مسنداحمد

Musnad Ahmad

نمازوں کے اوقات کے ابواب

طلوع فجر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان

۔ (۱۲۱۳)۔عَنْ یَسَارٍ مَوْلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: رَآنِی ابْنُ عُمَرَؓ وَأَنَا أُصَلِّیْ بَعْدَ مَا طَلَعَ الْفَجْرُ فَقَالَ: یَا یَسَارُ! کَمْ صَلَّیْتَ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِیْ، قَالَ: لَا دَرَیْتَ! اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ عَلَیْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّیْ ہٰذِہِ الصَّلَاۃَ فَقَالَ: ((أَلَا لِیُبَلِّغْ شَاہِدُکُمْ غَائِبَکُمْ أَنْ لَا صَلَاۃَ بَعْدَ الصُّبْحِ اِلَّا سَجْدَتَیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۵۸۱۱)

مولائے عبد اللہ بن عمر یسار کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر ؓ نے مجھے طلوع فجر کے بعد نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور کہا: یسار! کتنی نماز پڑھ چکے ہو؟ میں نے کہا: جی یہ تو میں نہیں جانتا، انھوں نے کہا: تو نہ جاننے پائے، بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم یہی نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خبردار! موجود لوگ غائب لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں کہ طلوع فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، ما سوائے دو رکعتوں کے۔

۔ (۱۲۱۴)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُیَیِّ بْنِ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: رَأَیْتُ یَعْلٰی یُصَلِّیْ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: أَوْ قِیْلَ لَہُ: أَنْتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُصَلِّیْ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ؟ قَالَ یَعْلَیْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ۔)) قَالَ لَہُ یَعْلٰی: فَاَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَنْتَ فِیْ أَمْرِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَطْلُعَ وَأَنْتَ لَاہٍ۔ (مسند أحمد:۱۸۱۲۳)

حُیَی بن یعلی بن امیہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا یعلی ؓ کو طلوع آفتاب سے پہلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، ایک آدمی نے ان سے کہا: تم تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے صحابہ میں سے ہو اور طلوع آفتاب سے پہلے نماز پڑھ رہے ہو؟ سیدنا یعلیؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر سیدنا یعلی ؓ نے کہا: اب اگر طلوع آفتاب کے وقت تم اللہ کے حکم میں لگے ہوئے ہو تو یہ اس سے بہتر ہو گا کہ سورج طلوع ہو رہا ہو اور تم غافل ہو۔