مسنداحمد

Musnad Ahmad

رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب

رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان


۔ (۱۶۸۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلاَۃِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : خَلِّلْ أَصَابِعَ یَدَیْکَ وَرِجْلَیْکَ،یَعْنِی إِسْبَاغَ الْوُضُوْئِ، وَکَانَ فِیْمَا قَالَ لَہُ،: إِذَا رَکَعْتَ فَضَعْ کَفَّیْکَ عَلٰی رُکْبَتَیْکَ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ ( وَفِی رِوَایَۃٍ حَتّٰی تَطْمَئِنَّا) وَإِذَا سَجَدْتَّ فَأَمْکِنْ جَبْہَتَکَ مِنَ الْأَرْضِ حَتّٰی تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۴)

سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز سے متعلقہ کسی امر کا سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کر۔ یعنی اچھی طرح وضو کیا کر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے یہ بھی فرمایا تھا: جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ حتی کہ وہ اپنی جگہ پر مطمئن ہو جائیں، پھر جب تو سجدہ کرے تو اپنے ماتھے کو زمین پر جگہ دے حتی کہ تو زمین کا حجم محسوس کرے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۶۸۱) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۴۷، والترمذی: ۳۹ مختصرا (انظر: ۲۶۰۴)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ماتھے کو دوران سجدہ اس طرح رکھا جائے کہ وہ زمین پر اچھی طرح ٹک جائے اور یہ اس وقت ممکن ہو گا کہ جب نماز میں اعتدال اور سکون ہو گا اور ناک کو بھی زمین پر رکھ دیا جائے گا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شروع میں مسنون عمل یہ تھا کہ دورانِ رکوع ہاتھوں کو تشبیک دے کر ان کو گھٹنوںکے درمیان رکھا جائے اور دو مقتدی امام کی دائیں بائیں جانب کھڑے ہوں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نیا حکم اور عمل یہ پیش کیا کہ رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر اس طرح رکھا جائے کہ ان سے ان کو پکڑرکھا ہو اور ایک مقتدی امام کے دائیں جانب اور دو اس کے پیچھے کھڑے ہوں گے۔ اب امت ِ مسلمہ میں دوسرے طریقے کے مطابق ہی عمل ہو رہا ہے۔