سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ران ننگی نہ کر اورنہ ہی کسی زندہ اور مردہ کی ران کی طرف دیکھ۔
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے ، اس کی ران (کپڑے سے) باہر نکلی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ران ڈھانپ لے، کیونکہ آدمی کی ران اس کے چھپائے جانے والے حصوں میں شامل ہے۔
سیّدناعمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اس کے دادا (سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص) رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے بیٹے سات سال کے ہو جائیں تو ان کو نماز کا حکم دینا شروع کر دیا کرو،جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو (نماز میں سستی کی وجہ سے) ان کی پٹائی کیا کرواور بستروں میں ا نہیں علیحدہ علیحدہ کردیا کرو اور جب کوئی آدمی اپنی لونڈی کا اپنے غلام یا اپنے مزدور کے ساتھ نکاح کر دے تو وہ اس کے (ستر) عورۃ (یعنی ستر) کی طرف نہ دیکھا کرے،(یاد رہے کہ) عورہ کی حد ناف سے گھٹنے تک ہے۔
زرعہ بن مسلم، سیّدنا جرہد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا جرہد رضی اللہ عنہ کو مسجد میں دیکھا کہ ان پر ایک چادر تو تھی لیکن ان کی ران ننگی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ران چھپائی جانے والی چیز ہے۔
ایک دوسری سند کے ساتھ عبد اللہ بن جرہد اسلمی سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سیّدنا جرہد رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے کہا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مسلمان آدمی کی ران عورہ (چھپایا جانے والا حصہ) ہے۔
اور انہی سے ایک تیسری سند کے ساتھ مروی ہے: وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، جبکہ ان کی ران سے کپڑا ہٹا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے ڈھانپ کر رکھ کیونکہیہ عورہ میں شامل ہے۔
سیّدنا محمد بن جحش رضی اللہ عنہ ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سالہ ہے، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے صحن میں سیّدنا معمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ گوٹھ مار کر ایک طرف سے اپنی ران ننگی کر کے بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: اے معمر! اپنی ران ڈھانپ کے رکھو کیونکہ ران عورۃ میں شامل ہے۔
اوران ہی سے ایک دوسری سند کے ساتھ مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم معمر کے پاس سے گزرے اور ان کی رانیں ننگی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: معمر! اپنی رانیں ڈھانک لو کیونکہ رانیں بھی عورہ ہیں۔