TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1681 - رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان - رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 5 in this chapter
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
۔ (۱۶۸۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلاَۃِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : خَلِّلْ أَصَابِعَ یَدَیْکَ وَرِجْلَیْکَ،یَعْنِی إِسْبَاغَ الْوُضُوْئِ، وَکَانَ فِیْمَا قَالَ لَہُ،: إِذَا رَکَعْتَ فَضَعْ کَفَّیْکَ عَلٰی رُکْبَتَیْکَ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ ( وَفِی رِوَایَۃٍ حَتّٰی تَطْمَئِنَّا) وَإِذَا سَجَدْتَّ فَأَمْکِنْ جَبْہَتَکَ مِنَ الْأَرْضِ حَتّٰی تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۴)
سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز سے متعلقہ کسی امر کا سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کر۔ یعنی اچھی طرح وضو کیا کر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے یہ بھی فرمایا تھا: جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ حتی کہ وہ اپنی جگہ پر مطمئن ہو جائیں، پھر جب تو سجدہ کرے تو اپنے ماتھے کو زمین پر جگہ دے حتی کہ تو زمین کا حجم محسوس کرے۔
1681
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۶۸۱) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۴۷، والترمذی: ۳۹ مختصرا (انظر: ۲۶۰۴)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ماتھے کو دوران سجدہ اس طرح رکھا جائے کہ وہ زمین پر اچھی طرح ٹک جائے اور یہ اس وقت ممکن ہو گا کہ جب نماز میں اعتدال اور سکون ہو گا اور ناک کو بھی زمین پر رکھ دیا جائے گا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شروع میں مسنون عمل یہ تھا کہ دورانِ رکوع ہاتھوں کو تشبیک دے کر ان کو گھٹنوںکے درمیان رکھا جائے اور دو مقتدی امام کی دائیں بائیں جانب کھڑے ہوں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نیا حکم اور عمل یہ پیش کیا کہ رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر اس طرح رکھا جائے کہ ان سے ان کو پکڑرکھا ہو اور ایک مقتدی امام کے دائیں جانب اور دو اس کے پیچھے کھڑے ہوں گے۔ اب امت ِ مسلمہ میں دوسرے طریقے کے مطابق ہی عمل ہو رہا ہے۔

Related Chapters

154
1
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
2
چوتھی مرتبہ شرابی کو قتل کرنے اور پھر اس حکم کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
3
ممنوعہ نکاحوں کا بیان نکاح متعہ کی رخصت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
4
Chapter: The recommendation to place the hands on the knees when bowing, and the abrogation of tatbiq
رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا افضل ہے، تطبیق (ہتھیلیوں کو جوڑ کر، انگلیوں کو پیوستہ کر کے، انہیں گھٹنوں کے درمیان رکھنا) منسوخ ہے
Sahih Muslim
5
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
6
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
7
اس شخص کا بیان جو صف کے بغیر رکوع کرے پھر چل کر صف میں مل جائے
Musnad Ahmad
8
عورتوں کا عیدین کی طرف جانے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
9
میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
10
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
11
ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
12
Chapter: Mut'ah Marriage: It was permitted then abrograted, then permitted then abrogated, and it will remain Forbidden until the day of resurrection
نکاح متعہ کا حکم اور اس بات کی وضاحت کہ وہ جائز قرار دیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر دوبارہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور (اب) اس کی حرمت قیامت کے دن تک کے لیے برقرار ہے
Sahih Muslim
13
Chapter: The command to kill dogs, and its abrogation. The prohibition of keeping dogs, except for hunting, farming, (herding) livestock and the like
کتوں کو مارڈالنے کا حکم (پھر )اس کے منسوخ ہونے کی وضاحت اور اس بات کی وضاحت کہ شکار کےلیے اور کھیتی یا جانور وں کی حفاظت اور اسی طرح کے کسی کام کے سوا انھیں پالنا حرام ہے
Sahih Muslim
14
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
Sahih Muslim
15
رکوع اور سجدہ میں پڑھی جانے والی دعا (تسبیح) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
16
تطبیق یعنی رکوع میں ہاتھوں کی انگلیوں کو ملا کر دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
تطبیق کی منسوخی کا بیان۔
Sunnan Nisai
18
Chapter: What Has Been Related About The Takbir For The Bowing And Prostration Positions
باب: رکوع اور سجدہ جاتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: Something Else
باب: رکوع اور سجود کے وقت ”اللہ اکبر“ کہنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
20
Chapter: Raising The Hands For the Bowing Position
باب: رکوع کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے (رفع یدین) کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Placing the Hands On The Knees While Bowing
باب: رکوع میں دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Him (pbuh) holding His Forearms Away From His Sides While Bowing.
باب: رکوع میں اپنے ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih While Bowing And Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں تسبیح کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Prohibiting Recitations While Bowing and Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں قرأت کی ممانعت
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About One Who Does Not Bring His Back To Rest While Bowing and Prostrating
باب: جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What A Man Is To Say When Raising His Head From the Bowing Position
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت آدمی کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
27
Chapter: Something Else About That
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت جو کہنا ہے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Bringing The Backs To Rest When Raising One's Head From The Prostration And Bowing Positions
باب: رکوع اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت پیٹھ سیدھی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Bowing And Prostrating Before The Imam
باب: امام سے پہلے رکوع اور سجدہ کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Performing Many Bowings and Prostrations [And Its Virtues]
باب: رکوع اور سجدہ کثرت سے کرنے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
31
Chapter: [What Has Been Related] About The Abrogation Of Speech During The Salat
باب: نماز میں بات چیت کے منسوخ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
بَاب الرُّكُوع
رکوع کا بیان
Mishkat
33
مردار کے چمڑے اور پٹھے سے استفادہ کرنے کے ناجائز ہونے کا بیان اور عدم جواز اور جواز پر دلالت کرنے والی احادیث میں جمع و تطبیق کا بیان
Musnad Ahmad
34
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
Musnad Ahmad
35
تیمم کی مشروعیت کے سبب اور اس کے طریقے کا بیان
Musnad Ahmad
36
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
37
فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
Musnad Ahmad
38
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
Musnad Ahmad
39
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
Musnad Ahmad
40
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
Musnad Ahmad
41
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
جس نے رکوع وسجود پورا نہ کیا، اس کی نماز کے باطل ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
43
رکوع میں ذکر کا بیان
Musnad Ahmad
44
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
45
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
46
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
Musnad Ahmad
47
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
Musnad Ahmad
48
صبح میں قنوت اور اس کا سبب اورکیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟
Musnad Ahmad
49
(۶)مفصل سورتوں میں سجدۂ تلاوت کی مشروعیت کے قائلین کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
50
سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Musnad Ahmad
1793
۔ (۱۷۹۳) عَنْ عَلَیِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِیِّ أَنَّہُ قَالَ: رَآنِیَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصٰی فِی الصَّلاَۃِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَہَانِیْ، وَقَالَ: اِصْنَعْ کَمَا کَاَن رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ۔ قُلْتُ: وَکَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ؟ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا جَلَسَ فِی الصَّلاَۃِ وَضَعَ کَفَّہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی وَقَبَضَ أَصَابِعَہُ کُلَّہَا وَأَشَاَر بِإِصْبَعِہِ الَّتِی تَلِی الإِْبْھَامَ وَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْرٰی۔ (مسند احمد: ۵۳۳۱)
علی بن عبد الرحمن معاوی کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھ لیا، جب وہ فارغ ہوئے تو مجھے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا: تم اس طرح کیا کرو جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیسے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں بیٹھتے تو دائیں ہتھیلی دائیں ران پر رکھتے اور ساری انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے اور بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے۔
Musnad Ahmad
1777
۔ (۱۷۷۷) عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَۃُ بِیَدِیْ وَحَدَّثَنِیْ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ أَخَذَ بِیَدِہِ وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَذَ بِیَدِ عَبْدِاللّٰہِ فَعَلَّمَہُ التَّشَہُّدَ فِی الصَّلاَۃِ، فَقَالَ: ((قُلْ اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ (کَمَا تَقَدَّمَ إِلٰی قَوْلِہِ) وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ قَالَ: فَإِذَا قَضَیْتَ ھٰذَا أَوْقَالَ فَإِذَا فَعَلْتَ ھٰذَا فَقََدْ قَضَیْتَ صَلَاتَکَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُوْمُ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ۔)) (مسند احمد: ۴۰۰۶)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کاہاتھ پکڑا اور نماز میں (پڑھا جانے والے) تشہد کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: کہو: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ ……أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہُ (سابقہحدیث والا تشہد بیان کیا)۔ پھر فرمایا: جب تو یہ پورا کرلے توتونے اپنی نماز پوری کرلی، اگر کھڑا ہونا چاہے توکھڑا ہوجا اور اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھا رہ۔
Musnad Ahmad
1936
۔ (۱۹۳۶) عَنْ زِیَادِ بْنِ صُبَیْحٍ الْحَنَفِیِّ قَالَ: کُنْتُ قَائِمًا أُصَلِّیْ إِلَی الْبَیْتِ وَشَیْخٌ إِلٰی جَانِبِیْ فَأَطَلْتُ الصَّلاَۃَ فَوَضَعْتُ یَدِیْ عَلٰی خَصْرِیْ، فَضَرَبَ الشَّیْخُ صَدْرِیْ بِیَدِہِ ضَرْبَۃً لَایَأْلُوْ، فَقُلْتُ فِی نَفْسِیْ: مَارَابَہُ مِنِّیْ، فَأَسْرَعْتُ الإِْنْصِرَافَ، فَإِذَا غُلاَمٌ خَلْفَہُ قَاعِدٌ، فَقُلْتُ: مَنْ ھٰذَا الشَّیْخُ؟ فَقَالَ: ھَذَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ، فَجَلَسْتُ حَتَّی انْصَرَفَ فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ مَا رَابَکَ مِنِّیْ؟ قَالَ: أَنْتَ ھُوَ؟ قُلْتُ: نَعْمَ، قَالَ: ذَاکَ الصَّلْبُ فِیْ الصَّلاَۃِ، کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْھٰی عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۴۸۴۹)
زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں: میں بیت اللہ کی طرف نماز پڑھ رہا تھا، جبکہ میری ایک جانب ایک بزرگ آدمی تھا، میں نے نماز کو لمبا کیا، اس لیے اپنا ہاتھ کوکھ پر رکھ لیا، لیکن اس شیخ نے اپنے ہاتھ سے میرے سینے پر بڑی لاپرواہی سے ضرب لگائی، میں نے اپنے دل میںکہا: اس کو میرے بارے میں کیا شک ہوا ہے، بہرحال میں جلدی جلدی نماز سے فارغ ہوا اور دیکھا کہ ایک لڑکا اُس کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میں نے اسے پوچھا: یہ بزرگ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، پس میں بیٹھا رہا، یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو گئے، میں نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ کو میرے بارے میں کیا گمان ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: تم وہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: نماز میں یہ تو سولی پر لٹکنا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے منع کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
1937
۔ (۱۹۳۷) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ ھَارُوْنَ عَنْ ھِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نُھِیَ عَنْ الْإِخْتِصَارِفِی الصَّلاَۃِ، قَالَ: قُلْنَا لِھِشَامٍ: مَا الإِْخْتِصَارُ؟ قَالَ: یَضَعُیَدَہُ عَلٰی خَصْرِہِ وَھُوَ یُصَلِّیْ، قَالَ یَزِیْدُ: قُلْنَا لِھِشَامٍ: ذَ کَرَہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ بِرَأْسِہِ: نَعَمْ ۔ (مسند احمد: ۷۸۸۴)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نماز میں اختصار سے منع کیا گیا ہے۔ راوی نے کہا: ہم نے ہشام سے پوچھا: اختصار کیاہے؟ انہوں نے کہا: بندے کا کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنا۔ یزید نے کہا: ہم نے ہشام سے پوچھا کہ انہوں نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کی تھی؟ انہوں نے سر سے اشارہ کرتے ہوئے ہاں میں جواب دیا۔
Musnad Ahmad
1956
۔ (۱۹۵۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: رَأَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَسْتَشْرِفُ لِشَیْئٍ وَھُوَ فِی الصَّلاَۃِ،یَنْظُرُ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۴۰۸۳)
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا وہ کسی چیز کے لئے نظر اٹھاتے، جبکہ وہ نماز میں ہوتے اور اس کی طرف دیکھ لیتے تھے۔
Musnad Ahmad
1985
۔ (۱۹۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ (یَعْنِیْ اِبْنَ مَہْدِیٍّ) عَنْ سُفْیَانَ (یَعْنِیْ الثَّوْرِیَّ) قَالَ: سَمِعْتُ أَبِیْیَقُوْلُ: سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو اَلشَّیْبَانِیَّ عَنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا إِغْرَارَ فِی الصَّلاَۃِ۔)) فَقَالَ: إِنَّمَا ھُوَ لَاغِرَارَ فِی الصَّلاَۃِ، وَمَعْنَی غِرَارَ یَقُولُ لاَیَخْرُجُ مِنْہَا وَھُوَ یَظُنُّ أَنَّہُ قَدْ بَقِیَ عَلَیْہِ مِنْہَاشَیْئٌ حَتّٰییَکُونَ عَلَی الْیَقِیْنِ وَالْکَمَالِ۔ (مسند احمد: ۹۹۳۸) ذکر الامام احمد ھذا القول بعد الحدیث السابق: ۸۸۷
سفیان ثوری کہتے ہیں: میرے باپ نے ابو عمرو شیبانی سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قول لَا إِغْرَارَ فِی الصَّلاَۃِ۔ (نمازمیںنقص پیدا کرنا نہیں ہے۔) کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا: یہ روایت اس طرح ہے: لَا غِرَارَ فِی الصَّلَاۃِ۔ اور لَا غِرَار کا معنییہ ہے کہ بندہ اس حال میں نماز سے نہ نکلے کہ اسے یہ گمان بھی ہو کہ اس کی نماز کا کچھ حصہ باقی ہے، (وہ اس وقت نکلے) جب اسے مکمل ہونے کا یقین ہو۔