TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے - دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے - شرمگاہ کو ڈھانپنے کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of شرمگاہ کو ڈھانپنے کے بارے میں ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 7 · 7 Hadith
۔ (۱۴۱۰) عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ بْنِ بَقِیَّۃَ قَالَ: قَالَ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ: اَلصَّلَاۃُ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ سُنَّۃٌ کُنَّا نَفْعَلُہُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا یُعَابُ عَلَیْنَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: إِنَّمَا کَانَ ذَاکَ إِذَا کَانَ فیِ الثِّیِابِ قِلَّۃٌ، فَأَمَّا إِذْ وَسَّعَ اللّٰہُ فَا لصَّلَاۃُ فِی الثَّوْبَیْنِ أَزْکٰی۔ (مسند احمد: ۲۱۵۹۸)
ابو نضرہ بن بقیہ کہتے ہیں کہ سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ایک کپڑے میں نماز پڑھنا سنت ہے، ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایسا کرتے تھے اور ہم پر کوئی عیب نہیں لگایا جاتا تھا۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لیکنیہ لباس اس وقت تھا جب کپڑوں میں قلت تھی، اب اگر اللہ نے وسعت کر دی ہے تو دوکپڑوں میں نماز ادا کرنا زیادہ پاکیزگی والا ہے۔
Takhreej
(۱۴۱۰) صحیح، أخرجہ عبد الرزاق: ۱۳۸۴، وأخرجہ البیھقی مطولا: ۲/ ۲۳۸ (انظر: ۲۱۲۷۶)۔
1410
Sahih
۔ (۱۴۱۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ فِیْ بُرْدٍ لَہُ حَضْرَمِیٍّ مُتَوَشِّحَہٗمَاعَلَیْہِ غَیْرُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: یقینا میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رات کے وقت حضر می چادرلپیٹ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس کے علاوہ آپ پر اور (کوئی کپڑا) نہیں تھا۔
Takhreej
(۱۴۱۱) تخریـج:… حسن، أخرجہ ابن حبان: ۲۵۷۰، وابویعلی: ۲۴۴۶، والطبرانی: ۱۱۵۲۰، وعبد الرزاق: ۱۳۶۹ (انظر: ۲۳۲۰، ۲۳۸۴)۔
1411
Sahih
۔ (۱۴۱۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَادٰی رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَیُصَلِّیْ أَحَدُنَا فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: ((أَوَکُلُّکُمْ یَجِدُ ثَوْبَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۷۱۴۹)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آواز دی اور پوچھا: کیا کوئی آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیا: کیا بھلا ہر ایک کے پاس دو دو کپڑے ہیں؟
Takhreej
(۱۴۱۲) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۳۶۵، ومسلم: ۵۱۵ (انظر: ۷۱۴۹)۔
1412
Sahih
۔ (۱۴۱۳)(زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: أَتَعْرِفُ أَبَاہُرَیْرَۃَیُصَلِّیْ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَثِیَابُہُ عَلَی الْمِشْجَبِ۔(مسند احمد: ۷۲۵۰)
(دوسری سند) سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تو ابو ہریرہ کو پہچانتا ہے کہ وہ ایک کپڑے میں نماز پڑھتا ہے حالانکہ اس کے مزید کپڑے کھونٹی (ہینگر) پر لٹکے ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۱۴۱۳) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۳۵۸، ومسلم: ۵۱۵، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۷۲۵۱)۔
Explanation
فوائد:… سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مقصود یہ ہے کہ دوسرے کپڑے کی موجودگی میں بھی ایک کپڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
1413
Sahih
۔ (۱۴۱۴) عَنْ نَافِعٍ قَالَ: کَانَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ یَقُوْلُ: إِذَا لَمْ یَکُنْ لِلرَّجُلِ إِلاَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْیَأْتَزِرْ بِہِ ثُمَّ لِیُصَلِّ، فَإِنِّی سَمِعْتُ عُمَرَ یَقُولُ ذَلِکَ، وَیَقُولُ: لَا تَلْتَحِفُوا بِالثَّوْبِ إِذَا کَانَ وَحْدَہُ کَمَا تَفْعَلُ الْیَہُوْدُ۔ قَالَ نَافِعٌ: وَلَوْ قُلْتُ لَکَ إِنَّہُ أَسْنَدَ ذٰلِکَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَرَجَوْتُ أَنْ لَا أَکُوْنَ کَذَبْتُ۔(مسند احمد: ۹۶)
نافع کہتے ہیں کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہا کرتے تھے: جب آدمی کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہو تو وہ اسے ازار بنا کر نماز پڑھ لیا کرے، کیونکہ میں نے سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا تھا۔ اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے تھے: جب ایک ہی کپڑا ہو تو اس سے اس طرح التحاف نہ کیا کرو، جس طرح کہ یہودی کرتے ہیں۔ نافع کہتے ہیں: اگر میں یہ کہہ دوں کہ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ قول رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف منسوب کیا تھا تو مجھے امید ہے کہ جھوٹا نہیں قرار پاؤں گا۔
Takhreej
(۱۴۱۴) تخریـج:… اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۶۳۵ (انظر: ۹۶، ۶۳۵۶)۔
Explanation
فوائد:… مسند احمد کی دوسری روایت (۶۳۵۶) کے الفاظ یہ ہیں: انھوں نے کہا: لَایَشْتَمِلْ اَحَدُکُمْ فِیْ الصَّلَاۃِ اِشْتِمَالَ الْیَھُوْدِ، لِیَتَوَشَّحْ ، مَنْ کَانَ لَہٗثَوْبَانِفَلْیَأْتَزِرْ وَلْیَرْتَدْ، وَمَنْ لَّمْ یَکُنْ لَہٗثَوْبَانِفَلْیَأْتَزِرْ، ثُمَّ لِیُصَلِّ۔ یعنی: کوئی آدمی نماز مین یہودیوں کی طرح چادر نہ لپیٹا کرے، البتہ توشیح کر لیا کرے، جس کے پاس دو کپڑے ہوں تو وہ ایک سے ازار بنا لے اور ایک سے اوپر والی چادر، اور جس کے پاس دو کپڑے نہ ہوں تو وہ صرف ازارباندھ کر نماز پڑھ لیا کرے۔ (یہودیوں کی طرح لپیٹنے سے مراد یہ ہے کہ ایک کپڑے کو یوں لپیٹ لیا جائے کہ ہاتھ بھی باہر نہ رہے۔) توشیح: توشیحیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر ڈالنا اور دوسرا کنارہ داہنے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈالنا، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دینا۔
1414
Sahih
۔ (۱۴۱۵) عَنْ زُھَیْرٍ قَالَ: ثَنَا أَبُوْ الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِہِ۔ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِأَبِیْ الزُّبَیْرِ: الْمَکْتُوْبَۃَ؟ قَالَ: الْمَکْتُوْبَۃَ وَغَیْرَ الْمَکْتُوبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۹۶)
سیّدناجابربن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک کپڑے میںتوشیح کر کے نماز پڑھتے تھے۔ بعض لوگوں نے ابو زبیر سے پوچھا کہ کیا فرض نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: فرض اور غیر فرض دونوں نمازیں پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۱۴۱۵) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۵۱۸، (انظر: ۱۴۱۲۰)۔
Explanation
فوائد:… توشیح: توشیحیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر ڈالنا اور دوسرا کنارہ داہنے کندھے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈالنا، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دینا۔
1415
Sahih
۔ (۱۴۱۶) عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَ کْوَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ أَکُوْنُ فِی الصَّیْدِ فَأُصَلِّیْ وَلَیْسَ عَلَیَّ إِلَّا قَمِیصٌ وَّاحِدٌ؟ قَالَ: ((فَزُرَّہُ وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلاَّ شَوْکَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۳۷)
سیّدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! چونکہ میں شکار میں ہوتا ہوں، تو کیا میںصرف قمیص میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (پڑھ سکتے ہو لیکن) اس کو بٹن لگا لو، اگرچہ کانٹے کے علاوہ اورکچھ نہ ملے۔
Takhreej
(۱۴۱۶) تخریـج:… اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۶۳۲، و، النسائی: ۲/۷۰، وابن خزیمۃ: ۷۷۷ (انظر: ۱۶۵۲۰، ۱۶۵۲۲)۔
Explanation
فوائد:… اگر نمازی نے صرف قمیص پہنی ہوئی تو اسے چاہیے کہ بٹن وغیرہ کے ذریعے اس کو اوپر سے بند کر لے، وگرنہ اوپر سے ستر ننگے ہونے کا خطرہ ہو گا۔ ننگے سر نماز پڑھنا ہمارے ہاں نماز میں سر ننگا رکھنے کو بہت معیوب سمجھا جاتا ہے اور بسااوقات تو ایسے نمازی کی مخالفت کرنے کے لیے جس کے منہ میں جو آتا ہے وہ کہہ دیتا ہے۔ بہرحال شریعت کا اپنا مزاج اور پابندیاں ہیں۔ اس ضمن میں درج ذیل بحث پر غور کریں۔ مردوزن کے نماز کے لباس کے بارے میںدرج بالا ابواب میں کئی روایات گزر چکی ہیں، کسی ایک حدیث میں بھی مرد کے لیے سر ڈھانپنے کو نماز کا لباس نہیں قرار دیا گیا، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اور کئی صحابہ سے ننگے سر نماز پڑھنا ثابت ہو گیا۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی درج ذیل حدیث پر غور فرمائیں: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَا تـُقْبَلُ صَلَاۃُ حَائِضٍ إِلاَّ بِخِمَارٍ۔)) یعنی: بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں ہوتی۔ (ابوداود: ۶۴۱، وتقدم فی ھذ المسند) اس حدیث سے واضح طور پر یہ پتہ چلتا ہے کہ سر کو ڈھانپنے کی قید عورت کے لیے ہے، مرد کی سر ننگے نماز ہو جاتی ہے۔ بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس وقت کپڑوں میں تنگی تھی، اب وسعت کے زمانے میں سر ڈھانپنا ضروری ہے۔ یہ محض ان کی خام خیالی ہے۔ خود نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں بعض مواقع پر بے شمار مال و دولت جمع ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں بعض صحابہ کرام امیر تھے، تیسری بات جو اہم ہے کہ اگر سر کو ڈھناپنا ضروری ہوتا تو شریعت میں اس کی وضاحت کر دی جاتی۔ صحابہ کرام کے ادوار میںیقینا بہت مال و دولت جمع ہو گیا تھا۔ لیکن سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھلا کیا ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں۔ پھر ایک آدمی نے سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اسی قسم کا سوال کیا، آپ نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے وسعت پیدا کر دی ہے تو تم بھی وسعت سے کام لو، یعنی آدمی ازار اور چادر میںیا ازار اور قمیص میںیا ازار اور چوغے میں،یا شلوار اور چادر میں،یا شلواور قمیص میں،یا شلوار اور چوغے میںیا نیکر اور چوغے میںیا نیکر اور قمیص میں نماز پڑھے۔ (صحیح بخاری: ۳۶۵) معلوم ہوا کہ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وسعت کے زمانے میں بھی سر کو ڈھانپنا نماز کا لباس نہیں سمجھا۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ پگڑی باندھنا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے اورشریف و معزز لوگوں نے اسی لباس کو اختیار کیا ہے، لیکن نماز میں اس کا اہتمام کرنے یا نہ کرنے سے نماز کے اجرو ثواب میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی۔ قارئین کو یہ فرق سمجھنا چاہیے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مختلف ملبوسات پہننا ثابت ہیں، لیکن ان سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کو نماز کے لیے ضروری سمجھ لیا جائے،مثلا موزے پہننا اور ان میںنماز پڑھنا۔ سیدسابق نے کہا: احناف کے نزدیک ننگے سر آدمی کی نماز میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ وہ خشوع کی خاطر ننگے سر نماز پڑھنے کو افضل سمجھتے ہیں، بہرحال کوئی ایسی دلیل موجود نہیں ہے، جو نماز میں سر ڈھانپنے کی افضیلت پر دلالت کرے۔ (فقہ السنہ: ۱/ ۴۳) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سر ڈھانپنا نماز کے لباس میں سے نہیں ہے، اس لیے لوگوں کو خواہ مخواہ کی تنگیوں میں نہیں ڈالنا چاہیے، اور مسجدوں کو میل کچیل سے بھری ہوئی پلاسٹک وغیرہ کی بنی ہوئی ٹوپیوں سے پاک رکھنا چاہیے۔
1416
Sahih