TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عورۃ اور اس کی حد کا اورران کو پردہ قرار دینے والے کی دلیل کا بیان - عورۃ اور اس کی حد کا اورران کو پردہ قرار دینے والے کی دلیل کا بیان - شرمگاہ کو ڈھانپنے کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of شرمگاہ کو ڈھانپنے کے بارے میں ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 7 · 8 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۱۳۸۵) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُبْرِزْ فَخِذَکَ وَلَا تَنْظُرْ إِلَی فِخَذِ حَیِّ وَلَا مَیِّتٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۹)
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ران ننگی نہ کر اورنہ ہی کسی زندہ اور مردہ کی ران کی طرف دیکھ۔
Takhreej
(۱۳۸۵) تخریـج:… صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۴۰، ۴۰۱۵، وابن ماجہ: ۱۴۶۰ (انظر: ۱۲۴۹)
1385
Sahih
۔ (۱۳۸۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی رَجُلِ وَفَخِذُہُ خَارِجَۃٌ، فَقَالَ: ((غَطِّ فَخِذَکَ فَإِنَّ فَخِذَ الرَّجُلِ مِنْ عَوْرَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۳)
سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے ، اس کی ران (کپڑے سے) باہر نکلی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ران ڈھانپ لے، کیونکہ آدمی کی ران اس کے چھپائے جانے والے حصوں میں شامل ہے۔
Takhreej
(۱۳۸۶) تخریـج:… حسن بشواھدہ، وھذا اسناد ضعیف۔ أخرجہ الترمذی: ۲۷۹۶، والحاکم: ۴/ ۱۸۱ (انظر: ۲۴۹۳)۔
1386
Zaeef
۔ (۱۳۸۷) عَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مُرُوْا أَبْنَائَ کُمْ بِالصَّلَاۃِ لِسَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا لِعَشْرِ سِنِیْنَ، وَفَرِّقَوْا بَیْنَھُمْ فِی الْمَضَاجِعِ، وَإِذَا أَنْکَحَ أَحَدُکُمْ خَادِمَہُ عَبْدَہُ أَوْ أَجِیْرَہُ فَـلَا یَنْظُرَنَّ إِلیَ شَیْئٍ مِنْ عَوْرَتِہِ، فَإِنَّ مَا أَسْفَلَ مِنْ سُرَّتِہِ إِلَی رُکْبَتَیْہِ مِنْ عَوْ رَتِہِ۔ (مسند احمد: ۶۷۵۶)
سیّدناعمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اس کے دادا (سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تمہارے بیٹے سات سال کے ہو جائیں تو ان کو نماز کا حکم دینا شروع کر دیا کرو،جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو (نماز میں سستی کی وجہ سے) ان کی پٹائی کیا کرواور بستروں میں ا نہیں علیحدہ علیحدہ کردیا کرو اور جب کوئی آدمی اپنی لونڈی کا اپنے غلام یا اپنے مزدور کے ساتھ نکاح کر دے تو وہ اس کے (ستر) عورۃ (یعنی ستر) کی طرف نہ دیکھا کرے،(یاد رہے کہ) عورہ کی حد ناف سے گھٹنے تک ہے۔
Takhreej
(۱۳۸۷) تخریـج:… اسنادہ حسن۔ أخرجہ بطولہ ابوداود: ۴۹۶ (انظر: ۶۷۵۶)۔
1387
Sahih
۔ (۱۳۸۸) عَنْ زُرْعَۃَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ جَرْھَدٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی جَرْھَدًا فِی الْمَسْجِدِ وَعَلَیْہِ بُرْدَۃٌ قَدِ انْکَشَفَ فَخِذُہُ، فَقَالَ: ((الْفَخِذُ عَوْرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۲۳)
زرعہ بن مسلم، سیّدنا جرہد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا جرہد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مسجد میں دیکھا کہ ان پر ایک چادر تو تھی لیکن ان کی ران ننگی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ران چھپائی جانے والی چیز ہے۔
Takhreej
(۱۳۸۸) تخریـج:… حسن بشواھدہ، وھذا اسناد ضعیف لاضطرابہ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۷۹۵، والحمیدی: ۸۵۷، والطبرانی فی الکبیر : ۲۱۴۶، وابن ابی شیبۃ: ۹/ ۱۱۸ (انظر: ۱۵۹۲۷)
1388
Zaeef
۔ (۱۳۸۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِنْ جَرْھَدٍ الْأَسْلَمِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ جَرْھَدًا یَقُولُ: سَمِعَتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((فَخِذُ الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ عَوْرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۲۶)
ایک دوسری سند کے ساتھ عبد اللہ بن جرہد اسلمی سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سیّدنا جرہد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، انھوں نے کہا کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مسلمان آدمی کی ران عورہ (چھپایا جانے والا حصہ) ہے۔
Takhreej
(۱۳۸۹) تخریـج:… حسن بشواھدہ دون لفظ مسلم ، ولعلہ من اغالیط زھیر بن محمد التمیمی۔ أخرجہ الترمذی: ۲۷۹۷ (انظر: ۱۵۹۳۰)۔
1389
Sahih
۔ (۱۳۹۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِیْہِ قَالَ مَرَّ بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا کَاشِفٌ فَخِذِیْ فَقَالَ النَّبِیُِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غَطِّہَا فَإِنَّہَا مِنَ الْعَوْرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۲۵)
اور انہی سے ایک تیسری سند کے ساتھ مروی ہے: وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس سے گزرے، جبکہ ان کی ران سے کپڑا ہٹا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے ڈھانپ کر رکھ کیونکہیہ عورہ میں شامل ہے۔
Takhreej
(۱۳۹۰) تخریـج:… حسن بشواھدہ، وھذا اسناد مضطرب۔ أخرجہ الترمذی: ۲۷۹۸ (انظر: ۱۵۹۲۹)۔
1390
Sahih
۔ (۱۳۹۱) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ خَتَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّعَلٰی مَعْمَرٍ بِفِنَائِ الْمَسْجِدِ مُحْتَبِیًا کَاشِفًا عَنْ طَرَفِ فَخِذِہِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَمِّرْ فَخِذَکَ یَامَعْمَرُ! فَإِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۶۱)
سیّدنا محمد بن جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سالہ ہے، سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد کے صحن میں سیّدنا معمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے، وہ گوٹھ مار کر ایک طرف سے اپنی ران ننگی کر کے بیٹھے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا: اے معمر! اپنی ران ڈھانپ کے رکھو کیونکہ ران عورۃ میں شامل ہے۔
Takhreej
(۱۳۹۱) تخریـج:… حدیث حسن۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱/۴۷۴، والحاکم: ۳/ ۶۳۷،والبیھقی: ۲/ ۲۲۸، والطبرانی: ۱۹/ (۵۵۰) و (۵۵۲)، وعلقہ البخاری: ۱/ ۴۷۸(انظر: ۲۲۴۹۴)۔
1391
Sahih
۔ (۱۳۹۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ عَلَی مَعْمَرٍ وَفَخِذَاہُ مَکْشُوفَتَانِ فَقَالَ: ((یَامَعْمَرُ! غَطِّ فَخِذَیْکَ فَإِنَّ الْفَخِذَیْنِ عَوْرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۶۲)
اوران ہی سے ایک دوسری سند کے ساتھ مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، ہم معمر کے پاس سے گزرے اور ان کی رانیں ننگی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو فرمایا: معمر! اپنی رانیں ڈھانک لو کیونکہ رانیں بھی عورہ ہیں۔
Takhreej
(۱۳۹۲) تخریـج:… حدیث حسن۔ أخرجہ الحاکم: ۴/ ۱۸۰، والبخاری فی تاریخہ : ۱/ ۱۳، وانظر ما قبلہ (انظر: ۲۲۴۹۵)۔
Explanation
فوائد:… ان تمام احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کی ران بھی پردہ والی جگہ ہے، اس کو ڈھانپا جائے۔ اگلے باب میں مسئلہ کی تحقیق پیش کی جائے گی۔ قارئین سے التماس ہے کہ وہ تمام نصوص کا بغور جائزہ لیں۔
1392
Sahih