TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1669 - تکبیرات الانتقال کا بیان - نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 14 in this chapter
تکبیرات الانتقال کا بیان
۔ (۱۶۶۹) عَنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَنَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَبِّرُ فِی کُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِیَامٍ وَقُعُودٍ، وَیُسِلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ یَسَارِہِ حَتّٰییُرٰی بَیَاضُ خَدَّیْہِ، أَوْخَدِّہِ، وَرَأَیْتُ أَبَا بَکْرٍوَ عُمَرَ یَفْعَلَانِ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۳۶۶۰)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑا ہونے اوربیٹھنے پر تکبیر کہتے اور دائیں بائیں سلام پھیرتے وقت (چہرۂ مبارک کو اتنا پھیرتے کہ) رخساروں کی سفیدی نظر آ جاتی، پھر میں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا۔
1669
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۶۶۹) تخریج: صحیح، وھذا اسناد ضعیف۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۲۰۵، والترمذی: ۲۵۳ (انظر: ۳۶۶۰)

Related Hadith

467
Musnad Ahmad
1826
۔ (۱۸۲۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَنَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَبِّرُ فِی کُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِیَامٍ وَقُعُوْدٍ وَیُسَلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ یَسَارِہِ حَتّٰییُرٰی بَیَاضُ خَدَّیْہِ أَوْخَدِّہِ، وَرَأَیْتُ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ یَفْعَلاَنِ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۳۶۶۰)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے آپ نیچے جاتے، اوپر ہوتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے اور دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ رخساروں کی سفیدی نظر آجاتی تھی، پھر میں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو بھی ایسے کرتے دیکھا۔
Musnad Ahmad
1864
۔ (۱۸۶۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَلَّتَانِ مَنْ حَافَظَ عَلَیْہِمَا أَدْخَلَتَاہُ الْجَنَّۃَ وَھُمَا یَسِیْرٌ وَمَنْ یَعْمَلُ بِہِمَا قَلِیْلٌ۔)) قَالُوْا: وَمَا ھُمَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((أَنْ تَحْمَدَ اللّٰہَ وَتُکَبِّرَہٗوَتُسَبِّحَہٗفِی دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ عَشْرًا عَشْرًا وَإِذَا أَتَیْتَ إِلٰی مَضْجَعِکَ تُسَبِّحُ اللّٰہَ وَتُکَبِّرُہُ وَتَحْمَدُہُ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، فَتِلْکَ خَمْسُونَ وَمِائَتَانِ بِاللِّسَانٍ وَأَلْفَانِ وَخَمْسُمِائَۃٍ فِی الْمِیْزَانٍ، فَأَیُّکُمْیَعْمَلُ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ أَلْفَیْنٍ وَخَمْسَمِائَۃِ سَیِّئَۃٍ؟)) قَالُوا: کَیْفَ مَنْ یَعْمَلُ بِہَا قَلَیْلٌ؟ قَالَ: ((یَجِیْئُ أَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ فِیْ صَلاَتِہِ فَیُذَکِّرُہُ حَاجَۃَ کَذَا وَکَذَا فَلاَ یَقُوْلُھَا وَیَأَتِیْہِ عِنْدَ مَنَامِہِ فَیُنَوِّمُہُ فَلاَ یَقُوْلُھَا۔)) قَالَ وَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْقِدُھُنَّ بِیَدِہِ۔ (مسند احمد: ۶۴۹۸)
سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو خصلیتں ہیں، جو ان پر محافظت کرے گا، وہ اسے جنت میں داخل کردیں گی، وہ دو آسان تو ہیں لیکن عمل کرنے والے تھوڑے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ دو ہیں کون سی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر فرض نماز کے بعد دس دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنا، پھر جب تو اپنے بستر پر آئے تو سو مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے،یہ زبان پر تو کل دو سو پچاس کلمات ہوں گے، لیکن ترازو میں دو ہزار پانچ سو ہوں گے، (اب ذرا یہ تو بتاؤ کہ) تم میں سے کون ہے جو ایک دن رات میں دو ہزار پانچ سو برائیاں کرتا ہو؟ صحابہ نے کہا: تو پھر عمل کرنے والے کم کیسے ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شیطان نماز میں ہی تمہارے پاس آ جاتا ہے اور ضروریاتیاد کروانا شروع کر دیتا ہے، پس وہ (سلام کے بعد فوراً کھڑا ہو جاتا ہے اور) یہ کلمات کہہ نہیں پاتا، اسی طرح وہ (رات کو) سوتے وقت بھی آجاتا ہے اور اس ذکر سے پہلے ہی اسے سلا دیتا ہے، پس وہ یہ کلمات نہیں کہہ پاتا۔ راوی کہتا ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ہاتھ سے ان کو شمار کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
2896
۔ (۲۸۹۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَہُ فَأَطَالَ الْقِیَامَ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنَّہُ لَیْسَ بِرَاکِعٍ ثُمَّ رَکَعَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ یَکَدْ یَسْجُدُ،ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ جَلَسَ فَلَمْ یَکَدْ یَسْجُدُ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ کَمَا فَعَلَ فِی الْأُوْلٰی وَجَعَلَ یَنْفُخُ فِی الْأَرْضِ وَیَبْکِی وَھُوَ سَاجِدٌ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ، وَجَعَلَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْھِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ)) فَرَفَعَ رَأْسَہُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ وَقَضٰی صَلَاتَہُ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاِذَا کَسَفَ أَحَدُھُمَا فَافْزَعُوا اِلَی الْمَسَاجِدِ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ حَتّٰی لَوْ أَشَائُ لَتَعَاطَیْتُ بَعْضَ أَغْصَانِہَا وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ حَتّٰی اِنِّی لَأُطْفِئُہَا خَشْیَۃَ أَنْ تَغْشَاکُمْ، وَرَأَیْتُ فِیْہَا امْرَأَۃً مِنْ حِمْیَرَ سَوْدَائَ طُوَالَۃً تُعَذَّبُ بِہِرَّۃٍ لَھَا تَرْبِطُھَا فَلَمْ تُطْعِمْہَا وَلَمْ تَسْقِہَا وَلَا تَدَعْہَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ کُلَّمَا أَقْبَلَتْ نَہَشَتْہَا، وَکُلَّمَا أَدْبَرَتْ نَھَشَتْہَا وَرَأَیْتُ فِیْہَا أَخَابَنِی دَعْدَعٍ وَرَأَیْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ مُتَّکِئًا فِی النَّارِ عَلٰی مِحْجَنِہِ کَانَ یَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِہِ، فَاِذَا عَلِمُوا بِہِ قَالَ لَسْتُ أَنَا أَسْرِقُکُمْ، اِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِی۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا قیام کیاکہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع ہی نہیں کرنا، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اور قریب نہیں تھا کہ رکوع سے سر اٹھائیں، پھر سر اٹھایا اور سجدے میں گر گئے، قریب نہیں تھا کہ اس سے بھی سر اٹھاتے، بالآخر سر اٹھایا اور (جلسہ میں) بیٹھ گئے (اور اتنی دیر کے لیے بیٹھے رہے کہ) قریب نہیں تھا کہ دوسرا سجدہ کریں گے، پھر سجدہ کیا اور قریب نہیں تھا کہ سجدہ سے سر اٹھائیں گے، پھر دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح ادا کی، جب دوسری رکعت کا سجدہ کر رہے تھے تو زمین میں پھونکنا اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا: اے رب! تو ان کو عذاب کیوں دے رہا ہے، حالانکہ میں ان میں موجود ہوں، اے رب! تو ہمیں عذاب کیوں دیتا ہے، حالانکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور سورج صاف ہوچکا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کرنے کے بعد اللہ کی حمدو ثنا بیان کی اور فرمایا: اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، پس جب تم ان میں سے کسی کو بے نور ہوتا دیکھو تو ڈر کر مساجد کی طرف پناہ لو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تحقیق میرے اوپر جنت پیش کی گئی (اور اتنی قریب کی گئی کہ) اگر میں چاہتا تو اس کی ٹہنی کو پکڑ لیتااورمجھ پر آگ کو بھی پیش کیا گیا (اور اتنا قریب کیا گیا کہ) اس ڈر سے میں اس کو بجھا رہا تھا کہ وہ کہیں تم کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔میں نے اس میں حمیر قبیلے کی ایک سیاہ رنگ کی طویل عورت دیکھی،اس کوایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا، اس نے اس کو باندھ دیا تھا، نہ اس کو خود کھلاتی پلاتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے حشرات وغیرہ کھا سکے، (عذاب کی کیفیت یہ تھی کہ) وہ جب آگے کی طرف آتی تو وہ بلی اس کو (سامنے سے) نوچتی اور جب وہ واپس جاتی تو وہ اس کو (پیچھے سے) نوچتی، میں نے آگ میں بنو دعدع کے ایک فرد کو بھی دیکھا اور اس میں لاٹھی والے کو بھی دیکھا، وہ آگ میں اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، (اس کا جرم یہ تھا کہ) وہ اپنی لاٹھی کے ساتھ حاجیوں کی چوری کیا کرتا تھا، پس جب لوگوں کو اس کا پتہ لگ جاتا تو وہ کہتا: میں چوری تو نہیں کر رہا، ویسے یہ چیز لاٹھی کے ساتھ لٹک گئی ہے۔
Musnad Ahmad
2911
۔ (۲۹۱۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمٍ شَدِیْدِ الْحَرِّ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَصْحَابِہِ فَأَطَالَ الْقِیَامَ حَتّٰی جَعَلُوْا یَخِرُّوْنَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ جَعَلَ یَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ یَتَأَخَّرُ، فَکَانَتْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَالَ اِنَّہُ عُرِضَ عَلَیَّ کُلُّ شَیْئٍ تُوْعَدُوْنَہُ فَعُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ حَتّٰی لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْہَا قِطْفًا أَخَذْتُہُ أَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْھَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ یَدِیَ عَنْہُ شَکَّ ھِشَامٌ (أَحَدُالرُّوَاۃِ) وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَھْبَۃَ أَنْ تَغْشَاکُمْ فَرَأَیْتُ فِیْہَا امْرَأَۃً حِمْیَرِیَّۃً سَوْدَائَ طَوِیْلَۃً تُعَذَّبُ فِی ھِرَّۃٍ لَھَا رَبَطَتْہَا فَلَمْ تُطْعِمْہَا وَلَمْ تَسْقِہَا، وَلَمْ تَدَعْہَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، وَرَأَیْتُ أَبَا ثُمَامَۃَ عَمْرَو بْنَ مَالِکٍ یَجُرُّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ، وَاِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یُرِیْکُمُوْھَا، فَاِذَا خَسَفَتْ فَصَلُّوْا حَتّٰی تَنْجَلِیَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۸۲)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سخت گرمی والے دن سورج بے نور ہوگیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ لوگ گرنے لگے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا، پھر اپناسر اٹھایا اورلمبا قیام کیا، اس کے بعد طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبی دیر تک کھڑے رہے، پھر دو سجدے کیے اور کھڑے ہو گئے اور(دوسری رکعت بھی) اسی طریقے سے ادا کی، اس نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے کو بڑھے تھے اور پھر پیچھے ہٹ آئے تھے، یہ چار رکوع اور چار سجدوں والی (دو رکعت) نماز تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر ہر وہ چیز پیش کی گئی ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ مجھ پر جنت پیش کی گئی اور (اتنی قریب کی گئی کہ) اگر میں اس سے خوشہ پکڑنا چاہتا تو پکڑ لیتا۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں فرمایا: میں نے اس سے ایک خوشہ پکڑنا چاہا، لیکن میرے ہاتھ کو روک دیا گیا۔ مجھ پر آگ بھی پیش کی گئی اور میں اس ڈرسے پیچھے ہونے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ کہ وہ تم کو ڈھانپ لے، پھر میں نے اس میں حمیر اس نے قبیلے کی ایک سیاہ رنگ کی لمبی عورت دیکھی، اس کو اُس بلی کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا، جس کو اس نے باندھ دیا تھا، نہ اسے خود کھلایا اور نہ پلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ میں نے ابوثمامہ عمرو بن مالک کو بھی دیکھا وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھنچ رہا تھا۔ یہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، پس جب یہ بے نور ہوجائے تو تم نماز پڑھا کرو، حتیٰ کہ وہ صاف ہوجائے۔
Musnad Ahmad
3202
۔ (۳۲۰۲) حَدَثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ ثَنَا الْہَجَرِیُّ قَالَ: خَرَجْتُ فِی جَنَازَۃِ بِنْتِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَہُوَ عَلٰی بَغْلَۃٍ لَہٗ حَوَّائَ یَعْنِی سَوْدَائَ، قَالَ فَجَعَلَ النِّسَائُ یَقُلْنَ لِقَائِدِہِ: قَدِّمْہُ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ فَفَعَلَ، قَالَ: فَسْمِعْتُہُ یَقُوْلُ لَہُ: أَیْنَ الْجَنَازَۃُ؟ قَالَ: قَالَ: خَلْفَکَ، قَالَ: قَالَ: فَفَعَلَ ذَالِکَ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ أَنْہَکَ أَنْ تُقَدِّمَنِی أَمَامَ الْجَنَازَۃِ، قَالَ: سَمِعَ امْرَأَۃً تَلْتَدِمُ وَقَالَ مَرَّۃً تَرْثِی(وَفِی رِوَایَۃٍ فَجَعَلَ النِّسَائُ یَبْکِیِْنَ) فَقَالَ: مَہْ، أَلَمْ أَنْہَکُنَّ عَنْ ہٰذَا؟ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْہٰی عَنِ الْمَرَاثِی لِتُفِضْ إِحْدَاکُنَّ مِنْ عَبْرَتِہَا مَا شَائَ تْ۔ فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجَنَازَۃُ تَقَدَّمَ فَکَبَّرَ عَلَیْہَا أَرْبَعَ تَکْبِیْرَاتٍ، ثُمَّ قَامَ ہُنَیَّہً فَسَبَّحَ بِہِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَانْفَتَلَ فَقَالَ: أَکْنَتُمْ تَرَوْنَ أَنِّیْ اُکَبِّرُ الْخَامِسَۃَ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ کَانَ إِذَا کَبَّرَ الرَّابِعَۃَ قَامَ ہُنَیَّۃً فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجَنَازَۃُ جَلَسَ وَجَلَسْنَا فَسُئِلَ عَنْ لَحُوْمِ الْحُمُرِ الْأَہْلِیَّۃِ فَقَالَ: تَلَقَّانَا یَوْمَ خَیْبَرَ حُمُرٌ أَہْلِیَّۃٌ خَارِجًا مِنَ الْقَرْیَۃِ فَوَقَعَ النَّاسُ فِیْہَا فَذَبَحُوْہاَ فَإِنَّ الْقُدُوْرَ لَتَغْلِی بِبَعْضِہَا إِذَ نَادٰی مُنَادِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَہْرِیْقُوْہَا، قَالَ فَأَھْرَقْنَاہَا، وَرَأَیْتُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی اَوْفٰی مِطْرَفًا مِنْ خَزٍّ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۳۷)
ابو اسحاق ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں:میں سیّدناعبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صاحبزادی کے جنازہ میں شریک ہوا، وہ خود اپنے سیاہ رنگ کے خچر پر سوار تھے، عورتوں نے ان کے کوچوان سے کہا : ان کو جنازہ سے آگے لے چلو، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ اتنے میں سیّدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دریافت کیا: جنازہ کہاں ہے؟ کوچوان نے بتایا کہ وہ تو پیچھے ہے، انہوں نے ایک دو مرتبہ یہ سوال کر کے کہا: کیامیں نے تجھے اس سے منع نہیں کیا تھا کہ تو مجھے جنازے سے آگے لے آئے۔ اتنے میں انھوں نے ایک عورت کو چہرہ پیٹتے ہوئے سنا، ایک روایت میں مرثیہ پڑھنے اور ایک روایت میں رونے کا ذکر ہے، بہرحال انھوں نے کہا: چپ ہو جاؤ،کیا میں نے تمہیں اس کام سے روکا نہیں تھا؟ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مرثیوں سے منع کیا ہے،ہاں تم جس قدر چاہو آنسو بہا سکتی ہو، پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ آگے بڑھے اور چار تکبیرات کہیں، اس کے بعد کچھ دیر خاموش کھڑے رہے، کچھ لوگوں نے سبحان اللہ کہہ کر لقمہ دیا، نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے کہا: کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ میں پانچویں تکبیر کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب چوتھی تکبیر کہتے تو اسی طرح تھوڑی دیر ٹھہر جاتے تھے۔ پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ بیٹھ گئے اور ہم بھی ان کے اردگرد بیٹھ گئے۔ اس وقت ان سے پالتو گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا: خیبر کے موقع پر ہم نے بستی سے باہر کچھ گدھے پائے اور ان کو ذبح کر دیا، ابھی ہنڈیوں میں کچھ گوشت ابلنے ہی لگا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا: ان کو بہا دو، پس ہم نے ان کو بہا دیا۔ اس دن میں نے سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر ایک اونی چادر دیکھی جس کے کناروں پر ریشم کی کڑھائی تھی۔
Musnad Ahmad
11743
۔ (۱۱۷۴۳)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ثنی سَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ، حَدِیْثَہُ مِنْ فِیْہِ، قَالَ: کُنْتُ رَجُلاً فَارِسِیًّا مِنْ أَھْلِ (اِصْبَھَانَ) مِنْ أَھْلِ قَرْیَۃٍ مِنْھَا یُقَالُ لَھا: (جَیُّ) وَکَانَ أَبِی دِھْقَانَ قَرْیَتِہٖ، وَکُنْتُ أَحَبَّ خَلْقِ اللّٰہِ إِلَیْہِ، فَلَمْ یَزَلْ حُبُّہُ إِیَّایَ حَتّٰی حَبَسَنِی فِی بَیْتِہِ۔ أَیْ مُلَازِمَ النَّارِ۔ کَمَا تُحْبَسُ الْجَارِیَۃُ، وَأَجْھَدْتُ فِی الْمَجُوْسِیَّۃِ حَتّٰی کُنْتُ قَاطِنَ النَّارِ الَّذِی یُوْقِدُھَا لَایَتْرُکُھَا تَخْبُوْسَاعَۃً۔ قَالَ: وَکاَنَتْ لِأَبِی ضَیْعَۃٌ عَظِیْمَۃٌ، قَالَ: فَشَغَلَ فِی بُنْیَانٍ لَّہُ یَوْماً، فَقَالَ: لِی: یَابُنَیَّ! إِنِّی شَغَلْتُ فِی بُنْیَانِ ھٰذَا الْیَوْمَ عَنْ ضَیْعَتِی، فَاذْھَبْ فَاطَّلِعْھَا وَأَمَرَنِی فِیْھَا بِبَعْضِ ماَ یُرِیْدُ، فَخَرَجْتُ، أُرِیْدُ ضَیْعَتَہُ، فَمَرَرْتُ بَکَنِیْسَۃٍ مِنْ کَنَائِسِ النَّصَارٰی، فَسَمِعْتُ أَصْوَاتَھُمْ فِیْھَا وَھُمْ یُصَلُّوْنَ، َوَکُنْتُ لَا أَدْرِی مَا أَمْرُ النَّاسِ لِحَبْسِ أَبِی إِیَّایَ فِی بَیْتِہِ، فَلَمَّا مَرَرْتُ بِھِمْ وَسَمِعْتُ أَصْوَاتَھُمْ،دَخَلْتُ عَلَیْھِمْ أَنْظُرُ مَا یَصْنَعُوْنَ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَیْتُھُمْ أَعْجَبَتْنِی صَلَا تُھُمْ، وَرَغِبْتُ فِی أَمْرِھِمْ، وَقُلْتُ: ھٰذَا وَاللّٰہِ خَیْرٌ مِنَ الدِّیْنِ الَّذِی نَحْنُ عَلَیْہِ، فَوَاللّٰہِ مَاتَرَکْتُھُمْ حَتّٰی غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَتَرَکْتُ ضَیْعَۃَ أَبِی، وَلَمْ آتِھَا، فَقُلْتُ لَھُمْ: أَیْنَ أَصْلُ ھٰذَا الدِّیْنِ؟ قَالُوْا: بِالشَّامِ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلٰی أَبِی، وَقَدْ بَعَثَ فِی طَلَبِی، وَشَغَلْتُہُ عَنْ عَمَلِہِ کُلِّہِ۔ قَالَ: فَلَمَّا جِئْتُہُ قَالَ: أَیْ بُنَیَّ أَیْنَ کُنْتَ؟ أَلَمْ أَکُنْ عَھِدتُّ إِلَیْکَ مَاعَھِدتُّ؟ قَالَ: قُلْتُ: یَا أَبَتِ! مَرَرْتُ بِنَاسٍ یُصَلُّوْنَ فِی کَنِیْسَۃٍ لَّھُمْ، فَأَعْجَبَنِی مَارَأَیْتُ مِنْ دِیْنِھِمْ، فَوَاللّٰہِ مَا زِلْتُ عِنْدَھُمْ حَتّٰی غَرَبَتِ الشَّمْسُ قاَلَ: أَیْ بُنَیَّ! لَیْسَ فِی ذٰلِکَ الدِّیْنِ خَیْرٌ، دِیْنُکَ وَدِیْنُ آباَئِکَ خَیْرٌ مِنْہُ۔ قَالَ: قُلْتُ کَلاَّ وَاللّٰہِ، إِنَّہُ خَیْرٌ مِنْ دِیْنِنَا، قَالَ: فَخَافَنِی فَجَعَلَ فِی رِجْلِیْ قَیْداً ثُمَّ حَبَسَنِی فِی بَیْتِہِ۔ قَالَ: وَبَعَثْتُ إِلَی النَّصَارٰی فَقُلْتُ لَھُمْ: إِذَا قَدِمَ عَلَیْکُمْ رَکْبٌ مِّنَ الشَّامِ تُجَّارٌ مِنَ النَّصَارٰی، فَأَخْبِرُوْنِی بِھِمْ، قَالَ: فَقَدِمَ عَلَیْھِمْ رَکْبٌ مِنَ الشَّامِ تُجَّارٌ مِّنَ النَّصَارٰی، قَالَ: فَأَخْبَرُوْنِی بِھِمْ، قَالَ: قُلْتُ لَھُمْ: إِذَا قَضَوْا حَوَائِجَھُمْ، وَأَرَادُوْا الرَّجْعَۃَ إِلٰی بِلَادِھِمْ فَآذِنُوْنِی بِھِمْ، فَلَمَّا أَرَادُوْا الرَّجْعَۃَ إِلٰی بِلَادِھِمْ أَخْبَرُوْنِی بِھِمْ، فَأَلْقَیْتُ الْحَدِیْدَ مِنْ رِجْلَیَّ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَھُمْ حَتّٰی قَدِمْتُ الشَّامَ۔ فَلَمَّا قَدِمْتُھَا قُلْتُ: مَنْ أَفْضَلُ أَھْلِ ھٰذَا الدِّیْنِ؟ قَالُوْا: الْاُسْقُفُ فِی الْکَنِیْسَۃٍ قَالَ: فَجِئْتُہُ، فَقُلْتُ: إِنِّی قَدْ رَغِبْتُ فِی ھٰذَا الدِّیْنِ، وَأَحْبَبْتُ أَنْ أَکُوْنَ مَعَکَ أَخْدِمُکَ فِی کَنِیْسَتِکَ، وَأَتَعَلَّمُ مِنْکَ، وَأُصَلِّی مَعَکَ۔قَالَ: فَادْخُلْ فَدَخَلْتُ مَعَہُ، قَالَ: فَکاَنَ رَجُلٌ سُوْئٌ یَأْمُرُھُمْ بِالصَّدَقَۃِ وَیُرَغِّبُھُمْ فِیْھَا، فَإِذَا جَمَعُوْا اإِلَیْہِ مِنْھَا أَشْیَائَ اکْتَنَزَہٗ لِنَفْسِہِ وَلَمْ یُعْطِہِ الْمَسَاکِیْنَ، حَتّٰی جَمَعَ سَبْعَ قِلَالٍ مِنْ ذَھَبٍ وَوَرِقٍ، قَالَ: وَأَبْغَضْتُہٗ بُغْضًا شَدِیْداً لِمَا رَأَیْتُہٗ یَصْنَعُ، ثُمَّ مَاتَ، فَاجْتَمَعَتْ إِلَیْہِ النَّصَارٰی لِیَدْفِنُوْہُ، فَقُلْتُ لَھُمْ: إِنَّ ھٰذَا کَانَ رَجُلٌ سُوْئٌ، یَأْمُرُکُمْ بِالصَّدَقَۃِ وَیُرَغِّبُکُمْ فِیْھَا، فَإِذَا جِئْتُمُوْہُ بِھَا، اکْتَنَزَھَا لِنَفْسِہِ وَلَمْ یُعْطِ الْمَسَاکِیْنَ مِنْھَا شَیْئاً۔ قَالُوْا: وَمَاعِلْمُکَ بِذٰلِکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا أَدُلُّکُمْ عَلٰی کَنْزِہِ۔ قَالُوْا: فَدُلَّنَا عَلَیْہِ۔ قَالَ: فَأَرَیْتُھُمْ مَوْضِعَہٗ، قَالَ: فَاسْتَخْرَجُوْا مِنْہُ سَبْعَ قِلَالٍ مَمْلُوْئَ ۃٍ ذَھَباً وَوَرِقاً، قَالَ: فَلَمَّا رَأَوْھَا قَالُوْا: وَاللّٰہِ لَانَدْفِنُہُ أَبَداً۔ فَصَلَبُوْہُ ثُمَّ رَجَمُوْہُ بِالْحِجَارَۃِ، ثُمَّ جَائُ وْا بِرَجُلٍ آخَرَ فَجَعَلُوْہُ بِمَکَانِہِ۔ قَالَ: یَقُوْلُ سَلْمَانُ: فَمَا رَأَیْتُ رَجُلاً لَایُصَلِّی الْخَمْسَ أَرٰی أَنَّہُ أَفْضَلَ مِنْہُ، أَزْھَدَ فِی الدُّنْیَا وَلَا أَرْغَبَ فِی الآخِرَۃِ، وَلَا أَدْأَبَ لَیْلاً وَنَھَاراً مِنْہُ، قَالَ: فَأَحْبَبْتُہُ حُبًّا لَمْ أُحِبَّہٗ مِنْ قَبْلِہِ، وَأَقَمْتُ مَعَہُ زَمَاناً ثُمَّ حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ، فَقُلْتُ لَہُ: یَافُلَانُ! إِنِّی کُنْتُ مَعَکَ، وَأَحْبَبْتُکَ حُبًّا لَمْ أُحِبَّہٗ مِنْہُ قَبْلَکَ، وَقَدْ حَضَرَکَ مَاتَرٰی مِنْ أَمْرِ اللّٰہِ فَإِلٰی مَنْ تُوْصِیْ بِیْ؟ وَمَاتَأْمُرُنِی؟ قَالَ: أَیْ بُنَیَّ! وَاللّٰہِ مَا أَعْلَمُ أَحَداً الْیَوْمَ عَلٰی مَاکُنْتُ عَلَیْہِ، لَقَدْ ھَلَکَ النَّاسُ وَبَدَّلُوْا وَتَرَکُوْا أَکْثَرَمَا کَانُوْا عَلَیْہِ إِلاَّ رَجُلاً بِـ(الْمَوْصِلِ) وَھُوَ فُلَانٌ، فَھُوَ عَلٰی مَا کُنْتُ عَلَیْہِ فَالْحَقْ بِہٖ۔ قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ وَغُیِّبَ، لَحِقْتُ بِصَاحِبِ (الْمَوْصِلِ)، فَقُلْتُ لَہُ: یَافُلَانُ! إِنَّ فُلَاناً أَوْصَانِی عِنْدَ مَوْتِہِ أَنْ أَلْحَقَ بِکَ وَأَخْبَرَنِی أَنَّکَ عَلٰی أَمْرِہِ۔ قَالَ: فَقَالَ لِی: أَقِمْ عِنْدِی۔ فَأَقَمْتُ عِنْدَہُ، فَوَجَدتُّہُ خَیْرَ رَجُلٍ عَلٰی أَمْرِ صَاحِبِہِ، فَلَمْ یَلْبَثْ أَنْ مَاتَ، فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ، قُلْتُ لَہٗ: یَا فُلَانُ! اِنَّ فُلَانًا أَوْصٰی بِیْ أِلَیْکَ وَأَمَرَنِیْ بِاللُّحُوْقِ بِکَ وَقَدْ حَضَرَکَ مِنَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مَا تَرٰی فَأِلٰی مَنْ تُوْصِیْ بِیْ؟ وَمَا تَأْمُرُنِیْ؟ قَالَ: أَیْ بُنَیَّ! وَاللّٰہِ! مَا أَعْلَمُ رَجُلًا عَلٰی مِثْلِ مَا کُنَّا عَلَیْہِ اِلَّا رَجُلًا بِـ (نَصِیْبَیْن) وَھُوَ فُلَانٌ فَالْحَقْ بِہٖ۔ قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ وَغُیِّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ نَصِیْبَیْن فَجِئْتُہٗ فَأَخْبَرْتُہٗ بِخَبَرِیْ وَمَا أَمَرَنِیْ بِہٖ صَاحِبِیْ قَالَ: فَأَقِمْ عِنْدِیْ۔ فَأَقَمْتُ عِنْدَہٗ فَوَجَدْتُّہٗ عَلٰی أَمْرِ صَاحِبَیْہِ فَأَقَمْتُ مَعَ خَیْرِ رَجُلٍ، فَوَاللّٰہِ مَا لَبِثَ اَنْ نَزَلَ بِہِ الْمَوْتُ، فَلَمَّا حُضِرَ قُلْتُ لَہٗ: یَا فَلَانُ! اِنَّ فُلَانًا کَانَ أَوْصٰی بِیْ أِلٰی فُلَانٍ، ثُمَّ أَوْصٰی بِیْ فُلَانٌ اِلَیْکَ، فَاِلٰی مَنْ تُوْصِیْ بِیْ؟ وَمَا تَأْمُرُنِیْ؟ قَالَ: أَیْ بُنَیَّ! وَاللّٰہِ مَا نَعْلَمُ أَحَدًا بَقِیَ عَلٰی أَمْرِنَا آمُرُکَ أَنْ تَأْتِیَہٗ أِلاَّ رَجُلًا بِـ (عَمُوْرِیَّۃَ) فَاِنَّہٗ بِمِثْلِ مَا نَحْنُ عَلَیْہِ، فَاِنْ اَحْبَبْتَ فَأْتِہٖ۔ قَالَ: فَأِنَّہٗ عَلٰی أَمْرِنَا۔ قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ وَغُیِّبَ، لَقِیْتُ بِصَاحِبِ عَمُوْرِیَّۃَ وَأَخْبَرْتُہٗ خَبَرِیْ، فَقَالَ: أَقِمْ عِنْدِیْ۔ فَأَقَمْتُ مَعَ رَجُلٍ عَلٰی ھَدْیِ أَصْحَابِہٖ وَأَمْرِھِمْ۔ قَالَ: وَاکْتَسَبْتُ حَتّٰی کَانَ لِیْ بَقَرَاتٌ وَغُنَیْمَۃٌ ۔ قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ بِہٖ أَمْرُ اللّّٰہِ، فَلَمَّا حُضِرَ قُلْتُ لَہٗ: یَا فُلَانُ! أِنِّیْ کُنْتُ مَعَ فُلَانٍ، فَأَوْصٰی بِیْ فُلَانٌ اِلٰی فُلَانٍ، وَأَوْصٰی بِیْ فُلَانٌ أِلٰی فُلَانٍ، ثُمَّ أَوْصٰی بِیْ فُلَانٌ أِلَیْکَ، فَأِلٰی مَنْ تُوْصِیْ بِیْ؟ وَمَا تَأْمُرُنِیْ؟ قَالَ: أَیْ بُنَیَّ! مَا أَعْلَمُہٗ أَصْبَحَ عَلٰی مَا کُنَّا عَلَیْہِ أَحَدٌ مِّنَ النَّاسِ آمُرُکَ أَنْ تَأْتِیَہٗ وَلٰکِنَّّہٗ قَدْ أَظَلَّکَ زَمَانُ نَبِيٍّ، ھُوَ مَبْعُوْثٌ بِدِیْنِ أِبْرَاہِیْمَ، یَخْرُجُ بِأَرْضِ الْعَرَبِ، مُہَاجِرًا أِلٰی أَرْضٍ بَیْنَ حَرَّتَیْنِ بَیْنَھُمَا نَخْلٌ، بِہٖ عَلَامَاتٌ لَا تَخْفٰی، یَأْکُلُ الْھَدِیَّّۃَ وَلَا یَأْکُلُ الصَّدَقَۃَ،بَیْنَ کَتِفَیْہِ خَاتَمُ النُّبُوَّۃِ، فَأِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَلْحَقَ بِتِلْکَ الْبِلَادِ فَافْعَلْ۔ قَالَ: ثُمَّّ مَاتَ وَ غُیِّبَ، فَمَکَثْتُ فِیْ عَمُوْرِیَّۃَ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ أَمْکُثَ۔ثُمَّ مَرَّبِی نَفَرٌ مِنْ کَلْب تُجَّارًا فَقُلْتُ لَھُمْ: تَحْمِلُوْنِی إِلٰی أَرْضِ الْعَرَبِ وَأُعْطِیْکُمْ بَقَرَاتِیْ ھٰذِہٖ وَغَنِیْمَتِی ھٰذِہٖ؟ قَالُوْا: نَعَمْ فَاَعْطَیْتُھُمُوْھَا، وَحَمَلُوْنِی، حَتّٰی إِذَا قَدِمُوْا بِی وَادِیَ الْقُرٰی ظَلَمُوْنِی، فَبَاعُوْنِی مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْیَھُوْدِ عَبْداً، فَکُنْتُ عِنْدَہُ، وَرَأَیْتُ النَّخْلَ، وَرَجَوْتُ، أَنْ تَکُوْنَ الْبَلَدُ الَّذِی وَصَفَ لِی صَاحِبِی، وَلَمْ یَحُقَّ لِی فِی نَفْسِی۔ فَبَیْنَمَا أَنَا عِنْدَہُ قَدِمَ عَلَیْہِ ابْنُ عَمٍّ لَّہُ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ، فَابْتَاعَنِیْ مِنْہُ، فَاحْتَمَلَنِی إِلَی الْمَدِ یْنَۃِ، فَوَاللّٰہِ مَاھُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَیْتُھَا فَعَرَفْتُھَا بِصِفَۃِ صَاحِبِی، فَأَقَمْتُ بِھَا۔ وَبَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ فَأَقَامَ بِمَکَّۃَ مَا أَقَامَ، لَا أَسْمَعُ لَہُ بِذِکْرٍ مَعَ مَا أَنَا فِیْہِ مِنْ شُغْلِ الرِّقِّ۔ ثُمَّ ھَاجَرَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ، فَوَاللّٰہِ إِنِّی لَفِی رَأْسِ عِذْقٍ لِسَیِّدِیْ أَعْمَلُ فِیْہِ بَعْضَ الْعَمَلِ، وَسَیِّدِی جَالِسٌ إِذْ أَقْبَلَ ابْنُ عَمٍّ لَّہُ حَتّٰی وَقَفَ عَلَیْہِ فَقَالَ: فُلَاَنٌ قَاتَلَ اللّٰہُ بَنِی قِیْلَۃَ، وَاللّٰہِ إِنَّھُمْ الآنَ لَمُجْتَمِعُوْنَ بـ(قُبَائَ) عَلٰی رَجُلٍ قَدِمَ عَلَیْھِمْ مِنْ مَّکَّۃَ الْیَوْمَ یَزْعَمُوْنَ أَنَّہُ نَبِیٌّ۔ قَالَ: فَلَمَّا سَمِعْتُھَا أَخَذَتْنِی الْعُرَوَائُ حَتّٰی ظَنَنْتُ أَنِّی سَأَسْقُطُ عَلٰی سَیِّدِیْ، قَالَ: وَنَزَلْتُ عَنِ النَّخْلَۃِ فَجَعَلْتُ أَقُوْلُ لِاِبْنِ عَمِّہِ ذٰلِکَ: مَاذَا تَقُوْلُ؟ مَاذَا تَقُوْلُ؟ قَالَ: فَغَضِبَ سَیِّدِی فَلَکَمَنِی لَکْمَۃً شَدِیْدَۃً، ثُمَّ قَالَ: مَالَکَ وَلِھٰذا؟ أَقْبِلْ عَلٰی عَمَلِکَ۔ قَالَ: قُلْتُ: لَاشَیْئَ إِنَّمَا أَردتُّ أَنْ أَسْتَثْبِتَ عَمَّا قَالَ۔ وَقَدْ کَانَ عِنْدِی شَیْئٌ قَدْ جَمَعْتُہُ، فَلَمَّا أَمْسَیْتُ أَخَذْتُہُ ثُمَّ ذَھَبْتُ بِہِ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِVوَھُوَ بـ(قُبَائٍ) فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَقُلْتُ لَہُ: إِنَّہُ قَدْ بَلَغَنِی أَنَّکَ رَجُلٌ صَالِحٌ، وَمَعَکَ أَصْحَابٌ لَّکَ غُرَبَائُ ذَوُوْ حَاجَۃٍ،وَھٰذَا شَیْئٌ کَانَ عِنْدِی لِلصَّدَقَۃِ، فَرَأَیْتُکُمْ أَحَقَّ بِہِ مِنْ غَیْرِکُمْ، قَالَ: فَقَرَّبْتُہُ إِلَیْہِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِV لأَِصْحَابِہِ: ((کُلُوْا۔)) وَأَمْسَکَ یَدَہُ فَلَمْ یَأْکُلْ۔ قَالَ: فَقُلْتُ فِی نَفْسِی: ھٰذِہِ وَاحِدَۃٌ ثُمَّ انْصَرَفْتُ عَنْہُ، فَجَمَعْتُ شَیْئاً، وَتَحَوَّلَ رَسُوْلُ اللّٰہِV إِلَی الْمَدِیْنَۃِ، ثُمَّ جِئْتُ بِہٖ فَقُلْتُ: إِنِّی رَأَیْتُکَ لَا تَأْکُلُ الصَّدَقَۃَ، وَھٰذِہٖ ھَدِیَّۃٌ أَکْرَمْتُکَ بِھَا، قَالَ: فَأَکَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِVمِنْھَا، وَأَمَرَ أَصْحَابَہُ فَأَکَلُوْا مَعَہُ، قاَلَ: فَقُلْتُ: فِی نَفْسِی ھَاتَانِ اثْنَتَانِ۔ ثُمَّ جِئْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِV وَھُوَ بِبَقِیْعِِ الْغَرْقَدِ، قَالَ: وَقَدْ تَبِعَ جَنَازَۃً مِنْ أَصْحَابِہِ، عَلَیْہِ شَمْلَتَانِ لَہُ، وَھُوَجَالِسٌ فِی أَصْحَابِہِ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، ثُمَّ اسْتَدَرْتُ أَنْظُرُ إِلٰی ظَھْرِہِ، ھَلْ أَرٰی الْخَاتَمَ الَّذِی وَصَفَ لِی صَاحِبِی، فَلَمَّا رَآنِی رَسُوْلُ اللّٰہِV اسْتَدَرْتُہُ، عَرَفَ أَنِّی اَسْتَثْبِتُ فِی شَیْئٍ وَصَفَ لِی، قَالَ: فَأَلْقٰی رِدَائَ ہُ عَنْ ظَھْرِہِ، فَنَظَرْتُ إِلَی الْخَاتَمِ فَعَرَفْتُہُ، فَانْکَبَبْتُ عَلَیْہِ أُقَبِّلُہُ وَأَبْکِی۔ فَقَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِV: ((تَحَوَّلْ۔)) فَتَحَوَّلْتُ، فَقَصَصْتُ عَلَیْہِ حَدِیْثِی۔ کَمَا حَدَّثْتُکَ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ! قَالَ: فَأَعْجَبَ رَسُوْلُ اللّٰہVأَنْ یَّسْمَعَ ذٰلِکَ أَصْحَابُہُ۔ ثُمَّ شَغَلَ سَلْمَانُ الرِّقَ حَتّٰی فَاتَہُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِVبَدْرٌ وَأُحُدٌ۔ قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِV: ((کَاتِبْ یَا سَلْمَانُ!)) فَکاَتَبْتُ صَاحِبِی عَلٰی ثَلَاثِ مِائَۃِ نَخْلَۃٍ أُحْیِیْھَا لَہُ بِالْفَقِیْرِ، وَبِأَرْبَعِیْنَ أُوْقِیَۃً۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِV : ((أَعِیْنُوْا أَخَاکُمْ۔)) فَأَعَانُوْنِی بِالنَّخْلِ، الرَّجُلُ بِثَلَاثِیْنَ وَدِیَّۃً وَالرَّجُلُ بِعِشْرِیْنَ، وَالرَّجُلُ بِخَمْسَ عَشَرَۃَ، وَالرَّجُلُ بِعَشْرٍ یَعْنِی: الرَّجُلَ بِقَدَرِ مَاعِنْدَہُ۔ حَتّٰی اِجْتَمَعَتْ لِی ثَلَاثُ مِئَۃِ وَدِیَّۃٍ۔ فَقَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِV: ((اِذْھَبْ یَاسَلْمَانُ! فَفَقِّرْلَھَا، فَإِذَا فَرَغْتَ فَأْتِنِی أَکُوْنُ أَنَا أَضَعُھَا بِیَدِی۔)) فَفَقَّرْتُ لَھَا، وَأَعَانَنِی أَصْحَابِی، حَتّٰی إِذَا فَرَغْتُ مِنْھَا جِئْتُہُ فَأَخْبَرْتُہُ۔ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِV مَعِیَ إِلَیْھَا،فَجَعَلْنَا نُقَرِّبُ لَہُ الْوَدِیَّ، وَیَضَعُہُ رَسُوْلُ اللّٰہِV بِیَدِہِ، فَوَالَّذِی نَفْسُ سَلْمَاَنَ بِیَدِہِ! مَا مَاتَتْ مِنْھَا وَدِیَّۃٌ وَاحِدَۃٌ، فَأَدَّیْتُ النَّخْلَ وَبَقِیَ عَلَیَّ الْمَالُ، فَأُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِV بِمِثْلِ بَیْضَۃِ الدَجَّاجَۃٍ مِنْ ذَھَبٍ مِنْ بَعْضِ الْمَغَازِیْ، فَقَالَ: ((مَافَعَلَ الْفَارِسِیُّ الْمُکَاتَبُ؟)) قَالَ: فَدُعِیْتُ لَہٗ۔ فَقَالَ: ((خُذْ ھٰذِہِ فَأَدِّ بِھَا مَا عَلَیْکَ یَاسَلْمَانُ!)) فَقُلْتُ: وَأَیْنَ تَقَعَ ھٰذِہٖ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مِمَّا عَلَیَّ؟ قَالَ: ((خُذْھَا، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ سَیُؤَدِّی بِھَا عَنْکَ۔)) قَالَ: فَأَخَذْتُھَا، فَوَزَنْتُ لَھُمْ مِنْھَا وَالَّذِی نَفْسُ سَلْمَانَ بِیَدِہِ! أَرْبَعِیْنَ أُوْقِیَۃً، فَأَوْفَیْتُھُمْ حَقَّھُمْ، وَعَتَقْتُ، فَشَھِدتُّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِV الْخَنْدَقَ، ثُمَّ لَمْ یَفُتْنِیْ مَعَہٗ مَشْھَدٌ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۳۸)
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اپنا واقعہ اپنی زبانییوں بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں اصبہان والوں میں سے ایک فارسی باشندہ تھا،میرا تعلق ان کی ایک جيّ نامی بستی سے تھا، میرے باپ اپنی بستی کے بہت بڑے کسان تھے اور میں اپنے باپ کے ہاں اللہ کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ محبوب تھا۔ میرے ساتھ ان کی محبت قائم رہی حتیٰ کہ انھوں نے مجھے گھر میں آگ کے پاس ہمیشہ رہنے والے کی حیثیت سے پابند کردیا، جیسے لڑکی کو پابند کر دیا جاتا ہے۔ میں نے مجوسیت میں بڑی جد وجہد سے کام لیا، حتی کہ میں آگ کا ایسا خادم و مصاحب بنا کہ ہر وقت اس کو جلاتا رہتا تھا اور ایک لمحہ کے لیے اسے بجھنے نہ دیتا تھا۔ میرے باپ کی ایک بڑی عظیم جائداد تھی، انھوں نے ایک دن ایک عمارت (کے سلسلہ میں) مصروف ہونے کی وجہ سے مجھے کہا: بیٹا! میں تو آج اس عمارت میں مشغول ہو گیا ہوں اور اپنی جائداد (تک نہیں پہنچ پاؤں گا)، اس لیے تم چلے جاؤ اور ذرا دیکھ کر آؤ۔ انھوں نے اس کے بارے میں مزید چند (احکام بھی) صادر کئے تھے۔ پس میں اس جاگیر کے لیے نکل پڑا، میرا گزر عیسائیوں کے ایک گرجا گھر کے پاس سے ہوا، میں نے ان کی آوازیں سنیں اور وہ نماز ادا کر رہے تھے۔ مجھے یہ علم نہ ہو سکا تھا کہ عوام الناس کا کیا معاملہ ہے کہ میرے باپ نے مجھے اپنے گھر میں پابند کر رکھا ہے۔ (بہرحال) جب میں ان کے پاس سے گزرا اور ان کی آوازیں سنیں تو میں ان کے پاس چلا گیا اور ان کی نقل و حرکت دیکھنے لگ گیا۔ جب میں نے ان کو دیکھا تو مجھے ان کی نماز پسند آئی اور میں ان کےدین کی طرف راغب ہوا اور میں نے کہا: بخدا! یہ دین اُس (مجوسیت) سے بہتر ہے جس پر ہم کاربند ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا: اس دین کی بنیاد کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: شام میں۔ پھر میں اپنے باپ کی طرف واپس آ گیا، (چونکہ مجھے تاخیر ہو گئی تھی اس لیے) انھوں نے مجھے بلانے کے لیے کچھ لوگوں کو بھی میرے پیچھے بھیج دیا تھا۔ میں اِس مصروفیت کی وجہ سے ان کے مکمل کام کی (طرف کوئی توجہ نہ دھر سکا)۔ جب میں ان کے پاس آیا تو انھوں نے پوچھا: بیٹا! آپ کہاں تھے؟ کیا میں نے ایک ذمہ داری آپ کے سپرد نہیں کی تھی؟ میں نے کہا: ابا جان! میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا، وہ گرجا گھر میں نماز پڑھ رہے تھے، مجھے ان کی کاروائی بڑی پسند آئی۔ اللہ کی قسم! میں ان کے پاس ہی رہا، حتی کہ سورج غروب ہو گیا۔ میرے باپ نے کہا: بیٹا!اس دین میں کوئی خیر نہیں ہے، تمہارا اور تمہارے آباء کا دین اس سے بہتر ہے۔ میں نے کہا: بخدا! ہرگز نہیں، وہ دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ (میرے ان جذبات کی وجہ سے) میرے باپ کو میرے بارے میں خطرہ لاحق ہوا اور انھوں نے میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر مجھے گھر میں پابند کر دیا۔ میں نے عیسائیوں کی طرف پیغام بھیجا کہ جب شام سے تاجروں کا عیسائی قافلہ آئے تو مجھے خبر دینا۔ (کچھ ایام کے بعد) جب شام سے عیسائیوں کا تجارتی قافلہ پہنچا تو انھوں نے مجھے اس (کی آمد) کی اطلاع دی۔ میں نے ان سے کہا: جب (اس قافلے کے) لوگ اپنی ضروریات پوری کرکے اپنے ملک کی طرف واپس لوٹنا چاہیں تو مجھے بتلا دینا۔ سو جب انھوں نے واپس جانا چاہا تو انھوں نے مجھے اطلاع دے دی۔ میں نے اپنے پاؤں سے بیڑیاں اتار پھینکیں اور ان کے ساتھ نکل پڑا اور شام پہنچ گیا۔ جب میں شام پہنچا تو پوچھا: وہ کون سی شخصیت ہے جو اس دین والوں میں افضل ہے؟ انھوں نے کہا: فلاں گرجا گھر میں ایک پادری ہے۔میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا: میں اِس دینِ (نصرانیت) کی طرف راغب ہوا ہوں، اب میں چاہتا ہوں کہ آپ کے پاس رہوں اور گرجا گھر میں آپ کی خدمت کروں اور آپ سے تعلیم حاصل کروں اور آپ کے ساتھ نماز پڑھوں۔ اس نے کہا: (ٹھیک ہے) آ جاؤ۔ پس میں اس میں داخل ہو گیا۔ لیکن وہ بڑا برا آدمی تھا۔ وہ لوگوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیتا تھا اور ان کو ترغیب دلاتا تھا۔ جب وہ کئی اشیاء لے کر آتے تھے، تو وہ اپنے لیے جمع کر لیتا تھا اور مساکین کو کچھ بھی نہیں دیتا تھا، حتی کہ اس کے پاس سونے اور چاندی کے سات مٹکے جمع ہو گئے۔ میں اس کے کرتوں کی بنا پر اس سے نفرت کرتا تھا۔ بالآخر وہ مر گیا، اسے دفن کرنے کے لیے عیسائی لوگ پہنچ گئے۔ میں نے ان سے کہا: یہ تو برا آدمی تھا، یہ تم لوگوں کو تو صدقہ کرنے کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دلاتا تھا، لیکن جب تم لوگ اس کے پاس صدقہ جمع کرواتے تھے تو یہ اسے اپنے لیے ذخیرہ کر لیتا تھا اور مساکین کو بالکل نہیں دیتا تھا۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا: تجھے کیسے علم ہوا؟ میں نے کہا: میں تمہیں اس کے خزانے کی خبر دے سکتا ہوں۔ انھوں نے کہا: تو پھر ہمیں بتاؤ۔پس میں نے ان کو (اس کے خزانے کا) مقام دکھایا۔ انھوں نے وہاں سے سونے اورچاندی کے بھرے ہوئے سات مٹکے نکالے۔جب انھوں نے صدقے (کا یہ حشر) دیکھا تو کہنے لگے: بخدا! ہم اس کو کبھی بھی دفن نہیں کریں گے۔ سو انھوں نے اس کو سولی پر لٹکایا اور پھر پتھروں سے اس کو سنگسار کیا۔ بعد ازاں وہ اس کی جگہ پر ایک اور آدمی لے آئے۔ سیدنا سلمان کہتے ہیں: جو لوگ پانچ نمازیں ادا کرتے تھے، میں نے اس کو ان میں افضل پایا۔ میں نے اسے دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبت، آخرت کے معاملے میں سب سے زیادہ رغبت والا اور دن ہو یا رات (عبادت کے معاملات کو) تندہی سے ادا کرنے والا پایا۔ میں نے اس سے ایسی محبت کی کہ اس سے پہلے اس قسم کی محبت کسی سے نہیں کی تھی۔ میں اسی کے ساتھ کچھ زمانہ تک مقیم رہا۔ بالآخر اس کی وفات کا وقت قریب آ پہنچا۔ میں نے اسے کہا: او فلان! میں تیرے ساتھ رہا اور میں نے تجھ سے ایسی محبت کی کہ اس سے قبل اس قسم کی محبت کسی سے نہیں کی تھی۔ اب تیرے پاس اللہ تعالیٰ کا حکمِ (موت) آ پہنچا ہے، تو خود بھی محسوس کر رہا ہے۔ اب تو مجھے کس کے پاس جانے کی نصیحت کرے گا؟ اور مجھے کیا حکم دے گا؟ اس نے کہا: میرے بیٹا! اللہ کی قسم! میں جس دین پر پابند تھا، میرے علم کے مطابق کوئی بھی اس دین کا پیروکار نہیں ہے۔ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں اور تبدیل ہو گئے ہیں اور جس شریعت کو اپنا رکھا تھا اس کے اکثر امور کو ترک کر دیا ہے۔ ہاں فلاں ایک آدمی موصل میں ہے۔ وہ اسی دین پر کاربند ہے، پس تو اس کے پاس چلے جانا۔جب وہ فوت ہو گیا اور اسے دفن کر دیا گیا تو میں موصل والے آدمی کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے اسے کہا: اے فلاں! فلاں آدمی نے موت کے وقت مجھے وصیت کی تھی کہ میں تجھ سے آ ملوں۔ اس نے مجھے بتلایا تھاکہ تم بھی اس کے دین پر کاربند ہو۔ اس نے مجھے کہا: (ٹھیک ہے) تم میرے پاس ٹھہر سکتے ہو۔ پس میں نے اس کے پاس اقامت اختیار کی، میں نے اسے بہترین آدمی پایا جو اپنے ساتھی کے دین پر برقرار تھا۔ (کچھ عرصے کے بعد اس پر بھی) فوت ہونے کے آثار (دکھائی دینے لگے)۔ جب اس پر وفات کی گھڑی آ پہنچی تو میں نے کہا: او فلاں! فلاں نے تو مجھے تیرے بارے میں وصیت کی تھی اور مجھے حکم دیا تھا کہ تیری صحبت میں رہوں۔ اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ تجھ پر نازل ہونے والا ہے وہ تو دیکھ رہا ہے۔ اب تو مجھے کیا وصیت کرے گا اور کیا حکم دے گا کہ میں کس کے پاس جاؤں؟ اس نے کہا: بیٹا! اللہ کی قسم! میرے علم کے مطابق تو ہمارے دین پر قائم صرف ایک آدمی ہے، جو نصیبین میں ہے۔ (میری وفات کے بعد) اس کے پاس چلے جانا۔ پس جب وہ فوت ہوا اور اسے دفن کر دیا گیا تو میں نصیبین والے صاحب کے پاس پہنچ گیا۔ میں اس کے پاس آیا اور اسے اپنے بارے میں اور اپنے (رہنما) کے حکم کے بارے میں مطلع کیا۔ اس نے کہا: میرے پاس ٹھہریئے۔ سو میں اس کے پاس ٹھہر گیا۔ میں نے اس کو اس کے سابقہ دونوں صاحبوں کے دین پر پایا۔ وہ بہترین آدمی تھا جس کے پاس میں نے اقامت اختیار کی۔ لیکن اللہ کی قسم! وہ جلد ہی مرنے کے لیے تیار ہو گیا۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو میں نے اسے کہا: او فلاں! فلاں (اللہ کے بندے) نے مجھے فلاں کی (صحبت میں رہنے کی) نصیحت کی تھی، پھر اس نے تیرے پاس آنے کی نصیحت کی۔ اب تو مجھے کس کے پاس جانے کی وصیت کرے گا یا کیا حکم دے گا؟ اس نے کہا: میرے بیٹے! ہم تو ایسے آدمی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں رکھتے، جو ہمارے دین پر قائم ہو، کہ تو اس کے پاس جا سکے ۔ البتہ ایک آدمی عموریہ میں ہے۔ وہ دین کے معاملے میں ہماری طرح کا ہے۔ اگر تو چاہتا ہے تو اس کے پاس چلے جانا، کیونکہ وہ ہمارے دین پر برقرار ہے۔ پس جب وہ بھی مر گیا اور اسے دفن کر دیا گیا، تو میں عموریہ والے کے پاس پہنچ گیا اور اسے اپنا سارا ماجرا سنایا۔ اس نے کہا: تم میرے پاس ٹھہرو۔ میں نے اس کی صحبت اختیار کر لی اور اسے اس کے اصحاب کی سیرت اور دین پر پایا۔ سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کے پاس کمائی بھی کی، حتی کہ میں کچھ گائیوں اور بکریوں کا مالک بن گیا۔ لیکن اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہونے (کی علامات دکھائیدینے لگیں)۔ جب اس کی موت کا وقت قریب آ پہنچا تو میں نے اسے کہا: او فلاں! میں فلاں بندے کے پاس تھا، فلاں نے مجھے فلاں کے بارے میں، فلاں نے فلاں کے بارے میں اور اس نے تیرے پاس آنے کی وصیت کی تھی۔ اب تو مجھے کس (کی صحبت میں رہنے) کی وصیت کرے گا؟ اور مجھے کیا حکم دے گا؟ اس نے کہا: میرے بیٹا! میں تو کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو ہمارے دین پر کاربند ہو اور جس کے بارے میں میں تجھے حکم دے سکوں۔ لیکن اب ایک نبی کی آمد کا وقت قریب آ چکا ہے، اسے دینِ ابراہیمی کے ساتھ مبعوث کیا جائے گا ، وہ عربوں کی سرزمین سے ظاہر ہو گا اور ایسے (شہر) کی طرف ہجرت کرے گا جو دو حرّوں (یعنی کالے پتھر والی زمینوں) کے درمیان ہو گا اور ان کے درمیان کھجوروں کے درخت ہوں گے۔ اس کی اور علامات بھی ہوں گی، جو مخفی نہیں ہوں گی۔ وہ ہدیہ (یعنی بطورِ تحفہ دی گئی چیز) کھائے گا، صدقہ نہیں کھائے گا اور اس کے کندھوں کے درمیان مہرِ ختمِ نبوّت ہو گی۔ اگر تجھے استطاعت ہے تو (عرب کے) ان علاقوں تک پہنچ جا۔ سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر وہ فوت ہو گیا اور اسے دفن کر دیا گیا۔ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، میں عموریہ میں سکونت پذیر رہا۔ پھر میرے پاس سے بنو کلب قبیلے کا ایک تجارتی قافلہ گزرا۔ میں نے ان سے کہا: اگر تم مجھے سرزمینِ عرب کی طرف لے جاؤ تو میں تم کو اپنی گائیں اور بکریاں دے دوں گا؟ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ پس میں نے اپنی گائیں اور بکریاںان کو دے دیں اور انھوں نے مجھے اپنے ساتھ ملا لیا۔ جب وہ مجھے وادیٔ قری تک لے کر پہنچے تو انھوں نے مجھ پر ظلم کیا اور بطورِ غلام ایکیہودی کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ پس میں اس کے پاس ٹھہر گیا۔ جب میں نے کھجوروں کے درخت دیکھے تو مجھے امید ہونے لگی کہ یہ وہی شہر ہے جو میرے ساتھی نے بیان کیا تھا، لیکنیقین نہیں آ رہا تھا۔ ایک دن اس یہودی کا چچا زاد بھائی، جس کا تعلق بنو قریظہ سے تھا، مدینہ سے اس کے پاس آیا اور مجھے خرید کر اپنے پاس مدینہ میں لے گیا۔ اللہ کی قسم! جب میں نے مدینہ کو دیکھا تو اپنے ساتھی کی بیان کردہ علامات کی روشنی میں اس کو پہچان گیا (کہ یہی خاتم النبین کا مسکن ہو گا)۔ میں وہاں فروکش ہو گیا۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ مکرمہ میں مبعوث کر دیا، جتنا عرصہ انھوں نے وہاں ٹھہرنا تھا، وہ ٹھہرے۔ لیکن میں نے ان (کی آمد) کا کوئی تذکرہ نہیں سنا، دوسری بات یہ بھی ہے کہ میں غلامی والے شغل میں مصروف رہتا تھا۔ بالآخر نبی کریمa ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئے۔ اللہ کی قسم! (ایک دن) میں اپنے آقا کے پھل دار کھجور کے درخت کی چوٹی پر کوئی کام کر رہا تھا، میرا مالک بیٹھا ہوا تھا، اس کا چچازاد بھائی اچانک اس کے پاس آیا اور کہا: او فلاں! اللہ تعالیٰ بنوقیلہ کو ہلاک کرے، وہ قباء میں مکہ سے آنے والے ایک آدمی کے پاس جمع ہیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ نبی ہے۔ جب میں نے اس کییہ بات سنی تو مجھ پر اس قدر کپکپی طاری ہو گئی کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ اپنے مالک پر گر جاؤں گا۔ میں کھجور کے درخت سے اترا اور اس کے چچا زاد بھائی سے کہنے لگا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ تم کیا کہہ رہے ہو؟ اس بات سے میرے آقا کو غصہ آیا اور اس نے مجھے زور سے مکا مارا اور کہا: تیرا اس کی بات سے کیا تعلق ہے۔ جا، اپنا کام کر۔ میں نے کہا: کوئی تعلق نہیں، بس ذرا بات کی چھان بین کرنا چاہتا تھا۔ سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میرے پاس میرا جمع کیا ہوا کچھ مال تھا۔ جب شام ہوئی تو میں نے وہ مال لیا اور قباء میں رسول اللہ a کے پاس پہنچ گیا۔ میں آپ a پر داخل ہوا اور کہا: مجھے یہ بات موصول ہوئی ہے کہ آپ کوئی صالح آدمی ہیں اور آپ کے اصحاب غریب اور حاجتمند لوگ ہیں۔ یہ میرے پاس کچھ صدقے کا مال ہے، میں نے آپ لوگوں کو ہی اس کا زیادہ مستحق سمجھا ہے۔ پھر میں نے وہ مال آپ a کے قریب کیا۔ لیکن آپ a نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ’’تم لوگ کھا لو۔‘‘ آپa نے خود اپنا ہاتھ روک لیا اور نہ کھایا۔ میں نے دل میں کہا کہ (اس بندے کے نبی ہونے کی) ایک نشانی تو (پوری ہو گئی ہے)۔ پھر میں چلا گیا اور مزید کچھ مال جمع کیا۔ اب رسول اللہ a مدینہ میں منتقل ہو چکے تھے۔ پھر (وہ مال لے کر) میں آپ a کے پاس آیا اور کہا: میرا آپ کے بارے میں خیال ہے کہ آپ صدقے کا مال نہیں کھاتے، اس لیےیہ ہدیہ (یعنی تحفہ) ہے، میں اس کے ذریعےآپ کی عزت کرنا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ a نے وہ چیز خود بھی کھائی اور اپنے صحابہ کو بھی کھانے کاحکم دیا، سو انھوں نے بھی کھائی۔ (یہ منظر دیکھ کر) میں نے دل میں کہا: دو علامتیں (پوری ہو گئیں ہیں)۔ (سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: )میں (تیسری دفعہ) جب رسول اللہ a کے پاس آیا تو وہ ’’بَقِیْعُ الْغَرْقَد‘‘ میں تھے۔آپ a کسی صحابی کے جنازے کی خاطر وہاں آئے ہوئے تھے، آپ a پر دو چادریں تھیں۔ آپa اپنے اصحاب میں تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ a کو سلام کہا، پھر آپ کی پیٹھ پر نظر ڈالنے کے لیے گھوما، تاکہ (دیکھ سکوں کہ) آیا وہ (ختمِ نبوّت والی) مہر بھی ہے، جس کی پیشین گوئی میرے ساتھی نے کی تھی۔ جب رسول اللہ a نے مجھے گھومتے ہوئے دیکھا تو آپ پہچان گئے کہ میں آپ a کے کسی وصف کی جستجو میں ہوں، پس آپ a نے اپنی چادر اپنی پیٹھ سے ہٹا دی، میں نے مہرِنبوت دیکھی اور اسے پہچان گیا۔ پھر میں آپa پر ٹوٹ پڑا اور آپ کے بوسے لینے اور رونے لگا۔ رسول اللہa نے مجھے فرمایا: ’’پیچھے ہٹو۔‘‘ پس میں پیچھے ہٹ گیا۔ ابن عباس! پھر میں نے آپ a کو اپنا وہ سارا ماجرا سنایا، جو تجھے سنایا ہے اور رسول اللہ a کو یہ بات اچھی لگی کہ یہ واقعہ آپ کے صحابہ بھیسنیں۔ پھر سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غلامی کی وجہ سے مشغول رہے اور غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں رسول اللہa کے ساتھ شریک نہ ہو سکے۔ (سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:) ایک دن رسول اللہa نے مجھے فرمایا: ’’سلمان! (اپنے مالک سے) مکاتبت کر لو۔‘‘ پس میں نے اپنے آقا سے اس بات پر مکاتبت کر لی کہ میں اس کے لیے تین سو کھجور کے چھوٹے درخت زمین سے اکھاڑ کر اس کی جگہ پر لگاؤں گا اور (مزید اسے) چالیس اوقیے دوں گا۔ رسول اللہa نے فرمایا: ’’اپنے بھائی (سلمان) کی مدد کرو۔‘‘ لوگوں نے مدد کرتے ہوئے مجھے کھجوروں کے درخت دیے۔ کسی نے تیس، کسی نے بیس،کسی نے پندرہ، کسی نے دس، الغرض کہ ہر ایک نے اپنی استطاعت کے بقدر مجھے کھجوروں کے چھوٹے درخت دیے، حتی کہ میرے پاس تین سو کھجوریں جمع ہو گئیں۔ رسول اللہa نے مجھے فرمایا: ’’سلمان! جاؤ اور گڑھے کھودو۔ جب فارغ ہو جاؤ تو میرے پاس آ جانا، (یہ پودے) میں خود لگاؤں گا۔‘‘ (سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:) میں نے گڑھے کھودے، میرے ساتھیوں نے میری معاونت کی۔ جب میں فارغ ہوا تو آپa کے پاس آیا اور آپ کو اطلاع دی۔ رسول اللہa میرے ساتھ نکلے۔ ہم (کھجوروں کے وہ) بوٹے آپa کے قریب کرتے تھے اور آپ اپنے ہاتھ سے ان کو لگا دیتے تھے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے! ان میں سے کھجور کا ایک پودا بھی نہ مرا۔ اب میں کھجور کے چھوٹے درخت تو لگا چکا تھااور (چالیس اوقیوں والا) مال باقی تھا۔ کسی غزوے سے رسول اللہ a کے پاس مرغی کے انڈے کے بقدر سونا لایا گیا۔ آپ aنے پوچھا: ’’مکاتبت کرنے والا (سلمان) فارسی کیا کر رہا ہے؟‘‘ مجھے بلایا گیا، آپ aنے فرمایا: ’’سلمان! یہ لو اور اس کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کرو۔‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ پر جتنا (قرضہ) ہے، اس سے کیا اثر ہو گا؟ (یعنی قرضہ بہت زیادہ ہے)۔ آپ a نے فرمایا: ’’یہ تو لو، عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارا (قرضہ) بھی ادا کر دے گا۔‘‘ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے! میں نے وہ لے لیا اور اس میں سے ان آقاؤں کو چالیس اوقیے تول کر دے دئیے ، ان کا پورا حق ادا کر دیا اور آزا د ہو گیا۔ پھر میں رسول اللہ a کے ساتھ غزوۂ خندق میں حاضر ہوا اور اس کے بعد کوئی غزوہ مجھ سے نہ رہ سکا۔
Jam e Tirmazi
826
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَهَلَّ فَانْطَلَقَ يُهِلُّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَزِيدُ مِنْ عِنْدِهِ فِي أَثَرِ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے تلبیہ پکارا اور تلبیہ پکارتے ہوئے چلے، وہ کہہ رہے تھے: «لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
Nafi` narrated: When Ibn Umar would say the talbiyah he would continue saying: Labbaik Allahumma labbaik. Labbaik la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni`mata laka wal-mulk, la sharika laka (I respond to Your call O Allah! I respond to Your call, You have no partner, I respond to You call. All praise, thanks and blessings are for You. And You have no partners with You). He said: Abdullah bin Umar would say: 'This is the Talbiyah of the Messenger of Allah.' He would himself add the following after the Talbiyah of the Messenger of Allah: Labbaik labbaika wa-sa'daik, wal-khairuu fi yadaik. Labbaika war-raghba'u ilaika wal-amal ('I respond to Your call, and I am obedient to Your orders, all good is in Your Hands. I respond to Your call and the requests and deeds are for You).'
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے اخیر میں اپنی طرف سے ان الفاظ کا اضافہ کرتے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں حاضر ہوں تیری خدمت میں اور خوش ہوں تیری تابعداری پر اور ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے اور تیری طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Musnad Ahmad
32
۔ (۳۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ شَہِدَ مُعَاذًا حِیْنَ حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ یَقُوْلُ: اِکْشِفُوْا عَنِّی سَجْفَ الْقُبَّۃِ، أُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أُحَدِّثَکُمُوْہُ إِلَّا أَنْ تَتَّکِلُوْا، سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِہِ أَوْ یَقِیْنًا مِنْ قَلْبِہِ لَمْ یَدْخُلِ النَّارَ، وَقَالَ مَرَّۃً: دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَلَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۱۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ساتھ سیدنا معاذ ؓکی وفات کے وقت ان کے پاس حاضر تھا، انھوں نے کہا: قبّے کا پردہ اٹھا دو، میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس سے پہلے یہ حدیث بیان کرنے سے یہ مانع تھا کہ تم توکل کر لو گے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دل کے اخلاص یا (راوی نے کہا) یقین سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، اور ایک دفعہ کہا: تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور آگ اس کو نہیں چھو سکے گی۔
Musnad Ahmad
44
۔ (۴۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُوْجِبَتَانِ، مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۶۸)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو واجب کر دینے والی خصلتیں ہیں، جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔