TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اذان اور اقامت کے ابواب - اذان اور اقامت کے ابواب - Book 22 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 22 of Musnad Ahmad, with 11 chapters and 75 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

75 Hadith · 11 Chapters
اذان کا حکم اور اس حکم کی تاکید کا بیان
۔ (۱۲۴۲/۱) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیِّ قَا لَ: کاَنَ رَجُلٌ بِالشَّامِ یُقَالُ لَہُ مَعْدَانُ، کَانَ أَبُوْ الدَّرْدَائِ یُقْرِئُہُ الْقُرْآنَ فَفَقَدَہُ أَبُوْ الدَّرْدَائِ فَلَقِیَہُ یَوْماً وَھُوَ بِدَاِبقٍ فَقَالَ لَہُ أَ بُوْ الدَّرْدَائِ: یَا مَعْدَانُ! مَافَعَلَ الْقُرْآنُ الَّذِیْ کَانَ مَعَکَ؟ کَیْفَ أَنتَ وَالْقُرْآنُ الْیَوْمَ؟ قاَلَ قَدْ عَلَّمَ اللّٰہُ مِنْہُ فَاَ حْسَنَ۔ قَالَ: یَامَعْدَانُ! أَفِیْ مَدِیْنَۃٍ تَسْکُنُ الْیَوْمَ أَوْفِیْ قَرْیَۃٍ؟ قَالَ: لَا، بَلْ فِیْ قَرْیَۃٍ قَرِیْبَۃٍ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ (وَفِیْ رِوَاَیۃٍ: فِیْ قَرْیَۃٍ قَرِیْبَۃٍ دُوْنَ حِمْصَ) قاَل: مَہْلًا وَیْحَکَ یَامَعْدَانُ! فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَامِنْ خَمْسَۃٍ أَھْلِ أَبْیَاتٍ لَا یُؤْذَّنُ فِیْہِمْ بِالصَّلَاۃِ وَتُقَامُ فِیہِمُ الصَّلَاۃُ إلاَّ اسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطَانُ، وَإِنَّ الذِّئْبَ یَأْخُذُ الشَّاذَّۃَ۔)) فَعَلَیْکَ ِبالْمدَائِنِ وَیْحَکَ یَا مَعْدانُ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۶۳)
عبادہ بن نسی کہتے ہیں: شام میں ایک معدان نامی آدمی تھا، سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسے قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اُسے گم پایا۔ پھر ایک دن جب دابق مقام پر اسے ملے تو کہنے لگے: معدان! وہ قرآن جو تیرے پاس تھا، اس کا کیا بنا؟ آج کل تیرا اور قرآن کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے وہ سکھایا اور اچھا سکھایا۔سیّدنا ابو درداء نے پوچھا: معدان! آج کل شہر میں رہتے ہو یا کسی دیہات میں؟ معدان نے جواب دیا: نہیں، میں ایک دیہات میں سکونت پذیر ہوں، وہ شہر کے قریب ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ایسے دیہات میں ہوں جو حمص شہر کے قریب ہے۔ سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: چھوڑ، تجھ پر افسوس ہے معدان! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جہاں پانچ گھر واقع ہوں اور ان میں نہ اذان دی جاتی ہو نہ نماز قائم کی جاتی ہو، ان پر شیطان کا غلبہ ہو جاتا ہے اور (تجھے ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ) بھیڑیا علیحدہ رہنے والی بکری کو ہڑپ کر جاتا ہے۔ اس لیے تجھ پر شہروں میں رہنا لازم ہے۔اے معدان! تجھ پر افسوس ہے!
Takhreej
(۱۲۴۲/۱)تخریج:… حدیث حسن، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ حاتم بن ابی نصر۔ أخرجہ ابوداود: ۵۴۷، والنسائی: ۲/ ۱۰۶، وابن خزیمۃ: ۱۴۸۶، وابن حبان: ۲۱۰۱، والحاکم: ۱/ ۲۱۱، ۲۴۶ و ۲/ ۴۸۲ (انظر: ۲۱۷۱۰)
1242
Sahih
اذان کا حکم اور اس حکم کی تاکید کا بیان
۔ (۱۲۴۲/۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قاَلَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَامِنْ ثَـلَاثَۃٍ فِیْ قَرْیَۃٍ فَـلَا یُؤَذَّنُ وَلَا تُقَامُ فِیہِمُ الصَّلَاۃُ إلاَّ اسْتَحْوَذَ عَلیْہِمُ الشَّیطَانُ۔ عَلَیْکَ بِالْجَمَاعَۃِ فَإنَّمَا یَأْ کُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِیَۃَ۔)) قَالَ ابْنُ مَہْدِیٍّ: قَالَ السَّائِبُ: یَعْنِیْ الْجَمَاعَۃَ فِی الصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۶۴)
یہ روایت دوسری سند کے ساتھ اس طرح مروی ہے: وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جس بستی میں تین شخص رہتے ہوں اور ان میں نہ اذان دی جاتی ہو نہ نماز قائم کی جاتی ہو، ان پر شیطان کا غلبہ ہو جاتا ہے، اس لیے تجھ پر جماعت لازم ہے، کیونکہ بھیڑیا صرف دور رہنے والی بکری کو ہی کھاتا ہے۔ ابن مہدی نے کہا کہ سائب کا خیال ہے کہ تجھ پر جماعت لازم ہے سے نماز باجماعت مراد ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۲/۲) تخر یـج:… اسنادہ حسن، انظر الحدیث بالطریق السابق: ۲۲۴
Explanation
فوائد:… جو بکری جنگل میں ریوڑ اور مالک سے الگ ہو جاتی ہے، بھیڑیا اور دوسرے درندے اس کا کیا حشر کرتے ہیں، ہر ایک پر واضح ہے۔ اسی طرح جو بندہ نماز باجماعت سے دور رہتا ہے، وہ شیطان کے وسوسوں میں پھنس کر خیر و بھلائی کے کاموں سے دور ہوجاتا ہے، لیکن ہمارے ہاں مصیبتیہ ہے کہ روحانی طہارت کے فقدان کی وجہ سے وہ یہ سمجھ نہیں پاتا کہ اس کا کتنا نقصان ہو رہا ہے۔
1242
Sahih
اذان کا حکم اور اس حکم کی تاکید کا بیان
۔ (۱۲۴۳) عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ: أتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ مُتََقَارِبُوْنَ فَأَقَمْنَا مَعَہُ عِشِْرِیْنَ لَیْلَۃً۔ قَالَ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَحِیْمًا رَفِیقاً فَظَنَّ أنَّاَ قَدِ اشْتَقْنَا أَھْلَنَا فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا فِیْ أَھْلِنَا فَأَخْبَرْنَاہُ فَقَالَ: ((اِرْجِعُوْا إِلٰی أَھْلِیْکُمْ فأَقِیْمُوْا فِیہِمْ وَعَلِّمُوْھُمْ وَمُرُوْھُمْ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۸۳)
سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم تقریبا ایک عمر کے نوجوان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور بیس راتیں قیام کیا۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بڑے رحیم اور نرم دل تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محسوس کیا ہم اپنے گھر والوں کے مشتاق ہو گئے ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے ان (افراد)کے متعلق پوچھا جو ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے تھے؟ جب ہم نے ساری بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے گھر والوں میں واپس چلے جاؤ اور ان میں رہو، اور ان کو (دین)سکھاؤ،ان کو حکم دو کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان کہے، پھر تم میں بڑی عمر والا امامت کروائے۔
Takhreej
(۱۲۴۳)تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۶۰۰۸، ومسلم: ۶۷۴، ۲۹۲، وعند البخاری وغیرہ زیادۃ: ((وصلوا کما رایتمونی اصلی)) (انظر: ۱۵۵۹۸)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں نماز کے وقت اذان دینے کا حکم اور ترغیب دلائی جا رہی ہے، مزید درج ذیل روایات پر غور کریں: سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، وہ سفر پر جانا چاہتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ((اِذَا اَنْتُمَا خَرَجْتُمَا فَاَذِّناَ ثُمَّ اَقِیْمَا ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُکُمَا۔)) یعنی جب تم سفر کرو تو (نماز کے وقت) اذان دو اور اقامت کہو اور تم میں سے بڑا آدمی جماعت کروائے۔ (صحیح بخاری: ۶۳۰، صحیح مسلم: ۶۷۴) سیّدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((یَعْجَبُ رَبُّکَ مِنْ رَاعِیْ غَنَمٍ فِیْ رَاْسِ شَظِیَّۃٍ بِجَبَلٍ یُؤَذِّنُ لِلصَّلَاۃِ وَیُصَلِّیْ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: اُنْظُرُوْا اِلٰی عَبْدِیْ ھٰذَا یُؤَذِّنُ وَیُقِیْمُ لِلصَّلَاۃِ،یَخَافُ مِنِّیْ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ وَاَدْخَلْتُہُ الْجَنَّۃَ۔)) (ابوداود: ۱۲۰۳، نسائی: ۲۱/۲۰) یعنی: تمہارا رب بکریوں کے اس چرواہے پر تعجب کرتا ہے، جو پہاڑ کی چوٹی پر (بکریاں چرا رہا ہوتا ہے، جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو) وہ اذان دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ (اس کے اس عمل کو دیکھ کر) کہتے ہیں: میرے بندے کی طرف دیکھو، اذان دیتا ہے اور نماز کے لیے اقامت کہتا ہے( پھر نماز ادا کرتا ہے) یہ مجھ سے ڈرتا ہے۔ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔ امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ فرماتے ہیں: فقہ الحدیثیہ ہے کہ اکیلے آدمی کو بھی اذان کہنی چاہیے، امام نسائی نے اس حدیث پر یہی باب قائم کیا ہے۔ مسيء الصلاۃ والی حدیث کے بعض طرق کے مطابق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اذان اور اقامت کہنے کا بھی حکم دیا تھا۔ لہٰذا ان دونوں چیزوں میں تساہل نہیں برتنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۴۱) ان احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اذان و اقامت کا تعلق نماز سے ہے نہ کہ لوگوں کی تعداد یا مسجد سے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی احادیث مبارکہ میں ان دونوں کا حکم دیا اور سفر و حضر میں ان پر مداومت و مواظبت اختیار کی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر طلوع فجر کے بعد ادا کی تھی، اس میں بھی اذان و اقامت کا اہتمام کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ اذان اور اقامت واجب ہیں، جیسا کہ امام احمد ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ اور امام مالک ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مسلک ہے۔ مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ حسب ِ امکان لوگوں کو مسجد میں جاکر نماز باجماعت کا اہتمام کرنا چاہیے، اگر وہ سفر یا کسی شرعی عذر کی بنا پر مسجد میں نہ پہنچ سکیں تو جہاں نماز ادا کریں، وہاں اذان، اقامت اور جماعت کا اہتمام کریں۔ ہم جہالت یا غفلتیا لاپرواہییا جھجک کی بنا پر ان امور سے غفلت برت رہے ہیں۔
1243
Sahih
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَافِی النِّدَائِ والصَّفِّ الْاَوَّلِ لَاسْتَہَمُوْا عَلَیْہِمَا، وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَافِی التَّہْجِیْرِ لَاسْتَبَقُوْا إِلَیْہِ، وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَافِی الْعَتَمَۃِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْھُمَا وَلَوْحَبْوًا۔)) فَقُلْتُ لِمَالِکٍ: أمَا یَکْرَہُ أَنْ یَقُولَ الْعتَمَۃَ؟ قَالَ: ھٰکَذَا قَالَ الَّذِیْ حَدَّثنَیْ۔ (مسند احمد: ۷۷۲۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ اذان کہنے اور پہلی صف کے اندر شامل ہونے میں کیا فضیلت ہے تو وہ ان پر قرعہ ڈالیں اور اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ نماز کی طرف جلدی پہنچنے میں کیا اجر وثواب ہے تو وہ اس کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اگر وہ جان لیں کہ نماز عشاء اور نماز فجر میں کیا اجر ہے تو یہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شامل ہوں اگرچہ ان کو گھٹنوں کے آنا پڑے۔ عبد الرزاق کہتے ہیں: میں نے مالک سے پوچھا کہ کیا عشاء کی نماز کو عَتَمَۃ کہنا مکروہ نہیںہے؟ انھوں نے کہا: جس نے مجھے حدیث بیان کی اس نے ایسے ہی کہا تھا۔
Takhreej
(۱۲۴۴) تخر یـج:…أخرجہ البخاری: ۶۱۵، ۶۵۳، ۶۵۴، ۷۲۰، ۲۶۸۹، ومسلم: ۴۳۷ (انظر: ۷۲۲۶)
Explanation
فوائد:… نماز ِ عشاء کو عَتَمَۃ کہنا جائز ہے، تفصیلی بحث آگے گی۔ سیّدناابو سعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو علم ہو جائے کہ اذان کہنے میں کیا
1244
Sahih
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۵) عَنْ أَبِیْ سَعْیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَافِی التَّأْذِیْنِ لَتَضَارَبُوْا عَلَیْہِ بِالسُّیُوْفِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۶۱)
سیّدناابو سعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو علم ہو جائے کہ اذان کہنے میں کیا(اجروثواب)ہے تو وہ اس (ثواب کے حصول کے لیے) تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے سے لڑ پڑیں۔ سیّدناعقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا ربّ عزوجل پہاڑ کی چوٹی پر اذان کہہ کر نماز ادا کرنے والے بکریوں کے چرواہے پر تعجب کرتا (یعنی خوش ہوتا) ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو کہ اذان کہتا ہے اور اقامت کہتا ہے، یہ کسی ذات سے ڈرتا ہے، یقینا میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔ اوردوسری سند کے ساتھ مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ کا رب تعجب کرتا ہے پھرسابقہ حدیث کا معنی بیان کیا، البتہ آخری الفاظ یوں بیان کیے: یہ مجھ سے ڈرتا ہے، سو میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۵) تخر یـج: …اسنادہ ضعیف،لضعف دراج، وھو ابن سمعان ابو السمح، فی روایتہ عن ابی الہیثم۔ و ابن لھیعۃ سیء الحفظ۔ أخرجہ عبد بن حمید فی المنتخب : ۹۳۴۔ (انظر: ۱۱۲۴۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں اس آدمی کا تذکرہ ہو رہا ہے، جو لوگوں سے دور ہے اور کسی مسجد میں پہنچنا اس کے لیے ناممکن ہے۔ وہ نیکی اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے جو خلوت میں کی جائے، جہاں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی دیکھنے والا نہ ہو، جہاں اطاعت و فرمانبرداری کی بنیاد صرف اور صرف خشیت ِ الٰہی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہماری خلوتوں اور جلوتوں میںیکسانیت پیدا ہو جائے۔ (آمین) لیکن ذہن نشین رہے کہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو مقدم سمجھا جائے، مثلا نمازِ باجماعت ادا کرنا، اس کا تعلق خلوت سے نہیںہے ۔ اب اگر کوئی آدمییہ کہنا شروع کر دے کہ وہ فرضی نماز بھی خلوت میں ادا کرے گا، تو اس کا یہ کہنا درست نہ ہو گا، کیونکہ شرعی فیصلہ جماعت کے حق میں ہے۔ ہاں اگر کسی کو نماز باجماعت کی وجہ سے ریاکاری اور نمود و نمائش کا خطرہ ہو تو وہ تعوذ پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے خلوص کی توفیق طلب کرے، نہ یہ کہ وہ جماعت ہی ترک کر دے۔ امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ فرماتے ہیں: فقہ الحدیثیہ ہے کہ اکیلے آدمی کو بھی اذان کہنی چاہیے، امام نسائی نے اس حدیث پر یہی باب قائم کیا ہے۔ مسيء الصلاۃ والی حدیث کے بعض طرق کے مطابق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اذان اور اقامت کہنے کا بھی حکم دیا تھا۔ لہٰذا ان دونوں چیزوں میں تساہل نہیں برتنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۴۱)
1245
Zaeef
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۶) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَعْجَبُ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ مِنْ رَاعِیِْ غَنَمٍ فِیْ رَأْسِ الشِّظِیَّۃِ لِلْجَبَلِ یُؤََذِّنُ بِالصَّلَاۃِ وَیُصَلِّیْ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اُنْظُرُوْا اِلٰی عَبْدِیْ ھٰذَا، یُؤََذِّنُ وَیُقِیْمُیَخَافُ شَیْئًا، قَدْ غَفَرْتُ لَہُ وَأَدْخَلْتُہٗالْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۷۹)
سیّدناعقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا ربّ عزوجل پہاڑ کی چوٹی پر اذان کہہ کر نماز ادا کرنے والے بکریوں کے چرواہے پر تعجب کرتا (یعنی خوش ہوتا) ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو کہ اذان کہتا ہے اور اقامت کہتا ہے، یہ کسی ذات سے ڈرتا ہے، یقینا میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔ اوردوسری سند کے ساتھ مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ کا رب تعجب کرتا ہے پھرسابقہ حدیث کا معنی بیان کیا، البتہ آخری الفاظ یوں بیان کیے: یہ مجھ سے ڈرتا ہے، سو میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۶) تخر یـج:… حدیث صحیح۔أخرجہ ابوداود: ۱۲۰۳، والنسائی: ۲/۲۰، وابن حبان: ۱۶۶۰، والبیھقی: ۱/ ۴۰۵ (انظر: ۱۷۴۴۳)
1246
Sahih
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۷) (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِسَنَدٍ صَحِیحٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَعْجَبُ رَبُّکَ…)) فَذَکَرَ مَعْنَاہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ: ((یَخَافُ مِنِّیْ قَدْغَفَرْتُ لَہُ فأَدْخَلْتُہٗالْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۸۰)
اوردوسری سند کے ساتھ مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ کا رب تعجب کرتا ہے پھرسابقہ حدیث کا معنی بیان کیا، البتہ آخری الفاظ یوں بیان کیے: یہ مجھ سے ڈرتا ہے، سو میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۷) تخر یـج: …حدیث صحیح، انظر الحدیث بالطریق الاول: ۲۲۸
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں اس آدمی کا تذکرہ ہو رہا ہے، جو لوگوں سے دور ہے اور کسی مسجد میں پہنچنا اس کے لیے ناممکن ہے۔ وہ نیکی اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے جو خلوت میں کی جائے، جہاں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی دیکھنے والا نہ ہو، جہاں اطاعت و فرمانبرداری کی بنیاد صرف اور صرف خشیت ِ الٰہی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہماری خلوتوں اور جلوتوں میںیکسانیت پیدا ہو جائے۔ (آمین) لیکن ذہن نشین رہے کہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو مقدم سمجھا جائے، مثلا نمازِ باجماعت ادا کرنا، اس کا تعلق خلوت سے نہیںہے ۔ اب اگر کوئی آدمییہ کہنا شروع کر دے کہ وہ فرضی نماز بھی خلوت میں ادا کرے گا، تو اس کا یہ کہنا درست نہ ہو گا، کیونکہ شرعی فیصلہ جماعت کے حق میں ہے۔ ہاں اگر کسی کو نماز باجماعت کی وجہ سے ریاکاری اور نمود و نمائش کا خطرہ ہو تو وہ تعوذ پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے خلوص کی توفیق طلب کرے، نہ یہ کہ وہ جماعت ہی ترک کر دے۔ امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ فرماتے ہیں: فقہ الحدیثیہ ہے کہ اکیلے آدمی کو بھی اذان کہنی چاہیے، امام نسائی نے اس حدیث پر یہی باب قائم کیا ہے۔ مسيء الصلاۃ والی حدیث کے بعض طرق کے مطابق نبی
1247
Sahih
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۸) عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسْولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَعْضِ أَسْفَارِہٖسَمِعْنَامُنَادِیًایُنَادِی: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَی الْفِطْرۃَ۔)) فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَرَجَ ِمنَ النَّارِ۔)) فَابْتَدَرْناَہُ فَإِذَا ھُوَ صَاحِبُ مَاشِیَۃٍ أدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ، فَنَادٰی ِبہاَ۔ (مسند احمد: ۳۸۶۱)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم نے ایک اذان کہنے والے کو سنا، وہ اللہ اکبر، اللہ اکبر کہہ رہا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ الفاظ سن کر فرمایا: یہ شخص فطرتِ اسلام پر ہے۔ پھر جب اس نے اشہد أن لا الہ إلا اللہ کہا تو اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ (جہنم کی) آگ سے نکل گیا ہے۔ پھر ہم جلدی جلدی اس کی طرف گئے، وہ جانوروں کا ایک چرواہا تھا،جسے نماز نے پالیا تھا، اس لیے اس نے اذان کہی تھی۔
Takhreej
(۱۲۴۸) تخر یـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، ولہ شواھد۔ أخرجہ أبو یعلی: ۵۴۰۰، والبیھقی: ۱/ ۴۰۵، والنسائی فی الکبری : ۱۰۶۶۵ (انظر: ۳۸۶۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اذان سنتے وقت بیچ میں کوئی اور بات بھی کی جا سکتی ہے، بہرحال مؤذن کے کلمات کا صدقِ دل سے جواب دینا متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
1248
Sahih
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۹) وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَحْوُہُ، وَفِیْہِ فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لاَّ اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ فَقَالَ (یَعْنِی الَّنِبَّيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((شَہِدَ بِشَہَادَۃِ الْحَقِّ۔)) قَالَ: أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ، قَالَ: ((خَرَجَ مِنَ النَّارِ، اُنْظُرُوْا فَسَتَجِدُونَہُ إِمَّا رَاعِیًا مُعْزِبًا وَإِمَّا مُکَلِّبًا۔)) وَفِی رِوَایَۃٍ: ((تَجِدُوْنَہٗرَاعِیْ غَنَمٍ أَوْ عَازِبًا عَنْ أَھْلِہِ۔)) فَنَظَرُوْا فَوَ جَدُوْہُ رَاعِیًا حَضَرَتْہُ الصَّلَاۃُ فَنَادٰی ِبِہَا۔ (مسند احمد: ۲۲۴۸۵)
سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سابقہ حدیث جیسی روایت مروی ہے، البتہ اِس میں یہ الفاظ ہیں: جب اس اذان کہنے والے نے اشہد أن لا إلہ إلا اللّٰہ کہا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے حق کی گواہی دی ہے۔ جب اس نے أشہد أن محمدًا رسول اللّٰہ کہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ سے نکل گیا ہے، دیکھو تم اسے یا تو گھاس کی تلاش میں دور نکلنے والا چراواہا یا کتوں سے شکار کرنے والا شکاری پاؤ گے۔ اور ایک روایت میں ہے تم اسے بکریوں کا چرواہا یا اپنے گھر والوں سے دور نکلنے والا پاؤ گے۔ پھر جب انہوں نے دیکھا تو وہ چرواہا نکلا، چونکہ نماز کا وقت ہوگیا تھا، اس لیے اس نے اذان کہی تھی۔
Takhreej
(۱۲۴۹) تخر یـج:… صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی فی الصغیر : ۷۶۸، والخطیب البغدادی فی تاریخہ : ۸/ ۲۲۰ (انظر: ۲۲۱۳۴)
1249
Sahih
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۵۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَغْفِرُ اللّٰہُ لِلْمُؤَذِّنِ مَدَّ صَوْتِہِ وَیَشْہَدُ لَہُ کُلُّ رَطْبٍ َویَابِسٍ سَمِعَ صَوْتَہُ۔)) (مسند احمد: ۶۲۰۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مؤذن کو اس کی آواز کے پھیلاؤ کے برابر بخشتا ہے اور اس کے لیے اس کی آواز سننے والی ہر تر اور خشک چیز گواہی دیتی ہے۔
Takhreej
(۱۲۵۰) تخر یـج:… حدیث صحیح، وھذا سند قوی۔ أخرجہ البزار: ۳۵۵، والطبرانی فی الکبیر : ۱۳۴۶۹، وأخرجہ البیھقی: ۱/ ۴۳۱ موقوفا۔ (انظر: ۶۲۰۱)
1250
Sahih
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۵۱) (وَفِیْ لَفْظٍ) یَغْفِرُ اللّٰہُ لِلْمُؤَذِّنَ مُنْتَھٰی أَذَاِنہِ وَیَسْتَغْفِرُ لَہٗکُلُّرَطْبِوَیَابِسٍ سَمِعَ صَوْتَہُ۔)) (مسند احمد: ۶۲۰۲)
اور ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: اللہ تعالیٰ مؤذن کو اس کی اذان کی آواز کی انتہا تک بخش دیتا ہے اور اس کی آواز کو سننے والی ہر چیز اس کے لیے بخشش طلب کرتی ہے۔
Takhreej
(۱۲۵۱) تخر یـج: …حدیث صحیح، انظر الحدیث بالطریق السابق
1251
Sahih
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۵۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قاَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُؤَذِّنُ یُغْفَرُ لَہُ مَدَّ صَوْتِہِ وَیَشْہَدُ لَہُ کُلُّ رَطْبٍ وَیَابِسٍ وَشَاھِدُ الصَّلَاِۃیُکْتَبُ لَہُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَۃً وَیُکَفَّرُ عَنْہُ مَا بَیْنَہُمَا۔)) (مسند احمد: ۹۳۱۷)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤذن کو اس کی آواز کے پھیلاؤ کے برابر بخش دیا جاتا ہے اور اس کے لیے ہر خشک اور ترچیز گواہی دیتی ہے اور باجماعت نماز ادا کرنے والے کے لیے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے دو نمازوں کے درمیان والے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۵۲) تخر یـج: …حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ۔ أخرجہ الطیالسی: ۲۵۴۲، وابن ماجہ: ۷۲۴، وابوداود: ۵۱۵، والنسائی: ۲/ ۱۲، وابن حبان: ۱۶۶۶، والبیھقی: ۱/ ۳۹۷ (انظر: ۹۵۴۲)
Explanation
فوائد:… یہ مؤذن کا شرف ہے کہ وہ اس قدر وسیع مغفرت کا مستحق بنتا ہے، اور اس کا یہ مفہوم بیان کرنا بھی درست ہے کہ یہ ایک تشبیہ و تمثیل ہے، یعنی اگر بالفرض اس کے گناہ اتنی جگہ میں بھی پھیلے ہوئے ہوں تو وہ بھی بخش دیئے جائیں گے۔ جمادات، حیوانات، نباتات غرضیکہ کائنات کی ہر چیز میں علم، ادرک اور شعور پایا جاتا ہے، یہ ضروری نہیں کہ انسان کو ان کی کیفیت کا علم ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہ} (سورۂ اسرائ: ۴۴) یعنی: ہر چیز اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ مزید فرمایا: {وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ} (سورۂ بقرہ: ۷۴) یعنی: اور بعض پتھر اللہ کی خشیت سے گر پڑھتے تھے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں، جو مجھ پر سلام کہتا تھا۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ جہنم کی آگ نے کہا: میرا بعض میرے بعض کو کھا رہا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس حقیقت کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس لیے غیر انسانی مخلوق کا مؤذن کے حق میں شہادت دینا کوئی بعید بات نہیں ہے۔
1252
Sahih
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۵۳) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلإِْ مَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اَللّٰہُمَّ أَرْشِدِ اْلأَئِمَّۃَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۹۹۴۳)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اے اللہ ائمہ کی راہنمائی فرما اور مؤذنوں کو بخش دے۔
Takhreej
(۱۲۵۳) تخر یـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۵۱۷، والبیھقی: ۱/ ۴۳۰ (انظر: ۷۱۶۹)
Explanation
فوائد:… کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقتدیوں کی نماز کی مقبولیت امام کی نماز کی مقبولیت کے ساتھ معلق نہیں ہے، بہرحال لوگوں کی نمازوں کا امام کے ساتھ گہرا تعلق ہے، وہ وقت کی کتنی پاسداری کرتا ہے، بہترین نماز کے لیے نمازیوں کے حالات اور کیفیات کو مد نظر رکھ کر ان کا کس قدر خیال رکھتا ہے، اس کا طرزِ حیات کس حد تک پسندیدہ ہے کہ اس کے مقتدی اس کی اقتدا میں نماز پڑھ کر لطف محسوس کرتے ہوں۔ اسی طرح امام مسنون نماز پڑھانے اور دعاؤں میں مقتدیوں کو شامل رکھنے جیسے امور کی بھی پابندی کرے۔ اوقاتِ نماز اور سحر و افطار جیسے معاملات میں لوگوں کا کلی اعتماد مؤذن پر ہوتا ہے، اس لیے اسے بھی اس ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے، تاکہ لوگوں کی عبادات بروقت انجام پا سکیں۔ امامت اور اذان دینا اسلامی معاشرے کے باوقار مناصب ہیں، اس لیے انہیں کامل عزت و احترام دیا جائے اور بلاوجہ ان کی تحقیر نہ کی جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے امام اور مؤذن دونوں کی ذمہ داریوں اور ان میں ممکنہ کوتاہیوں کو سامنے رکھ کر ان کے لیے مختلف دعائیں کیں۔
1253
Sahih
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۵۴) عَنْ عاَئِشَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْإِ مَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤََذِّنُ مُؤْ تَمَنٌ، فَأَرْشَدَ اللّٰہُ الإِْ مَامَ وَعَفَا عَنِ الْمُؤََذِّنِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۶۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اللہ امام کی راہنمائی فرمائے اور مؤذن کو معاف کر دے۔
Takhreej
(۱۲۵۴) تخر یـج: …حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۱/ ۷۸، وابو یعلی: ۴۵۶۲، والبیھقی: ۱/ ۴۲۵، وابن خزیمۃ: ۱۵۳۲، وابن حبان: ۱۶۷۱ (انظر: ۲۴۳۶۳)
1254
Sahih
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۵۵) عَنْ أَنَسِ بِنْ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الْمُؤََذِّنُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۵۹)
انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں میں سب سے لمبی گردنوں والے مؤذن ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۵۵) تخر یـج:…صحیح لغیرہ۔ أخرجہ البزار: ۳۵۴، والطبرانی فی الاوسط : ۴۸۰۵ (انظر: ۱۲۷۲۹)
1255
Sahih
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۵۶) وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ بِنْ أَبِی سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ (مسند احمد: ۱۶۹۸۶)
معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۱۲۵۶) تخر یـج: …أخرجہ مسلم۳۸۷ (انظر: ۱۶۸۶۱)
Explanation
فوائد:… سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((اَلْمُؤَذِّنُوْنَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسلم) سب سے لمبی گردنوں والے مؤذن لوگ ہوں گے کا مفہوم کیا ہے؟ مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں، اگر اس کو حقیقی معنی پر ہی محمول کر لیا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا، کیونکہ آج بھی مناسب حد تک گردن کا لمبا ہونا حسنکی علامت ہے۔مزید کچھ مفاہیم درج ذیل ہیں: کثیر اجرو ثواب والے سب سے زیادہ اعمال والے یہ الفاظ ان کی سرداری سے کنایہ ہیں، کیونکہ عرب لوگ سیادت کو لمبی گردنوں سے تعبیر کرتے رہتے ہیں۔ان سے مرادیہ ہے کہ ان کو فرحت و مسرت نصیب ہو گی اور وہ ندامت و پشیمانی سے محفوظ رہیں گے۔ جب لوگوں کے منہوں تک پسینہ پہنچے گا تو مؤذنوں کی گردنیں لمبی ہو جائیں گی، تاکہ وہ اس کرب و اذیت سے محفوظ رہیں۔ واللہ اعلم۔
1256
Sahih
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۵۷) عَنِ الْبَرَائِ بِنْ عَاِزبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ وَالْمُؤََذِّنُ یُغْفَرُ لَہُ مَدَّ صَوْتِہِ وَیُصَدِّقُہُ مَنْ سَمِعَہُ مِنْ رَطْبٍ وَیَابِسٍ، وَلَہُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلّٰی مَعَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۰۰)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اگلی صف پر رحمت بھیجتے ہیں اور مؤذن کو اس کی آواز کے پھیلاؤ کے برابر بخش دیا جاتا ہے، اور اس کو سننے والی خشک اور ترچیز اس کی تصدیق کرتی ہے ، اور اسے اس کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کا اجرو ثواب بھی ملے گا۔
Takhreej
(۱۲۵۷) تخر یـج: …حدیث صحیح دون قولہ: ((ولہ مثل اجر من صلی معہ))۔ وھذا اسناد ضعیف۔ قتادہ بن دعامۃ مدلس، وقد عنعن، وفی سماعہ من ابی اسحاق السبیعی نظر۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۳ (انظر: ۱۸۵۰۶)
Explanation
فوائد:… اذان کے کئی فضائل کے باوجود اذان دینے کے سلسلے میں عجیب قسم کی بے رغبتی پائی جاتی ہے، شاید بعض لوگ ایسے بھی ہوں کہ نہ انھوں نے زندگی بھراذان دی ہو گی اور نہ ان میں اس کی تڑپ پیدا ہوئی ہو گی۔ (العیاذ باللہ تعالی) رہا مسئلہ پہلی صف کا، تو جس مسجد میں نمازیوں کی دو تین صفیں بن جاتی ہیں، وہاں اکثر طور پر ابتدائے نماز کے وقت پانچ چھ نمازی ہوتے ہیں اور کئی لوگ پہلے پہنچ جانے کے باوجود پچھلی صفوں میں بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں، بالخصوص جمعۂ مبارکہ کا خطبہ سنتے وقت۔ یہ سب امور دین میں بے رغبتی کی صورتیں ہیں۔ امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا:…اس بات پر بھی بڑا تعجب ہے کہ علمائے اسلام اور مبلغ حضرات نے بھی عملی طور پر اس عظیم عبادت اور شعارِ اسلام سے بے رخی اختیار کر رکھی ہے، بہت کم دیکھا گیا ہے کہ کوئی عالم کسی مسجد میں اذان دے رہا ہو، بلکہ بسااوقات وہ اذان دینے سے شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور انھیں تعجب ہوتا ہے کہ وہ یہ نیکی کریں، لیکن امامت کی باری آتی ہے تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں، بلکہ جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ بس اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا شکوہ دائر کرواتے ہیں کہ اس زمانے میں اتنی اجنبیت کیوں پائی جا رہی ہے۔ (صحیحہ: ۴۲)
1257
Sahih
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
۔ (۱۲۵۸) عَنِ ابنِْ أََبِیْ صَعْصَعَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ لِیْ أَبُوْ سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ، وَکَانَ فِی حِجْرِہِ فَقَالَ لِیْ: یَابُنَیَّ! إِذَا أَذَّنْتَ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَیْسَ شَیْئٌ یَسْمَعُہُ إِلَّا شَھِدَ لَہُ، جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: یَابُنَیَّ! إِذَا کُنْتَ فِیْ الْبَرَارِیْ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَسْمَعُہُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ وَلَاشَیْئٌیَسْمَعُہُ إِلاَّ شَہِدَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۴۵)
ابو صعصعہ،جو کہ سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پرورش میں تھے، کہتے ہیں: سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا:میرے پیارے بیٹے! جب تو اذان کہے تو بلند آواز سے اذان کہا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ہر چیز جو اس کو سنتی ہے وہ اس کے لیے گواہی دیتی ہے، وہ جن ہو یا انسان ہو یا پتھر ہو۔ اور ایک مرتبہ کہا: میرے بیٹے! جب تو خشکی (یعنی بے آباد علاقوں) میں ہو تو اذان کے لیے اپنی آواز کو اونچا کیا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : کوئی جن، کوئی انسان، کوئی پتھر اور کوئی چیز اس کو نہیں سنتی مگر وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔
Takhreej
(۱۲۵۸) تخر یـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۷۲۳، وابن خزیمۃ: ۳۸۹، وابو یعلی: ۹۸۲ (انظر: ۱۱۰۳۱)۔ وأخرجہ البخاری: ۶۰۹، ۳۲۹۶ بالفاظ آتیۃ۔ (انظر: ۱۱۳۰۵)
1258
Sahih
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
۔ (۱۲۵۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ أَبَا سَعِیْدٍ قَالَ لَہُ إِنِّیْ أَرَاکَ تُحِبُّ الَغَنْمَ وَالبَادِیَۃَ فَإِذَا کُنْتَ فِیْ غَنَمِکَ أَوْ بَادِیَتِکَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاۃِ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالنِّدَائِ فَإِنَّہُ لَایَسْمَعُ مَدٰی صَوْتِ الْمُؤََذِّنِ جِنٌّ وَلَا شَیْئٌ إِلاَّ شَہِدَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۲۵)
اور انہی ابو صعصعہ سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ سیّدنا ابو سعید نے کہا: جب تو اپنی بکریوںیا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان کہے تو اذان میں اپنی آواز کو بلند کیا کر، کیونکہ مؤذن کی آواز کی انتہا تک جو بھی جن، انسان اور کوئی چیز سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ میں نے یہ الفاظ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنے تھے۔
1259
Sahih
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
۔ (۱۲۶۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قاَلَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا نُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ أَدْبَرَ الشَّیْطَانُ وَلَہُ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَا یَسْمَعَ التَّأْذِیْنَ فَإِذَا قُضِیَ التَّأْذِینُ أَقْبَلَ حَتّٰی إِذَا ثُوِّبَ بِہَا أَدْبَرَ حَتّٰی إِذَا قُضِیَ التَّثْوِیْبُ أَقْبَلَ حَتّٰییَخْطُرَ بَیْنَ الْمَرْئِ وَنَفْسِہِ فَیَقُوْلُ لَہُ: اُذْکُرْ کَذَا اُذْکُرْ کَذَا، لِمَا لَمْ یَکُنْیَذْکُرُ مِنْ قَبْلُ حَتّٰییَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ یَدْرِیْ کَمْ یُصَلِّیْ۔)) (مسند احمد: ۹۹۳۳)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا اتنی دور بھاگ جاتا ہے کہ اذان نہیں سنتا ، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے، پھر جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو بھاگ جاتا ہے، جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے اور انسان اور اس کے نفس کے درمیان حائل ہو کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے ۔وہ (نمازی کو) کہتا ہے: تو فلاں کام یاد کر ، فلاں کام یاد کر، وہ کام جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتے(وہ یاد کراتا ہے)، نتیجتاً آدمی ایسی حالت میں ہو جاتا ہے کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۰) تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۶۰۸، ۱۲۲۲، ومسلم: ۳۸۹ (انظر: ۹۹۳۱)
1260
Sahih

Chapters

11
01
اذان کا حکم اور اس حکم کی تاکید کا بیان
3 Hadith
02
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
03
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
7 Hadith
04
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
6 Hadith
05
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
10 Hadith
06
اذان پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
07
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
16 Hadith
08
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
5 Hadith
09
جمعہ کے لیے، اور بارش والے دن اذان کہنے کا بیان
3 Hadith
10
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
6 Hadith
11
مؤذن کا جواب نہ دینے اور اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی وعید
4 Hadith
No chapter matched that.