۵۱(انظر: ۷۱۷۲)
1102
Sahih
جامع اوقات کا بیان
۔ (۱۱۰۳)۔ عَنْ أَبِیْ صَدَقَۃَ مَوْلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: کَانَ یُصَلِّی الظُّہْرَ اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ بَیْنَ صَلَاتَیْکُمْ ہَاتَیْنِ وَالْمَغْرِبَ اِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَالْعِشَائَ اِذَا غَابَ الشَّفَقُ وَالصُّبْحَ اِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ اِلٰی أَنْ یَنْفَسِحَ الْبَصَرُ۔ (مسند أحمد: ۱۲۷۵۳)
مولائے انس ابو صدقہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس ؓ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ ظہر اس وقت پڑھتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا تھا، عصر کی نماز کو اِن دو نمازوں کے درمیان پڑھتے تھے، مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے جب سورج غروب ہو جاتا تھا، نمازِ عشاء غروبِ شفق کے بعد پڑھتے تھے اور نمازِ فجر طلوعِ فجر سے اس وقت تک پڑھتے تھے، جب نظر وسیع ہو جاتی تھی۔
Takhreej
(۱۱۰۳) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۲۷۳(انظر: ۱۲۷۲۳)
1103
Sahih
جامع اوقات کا بیان
۔ (۱۱۰۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: اَلظُّہْرُ کَاِسْمِہَا وَالْعَصْرُ بَیْضَائُ حَیَّۃٌ والْمَغْرِبَ کَاِسْمِہَا وَکُنَّا ُنصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَأْتِیْ مَنَازِلَنَا وَہِیَ عَلَی قَدْرِ مِیْلٍ فَنَرٰی مَوَاقِعَ النَّبْلِ وَکَانَ یُعَجِّلُ الْعِشَائَ وَیُؤَخِّرُ، اَلْفَجْرُ کَاِسْمِہَا وَکَانَ یُغَلِّسُ بِہَا۔ (مسند أحمد: ۱۴۲۹۶)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ظہر اپنے نام کی طرح ہے، عصر اس وقت پڑھی جائے گی، جو سورج سفید اور زندہ ہو گا، مغرب اپنے نام کی طرح ہے اور جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِمغرب پڑھ کر اپنے گھروں کو آتے، جبکہ ہمارے ایک ایک میل کے فاصلے پر ہوتے تھے، تو ہم تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کبھی نمازِ عشا جلدی پڑھ لیتے تھے اور کبھی تاخیر کرتے تھے اور فجر بھی اپنے نام کی طرح ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کو روشنی ملے اندھیرے میں پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۱۱۰۴) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ عبدالرزاق: ۲۰۵۶، وابویعلی: ۲۰۴۸ (انظر: ۱۴۲۴۶)
1104
Sahih
جامع اوقات کا بیان
۔ (۱۱۰۵)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْہَاجِرَۃِ وَالْعَصْرَ والشَّمْسُ نَقِیَّۃٌ وَالْمَغْرِبَ اِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَائَ أَحْیَانًا یُؤَخِّرُہَا وَأَحْیَانًا یُعَجِّلُ وَکَانَ اِذَا رَآہُمْ قَدِ اجْتَمَعُوْا عَجَّلَ وَاِذَا رَآہُمْ قَدْ أَبْطَئُوْا أَخَّرَ وَالصُّبْحَ کَانَ یُصَلِّیْہَا بِغَلَسٍ۔ (مسند أحمد: ۱۵۰۳۲)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ظہر کی نماز نصف النہار کی سخت گرمی کے وقت ادا کرتے، نمازِ عصر اس وقت ادا کرتے جب سورج صاف ہوتا تھا، مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا، نمازِ عشا کو کبھی تاخیر سے اور کبھی جلدی پڑھ لیتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی کر لیتے اور جب دیکھتے کہ لوگ لیٹ ہیں تو تاخیر کر دیتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ فجر روشنی ملے اندھیرے میں پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۱۱۰۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۰، ومسلم: ۶۴۶ (انظر: ۱۴۹۶۹)
1105
Sahih
جامع اوقات کا بیان
۔ (۱۱۰۶)۔ عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ (سَیَّارِ بْنِ سَلَامَۃَ) قَالَ: اِنْطَلَقْتُ مَعَ أَبِیْ اِلٰی أَبِیْ بَرْزَۃَ الْأَسْلَمِیِّؓ فَقَالَ لَہُ أَبِیْ: حَدِّثْنَا کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الْمَکْتُوْبَۃَ، قَالَ: کَانَ یُصَلِّی الْہَجِیْرَ وَہِیَ الَّتِیْ تَدْعُوْنَہَا الْأُوْلٰی حِیْنَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، ویُصَلِّی الْعَصْرَ وَیَرْجِعُ أَحَدُنَا اِلَی رَحْلِہِ بِالْمَدِیْنَۃِ وَالشَّمْسُ حَیَّۃٌ، قَالَ: وَنَسِیْتُ مَا قَالَ فِی الْمَغْرِبِ، وَکَانَ یَسْتَحِبُّ أَنْ یُؤَخِّرَ الْعِشَائَ وَکَانَ یَکْرَہُ النَّوْمَ قَبْلَہَا وَالْحَدِیْثَ بَعْدَہَا وَکَانَ یَنْفَصِلُ مِنْ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ حِیْنَ یَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِیْسَہُ وَکَانَ یَقْرَأُ بِالسِّتِّیْنَ اِلَی الْمِائْۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۰۰۰۵)
ابو منہال سیار بن سلام کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ سیدنا ابو برزہ اسلمی ؓکی طرف گیا، میرے باپ نے ان سے کہا: ہمیں یہ بیان کرو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فرضی نماز پڑھتے تھے، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز ظہر، جس کو تم اَلصَّلَاۃُ الْاُوْلٰی کہتے ہو، اس وقت پڑھتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عصر کی نماز پڑھتے اور ہم میں سے ایک آدمی مدینہ میں اپنے گھر کی طرف لوٹتا، لیکن سورج ابھی تک زندہ ہوتا۔ سیار کہتے ہیں: مغرب کے بارے میں کہی ہوئی بات کو میں بھول گیا ہوں، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عشاء کو مؤخر کرناپسند کرتے تھے اور اِس نماز سے پہلے نیند کو اور اِس کے بعد باتوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ناپسند کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ فجر سے اس وقت فارغ ہوتے تھے، جوآدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہنچان لیتا تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اِس نماز میں ساٹھ سے سو آیتوں کی تلاوت کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۱۰۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۴۷، ۵۹۹، ومسلم: ۶۴۷ (انظر: ۱۹۷۶۷)
1106
Sahih
جامع اوقات کا بیان
۔ (۱۱۰۷)۔(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا حَجَّاجٌ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَیَّارِ بْنِ سَلَامَۃَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وأَبِیْ عَلٰی أَبِیْ بَرْزَۃَ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ وَقْتِ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: کَانَ یُصَلِّی الظُّہْرَ حِیْنَ تَزُوْلُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ یَرْجِعُ الرَّجُلُ اِلَی أَقْصَی الْمَدِیْنَۃَ وَالشَّمْسُ حَیَّۃٌ، وَالْمَغْرِبَ قَالَ سَیَّارٌ: نَسِیْتُہَا، وَالْعِشَائَ لَا یُبَالِیْ بَعْضَ تَأْخِیْرِہَا اِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ وَکَانَ لَایُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَہَا وَلَا الْحَدِیْثَ بَعْدَہَا، وَکَانَ یُصَلِّیْ الصُّبْحَ فَیَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَیَعْرِفُ وَجْہَ جَلِیْسِہِ وَکَانَ یَقْرَأُ فِیْھَا مَابَیْنَ السِّتِّیْنَ اِلَی الْمِائْۃِ، قَالَ سَیَّارٌ: لَا أَدْرِیْ فِیْ اِحْدَی الرَّکْعَتَیْنِ أَوْ فِیْ کِلْتَیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۲۰۰۴۹)
۔ (دوسری سند)سیار بن سلامہ کہتے ہیں: میں اور میرا باپ، سیدنا ابو برزہؓ کے پاس گئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نماز کے وقت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ ظہر اس وقت ادا کرتے، جب سورج ڈھل جاتا تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز عصر پڑھاتے، پھر ایک آدمی مدینہ سے دور واقع اپنے گھر میں جاتا، لیکن سورج ابھی تک زندہ ہوتا تھا، سیار کہتے ہیں: مغرب سے متعلقہ بات کو میں بھول گیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ عشا کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرنے میں کوئی پرواہ نہ کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اِس نماز سے پہلے نیند اور اِس کے بعد گفتگو کو ناپسند کرتے تھے، اور آپ صبح کی نماز پڑھاتے پھر آدمی واپس پلٹتا تو وہ اپنے ساتھی کے چہرے کو پہچان لیتا جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اِس نماز میں ساٹھ سے سو آیات کی تلاوت کرتے تھے۔ سیار کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ تلاوت کی یہ مقدار ایک رکعت میں ہوتی تھی یا دو میں۔
Takhreej
(۱۱۰۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1107
Sahih
جامع اوقات کا بیان
۔ (۱۱۰۸)۔عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: کُنَّا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ فَأَخَّرَ صَلَاۃَ الْعَصْرِ مَرَّۃً فقَالَ لَہُ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ: حَدَّثَنِیْ بَشِیْرُ بْنُ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْأَنْصَارِیِّ أَنَّ الْمُغِیْرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ أَخَّرَ الصَّلَاۃَ مَرَّۃً یَعْنِی الْعَصْرَ، فَقَالَ لَہُ أَبُوْ مَسْعُوْدٍ: أَمَا وَاللّٰہِ! یَا مُغِیْرَۃُ! لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ نَزَلَ فَصَلّٰی وصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَلَّی النَّاسُ مَعَہُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلّٰی وَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَلَّی النَّاسُ مَعَہُ حَتَّی عَدَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ثُمَّ قَالَ: بِھٰذَا أُمِرْتَ۔)) فقَالَ لَہُ عُمَرُ: اُنْظُرْ مَا تَقُوْلُ یَا عُرْوَۃُ! أَوَ اِنَّ جِبْرِیْلَ ہُوَ الَّذِیْ سَنَّ الصَّلَاۃَ؟ قَالَ عُرْوَۃُ: کذٰلِکَ حَدَّثَنِیْ بَشِیْرُ بْنُ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ، فَمَا زَالَ عُمَرُ یَتَعَلَّمُ وَقْتَ الصَّلَاۃِ بِعَلَامَۃٍ حَتّٰی فَارَقَ الدُّنْیَا۔ (مسند أحمد: ۱۷۲۱۷)
امام زہری کہتے ہیں: ہم عمر بن عبد العزیز کے ساتھ تھے، انھوں نے ایک دفعہ نمازِ عصر کو لیٹ کیا، عروہ بن زبیر نے ان سے کہا: بشیر بن ابی مسعود انصاری نے مجھے بیان کیا کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ نے ایک دفعہ نمازِ عصر کو لیٹ کر دیا، سیدناابومسعودؓ نے ان سے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! اے مغیرہ ! تحقیق تم جانتے ہو کہ حضرت جبریل ؑ نازل ہوئے اور نماز پڑھائی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے ساتھ اور لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر وہ اترے اور نماز پڑھائی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے ساتھ اور لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نماز پڑھی، یہاں تک کہ انھوں نے پانچ نمازیں شمار کیں، ایک روایت میں ہے: اس نے کہا: اس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے، عمر بن عبد العزیز نے کہا: عروہ! اپنی کہی ہوئی باتوں پر غور کرو، کیا جبریلؑ ہیں، جنھوں نے (آپ کی امامت کرا کر) نماز کا آغاز کیا؟ عروہ نے کہا: بشیر بن ابی مسعود نے مجھے اسی طرح بیان کیا، اس کے بعد عمر نماز کے وقت کو کسی علامت سے پہنچان لیتے تھے، یہاں تک کہ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
Takhreej
(۱۱۰۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۲۱، ومسلم: ۶۱۰ (انظر: ۱۷۰۸۹)
1108
Sahih
جامع اوقات کا بیان
۔ (۱۱۰۹)۔ عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَأَتَاہُ سَائِلٌ یَسْأَلُہُ عَنْ مَوَاقِیْتِ الصَّلَاۃِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ شَیْئًافَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ بِالْفَجْرِ حِیْنَ اِنْشَقَّ الْفَجْرُ وَالنَّاسُ لَا یَکَادُ یَعْرِفُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا، ثُمَّ أَمَرَہُ فأَقَامَ بِالظُّہْرِ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْقَائِلُ یَقُوْلُ: اِنْتَصَفَ النَّہَارُ أَوْ لَمْ یَنْتَصِفْ، وَکَانَ أَعْلَمَ مِنْہُمْ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِیْنَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ بِالْعِشَائِ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتّٰی اِنْصَرَفَ مِنْہَا وَالْقَائِلُ یَقُوْلُ: طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ کَادَتْ، وَأَخَّرَ الظُّہْرَ حَتّٰی کَانَ قَرِیْبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتّٰی اِنْصَرَفَ مِنْہَا وَالْقَائِلُ یَقُوْلُ: اِحْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتّٰی کَانَ عِنْدَ سُقُوْطِ الشَّفَقِ وَأَخَّرَ الْعِشَائَ حَتّٰی کَانَ ثُلُثُ اللَّیْلِ الْأَوَّلُ، فَدَعَا السَّائِلَ فَقَالَ: ((اَلْوَقْتُ فِیْمَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۷۱)
سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے مروی ہے کہ ایک سائل، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور نمازوںکے اوقات کے بارے میں سوال کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے کوئی جواب نہ دیا اور سیدنا بلال ؓ کو حکم دیا تو جب فجر پھوٹی تو اس وقت اس نے نماز فجر کو کھڑا کرا دیا، جبکہ قریب نہیں تھا کہ لوگ ایک دوسرے کو پہنچان سکیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا ، پس انھوں نے سورج ڈھلنے کے بعد ظہر کی اقامت کہہ دی، جبکہ کہنے والا یہ کہہ رہا تھا: کیا نصف النہار کا وقت بھی ہوا ہے یا نہیں، بہرحال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سب لوگوں سے زیادہ جاننے والے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا اور انھوں عصر کو اس وقت کھڑا کروا دیا، جب سورج بلند تھا، پھر ان کو حکم دیا اور انھوں نے غروب ِ آفتاب کے وقت مغرب کی اقامت کہہ دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا اور غروبِ شفق کے وقت عشا کو کھڑا کرو ادیا، پھر دوسرے دن نمازِ فجر کو اتنا مؤخر کیا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا: سورج طلوع ہو گیا ہے، یا طلوع ہونے کے قریب ہے، ظہر کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ کل والی نماز عصر کے وقت کے قریب والا وقت ہو گیا، پھر عصر کو اس قدر مؤخر کر کے ادا کیا کہ جب اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا: سورج زرد ہو گیا ہے، پھر نماز مغرب کو اس قدر لیٹ کر دیا کہ اس کا معاملہ غروب ِ شفق سے پہلے تک پہنچ گیا اور نمازِ عشا کو رات کے پہلے ایک تہائی تک مؤخر کیا، پھر سائل کو بلایا اور فرمایا: ان دو وقتوںکے درمیان وقت ہے۔
Takhreej
(۱۱۰۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۱۴ (انظر: ۱۹۷۳۳)
1109
Sahih
جامع اوقات کا بیان
۔ (۱۱۱۰)۔عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۳۳۴۳)
سیدنا بریدہ ؓ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۱۱۱۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۱۳(انظر: ۲۲۹۵۵)
1110
Sahih
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
۔ (۱۱۱۱)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الظُّہْرَ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۷۱)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس وقت نمازِ ظہر ادا کی، جب سورج ڈھل گیا تھا۔
Takhreej
(۱۱۱۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ الترمذی: ۱۵۶ (انظر: ۱۲۶۴۳)
1111
Sahih
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
۔ (۱۱۱۲)۔وَعَنْہُ أَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ صَلَاۃَ الظُّہْرِ أَیَّامَ الشِّتَائِ وَمَا نَدْرِیْ مَا ذَھَبَ مِنَ النَّہَارِ أَکْثَرُ أَوْ مَا َبقِیَ مِنْہُ۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۶۱)
سیدنا انس ؓہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سردیوں کے دنوں میں نمازِ ظہر ادا کرتے تھے، لیکن ہمیں یہ علم نہیں ہوتا تھا کہ دن کا جو حصہ گزر چکا ہے، وہ زیادہ ہے یا جو حصہ باقی ہے۔
Takhreej
(۱۱۱۲) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۲۶۳۴)
1112
Sahih
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
۔ (۱۱۱۳)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَؓقَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الظُّہْرَ اِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَانَ بِلَالٌ یُؤَذِّنُ اِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ) (مسند أحمد: ۲۱۳۲۹)
سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ظہر کی نماز اس وقت ادا کرتے جو سورج ڈھل جاتا تھا، ایک روایت میں ہے: سیدنا بلال ؓ اس وقت اذان دیتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا تھا۔
Takhreej
(۱۱۱۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۱۸ (انظر: ۲۱۰۱۶)
1113
Sahih
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
۔ (۱۱۱۴)۔عَنْ خَبَّابِ (بْنِ الْأَرَتِّؓ) قَالَ: شَکَوْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شِدَّۃَ الرَّمْضَائِ فَلَمْ یُشْکِنَا، قَالَ شُعْبَۃُ: یَعْنِیْ فِی الظُّہْرِ۔ (مسند أحمد: ۲۱۳۶۶)
سیدنا خباب بن ارت ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے گرم ریت کی شدت کی شکایت کی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ کیا۔ امام شعبہ کہتے ہیں: یہ شکایت نمازِ ظہر کے بارے میں تھی۔
Takhreej
(۱۱۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۱۹ (انظر: ۲۱۰۵۲)
1114
Sahih
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
۔ (۱۱۱۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: مَا رَأَیْتُ أَحَدًا کَانَ أَشَدَّ تَعْجِیْلًا لِلظُّہْرِ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا أَبِیْ بَکْرٍ وَلَا عُمُرَ۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۵۲)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کسی ایسے فرد کو نہیں دیکھا جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمر ؓکی بہ نسبت نمازِ ظہر کو جلدی ادا کرنے والا ہو۔
Takhreej
(۱۱۱۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف حکیم بن جبیر۔ أخرجہ الترمذی: ۱۵۵(انظر: ۲۵۰۳۸)
1115
Sahih
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
۔ (۱۱۱۶)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَشَدَّ تَعْجِیْلًا لِلظُّہْرِ مِنْکُمْ وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِیْلًا لِلْعَصْرِمِنْہُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۷۱۸۳)
سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تمہاری بہ نسبت ظہر کو زیادہ جلدی ادا کرنے والے تھے، لیکن تم اُن کی بہ نسبت عصر کو زیادہ جلدی ادا کرنے والے ہو۔
Takhreej
(۱۱۱۶) تخریج: اسنادہ ضعیف ، ابن جریج مدلس وقد عنعن۔ أخرجہ الترمذی: ۱۶۲ (انظر: ۲۶۶۴۷)
1116
Zaeef
گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
۔ (۱۱۱۶)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَشَدَّ تَعْجِیْلًا لِلظُّہْرِ مِنْکُمْ وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِیْلًا لِلْعَصْرِمِنْہُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۷۱۸۳)
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ظہر کو نصف النہار کی سخت گرمی کے وقت ادا کرتے تھے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں فرمایا: اس نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کرو، پس بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔
Takhreej
(۱۱۱۷) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۶۸۰ (انظر: ۱۸۱۸۵)
1117
Sahih

Chapters

23
01
جامع اوقات کا بیان
13 Hadith
02
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
03
گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
04
عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان
10 Hadith
05
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
9 Hadith
06
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
5 Hadith
07
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
15 Hadith
08
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
15 Hadith
09
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
8 Hadith
10
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
11
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
2 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا
4 Hadith
13
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
5 Hadith
14
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
5 Hadith
15
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
7 Hadith
16
طلوع فجر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
2 Hadith
17
طلوع آفتاب، غروبِ آفتاب اور زوال کے وقت نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
6 Hadith
18
مکہ مکرمہ میں اس کی رخصت کا بیان
1 Hadith
19
اس چیز کا بیان کہ نماز کو بھول جانے کا وقت وہ ہے،جب اس کو یاد آئے
3 Hadith
20
سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
9 Hadith
21
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
3 Hadith
22
فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
4 Hadith
23
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو سننِ رواتب کے فوت جانے کی صورت میں ان کی قضاء نہ دینے کے قائل ہیں
1 Hadith
No chapter matched that.