مسنداحمد

Musnad Ahmad

نمازوں کے اوقات کے ابواب

اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا

۔ (۱۱۹۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ أَدْرَکَ مِنَ الصَّلَاۃِ رَکْعَۃً فَقَدْ أَدْرَکَہَا کُلَّہَا)) (مسند أحمد:۸۸۷۰)

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے نماز میں سے ایک رکعت پا لی، پس تحقیق اس نے وہ ساری نماز پا لی۔

۔ (۱۱۹۳)۔وَعَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَلّٰی رَکْعَۃً مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلَمْ تَفُتْہُ وَمَنْ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلَمْ تَفُتْہُ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَدْ أَدْرَکَہَا)۔)) (مسند أحمد: ۷۴۵۱)

سیدنا ابو ہریرہؓ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے طلوع آفتاب سے پہلے نمازِ فجر میںسے ایک رکعت ادا کر لی تو یہ نماز اس سے فوت نہیں ہو گی، اسی طرح جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے نمازِ عصر کی دو رکعتیں ادا کر لیں، تو یہ نماز اس سے فوت نہیں ہو گی، ایک روایت میں ہے: تو وہ اس کو پا لے گا۔

۔ (۱۱۹۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَلَّی مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِِ رَکْعَۃً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ طَلَعَتْ فَلْیُصَلِّ اِلَیْہَا أُخْرٰی۔)) (مسند أحمد: ۱۰۳۴۴)

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے طلوع آفتاب سے پہلے نمازِ فجر کی ایک رکعت ادا کی اور پھر سورج طلوع ہو گیا تو وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ادا کر لے۔

۔ (۱۱۹۴)۔عَنْ عَائِشَۃَ ؓ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ أَدْرَکَ سَجْدَۃً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَمِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَکَہَا)) (مسند أحمد: ۲۴۹۹۴)

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے نماز عصر کی ایک رکعت اور طلوع آفتاب سے پہلے نمازِ فجر کی ایک رکعت پالی، اس نے اِن دونوں نمازوں کو پا لیا۔