مسنداحمد

Musnad Ahmad

نمازوں کے اوقات کے ابواب

مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے

۔ (۱۱۴۷)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَغْرِبَ ثُمَّ یَجِیْئُ أَحَدُنَا اِلٰی بَنِیْ سَلِمَۃَ وَھُوَ یَرٰی مَوَاقِعَ نَبْلِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۱۶۰)

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے، پھر ایک آدمی فارغ ہو کر بنوسلمہ کی طرف آتا، لیکن وہ اس وقت بھی اپنے تیروں کے گرنے کی جگہیں دیکھ لیتا تھا۔

۔ (۱۱۴۹)۔عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الْمَغْرِبَ سَاعَۃَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ اِذَا غَابَ حَاجِبُہَا۔ (مسند أحمد: ۱۶۶۴۷)

سیدنا سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے، جب سورج غروب ہو جاتا اور اس کی ٹکیہ کا کنارہ غائب ہو جاتا۔

۔ (۱۱۵۰)۔ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((صَلُّوْا الْمَغْرِبَ لِفِطْرِ الصَّائِمِ وَ بَادِرُوْا طُلُوْعَ النُّجُوْمِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۷۷)

سیدنا ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: روزے دار کی افطاری کے وقت نمازِ مغرب پڑھا کرو اور ستاروں کے ظاہر ہونے سے پہلے ادا کر لیا کرو۔

۔ (۱۱۵۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاۃِ النَّہَارِ فَأَوْتِرُوْا صَلَاۃَ اللَّیْلِ، وَصَلَاۃُ اللَّیْلِ مَثْنٰی مَثْنٰی، وَالْوِتْرُ رََکْعَۃٌ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۵۵۴۹)

سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نمازِ مغرب، دن کی نماز کا وتر ہے، پس رات کی نماز کو بھی وتر بنایا کرو، اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری حصے میں وتر ایک رکعت ہے۔

۔ (۱۱۵۷)۔عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍؓ قَالَ: اِنِّیْ أَعْلَمُ النَّاسِ أَوْ کَأَعْلَمِ النَّاسِ بِوَقْتِ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْعِشَائِ، کَانَ یُصَلِّیْہَا بَعْدَ سُقُوْطِ الْقَمَرِ فِیْ اللَیْلَۃِ الثَّالِثَۃِ مِنْ أَوَّلِ الشَّہْرِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۶۷)

سیدنا نعمان بن بشیرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نمازِ عشا کے وقت کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مہینے کے شروع میں تیسری رات کے چاند کے غروب ہونے کے بعد اس نماز کو ادا کرتے تھے۔

۔ (۱۱۵۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ)۔ کَانَ یُصَلِّیْہَا مِقْدَارَ مَا یَغِیْبُ الْقَمَرُ لَیْلَۃَ ثَالِثَۃٍ أَوْ رَابِعَۃٍ۔ (مسند أحمد:۱۸۵۸۶)

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تیسری یا چوتھی رات کو چاند کے غروب ہونے کے وقت کے برابر نمازِ عشا ادا کرتے تھے۔

۔ (۱۱۵۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ)۔ کَانَ یُصَلِّیْہَا مِقْدَارَ مَا یَغِیْبُ الْقَمَرُ لَیْلَۃَ ثَالِثَۃٍ أَوْ رَابِعَۃٍ۔ (مسند أحمد:۱۸۵۸۶)

جہینہ قبیلے کا ایک آدمی کہتا ہے: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا کہ میں عشا کی نماز کب پڑھوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب رات ہر وادی کے پیٹ کو بھر دے۔

۔ (۱۱۶۰)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاۃِ یَعْنِی الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ اِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَیْنِ مُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ)) (مسند أحمد: ۳۶۰۳)

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نمازِ عشا کے بعد گفتگو کرنا نہیں ہے، ما سوائے دو آدمیوں کے، نمازی اور مسافر۔

۔ (۱۱۶۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجْدِبُ لَنَا السَّمَرَ بَعْدَ الْعِشَائِ۔ (مسند أحمد: ۳۶۸۶)

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عشاء کے بعد گفتگو کرنے کو ہمارے لیے مذموم سمجھتے تھے۔

۔ (۱۱۶۲)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: جَدَبَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم السَّمَرَ بَعْدَ الْعِشَائِ، قَالَ خَالِدٌ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ) مَعْنیٰ جَدَبَ اِلَیْنَا، یَقُوْلُ عَابَہَ، ذَمَّہُ۔ (مسند أحمد: ۳۸۹۴)

۔ (دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمارے لیے عشاء کے بعد گفتگو کرنے کو مذموم اور معیوب سمجھا۔ خالد راوی کہتے ہیں: جَدَبَ کے معانی مذمت کرنے اور عیب لگانے کے ہیں۔

۔ (۱۱۶۳)۔ عَنْ أَبِیْ بَرْزَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَکْرَہُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَائِ وَلَا یُحِبُّ الْحَدِیْثَ بَعْدَہَا۔ (مسند أحمد: ۲۰۰۱۹)

سیدنا ابو برزہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عشاء سے پہلے نیند کو نا پسند سمجھتے تھے اور اِس نماز کے بعد گفتگو کو پسند نہیںکرتے تھے۔

۔ (۱۱۶۴)۔عَنْ عُمَرَؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْمُرُ عِنْدَ أَبِیْ بَکْرٍ اللَّیْلَۃَ کَذٰلِکَ فِیْ الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِیْنَ وَأَنَا مَعَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸)

سیدنا عمرؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مسلمانوں کے معاملات پر سیدنا ابو بکر ؓ کے ساتھ رات کو گفتگو کرتے تھے اور میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تھا۔

۔ (۱۱۶۵)۔ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَغْلِبَنَّکُمُ الْأَعْرَابُ عَلَی اِسْمِ صَلَاتِکُمْ، أَلَا وَاِنَّہَا الْعِشَائُ، وَاِنَّہُمْ یُعْتِمُوْنَ بِالْاِبِلِ أَوْ عَنِ الْاِبِلِ، (وَفِیْ لفظ) اِنّمَا یَدْعُوْنَہَا الْعَتَمَۃَ لِاِعْتَامِہِمْ بِالْاِبِلِ لِحِلَابِہَا۔)) (مسند أحمد: ۴۶۸۸)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بدّو لوگ تمہاری نمازکے نام پر غالب نہ آ جائیں، خبردار! یہ عشاء کی نماز ہے، چونکہ وہ لوگ اونٹوں کی وجہ سے رات کی تاریکی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: وہ اس نماز کو عَتَمَۃ اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ وہ اونٹوں کو دوہنے کی وجہ سے تاریکی میں داخل ہو جاتے ہیں۔