TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شرمگاہ کو ڈھانپنے کے بارے میں ابواب - شرمگاہ کو ڈھانپنے کے بارے میں ابواب - Book 24 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 24 of Musnad Ahmad, with 7 chapters and 34 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

34 Hadith · 7 Chapters
عورۃ اور اس کی حد کا اورران کو پردہ قرار دینے والے کی دلیل کا بیان
۔ (۱۳۸۵) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُبْرِزْ فَخِذَکَ وَلَا تَنْظُرْ إِلَی فِخَذِ حَیِّ وَلَا مَیِّتٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۹)
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ران ننگی نہ کر اورنہ ہی کسی زندہ اور مردہ کی ران کی طرف دیکھ۔
Takhreej
(۱۳۸۵) تخریـج:… صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۴۰، ۴۰۱۵، وابن ماجہ: ۱۴۶۰ (انظر: ۱۲۴۹)
1385
Sahih
عورۃ اور اس کی حد کا اورران کو پردہ قرار دینے والے کی دلیل کا بیان
۔ (۱۳۸۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی رَجُلِ وَفَخِذُہُ خَارِجَۃٌ، فَقَالَ: ((غَطِّ فَخِذَکَ فَإِنَّ فَخِذَ الرَّجُلِ مِنْ عَوْرَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۳)
سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے ، اس کی ران (کپڑے سے) باہر نکلی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ران ڈھانپ لے، کیونکہ آدمی کی ران اس کے چھپائے جانے والے حصوں میں شامل ہے۔
Takhreej
(۱۳۸۶) تخریـج:… حسن بشواھدہ، وھذا اسناد ضعیف۔ أخرجہ الترمذی: ۲۷۹۶، والحاکم: ۴/ ۱۸۱ (انظر: ۲۴۹۳)۔
1386
Zaeef
عورۃ اور اس کی حد کا اورران کو پردہ قرار دینے والے کی دلیل کا بیان
۔ (۱۳۸۷) عَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مُرُوْا أَبْنَائَ کُمْ بِالصَّلَاۃِ لِسَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا لِعَشْرِ سِنِیْنَ، وَفَرِّقَوْا بَیْنَھُمْ فِی الْمَضَاجِعِ، وَإِذَا أَنْکَحَ أَحَدُکُمْ خَادِمَہُ عَبْدَہُ أَوْ أَجِیْرَہُ فَـلَا یَنْظُرَنَّ إِلیَ شَیْئٍ مِنْ عَوْرَتِہِ، فَإِنَّ مَا أَسْفَلَ مِنْ سُرَّتِہِ إِلَی رُکْبَتَیْہِ مِنْ عَوْ رَتِہِ۔ (مسند احمد: ۶۷۵۶)
سیّدناعمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اس کے دادا (سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تمہارے بیٹے سات سال کے ہو جائیں تو ان کو نماز کا حکم دینا شروع کر دیا کرو،جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو (نماز میں سستی کی وجہ سے) ان کی پٹائی کیا کرواور بستروں میں ا نہیں علیحدہ علیحدہ کردیا کرو اور جب کوئی آدمی اپنی لونڈی کا اپنے غلام یا اپنے مزدور کے ساتھ نکاح کر دے تو وہ اس کے (ستر) عورۃ (یعنی ستر) کی طرف نہ دیکھا کرے،(یاد رہے کہ) عورہ کی حد ناف سے گھٹنے تک ہے۔
Takhreej
(۱۳۸۷) تخریـج:… اسنادہ حسن۔ أخرجہ بطولہ ابوداود: ۴۹۶ (انظر: ۶۷۵۶)۔
1387
Sahih
عورۃ اور اس کی حد کا اورران کو پردہ قرار دینے والے کی دلیل کا بیان
۔ (۱۳۸۸) عَنْ زُرْعَۃَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ جَرْھَدٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی جَرْھَدًا فِی الْمَسْجِدِ وَعَلَیْہِ بُرْدَۃٌ قَدِ انْکَشَفَ فَخِذُہُ، فَقَالَ: ((الْفَخِذُ عَوْرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۲۳)
زرعہ بن مسلم، سیّدنا جرہد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا جرہد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مسجد میں دیکھا کہ ان پر ایک چادر تو تھی لیکن ان کی ران ننگی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ران چھپائی جانے والی چیز ہے۔
Takhreej
(۱۳۸۸) تخریـج:… حسن بشواھدہ، وھذا اسناد ضعیف لاضطرابہ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۷۹۵، والحمیدی: ۸۵۷، والطبرانی فی الکبیر : ۲۱۴۶، وابن ابی شیبۃ: ۹/ ۱۱۸ (انظر: ۱۵۹۲۷)
1388
Zaeef
عورۃ اور اس کی حد کا اورران کو پردہ قرار دینے والے کی دلیل کا بیان
۔ (۱۳۸۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِنْ جَرْھَدٍ الْأَسْلَمِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ جَرْھَدًا یَقُولُ: سَمِعَتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((فَخِذُ الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ عَوْرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۲۶)
ایک دوسری سند کے ساتھ عبد اللہ بن جرہد اسلمی سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سیّدنا جرہد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، انھوں نے کہا کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مسلمان آدمی کی ران عورہ (چھپایا جانے والا حصہ) ہے۔
Takhreej
(۱۳۸۹) تخریـج:… حسن بشواھدہ دون لفظ مسلم ، ولعلہ من اغالیط زھیر بن محمد التمیمی۔ أخرجہ الترمذی: ۲۷۹۷ (انظر: ۱۵۹۳۰)۔
1389
Sahih
عورۃ اور اس کی حد کا اورران کو پردہ قرار دینے والے کی دلیل کا بیان
۔ (۱۳۹۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِیْہِ قَالَ مَرَّ بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا کَاشِفٌ فَخِذِیْ فَقَالَ النَّبِیُِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غَطِّہَا فَإِنَّہَا مِنَ الْعَوْرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۲۵)
اور انہی سے ایک تیسری سند کے ساتھ مروی ہے: وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس سے گزرے، جبکہ ان کی ران سے کپڑا ہٹا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے ڈھانپ کر رکھ کیونکہیہ عورہ میں شامل ہے۔
Takhreej
(۱۳۹۰) تخریـج:… حسن بشواھدہ، وھذا اسناد مضطرب۔ أخرجہ الترمذی: ۲۷۹۸ (انظر: ۱۵۹۲۹)۔
1390
Sahih
عورۃ اور اس کی حد کا اورران کو پردہ قرار دینے والے کی دلیل کا بیان
۔ (۱۳۹۱) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ خَتَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّعَلٰی مَعْمَرٍ بِفِنَائِ الْمَسْجِدِ مُحْتَبِیًا کَاشِفًا عَنْ طَرَفِ فَخِذِہِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَمِّرْ فَخِذَکَ یَامَعْمَرُ! فَإِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۶۱)
سیّدنا محمد بن جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سالہ ہے، سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد کے صحن میں سیّدنا معمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے، وہ گوٹھ مار کر ایک طرف سے اپنی ران ننگی کر کے بیٹھے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا: اے معمر! اپنی ران ڈھانپ کے رکھو کیونکہ ران عورۃ میں شامل ہے۔
Takhreej
(۱۳۹۱) تخریـج:… حدیث حسن۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱/۴۷۴، والحاکم: ۳/ ۶۳۷،والبیھقی: ۲/ ۲۲۸، والطبرانی: ۱۹/ (۵۵۰) و (۵۵۲)، وعلقہ البخاری: ۱/ ۴۷۸(انظر: ۲۲۴۹۴)۔
1391
Sahih
عورۃ اور اس کی حد کا اورران کو پردہ قرار دینے والے کی دلیل کا بیان
۔ (۱۳۹۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ عَلَی مَعْمَرٍ وَفَخِذَاہُ مَکْشُوفَتَانِ فَقَالَ: ((یَامَعْمَرُ! غَطِّ فَخِذَیْکَ فَإِنَّ الْفَخِذَیْنِ عَوْرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۶۲)
اوران ہی سے ایک دوسری سند کے ساتھ مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، ہم معمر کے پاس سے گزرے اور ان کی رانیں ننگی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو فرمایا: معمر! اپنی رانیں ڈھانک لو کیونکہ رانیں بھی عورہ ہیں۔
Takhreej
(۱۳۹۲) تخریـج:… حدیث حسن۔ أخرجہ الحاکم: ۴/ ۱۸۰، والبخاری فی تاریخہ : ۱/ ۱۳، وانظر ما قبلہ (انظر: ۲۲۴۹۵)۔
Explanation
فوائد:… ان تمام احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کی ران بھی پردہ والی جگہ ہے، اس کو ڈھانپا جائے۔ اگلے باب میں مسئلہ کی تحقیق پیش کی جائے گی۔ قارئین سے التماس ہے کہ وہ تمام نصوص کا بغور جائزہ لیں۔
1392
Sahih
جو ران اور ناف کو چھپائے جانے والے حصوں میں شامل نہیں سمجھتا، اس کی دلیل
۔ (۱۳۹۳) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَزَا خَیْبَرَ فَصَلَّیْنَا عِنْدَھَا صَلَاۃَ الْغَدَاۃِ بغَلَسٍ فَرَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَکِبَ أَبُوْ طَلْحَۃَ وَأَنَا رَدِیْفُ أَبِیْ طَلْحَۃَ فَأَجْرَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ زُقَاقِ خَیْبَرَ وَإِنَّ رُکْبَتِیْ لَتَمَسُّ فَخِذَیْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَانْحَسَرَ الإِْزَارُ عَنْ فَخِذَیْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِنِّیْ لَأَرَی بَیَاضَ فَخِذَیْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ ((الحدیث)) (مسند احمد: ۱۲۰۱۵)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر کی جنگ لڑی، ہم نے خیبر کے پاس اندھیرے میں صبح کی نماز پڑھی، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوار ہوئے اور سیّدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی سوار ہوئے ، جبکہ میں ابو طلحہ کا ردیف تھا،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خبیر کے بازاروں میں اپنا گھوڑا دوڑایا اور میرے گھٹنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رانوں کو لگ رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تہبندرانوں سے ہٹا ہوا تھا اورمیں اللہ کے نبی کی رانوں کی سفیدی دیکھ رہا تھا۔
Takhreej
(۱۳۹۳) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۳۷۱، ومسلم: ص ۱۰۴۳(انظر: ۱۱۹۹۲)۔
1393
Sahih
جو ران اور ناف کو چھپائے جانے والے حصوں میں شامل نہیں سمجھتا، اس کی دلیل
۔ (۱۳۹۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ جَالِسًا کَاشِفًا عَنْ فَخِذِہِ فَاسْتَأْذَنَ أَبُوْبَکْرٍ فَأَذِنَ لَہُ وَھُوَ عَلٰی حَالِہِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَہُ وَھُوَ عَلٰی حَالِہِ، ثُمَّ اسْتَأَذَنَ عُثْمَانُ فَأَرْخٰی عَلَیْہِ ثِیَابَہُ، فَلَمَّا قَامُوْا قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! اِسْتَاْذَنَ أَبُوبَکْرِ وَ عُمَرُ فَأَذِنْتَ لَھُمَا وَأَنْتَ عَلٰی حَالِکَ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ أَرْخَیْتَ عَلَیْکَ ثِیَابَکَ؟ فَقَالَ: ((یَاعَائِشَۃُ! اَ لَا اَسْتَحْیِیْ مِنْ رَجُلٍ وَاللّٰہِ إِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَسْتَحِیِیْ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۳۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ران سے کپڑا ہٹا کر بیٹھے ہوئے تھے،اسی اثنا میں سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اجازت چاہی، آپ نے انہیں اجازت دے دی، جبکہ آپ اسی طرح رہے، پھر سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں بھی اجازت دے دی اور آپ اسی طرح ہی رہے۔ پھر سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ نے اپنی ران پر کپڑا ڈال لیا۔ جب یہ سارے لوگ چلے گئے تو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جب ابوبکر و عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اجازت طلب کی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور آپ (اپنی ران ننگی رکھے ہوئے) اسی حالت پر بیٹھے رہے،لیکن جب عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اجازت چاہی تو آپ نے (ران پر)کپڑا ڈال لیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیا: عائشہ: میں اس آدمی سے حیا کیوں نہ کروں کہ اللہ کی قسم فرشتے بھی جس سے حیا کرتے ہیں۔
Takhreej
(۱۳۹۴) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۲۴۰۱ (انظر: ۲۴۳۳۰)۔
1394
Sahih
جو ران اور ناف کو چھپائے جانے والے حصوں میں شامل نہیں سمجھتا، اس کی دلیل
۔ (۱۳۹۵) عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ کُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَلَقِیَنَا أَبُوْھُرَیْرَۃَ فَقَالَ أَرِنِیْ أُقَبِّلُ مِنْکَ حَیْثُ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقَبِِّلُ فَقَالَ بِقَمِیْصِہِ قَالَ فَقَبَّلَ سُرَّتَہُ۔ (مسند احمد: ۷۴۵۵)
عمیر بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ تھا، سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمیں ملے اور کہنے لگے: ادھر آئو میں تمہیں اس مقام پر بوسہ دوں جہاں میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بو سہ دیتے ہوئے دیکھا تھا، پھر انھوں نے قمیص اٹھا کر ان کی ناف پر بوسہ دیا۔
Takhreej
(۱۳۹۵) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، تفرد بہ عمیر بن اسحاق، والقول الفصل فیہ انہ حدیثہیقبل فی المتابعات والشواھد، وما انفرد بہ فضعیف۔ أخرجہ ابن حبان: ۵۵۹۳، والحاکم: ۳/ ۱۶۸،والبیھقی: ۲/ ۲۳۲ (انظر: ۷۴۶۲)۔
Explanation
فوائد:… اس بحث سے متعلقہ مزید دلائل یہ ہیں: سیّدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اس وقت تیرا کیا بنے گا، جب تو ایسی قوم میں ہو گا، جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں گے، … … (صحیح مسلم: ۶۴۸) سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَا بَیْنَ السُّرَّۃِ وَالرُّکْبَۃِ عَوْرَۃٌ۔)) یعنی: ناف سے گھٹنے تک ستر اور پردہ ہے۔ (ابوداود، مسند احمد، ارواء الغلیل: ۲۴۷، ۲۷۱) قارئین کرام! مذکورہ بالا دو ابواب میں مندرج احادیث سے دو مختلف مفہوم پیدا ہو رہے ہیں، ایک طرف تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ران کو پردہ قرار دے رہے ہیں اور دوسری طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے سامنے اپنے ران مبارک کو بے پردہ بھی کر رہے ہیں۔ ہم بحث میں پردہ کے لیے لفظ عَورَہ استعمال کریں گے۔ جمہور علماء و فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ ران پردہ ہے، جبکہ امام احمد، ایک روایت کے مطابق امام امالک اور اہل ظاہر کا یہ خیال ہے کہ مرد کی صرف قُبُل (اگلی شرم گاہ) اور دُبُر (پچھلی شرم گاہ) پردہ ہیں۔ امام شوکانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے جمہور کی تائید کرتے ہوئے کہا: حق بات یہ ہے کہ ران عورہ ہے، اس باب کی مختلف احادیث حجت بن جاتی ہیں، جبکہ ان کے بارے میں کلی حکم اور عام شریعت کا اظہار بھی پایا جاتا ہے۔ جن واقعات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ران کو ننگا کرنے کا ثبوت ملتا ہے، وہ مخصوص اور معین واقعات ہیں، ان میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خصوصیت کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کو اصل اباحت پر محمول کیا جائے، نیزیہ بھی ایک عام بات ہے کہ امت کے حق میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قول کو فعل پر ترجیح دی جاتی ہے۔ (نیل الاوطار: ۲/ ۷۴) لیکن امام شوکانی کا یہ کلام اس مسئلہ میں اطمینان کے لیے کافی نہیں ہے، کیونکہ کسی واضح دلیل کے بغیر کسی چیز کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خاصہ نہیں قرار دیا جا سکتا اور اسی طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قول ہو یا فعل، دونوں امت مسلمہ کے حق میں حجت ہیں، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ اپنے ارشاد پر عمل کریں، اس سلسلے میں درج ذیل حدیث بھی قابل غور ہے۔ عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((نُھِیْتُ عَنِ التَّعَرِّیْ۔)) وَذَاکَ قَبْلَ أَنْ یَّنْزِلَ عَلَیْہِ النُّبُوَّۃُ۔ یعنی: مجھے ننگا ہونے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ نبوت کے نزول سے پہلے کا عمل ہے۔ (مسند طیالسی: ۲۶۵۹، صحیحہ: ۲۳۷۸) معلوم ہوا کہ اگر ران پردہ ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے ننگا نہ ہونے دیتے۔ امام ابن حزم ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: ران عورہ نہیں ہے، اگر یہ عورہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جیسی معصوم اور مطہَّر شخصیت کو رسالت و نبوت کے دور میں ان کو ننگا نہ کرنے دیتا۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے تو نبوت سے پہلے اور بچپنے کے زمانے میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عورہ کو ننگا ہونے سے بچائے رکھا، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ازار باندھ کر تعمیر کعبہ کے وقت پتھر منتقل کر رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیّدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ سے کہا: بھتیجے! اگر تم ازار کھول کر اس کو اپنے کندھے پر پتھروں کے نیچے رکھ لو (تو بہتر ہو گا)۔ لیکن جونہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ازار کھول کر اپنے کندھے پر رکھا، بے ہوش ہو کر گر پڑے، اس واقعہ کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ننگا نہیں دیکھا گیا۔ امام ابن حزم ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ سیّدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث، جس کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی ران پر ہاتھ مارا، کو مد نظر رکھ کر کہتے ہیں: اگر ران عورہ ہوتی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے مقدس ہاتھ سے ابو ذر کی ران کو نہ چھوتے، … … اور کسی مسلمان کے لیےیہ حلال نہیں ہے کہ وہ کسی انسان کی اگلی اور پچھلی شرم گاہ پر یا غیر محرم عورت کے وجود پر کپڑے کے اوپر سے ہاتھ مارے، (پس اگر ران پردہ ہوتی تو کسی کی ران پر ہاتھ نہ مارا جاتا)۔ خلاصۂ کلام: عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے قول کے ذریعے کسی چیز سے منع کرتے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فعل میں اس کی مخالفت پائی جاتی ہو تو قول کے تقاضے کو مستحبّ و مندوب پر محمول کرتے ہیں اور فعل کو جواز پر۔ اس طرح سے دونوں دلائل پر عمل ہو جاتا ہے، یعنی بہتر یہ ہے کہ ران کا پردہ کیا جائے، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم سے پتہ چلتا ہے، لیکن اگر یہ عضو ننگا ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ اس تطبیق سے ثابت ہوا کہ ران عورۂ مخففہ ہے اور شرمگاہ عورۂ مغلظہ ہے۔ مذکورہ بالا مختلف دلائل کا یہی نتیجہ ثابت ہوتا ہے، بالخصوص فوائد میں ذکر کی گئی سیّدنا ابو ذر اور سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی احادیث کا۔ واللہ اعلم۔ یہ اجتہاد بھی بہتراور مناسب ہے کہ فقہاء و محدثین کے درج ذیل دو قوانین کو سامنے رکھ کر اس سلسلے میں احتیاط برتی جائے: (۱)… اگر حظر اور اباحت میں بظاہر تناقض پیدا ہو جائے تو از راہِ احتیاط حظر کو مقدم کیا جاتا ہے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حکم عدولی کا شبہ ہی ختم ہو جائے۔ اس باب میں حظر یہ ہے کہ ران کو ننگا نہ کیا جائے۔ (۲)… اگر دو احادیث کے مفہوم میں بظاہر تضاد پیدا ہو جائے اور ایک کا تعلق براء تِ اصلیہ سے ہو تو احتیاطاً دوسری کو متأخر سمجھ کر اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس باب میں ران کے پردے کا لحاظ نہ کرنا براء ت ِ اصلیہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ران، پردے والے مقامات میں سے ہے، لیکن اس کو ننگا کر لینے میں حرج نہیں ہے، بہرحال احتیاطیہ ہے کہ اس کو پردے میں ہی رکھا جائے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نافرمانی کا اندیشہ ٹل جائے۔ ہمارے ہاں بعض کھیلیں کھیلتے وقت کھلاڑیوں کی رانیں ننگی ہوتی ہیں، اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
1395
Zaeef
ستر کو چھپانے کے وجوب کا بیان
۔ (۱۳۹۶) عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیْمٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ عَنْ جَدِّیْ (مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! عَوْرَاتُنَا مَانأْتِیْ مِنْہَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: ((احْفَظْ عَوْرَتَکَ إِلاَّ مِنْ زَوْجَتِکَ أَوْ مَامَلَکَتْ یَمِیْنُکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَإِذَا کَانَ الْقَوْمُ بَعْضُہُمْ فِی بَعْضٍ؟ قَالَ: ((إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَّایَرَاھاَ أَحَدٌ فَـلَا یَرَیَنَّہَا۔)) قُلْتُ: فَإِذَا کَانَ أَحَدُنَا خَالِیاً؟ قَالَ: ((فَاللّٰہُ أَحَقُّ أَنْ یُسْتَحْیَا مِنْہُ۔)) وَزَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ فَوَضَعَہَا عَلَی فَرْجِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۲۹۶)
سیّدنامعاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنی عورات(یعنی ستروالے مقامات) میں سے کسے دیکھ سکتے ہیں اور کسے نہیں دیکھ سکتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : بیوی اور لونڈی کے علاوہ (باقی سب لوگوں سے) اپنے عورہ کی حفاظت کر۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوںتو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تجھ میں یہ استطاعت ہے کہ کوئی بھی (تیرے عورہ) کو نہ دیکھنے پائے تو وہ ہرگز نہ دیکھے۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جب کوئی آدمی اکیلا ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیا: اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کیا جائے۔۔ ایک روایت کے مطابق (بات سمجھانے کے لیے) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنی شرمگاہ پر رکھا۔
Takhreej
(۱۳۹۶) تخریـج:… اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۴۰۱۷، والترمذی: ۱۹۲۰، ۲۷۶۹، وابن ماجہ: ۱۹۲۰، والجملۃ الاخیرۃ ای فوضعھا علی فرجہ اسنادھا حسن ایضا و أخرجھا عبد الرزاق: ۱۱۰۶، والطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۹۸۹ (انظر: ۲۰۰۳۴، ۲۰۰۳۵)۔
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرم گاہوں کی طرف دیکھنا جائز ہے، یہی معاملہ آقا اور اس کی لونڈی کا ہے۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ سے شرم کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کی پسند کو ترجیح دیتے ہوئے علیحدگی میں بھی پردے کا اہتمام کرنا چاہیے، وگرنہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے پردہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر خواتین آپس میں ان مقامات کا پردہ بھی نہیں کرتیں، جن کا شریعت نے سختی سے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ گناہ کا کام ہے، صرف میاں بیوی اور آقاو لونڈی کو مستثنی کیا گیا ہے۔
1396
Sahih
ستر کو چھپانے کے وجوب کا بیان
۔ (۱۳۹۷) عَنْ أَبِی سَعیدٍ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلٰی عَوْرَۃِ الرَّجُلِ وَلَا تَنْظُرُ الْمَرْأَۃُ إِلٰی عَوْرَۃِ الْمَرْأَۃِ وَلَا یُفْضِی الرَّجُلُ إِلیَ الرَّجُلِ فِی الثَّوْبِ، وَلَا تُفْضِی الْمَرْأَۃُ إِلیَ الْمَرْأَۃِ فِی الثَّوْبِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۲۳)
سیّدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مرد ، مرد کے ستر کی طرف اور عورت، عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اور مرد ایک ہی کپڑے میں دوسرے مرد کے ساتھ نہ لیٹے اور نہ ہی کوئی عورت ایک ہی کپڑے میں دوسری عورت کی طرف پہنچے۔
Takhreej
(۱۳۹۷) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۳۳۸، وابوداود: ۴۰۱۸ (انظر: ۱۱۶۰۱)۔
Explanation
فوائد:… حدیث کے آخری جملے کا معنییہ ہے کہ مرد مرد کے ساتھ اور عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں داخل نہ ہوں، کیونکہ اس صورت میں ایک کا ننگا جسم دوسرے کے ننگے جسم کو ٹچ کرے گا، بے پردگی ہو گی اوراگر وہ خود محرم بھی ہوں تو خیالات ضرور بگڑیں گے اور غیر محرم کو اس حالت میں دیکھنے کا شیطانی وسوسہ پیدا ہو گا اور مزید فساد… رہا مسئلہ ایک دوسرے ساتھ سونے کا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس سال کی عمر کے بعد بچوں کو علیحدہ علیحدہ سلانے کا حکم دیا ہے۔
1397
Sahih
ستر کو چھپانے کے وجوب کا بیان
۔ (۱۳۹۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مُوسَی بْنَ عِمْرَانَ کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَدْ خُلَ الْمَائَ لَمْ یُلْقِ ثَوْبَہُ حَتّٰییُوَارِیَ عَوْرَتَہُ فِی الْمَائِ۔) (مسند احمد: ۱۳۸۰۰)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسیٰ بن عمران علیہ السلام جب پانی میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا نہ اتارتے حتی کہ اپنی شرمگاہ پانی میں چھپا لیتے۔
Takhreej
(۱۳۹۸) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان (انظر: ۱۳۷۶۴)۔
Explanation
فوائد:… یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن غور کیا جائے کہ کیا درج ذیل روایت اس کا شاہد بن سکتی ہے: سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل ننگے نہاتے تھے، جبکہ اللہ کے نبی موسی علیہ السلام حیادار اور پردہ دار ہونے کی وجہ سے پردہ کر کے نہاتے تھے۔ ان کیقوم نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ان کی شرمگاہ میں کوئی عیب ہے، اس لیےیہ پردہ کرتے ہیں۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ کر نہا رہے تھے، اچانک وہ پتھر کپڑوں سمیت چل پڑا، حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کو مارتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے اس کے تعاقب میں چل پڑے : پتھر! میرےکپڑے، پتھر! میرے کپڑے۔ یہاں تک بنو اسرائیل کے ایک گروہ کے پاس پہنچ گئے، … … (مسند احمد: ۹۰۹۱، صحیح بخاری: ۳۴۰۴، ۴۷۹۹) بہرحال یہ ثابت ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام غسل کے وقت پردے کا انتظام کرتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
1398
Zaeef
ستر کو چھپانے کے وجوب کا بیان
۔ (۱۳۹۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَانَظَرْتُ إِلٰی فَرْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطُّ، أَوْ مَا رَأَیْتُ فَرْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطُّ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۴۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کبھی بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شرمگاہ نہیں دیکھی۔
Takhreej
(۱۳۹۹) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن عائشۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۶۶۲، ۱۹۲۲، الترمذی فی الشمائل : ۳۵۲ (انظر: ۲۴۳۴۴)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث ضعیف ہے، کئی شرعی نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے جسم کا کوئی عضو دوسرے کے لیے پردہ نہیں ہے، یہی معاملہ آقا و لونڈی کا ہے۔
1399
Zaeef
آزاد عورت چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ ساری کی ساری چھپانے کی چیز ہے
۔ (۱۴۰۰) عَنْ عَائِشَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تـُقْبَلُ صَلَاۃُ حَائِضٍ إِلاَّ بِخِمَارٍ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۸۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں ہوتی۔
Takhreej
(۱۴۰۰) تخر یـج:… حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۶۴۱، والترمذی: ۳۷۷، وابن ماجہ: ۶۵۵، وابن حبان: ۱۷۱۱، وابن خزیمۃ: ۷۷۵ (انظر: ۲۵۱۶۷)۔
Explanation
فوائد:… خِمَار ایسے کپڑے کو کہتے ہیںجس سے سر اور گردن کو ڈھانپا جاتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث میں صرف اس روایت میں مرد اور عورت کے نماز والے لباس میں فرق کیا گیا ہے۔ قارئین کو یہ نقطہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ عورت کے لیے پردے کا عمومی حکم اور ہے اور نماز کے لباس کا حکم اور ہے، پردے کے عام دلائل سے نماز کے لباس کا استدلال نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اس بحث میں صرف نماز کے لباس کی تفصیل پیش کریں گے۔ اما م البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: امام عبد الرزاق نے صحیح سند کے ساتھ اپنی مصنف میں بیان کیا : ام الحسن کہتی ہیں: میں نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو دیکھا، وہ قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھتی تھیں۔ اسی طرح عبید اللہ خولانی کہتے ہیں کہ سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھتی تھیں، جب کہ انھوں نے ازار پہنا ہوا نہ ہوتا تھا۔ (مؤطا امام مالک: ۱/ ۱۶۰، وعنہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۲۲۴، والبیہقی: ۲/ ۲۳۳) (جس قمیص کے ساتھ ازار استعمال نہیں کیا جاتا تھا، وہ اتنی لمبی ہوتی تھی کہ اس کے ساتھ شلوار وغیرہ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی)۔ اس باب میں موجود دوسرے آثار سے بھییہی معلوم ہوتا ہے کہ عورت کا قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھنا ان کے ہاں معروف تھا، اور یہ کم از کم لباس ہے، جو عورت پر نماز میں فرض ہے۔ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا درج ذیل اثر افضل و اکمل صورت پر محمول کیا جائے گا۔ تصلی المرأۃ فی ثلاثۃ اثواب: درع وخمار وازار۔ یعنی: عورت تین کپڑوں میں نماز پڑھے گی: قمیص، اوڑھنی اور ازار۔ (ابن ابی شیبہ، بیہقی) اسی طرح سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب عورت نماز پڑھے تو وہ سارے کپڑے پہن لیا کرے، یعنی قمیص، اوڑھنی اور چادر۔ (ابن ابی شیبہ)۔ (تمام المنۃ: ۱۶۱، ۱۶۲) عام طور پر درج ذیل حدیث پیش کی جاتی ہے۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا: کیا عورت تہ بند کے بغیر قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھ سکتی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِذَا کَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا یُغَطِّیْ ظُھُوْرَ قَدَمَیْھَا۔)) یعنی: جب قمیص اتنی لمبی ہو کہ قدموں کی پشت کو چھپا لے (تو پڑھ سکتی ہے)۔ (ابوداود: ۶۴۰) لیکن کئی ائمہ نے اس حدیث کو سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنا قول قرار دیا ہے، اگرچہ امام صنعانی وغیرہ نے کہا ہے کہ یہ موقوف مرفوع کے معنی میں ہے، لیکن موقوف کی سند میں بھی ام محمد راویہ مجہولۃ الحال ہے، اس لیےیہ روایت مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح ناقابل حجت ہے۔
1400
Sahih
آزاد عورت چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ ساری کی ساری چھپانے کی چیز ہے
۔ (۱۴۰۱) عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَۃَ نَزَلَتْ عَلٰی صَفِیَّۃَ أُمِّ طَلْحَۃَ الطَّلَحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَھَا یُصَلِّیْنَ بِغَیْرِ خِمْرَۃٍ قَدْ حِضْنَ، قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَا تُصَلِّیَنَّ جَارِیَۃٌ مِنْہُنَّ إِلاَّ فِی خِمَارٍ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیَّ وَکَانَتْ فِیْ حِجْرِیْ جَاَرِیَۃٌ فَأَلْقٰی عَلَیَّ حَقْوَہُ فَقَالَ: ((شُقِّیْہِ بَیْنَ ھَذِہِ وَبَیْنَ الْفَتَاتِ الَّتِی فِی حِجْرِ أُمِّ سَلَمَۃَ فَإِنِّی لَا أُرَاھَا إِلَا قَدْحَاضََتْ أَوْلَا أُرَاھُمَا إِلاَّ قَدْ حَاضَتَا۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۵۳)
محمد بن سیرین روایت کرتے ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا صفیہ امِّ طلحۂ طلحات کے پاس آئیں اوراس کی کچھ لڑکیوں کو دیکھا، جو بالغ ہو چکی تھیں، لیکن بغیر اوڑھنیوں کے نماز پڑھ رہی تھیں۔ محمد کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: ان میں سے کوئی لڑکی بغیر اوڑھنی کے نماز نہ پڑھے کیونکہ میری تربیت میں ایک لڑکی تھی اور جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس آئے تو آپ نے میری طرف اپنی چادر ڈالی اور فرمایا: یہ چادر اس لڑکی اور ام سلمہ کی گود میں جو لڑکیاں ہیں ان کے درمیان تقسیم کر دے کیونکہ میرا خیال ہے کہ یہ بالغ ہو چکی ہیں۔
Takhreej
(۱۴۰۱) تخریـج:… حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۶۴۲ (انظر: ۲۴۶۴۶)
1401
Sahih
نماز میں مسلمانوں کے ننگا ہونے کی ممانعت اور ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز
۔ (۱۴۰۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایُصَلِّ الرَّجُلُ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَیْسَ عَلَی مَنْکِبَیْہِ مِنْہُ شَیْئٌ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: ((عَاتِقِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۳۰۵)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر اس کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو۔
Takhreej
(۱۴۰۲) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۳۵۹، ومسلم: ۵۱۶، وابوداود: ۶۲۶ (انظر: ۷۳۰۷)۔
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے پتہ چلا کہ دورانِ نماز ستر کے علاوہ کندھوں پر بھی کپڑا ہونا ضروری ہے، مزید وضاحت اگلی روایات میں آئے گی۔
1402
Sahih
نماز میں مسلمانوں کے ننگا ہونے کی ممانعت اور ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز
۔ (۱۴۰۳) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فِی ثَوْبٍ فَلْیُخَالِفْ بَیْنَ طَرَفَیْہِ عَلَی عَاتِقَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۵۸)
اور سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو وہ اس کے دونوں کنارے کندھے کے اوپر سے مخالف سمت میں ڈال دے۔
Takhreej
(۱۴۰۳) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۳۶۰، وابوداود: ۶۲۷ (انظر: ۷۴۶۶)
1403
Sahih
نماز میں مسلمانوں کے ننگا ہونے کی ممانعت اور ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز
۔ (۱۴۰۴) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ کَیْسَانَ مَوْلٰی خَالِدِ بِنْ أَسِیْدٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ أَ نَّہُ رَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ مِنَ الْمَطَابِخِ حَتّٰی أَتَی الْبِئْرَ وَھُوَ مُتَّزِرٌ بِإِزَارٍ لَیْسَ عَلَیْہِ رِدَائٌ فَرٰی عِنْدَ الْبِئْرِ عَبِیْدًایُصَلُّوْنَ، فَحَلَّ الإِْزَارَ وَتَوَشَّحَ بِہِ وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، لَا أَدْرِیْ اَلظُّہْرَ أَوِالْعَصْرَ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۲۴)
سیّدنا کیسان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مطابخ مقام سے نکل کر بئر مقام پر آئے، آپ نے صرف ازار باندھا ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اوپر والی چادر نہیں تھی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بئر مقام کے پاس کچھ غلاموں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ نے بھی اپنا ازار کھول کر ا س سے توشیح کر لی اور پھر دو رکعتیں پڑھیں، مجھے معلوم نہیں کہ وہ ظہر تھییا عصر۔
Takhreej
(۱۴۰۴) تخریـج:… اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ بنحوہ ابن ماجہ: ۱۰۵۰،و الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۴۳۶ (انظر: ۱۵۴۴۵)
1404
Sahih