مسنداحمد

Musnad Ahmad

نمازوں کے اوقات کے ابواب

نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان

۔ (۱۱۷۷)۔عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ عن أَبِیْہِؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِیْلُ فِی الْأُفُقِ وَلٰـکِنَّہُ الْمُعْتَرِضُ الْأَحْمَرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۴۰۰)

سیّدنا طلقؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: فجرِ (صادق) وہ نہیں ہے، جس میں روشنی افق میں بلند ہوتی ہے، بلکہ وہ ہے، جس میں سرخ روشنی چوڑائی میں (افق پر) پھیلتی ہے۔

۔ (۱۱۷۸)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ نِسَائً مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ کُنَّ یُصَلِّیْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوْطِہِنَّ، ثُمَّ یَرْجِعْنَ اِلٰی أَہْلِہِنَّ وَمَا یَعْرِفُہُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ۔ (مسند أحمد: ۲۴۵۹۷)

سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ مؤمن خواتین، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِ فجر ادا کرتی تھیں، جبکہ وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتی تھیں اور کوئی آدمی اندھیرے کی وجہ سے ان کو پہچان نہ سکتا تھا۔

۔ (۱۱۷۹)۔ عَنْ أَبِی الرَّبِیْعِ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِیْ جَنَازَۃٍ فَسَمِعَ صَوْتَ اِنْسَانٍ یَصِیْحُ فَبَعَثَ اِلَیْہِ فَأَسْکَتَہُ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! لِمَ أَسْکَتَّہُ؟ قَالَ: اِنَّہُ یَتَأَذَّی بِہِ الْمَیِّتُ حَتَّی یُدْخَلَ قَبْرَہُ، فَقُلْتُ لَہُ: اِنِّیْ أُصَلِّیْ مَعَکَ الصُّبْحَ، ثُمَّ اَلْتَفِتُ فَلَا أَرٰی وَجْہَ جَلِیْسِیْ، ثُمَّ أَحْیَانًا تُسْفِرُ؟ قَالَ: کَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَحْبَبْتُ أَنْ أُصَلِّیَہَا کَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْہَا۔ (مسند أحمد: ۶۱۹۵)

ابو ربیع کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے، جب انھوں نے ایک آدمی کے چیخنے کی آواز سنی تو انھوں نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور اس کو خاموش کروا دیا، میں نے کہا: اے عبدالرحمن! آپ نے اس کو کیوں خاموش کرا دیا ہے؟ انھوں نے کہا: اس طرح رونے سے میت کو قبر میں داخل ہونے تک تکلیف ہوتی ہے، پھر میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ نمازِ فجر پڑھتا ہو اور جب میں اس نماز سے فارغ ہوتا ہوں اور (اندھیرے کی وجہ سے) اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا، لیکن کبھی ایسے ہوتا ہے کہ تم روشنی کر دیتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا ہے اور میں پسند کرتا ہوں کہ اِ س نماز کو اسی طرح پڑھوں، جیسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

۔ (۱۱۸۰)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ وَقْتِ صَلَاۃِ الصُّبْحِ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا حِیْنَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ أَسْفَرَ مِنَ الْغَدِ حَتّٰی أَسْفَرَ ثُمَّ قَالَ: ((أَیْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ؟ مَا بَیْنَ ہَاتَیْنِ (أَوْ قَالَ: ہٰذَیْنِ) وَقْتٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱۴۳)

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ سے نمازِ فجر کے بارے میں سوال کیا گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا بلالؓ کو اس وقت اقامت کہنے کا حکم دیا، جب فجر طلوع ہوئی، پھر دوسرے دن روشنی کی(اور پھر نماز ادا کی) اور فرمایا: نمازِ فجر کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان اس کا وقت ہے۔

۔ (۱۱۸۲)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَسْفِرُوْا بِالْفَجْرِ، فَاِنَّہُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۴۱۱)

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ تمہارے اجرکو زیادہ کرنے والا ہے۔

۔ (۱۱۸۳)۔عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَسْفِرُوْا بِالْفَجْرِ فَاِنَّہُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ أَوْ لِأَجْرِہَا)) (مسند أحمد: ۱۷۴۱۱)

سیدنا رافع بن خدیجؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ اجرکو زیادہ کرنے والا ہے۔

۔ (۱۱۸۴)۔عَنْ أَبِیْ زِیَادٍ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ الْکِنْدِیِّ عَنْ بِلَالٍ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُؤْذِنُہُ بِصَلَاۃِ الْغَدَاۃِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَۃُ بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْہُ عَنْہُ حَتّٰی أَفْضَحَہُ الصُّبْحُ وَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَہُ بِالصَّلَاۃِ وَتَابَعَ بَیْنَ آذَانِہِ فَلَمْ یَخْرُجْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَلَمَّا خَرَجَ فَصَلّٰی بالنَّاسِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ شَغَلَتْہُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْہُ حَتّٰی أَصْبَحَ جِدًّا ثُمَّ اِنَّہُ أَبْطَأَ عَلَیْہِ بِالْخُرُوْجِ، فَقَالَ: ((اِنِّیْ رَکَعْتُ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّکَ قَدْ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ: ((لَوْ أَصْبَحْتُ أَکْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَکَعْتُہُمَا وَأَحْسَنْتُہُمَا وَأَجْمَلْتُہُمَا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۰۷)

سیدنا بلال ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نمازِ فجر کی اطلاع دینے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گئے، لیکن سیدہ عائشہ ؓ نے اُن کو اس طرح مصروف کر دیا کہ ان سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا، یہاں تک کہ صبح کی سفیدی ظاہر ہونے لگی اور واضح طور پر صبح ہو گئی، پس سیدنا بلال ؓکھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نماز کی خبر دی اور بار بار اطلاع کرتے رہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باہر نہ نکلے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی تو سیدنا بلال ؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو بتایا کہ سیدہ عائشہ ؓ نے اُن سے ایک چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس طرح انُ کو مصروف کر دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مزید تاخیر کر دی، آپ نے فرمایا: میں فجر کی دو رکعتیں پڑھنے لگ گیا تھا۔ انھوں نے کہا: آپ نے تو واضح طور پر صبح کر دی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر اس سے زیادہ صبح ہو جاتی تو میں نے ان دو رکعتوں کو تو پڑھنا تھا اور اِن کو حسین و جمیل بنا کر ادا کرنا تھا۔