TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان

Chapter 5 of اذان اور اقامت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 11 · 10 Hadith
۔ (۱۲۷۱) عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مُحَیْرِیْزٍ أَخْبَرَ وَ کَانَ یَتِیْمًا فِی حِجْرِ أَبِیْ مَحْذُورَۃَ حِینَ جَہَّزَہُ إِلَی الشَّامِ قَالَ: فَقْلْتُ ِلأَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ: یَاعَمِّ! إِنِّیْ خَارِجٌ إِلَی الشَّامِ وَأَخْشٰی أَنْ أُسْئَلَ عَنْ تَأْذِیْنِکَ، فَأَخْبَرَنِیِْ أَنَّ أَبَا مَحْذُوْرَۃَ قَالَ لَہُ: نَعَمْ، خَرَجْتُ فِی نَفَرٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ فِی عَشْرَۃِ فِتْیَانٍ) فَکُنَّا بِبَعْضِ طَرِیقِ حُنَیْنِ، فَقَفَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ حُنَیْنٍ، فَلَقِیَناَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَعْضِ الطَّرِیْقِ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالصَّلَاۃِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَکِّبُوْنَ فَصَرَخْنَا نَحْکِیْہِ وَنَسْتَہْزِیُٔ بِہِ فَسَمِعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّوْتَ، فَأَرْسَلَ إِلَیْنَا إِلیَ أَنْ وَقَفْنَا بَیْنَیَدَیْہِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیُّکُمُ الَّذِیْ سَمِعْتُ صَوْتَہُ قَدِ ارْتَفَعَ؟)) فَأَشَارَالْقَوْمُ کُلُّہُمْ إِلَیَّ وَصَدَقُوْا ، فَأَرْسَلَ کُلَّہُمْ وَحَبَسَنِیْ فَقَالَ: ((قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاۃِ۔)) فَقُمْتُ وَلَا شَیْئَ أَکْرَہُ إِلَیَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا مِمَّا یَأْمُرُنِیِْ بِہِ، فَقُمْتُ بَیْنَیَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَلْقٰی إِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التَّأْذِینَ ھُوَ نَفْسُہُ فَقَالَ: ((قُلْ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ)) ثُمَّ قَالَ لِیْ: ((اِرْجِعْ فَامْدُ دْ مِنْ صَوْتِکَ)) ثُمَّ قَالَ: ((أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ۔)) ثُمًّ دَعَانِی حِیْنَ قَضَیْتُ التَّأْذِیْنَ فَأَعْطَانِیْ صُرَّۃً فِیْہَا شَیْئٌ مِنْ فِضَّۃٍ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلَی نَاصِیَۃِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ ثُمَّ أَمَرَّھَا عَلیَ وَجْہِہِ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ مَرَّتَیْنِ عَلَییَدَیْہِ ثُمَّ عَلَی کَبِدِہِ ثُمَّ بَلَغَتْ یَدُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُرَّۃَ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَارَکَ اللّٰہُ فِیکََ۔)) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مُرْنِیْ بِالتَّأْذِیْنِ بِمَکَّۃَ۔ فَقَالَ: ((قَدْ أَمَرْتُکَ بِہِ۔)) وَذَھَبَ کُلُّ شَیْئٍ کَانَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ کَرَاھِیَۃٍ وَعَادَ ذَالِکَ مَحَبَّۃً لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَدِمْتُ عَلَی عَتَّابِ بِنْ أَسِیْدٍ عَامِلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَکَّۃَ فَأَذَّنْتُ مَعَہُ بِالصَّلَاۃِ عَنْ أَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَخْبَرنِیْ ذَالِکَ مَنْ أَدْرَکْتُ مِنْ أَھْلِیْ مِمَّنْ أَدْرَکَ أَبَا مَحْذُوْرَۃَ عَلیَ نَحْوِ مَا أَخْبَرَ نِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بِنْ مُحَیْرِیْزٍٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۴)
جس وقت عبد العزیز بن عبد الملک بن أبی محذورہ نے عبد اللہ بن محیریز، جو سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پرورش میں ایکیتیم تھے، کو شام کی طرف بھیجنے کے لیے تیار کیا تو عبد اللہ بن محیریز نے کہا:میں نے ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کی اے چچا جان! میں شام کی طرف جا رہا ہوں او رمجھے لگتا ہے کہ آپ کی اذان کے متعلق مجھ سے سوال ہو گا۔ عبد العزیز کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن محیریز نے اس کو بتایا کہ ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اُن سے کہا: ٹھیک ہے، میں تجھے اپنی اذان کے بارے میں بتا دیتا ہوں، میں کچھ لوگوں، اور ایک روایت کے مطابق دس نوجوانوں کے ساتھ نکلا،ہم حنین کے کسی راستہ میں تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حنین سے واپس آرہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں ایک راستہ میں ملے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان کہی، ہم نے مؤذن کی آواز سنی اور راستہ سے پیچھے ہٹ کر اس کی نقل اتارتے ہوئے اور مذاق کرتے ہوئے شور کرنا شروع کر دیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بلانے کے لیے کچھ لوگوں کو بھیجا اور ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم میں سے کون ہے، جس کی بلند آواز میں نے سنی ہے؟ سارے لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اور وہ سچے تھے۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا اور اور فرمانے لگے: کھڑا ہو جا اور نماز کے لیے اذان کہہ۔ میں کھڑا ہو گیا، حالانکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کا حکم مجھے سب سے بڑھ کر ناپسند تھا۔ بہرحال میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بذاتِ خود مجھے اذان کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: کہہ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پھر فرمایا: اپنی آواز بڑھا کر دوبارہ کہہ: أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أشْھَدُأَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ جس وقت میں نے اذان پوری کر لی تو آپ نے مجھے بلا کر ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی۔ پھر آپ نے ابو محذورہ کی پیشانی پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے اس کے چہرے پر دو مرتبہ پھیرا، پھر اس کے ہاتھوں پر دو دفعہ پھیرا، پھر اس کے جگر پر ہاتھ مارا حتی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ ابو محذورہ کی ناف تک پہنچ گیا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ (اللہ تجھ میں برکت فرمائے)َ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے مکہ میں اذان دینے کا حکم دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے یہ حکم دے دیا ہے۔ سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جتنی کراہت تھی، وہ ساری کی ساری ختم ہو گئی او راس کی بجائے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے محبت پیدا ہو گئی۔ پھر میں (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کے مطابق) مکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عامل عتاب بن اسید کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان کہنا شروع کر دی۔ عبد العزیز بن عبد الملک کہتے ہیں: میرے گھر والوں میں سے جس جس نے مجھے یہ واقعہ بیان کیا، وہ عبد اللہ بن محیریز کے بیان کردہ واقعہ کے مطابق تھا۔
Takhreej
(۱۲۷۱) تخر یـج: …حدیث صحیح بطرقہ، وھذا اسناد حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۵۰۳، ۵۰۵، والنسائی: ۲/ ۵، وابن ماجہ: ۷۰۸، وابن خزیمۃ: ۳۷۹ بتربیع التکبیر ، وأخرجہ ابن حبان: ۱۶۸۰ (انظر: ۱۵۳۸۰)
Explanation
فوائد:… اس واقعہ کی صحیح ترین روایات میں ابتدائے اذان میں چار دفعہ اللہ اکبر کا ذکر ہے۔
1271
Sahih
۔ (۱۲۷۲) عَنِ السَّائِبِ مَولٰی أَبِی مَحْذُوْرَۃَ وَأُمِّ عَبْدِا لْمَلِکِ ابِنِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ أَ نَّہُمَا سَمِعَا مِنْ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ فَذَکَرَ نَحْوَالْحَدِیثِ الْمُتَقَدِّمِ مُخْتَصَراً وَفِیہِ ذِکْرُ التَّکْبِیِر الْأَ وَّلِ أرْبَعًا وَزَاد َفِیِہ قَوْلَہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَإِذَاأَذَّنْتَ بِالْأَوَّلِ مِنَ الصُّبْحِ فَقُلْ الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَقُلْہَا مَرَّتَیْنِ قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، أَسَمِعْتَ؟)) قَالَ وَکَانَ أبُوْمَحْذُورَۃَ لَا یَجِزُّ نَاصِیَتَہُ وَلَا یَفْرِقُہَا لِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَسَحَ عَلَیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۰)
سائب مولی ابی محذورہ او رام عبد الملک بن ابی محذورہ دونوں نے سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا ، راوی نے ذرا اختصار کے ساتھ سابقہ حدیث کی طرح روایت بیان کی، البتہ اس میں پہلی تکبیر کے چار مرتبہ کہنے کا ذکر ہے اور اس میں مزید نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان مذکور ہے: جس وقت تو صبح کی پہلی اذان کہے تو اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ کہنا اور جب تو اقامت کہے تو دو مرتبہ قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کہنا، کیا تو نے سن لیا ہے؟ سائب کہتے ہیں: سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی پیشانی کے بال کاٹتے تھے نہ ان میں مانگ نکالتے تھے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر ہاتھ پھیرا تھا۔
Takhreej
(۱۲۷۲) تخر یـج:… حدیث صحیح بطرقہ۔ أخرجہ ابوداود: ۵۰۱، وابن خزیمۃ: ۳۸۵ (انظر: ۱۵۳۷۶)
Explanation
فوائد:… یہ سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے محبت کا ایک انداز تھا کہ اس کے جن بالوں پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مبارک ہاتھ لگا تھا، اس نے ان کو کاٹنا یا ان کو ان کی ہیئت سے ہٹانا بھی گوارہ نہ کیا۔
1272
Sahih
۔ (۱۲۷۳) عَنْ أَبِی مَحْذُورَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کُنْتُ اُاَذِّنُ فِیْ زَمَنِ النَّبِییً ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فیِ صَلَاۃِ الصُّبْحِ فَاِذَا قُلْتُ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ قُلْتُ اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ الْأَ ذَانَ الْأَوَّلَ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۲)
سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں صبح کی نماز کے لیے اذان کہا کرتا تھا، جب میں حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کہتا تو اَلصَّلَاۃُخَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہتا، یہ پہلی اذان کی بات ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۳) تخر یـج:… حدیث صحیح بطرقہ۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۴ وانظر الحدیث السابق: ۲۴۸ (انظر: ۱۵۳۷۸)
1273
Sahih
۔ (۱۲۷۴) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَّمَہُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَۃَ کَلِمَۃً وَالِْأقَامَۃَ سَبْعَ عَشْرَۃَ کَلِمَۃً الأَذاَنُ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَالإِ قَامَۃُ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قاَمَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۶)
سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اذان کے انیس کلمات اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے، اذان کے کلمات یہ ہیں: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أشْھَدُأَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ۔اور اقامت کے الفاظ یہ ہیں:اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ۔
Takhreej
(۱۲۷۴) تخر یـج:… صحیح بطرقہ۔أخرجہ ابو داود: ۵۰۲، والترمذی: ۱۹۲، وابن ماجہ: ۷۰۹ وأخرجہ مسلم: ۳۷۹، الطیالسی: ۱۳۵۴، والنسائی: ۲/۴ دون ذکر الاقامۃ۔ (انظر: ۱۵۳۸۱)
1274
Sahih
۔ (۱۲۷۵) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ سُنَّۃَ الْأَذَانِ فَمَسَحَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِیْ وَقَالَ: ((قُلْ: اَللّٰہُ أکْبَرُ، اللّٰہُ أکْبَرْ تَرْفَعُ بِہَا صَوْتَکَ، ثُمَّ تَـقُوْلُ أَشْہَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أشْہَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، مَرَّتَیْنِ تَخْفِضُ بِہَا صَوْتَکَ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَکَ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، مَرَّتَیْنِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، مَرَّتَیْنِِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، مَرَّتَیْنِ، فَإِنْ کَانَ صَلَاۃُ الصُّبْحِ قَلْتَ: اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَللّٰہُ أَکْبَر اَللّٰہُ أَکْبَر لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، (زَادَفِی رِوَایَۃٍ) قَالَ وَالْإِ قَامَۃُ مَثْنٰی مَثْنٰی لَا یُرَجِّعُ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۳)
سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اذان کا طریقہ سکھائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سر کے اگلے حصہ پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: بلند آواز سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ، پھر أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ دو دو مرتبہ آہستہ آواز کے ساتھ کہہ، پھر اپنی آواز بلند کر کے دو دفعہ أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ اور دو دفعہ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، پھر دو دو مرتبہ ہی کہہ: حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ۔ اگر صبح کی نماز ہو تو اَلصَّلَاۃُخَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ کہہ۔ ایک روایت میں مزید فرمایا: اقامت بغیر ترجیع کے دو دو کلمے کہے گا۔
Takhreej
(۱۲۷۵) تخر یـج:… حدیث صحیح بطرقہ۔ أخرجہ ابوداود: ۵۰۰، ۵۰۴، والترمذی: ۱۹۱، وابن خزیمۃ: ۱۹۱، وابن حبان: ۱۶۸۲ وانظر: ۲۴۸ (انظر: ۱۵۳۷۹)
1275
Sahih
۔ (۱۲۷۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّ ثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ یَعْنِیْ اَلْمُؤََذِّنَ یُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِیْ الْمُثَنّٰییُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ إِنَّمَا کَانَ الْأَذَانُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّتَیْنِ، وَقَالَ حَجَّاجٌ یَعْنِیْ مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ، وَالإْ قَامَۃُ مَرَّۃً غَیْرَ أَنَّہٗیَقُوْلُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، وَکُنَّا إِذَا سَمِعْنَا الإِْقَامَۃَ تَوَضَّاْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلیَ الصَّلَاۃِ، قَالَ شُعْبَۃُ لَا أَحْفَظُ غَیْرَ ھَذَا۔(مسند احمد: ۵۵۶۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں اذان (کے کلمات) دو دو مرتبہ او راقامت کے ایک ایک مرتبہ تھے، البتہ مؤذن اقامت میں قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ (دو دفعہ) کہتا تھا، اور ہم جس وقت اقامت سنتے تو وضو کر کے نماز کے لیے نکلتے تھے۔امام شعبہ کہتے ہیں: مجھے تو صرف یہی کچھ یاد ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۶) تخر یـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۵۱۰، ۵۱۱، والنسائی: ۲/۳، وابن خزیمۃ: ۳۷۴، وابن حبان: ۱۶۷۷ (انظر: ۵۵۶۹)
1276
Sahih
۔ (۱۲۷۷) عَنَ اَنَسِ بِنْ مَالِکِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ یَّشْفَعَ الْأَذَانَ وَیُوْتِرَ الإْ قَامَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۲۴)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا او راقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم کیا گیا تھا۔ (دوسری سند)سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا اور اقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم دیا گیاتھا، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ کے علاوہ۔
Takhreej
(۱۲۷۷) تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۶۰۵، ۶۰۷، ومسلم: ۳۷۸ (انظر:۱۲۰۲۴، ۱۲۹۷۱)
Explanation
فوائد:… درج بالا روایات پر غور کریں، اذان و اقامت کی دو دو صورتیں بیان کی گئی ہیں: (۱) ترجیع والی اذان اور اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات: ترجیع والی اذان کہنا بھی سنت ہے، جس میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ چار چار دفعہ کہا جاتا ہے۔ (مسلم) جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ترجیع والی اذان سکھائی تو اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات کی تعلیم دی۔ (ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
1277
Sahih
۔ (۱۲۷۸)(وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أبِیْ ثَنَا إِسْمَاعِیلُ أنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ قَالَ أَنَسٌ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ یَّشْفَعَ الْأَذَانَ وَیُوِتِرَ الإِْ قَامَۃَ۔ فَحَدَّثْتُ بِہِ أَیُّوْبَ فَقَالَ: إِلاَّ الإِْقَامَۃَ۔
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا او راقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم کیا گیا تھا۔ (دوسری سند)سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا اور اقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم دیا گیاتھا، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ کے علاوہ۔
Takhreej
(۱۲۷۸) تخر یـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… درج بالا روایات پر غور کریں، اذان و اقامت کی دو دو صورتیں بیان کی گئی ہیں: (۱) ترجیع والی اذان اور اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات: ترجیع والی اذان کہنا بھی سنت ہے، جس میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ چار چار دفعہ کہا جاتا ہے۔ (مسلم) جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ترجیع والی اذان سکھائی تو اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات کی تعلیم دی۔ (ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) مذکورہ بالا روایات میں سے ایک روایت میں ہے: سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ سُنَّۃَ الْاَذَانِ۔ یعنی: اے اللہ کے رسول! مجھے مسنون اذان کی تعلیم دو۔ جواباً آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ترجیع والی اذان کی تعلیم دی۔ (ابو داود) اور ایک روایت میں ہے: سیّدنا ابو محذرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اذان کے انیس اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے۔ (ابوداود، ابن ماجہ، نسائی) اور کلمات کییہ تعداد ترجیع والی اذان میںہوتی ہے۔ یاد رہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ کی درخواست پر ان کو مکہ مکرمہ کا مؤذن مقرر کیا تھا اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد بھی۵۹ ھ تک حرم مکی میں مؤذن مقرر رہے اور یہی اذان دیتے رہے، (ملاحظہ ہو: اسد الغابۃ: ۶/ ۲۷۳) ان کے بعد ان کی اولاد بھی اسی منصب پر فائز رہی اور یہی اذان کہتی رہی۔ یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اذان کا واقعہ غزوۂ حنین کے بعد ۸ ھ میں اور سیّدنا عبد اللہ بن زید کی خواب کا واقعہ پہلی سن ہجری میں پیش آیا، اس لیے ترجیع والی اذان کے حکم کو باقی سمجھا جائے اور اسے منسوخ نہ قرار دیا جائے۔ امام شافعی، امام احمد، امام مالک اور جمہور کے نزدیکیہ اذان مستحب ہے۔ احناف ترجیع والی اذان کے قائل نہیں ہیں، ان کا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ کو تعلیم دینے کی خاطر شہادتین کا دوبارہ تذکرہ کیا تھا، نہ کہ اذان کے کلمات کی حیثیت سے اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خواب والی اذان میں شہادتین کییہ زیادتی نہیں ہے۔ لیکن درج بالا دلائل و حقائق سے احناف کے اس خیال کا ردّ ہو رہا ہے۔ احناف کو اپنے قوانین کا لحاظ کرتے ہوئے یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے تھی کہ راویٔ حدیث نے خود بھی ترجیع والی اذان کو سنت سمجھا اور تقریباً پچاس سال تک یہی اذان دیتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تمام سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ احناف کا ایک قانون یہ ہے: العبرۃ بما رأی لا بما روی (راوی کے اپنے خیال اور فتوے پر اعتبار کیا جائے گا، نہ کہ اس کی روایت پر)۔ اور اس مسئلہ میں تو روایت اور رائے دونوں کا ایک مفہوم ہے۔ (۲) دوہری اذان او راکیری اقامت: بعض دلائل اوپر گزر چکے ہیں، ایک حدیث میں واضح طور پر سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اکیری اقامت کہنے کا حکم دیا گیا ہے، مزید دلیلیںیہ ہیں: سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِشْفَعِ الْأَذَانَ، وَأَوْتِرِ الإِقَامَۃَ۔)) یعنی: اذان دوہری اور اقامت اکیری کہا کر۔ (الدارقطني في الأفراد رقم ۵۰ ج ۲، الصحیحۃ: ۱۲۷۶) سیّدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کسی آدمی نے خواب میں دوہری اذان اور اکیری اقامت کی تعلیم دی، جب انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خواب بیان کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنَّھَا لَرُؤْیَا حَقٌّ اِنْ شَائَ اللّٰہُ۔)) یعنی: بے شک ان شاء اللہ یہ خواب حق ہے۔ یہی خواب سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی بھی تصدیق کی۔ ( ابوداود: ۴۹۹، ابن ماجہ: ۷۰۶) سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں اذان کے دو دو کلمات اور اقامت کا ایک ایک کلمہ ہوتا تھا، لیکن قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ دو دفعہ کہے جاتے تھے۔ (ابوداود، نسائی) اقامت میں قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ والے الفاظ دو دفعہ کہے جائیں گے، جیسا کہ مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ خطابی نے کہا: حرمین، حجاز، شام، یمن، مصر، مغرب اور دیگر بعید اسلامی ممالک میں اقامت کے الفاظ ایک ایک مرتبہ کہنے پر عمل ہے۔ سیّدنا عمر، سیّدنا عبد اللہ بن عمر، سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اور امام حسن بصری، امام زہری، عمر بن عبد العزیز، امام احمد وغیرہ کا بھییہی مذہب ہے۔ معلوم نہیں کہ ان حقائق کے باوجود لوگ اکیری اقامت کہنے سے کیوں کتراتے ہیں؟ تنبیہ:… اشھد انّ امیرا لمؤمنین علی ولی اللّٰہ کے الفاظ شیعہ لوگوں کی طرف سے اذان میں زیادہ کیے گئے ہیں،یہ الفاظ کسی صحیح، بلکہ ضعیف حدیث سے بھی ثابت نہیں ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ فقہ جعفریہ میں بھی اذان میں ان کلمات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اسی طرح اذان کی ابتدا میں الصلوۃ والسلام… کے الفاظ سنت سے ثابت نہیں، عہد نبوی کے مؤذن سیّدنا بلال، سیّدنا ابن ام مکتوم اور سیّدنا ابومحذورہ وغیرہیہ الفاظ نہیں کہتے تھے۔ البتہ اذان کے بعد مسنون درود اور مخصوص دعائیں پڑھنا باعث ِ فضیلت ہے۔
1278
Sahih
۔ (۱۲۷۹) عَنْ عَوْنِ بِنْ أَبِیْ جُحَیْفَۃَ عَنْ أَبِیْہِ (أبِیْ جُحَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ رَأَیْتُ بِلَالًا یُؤََذِّنُ وَیَدُوْرُ وَأَتَتَبَّعُ فَاہُ ھَاھُنَا وَھَاھُنَا (زَادَفیِ رَوِایَۃٍیَعْنِییَمِینًا وَشِمَالاً وَاِصْبَعَاہُ فیِ أُذُنَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۶۶)
سیّدنا ابوجحیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان کہتے ہوئے دیکھا کہ وہ (حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کہتے وقت) گھوم رہے تھے اور میں ان کے منہ کو اِدھر اُدھرہوتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ ایک روایت میں مزید فرمایا: کہ دائیں بائیں گھوم رہے تھے او راپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھے ہوئے تھے۔
Takhreej
(۱۲۷۹) تخر یـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ البخاری:۶۳۳، ۶۳۴، ومسلم: ۵۰۳، ۲۵۱، وابوداود: ۵۲۰، والترمذی: ۱۹۷، وابن ماجہ: ۷۱۱ (انظر: ۱۸۷۵۹)
Explanation
فوائد:… سنن ابو داود کی روایت مین یہ الفاظ ہیں: لَوّٰی عُنُقَہٗیَمِیْنًا وَ شِمَالًا وَلَمْ یَسْتَدِرْ (اپنی گردن کو دائیں بائیں پھیرا اور خود پورے نہیں گھومے)۔ لیکن امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا کہ ولم یستدر کے الفاظ شاذ بلکہ منکر ہیں، کیونکہ اس کی سند میں قیس بن ربیع ضعیف ہے۔ احادیث ِ مبارکہ میں صرف چہرے اور گردن کے پھیرنے کا ذکر ہے۔ ہاں اگر مؤذن کی گردن گھومنے کے ساتھ جسم بھی گھوم جائے تو اس میں ان شاء اللہ شرعاً کوئی قباحت نہ ہو گی۔ واللہ اعلم۔
1279
Sahih
۔ (۱۲۸۰)عَنِ ابْنِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ عَنْ أَبِیْہِ أَوْعَنْ جَدِّہِ قَالَ جَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْأَذَانَ لَنَا وَلِمَوالِیْنَا، وَالسِّقَایَۃَ لِبَنِیِْ ھَاشِمٍ، وَالْحِجَامَۃَ لِبَنِیِْ عَبْدِالدَّارِ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۹۵)
ابن ابی محذورہ اپنے باپ یا دادا سے بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے اور ہمارے موالیوں کے لیے اذان، اور بنوہاشم کے لیے حاجیوں کو پانی پلانا، اور بنو عبد الدار کے لیے سنگی لگانا خاص فرمایا۔
Takhreej
(۱۲۸۰) تخر یـج: …اسنادہ ضعیف لضعف ھذیل بن بلال وھو ابو البھلول الفزاری المدائنی۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۶۷۳۷ وفی الاوسط : ۷۶۱، والحاکم: ۳/۵۱۴ (انظر: ۲۷۲۵۳)
Explanation
فوائد:… اذان کو سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خاندان کے ساتھ مخصوص کرنے کییہ وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ لوگ خصوصیت کے ساتھ اس کا علم رکھتے تھے اور وہ خوبصورت اور بلند آواز والے تھے۔
1280
Zaeef

Chapters

11
01
اذان کا حکم اور اس حکم کی تاکید کا بیان
3 Hadith
02
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
03
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
7 Hadith
04
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
6 Hadith
05
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
10 Hadith
06
اذان پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
07
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
16 Hadith
08
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
5 Hadith
09
جمعہ کے لیے، اور بارش والے دن اذان کہنے کا بیان
3 Hadith
10
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
6 Hadith
11
مؤذن کا جواب نہ دینے اور اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی وعید
4 Hadith
No chapter matched that.