سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے، پھر ایک آدمی فارغ ہو کر بنوسلمہ کی طرف آتا، لیکن وہ اس وقت بھی اپنے تیروں کے گرنے کی جگہیں دیکھ لیتا تھا۔
اسلم قبیلے کا ایک صحابی بیان کرتا ہے کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ مغرب ادا کرتے، پھر مدینہ سے دور اپنے گھروں کی طرف لوٹتے اور تیر پھینکتے اور اپنے تیروں کے گرنے کی جگہوں کو دیکھ لیتے۔
سیدنا سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے، جب سورج غروب ہو جاتا اور اس کی ٹکیہ کا کنارہ غائب ہو جاتا۔
سیدنا ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے دار کی افطاری کے وقت نمازِ مغرب پڑھا کرو اور ستاروں کے ظاہر ہونے سے پہلے ادا کر لیا کرو۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ستارے کے ظہور سے پہلے ہی نمازِ مغرب ادا کر لیا کرو۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ مغرب، دن کی نماز کا وتر ہے، پس رات کی نماز کو بھی وتر بنایا کرو، اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری حصے میں وتر ایک رکعت ہے۔
سیدنا نعمان بن بشیرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ عشا کے وقت کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہینے کے شروع میں تیسری رات کے چاند کے غروب ہونے کے بعد اس نماز کو ادا کرتے تھے۔
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیسری یا چوتھی رات کو چاند کے غروب ہونے کے وقت کے برابر نمازِ عشا ادا کرتے تھے۔
جہینہ قبیلے کا ایک آدمی کہتا ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ میں عشا کی نماز کب پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات ہر وادی کے پیٹ کو بھر دے۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ عشا کے بعد گفتگو کرنا نہیں ہے، ما سوائے دو آدمیوں کے، نمازی اور مسافر۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کے بعد گفتگو کرنے کو ہمارے لیے مذموم سمجھتے تھے۔
۔ (دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے عشاء کے بعد گفتگو کرنے کو مذموم اور معیوب سمجھا۔ خالد راوی کہتے ہیں: جَدَبَ کے معانی مذمت کرنے اور عیب لگانے کے ہیں۔
سیدنا ابو برزہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء سے پہلے نیند کو نا پسند سمجھتے تھے اور اِس نماز کے بعد گفتگو کو پسند نہیںکرتے تھے۔
سیدنا عمرؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کے معاملات پر سیدنا ابو بکر ؓ کے ساتھ رات کو گفتگو کرتے تھے اور میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تھا۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدّو لوگ تمہاری نمازکے نام پر غالب نہ آ جائیں، خبردار! یہ عشاء کی نماز ہے، چونکہ وہ لوگ اونٹوں کی وجہ سے رات کی تاریکی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: وہ اس نماز کو عَتَمَۃ اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ وہ اونٹوں کو دوہنے کی وجہ سے تاریکی میں داخل ہو جاتے ہیں۔