TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان - نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان - نمازوں کے اوقات کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of نمازوں کے اوقات کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 23 · 8 Hadith
۔ (۱۱۷۷)۔عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ عن أَبِیْہِؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِیْلُ فِی الْأُفُقِ وَلٰـکِنَّہُ الْمُعْتَرِضُ الْأَحْمَرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۴۰۰)
سیّدنا طلقؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: فجرِ (صادق) وہ نہیں ہے، جس میں روشنی افق میں بلند ہوتی ہے، بلکہ وہ ہے، جس میں سرخ روشنی چوڑائی میں (افق پر) پھیلتی ہے۔
Takhreej
(۱۱۷۷) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۳۴۸، والترمذی: ۷۰۵ (انظر: ۱۶۲۹۱)
1177
Sahih
۔ (۱۱۷۸)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ نِسَائً مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ کُنَّ یُصَلِّیْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوْطِہِنَّ، ثُمَّ یَرْجِعْنَ اِلٰی أَہْلِہِنَّ وَمَا یَعْرِفُہُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ۔ (مسند أحمد: ۲۴۵۹۷)
سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ مؤمن خواتین، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِ فجر ادا کرتی تھیں، جبکہ وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتی تھیں اور کوئی آدمی اندھیرے کی وجہ سے ان کو پہچان نہ سکتا تھا۔
Takhreej
(۱۱۷۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۷۲، ۵۷۸، ومسلم: ۶۴۵(انظر: ۲۴۰۹۶)
1178
Sahih
۔ (۱۱۷۹)۔ عَنْ أَبِی الرَّبِیْعِ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِیْ جَنَازَۃٍ فَسَمِعَ صَوْتَ اِنْسَانٍ یَصِیْحُ فَبَعَثَ اِلَیْہِ فَأَسْکَتَہُ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! لِمَ أَسْکَتَّہُ؟ قَالَ: اِنَّہُ یَتَأَذَّی بِہِ الْمَیِّتُ حَتَّی یُدْخَلَ قَبْرَہُ، فَقُلْتُ لَہُ: اِنِّیْ أُصَلِّیْ مَعَکَ الصُّبْحَ، ثُمَّ اَلْتَفِتُ فَلَا أَرٰی وَجْہَ جَلِیْسِیْ، ثُمَّ أَحْیَانًا تُسْفِرُ؟ قَالَ: کَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَحْبَبْتُ أَنْ أُصَلِّیَہَا کَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْہَا۔ (مسند أحمد: ۶۱۹۵)
ابو ربیع کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے، جب انھوں نے ایک آدمی کے چیخنے کی آواز سنی تو انھوں نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور اس کو خاموش کروا دیا، میں نے کہا: اے عبدالرحمن! آپ نے اس کو کیوں خاموش کرا دیا ہے؟ انھوں نے کہا: اس طرح رونے سے میت کو قبر میں داخل ہونے تک تکلیف ہوتی ہے، پھر میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ نمازِ فجر پڑھتا ہو اور جب میں اس نماز سے فارغ ہوتا ہوں اور (اندھیرے کی وجہ سے) اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا، لیکن کبھی ایسے ہوتا ہے کہ تم روشنی کر دیتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا ہے اور میں پسند کرتا ہوں کہ اِ س نماز کو اسی طرح پڑھوں، جیسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
Takhreej
(۱۱۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابوشعبۃ الطحان متروک، وابو الربیع مجھول (انظر: ۶۱۹۵)
1179
Zaeef
۔ (۱۱۸۰)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ وَقْتِ صَلَاۃِ الصُّبْحِ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا حِیْنَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ أَسْفَرَ مِنَ الْغَدِ حَتّٰی أَسْفَرَ ثُمَّ قَالَ: ((أَیْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ؟ مَا بَیْنَ ہَاتَیْنِ (أَوْ قَالَ: ہٰذَیْنِ) وَقْتٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱۴۳)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ سے نمازِ فجر کے بارے میں سوال کیا گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا بلالؓ کو اس وقت اقامت کہنے کا حکم دیا، جب فجر طلوع ہوئی، پھر دوسرے دن روشنی کی(اور پھر نماز ادا کی) اور فرمایا: نمازِ فجر کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان اس کا وقت ہے۔
Takhreej
(۱۱۸۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۲۷۱(انظر: ۱۲۱۱۹)
1180
Sahih
۔ (۱۱۸۱)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَصْبِحُوْا بِالصُّبْحِِ فَاِنَّہُ أَعْظَمُ لِأُجُوْرِکُمْ أَوْ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۸۹)
سیدنا رافع بن خدیجؓ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ تمہارے اجر زیادہ کرنے والا ہے۔
Takhreej
(۱۱۸۱) تخریج: صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۲۴، وابن ماجہ: ۶۷۲ (انظر: ۱۷۲۵۷)
1181
Sahih
۔ (۱۱۸۲)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَسْفِرُوْا بِالْفَجْرِ، فَاِنَّہُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۴۱۱)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ تمہارے اجرکو زیادہ کرنے والا ہے۔
Takhreej
(۱۱۸۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1182
Sahih
۔ (۱۱۸۳)۔عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَسْفِرُوْا بِالْفَجْرِ فَاِنَّہُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ أَوْ لِأَجْرِہَا)) (مسند أحمد: ۱۷۴۱۱)
سیدنا رافع بن خدیجؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ اجرکو زیادہ کرنے والا ہے۔
Takhreej
(۱۱۸۳) تخریج: انظر الحدیث السابق
1183
Sahih
۔ (۱۱۸۴)۔عَنْ أَبِیْ زِیَادٍ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ الْکِنْدِیِّ عَنْ بِلَالٍ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُؤْذِنُہُ بِصَلَاۃِ الْغَدَاۃِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَۃُ بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْہُ عَنْہُ حَتّٰی أَفْضَحَہُ الصُّبْحُ وَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَہُ بِالصَّلَاۃِ وَتَابَعَ بَیْنَ آذَانِہِ فَلَمْ یَخْرُجْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَلَمَّا خَرَجَ فَصَلّٰی بالنَّاسِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ شَغَلَتْہُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْہُ حَتّٰی أَصْبَحَ جِدًّا ثُمَّ اِنَّہُ أَبْطَأَ عَلَیْہِ بِالْخُرُوْجِ، فَقَالَ: ((اِنِّیْ رَکَعْتُ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّکَ قَدْ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ: ((لَوْ أَصْبَحْتُ أَکْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَکَعْتُہُمَا وَأَحْسَنْتُہُمَا وَأَجْمَلْتُہُمَا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۰۷)
سیدنا بلال ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نمازِ فجر کی اطلاع دینے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گئے، لیکن سیدہ عائشہ ؓ نے اُن کو اس طرح مصروف کر دیا کہ ان سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا، یہاں تک کہ صبح کی سفیدی ظاہر ہونے لگی اور واضح طور پر صبح ہو گئی، پس سیدنا بلال ؓکھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نماز کی خبر دی اور بار بار اطلاع کرتے رہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باہر نہ نکلے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی تو سیدنا بلال ؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو بتایا کہ سیدہ عائشہ ؓ نے اُن سے ایک چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس طرح انُ کو مصروف کر دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مزید تاخیر کر دی، آپ نے فرمایا: میں فجر کی دو رکعتیں پڑھنے لگ گیا تھا۔ انھوں نے کہا: آپ نے تو واضح طور پر صبح کر دی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر اس سے زیادہ صبح ہو جاتی تو میں نے ان دو رکعتوں کو تو پڑھنا تھا اور اِن کو حسین و جمیل بنا کر ادا کرنا تھا۔
Takhreej
(۱۱۸۴) رجالہ ثقات الا انہ منقطع بین عبید اللہ بن زیادۃ وبلال بن رباح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۵۷ (انظر: ۲۳۹۱۰)
1184
Sahih

Chapters

23
01
جامع اوقات کا بیان
13 Hadith
02
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
03
گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
04
عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان
10 Hadith
05
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
9 Hadith
06
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
5 Hadith
07
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
15 Hadith
08
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
15 Hadith
09
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
8 Hadith
10
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
11
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
2 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا
4 Hadith
13
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
5 Hadith
14
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
5 Hadith
15
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
7 Hadith
16
طلوع فجر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
2 Hadith
17
طلوع آفتاب، غروبِ آفتاب اور زوال کے وقت نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
6 Hadith
18
مکہ مکرمہ میں اس کی رخصت کا بیان
1 Hadith
19
اس چیز کا بیان کہ نماز کو بھول جانے کا وقت وہ ہے،جب اس کو یاد آئے
3 Hadith
20
سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
9 Hadith
21
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
3 Hadith
22
فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
4 Hadith
23
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو سننِ رواتب کے فوت جانے کی صورت میں ان کی قضاء نہ دینے کے قائل ہیں
1 Hadith
No chapter matched that.