TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب - رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب - Book 28 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 28 of Musnad Ahmad, with 13 chapters and 79 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

79 Hadith · 13 Chapters
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
۔ (۱۶۷۷) عَنِ ابْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَۃَ وَالْأَ سْوَدِ أَنَّہُمَا کَانَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَتَأَخَّرَ عَلْقَمَۃُ وَالْأَسْوَدُ فَأَخَذَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِأَیْدِیْہِمَا فَأَقَامَ أَحَدَھُمَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَالْآخَرَ عَنْ یَسَارِہِ ثُمَّ رَکَعَا فَوَضَعَا أَیْدِیَہُمَا عَلٰی رُکَبِہِمَا فَضَرَبَ أَیْدِیَہُمَا ثُمَّ طَبَّقَ بَیْنَیَدَیْہِ وَشَبَّکَ وَجَعَلَہُمَا بَیْنَ فَخِذَیْہِ وَقاَلَ رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَہُ۔ (مسند احمد: ۳۹۲۷)
ابن اسودبیان کرتے ہیں: علقمہ اور اسود دونوں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھے، ایک نمازکا وقت ہو گیا، علقمہ اور اسود پیچھے (ہوکر اور صف بنا کر کھڑے) ہوگئے، لیکن سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان دونوں کے ہاتھ پکڑے اور ایک کو دائیں طرف اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کر دیا، پھر ان دونوں نے رکوع کیا اور (سنت کے مطابق) اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، لیکن سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے ہاتھوں پر مارا اور پھر اپنے ہاتھوں کے درمیان تطبیق اور تشبیک ڈال کر انہیں اپنی رانوں کے درمیان کرلیا اور کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا تھا۔
Takhreej
(۱۶۷۷)تخریج:أخرجہ مسلم: ۵۳۴ (انظر: ۳۹۲۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب دو مقتدی ہوں تو وہ امام کی دائیں بائیں کھڑے ہوں گے، اس سے زیادہ تعداد امام کے پیچھے کھڑی ہو گی اور رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر نہیں رکھا جائے گا، بلکہ انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر گھٹنوں کے درمیان ہاتھ رکھے جائیں گے، اسی طریقے کو تطبیق کہتے ہیں۔ لیکنیہ دونوں امور منسوخ ہو چکے ہیں۔ بعد والے احکام کے مطابق ایک مقتدی امام کے ساتھ کھڑا ہو گا، دو ہونے کی صورت میں پیچھے کھڑے ہوں گے اور رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا جائے گا۔ وضاحت اگلی روایت میں آ رہی ہے۔
1677
Sahih
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
۔ (۱۶۷۸) عَنِ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) قَالَ: إِذَا رَکَعَ أَحَدُ کُمْ فَلْیَفْرُشْ ذِرَاعَیْہِ فَخِذَیْہِ وَلْیَحْنَأْ ثُمَّ طَبَّقَ بَیْنَ کَفَّیْہِ، فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی اخْتِلاَفِ أَصَابِعِ رَسُوْلِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ثُمَّ طَبَّقَ بَیْنَ کَفَّیْہِ فَأَرَاھُمْ۔ (مسند احمد: ۳۵۸۸)
اسود اور علقمہ دونوں سے مروی ہے کہ: سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو وہ اپنے بازؤں کو اپنی رانوں پر بچھائے اور کمر کو جھکا لے، پھر انھوں نے اپنی ہتھیلیوں کے درمیان تطبیق ڈالی اور کہا: گویا میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے میں داخل ہیں، پھر انھوں نے اپنی ہتھیلیوں کے درمیان تطبیق ڈال کر انہیں دکھایا۔
Takhreej
(۱۶۷۸) تخریج: انظر الحدیث رقم: ۶۲۱ (انظر: ۳۵۸۸)
1678
Sahih
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
۔ (۱۶۷۹) عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (بْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلاَۃَ فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ ثُمَّ رَکَعَ وَطَبَّقَ بَیْنَیَدَیْہِ وَجَعَلَہُمَا بَیْنَ رُکْبَتَیْہِ، فَبَلَغَ سَعْدًا فَقَالَ: صَدَقَ أَخِیْ، قَدْ کُنَّا نَفْعَلُ ذٰلِکَ ثُمَّ أُمِرْنَا بِہٰذَا وَأَخَذَ بِرُکْبَتَیْہِ۔ (مسند احمد: ۳۹۷۴)
علقمہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تکبیر کہی اور اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، پھر رکوع کیا اور اپنے ہاتھوں کے درمیان تطبیق ڈال کر انہیں اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ جب اس بات کا سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو علم ہوا تو انھوں نے کہا: میرے بھائی (ابن مسعود) نے سچ کہا ہے، لیکن حقیقتیہ ہے کہ ہم ایسا کیا کرتے تھے،پھر ہمیں اس چیز کا حکم دے دیا گیا تھا، پھر انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے اپنے گھٹنے پکڑے۔
Takhreej
(۱۶۷۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابوداود: ۷۴۷، والنسائی: ۲/ ۱۸۴، وابن خزیمۃ: ۵۹۵، وانظر الحدیث رقم: ۶۲۱ (انظر: ۳۹۷۴)
1679
Sahih
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
۔ (۱۶۸۰) عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ (بِنْ أَبِیْ وَقَّاصٍ) قَالَ: کُنْتُ إِذَا رَکَعْتُ وَضَعْتُ یَدَیَّ بَیْنَ رُکْبَتَیَّ۔ قَالَ: فَرَآنِیْ سَعْدُ بِنُ مَالِکٍ فَنَہَانِیْ وَقَالَ: إِنَّا کُنَّا نَفْعَلُہُ فَنُہِیْنَا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۶)
مصعب بن سعد کہتے ہیں: میں جب رکوع کرتا تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھ لیتا، جب سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے دیکھا تو انھوں نے کہا:: ہم بھی ایسا کیا کرتے تھے، لیکن پھر ہمیں اس سے منع کردیا گیا تھا۔
Takhreej
(۱۶۸۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۹۰، ومسلم: ۵۳۵ (انظر: ۱۵۷۰، ۱۵۷۶)
1680
Sahih
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
۔ (۱۶۸۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلاَۃِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : خَلِّلْ أَصَابِعَ یَدَیْکَ وَرِجْلَیْکَ،یَعْنِی إِسْبَاغَ الْوُضُوْئِ، وَکَانَ فِیْمَا قَالَ لَہُ،: إِذَا رَکَعْتَ فَضَعْ کَفَّیْکَ عَلٰی رُکْبَتَیْکَ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ ( وَفِی رِوَایَۃٍ حَتّٰی تَطْمَئِنَّا) وَإِذَا سَجَدْتَّ فَأَمْکِنْ جَبْہَتَکَ مِنَ الْأَرْضِ حَتّٰی تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۴)
سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز سے متعلقہ کسی امر کا سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کر۔ یعنی اچھی طرح وضو کیا کر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے یہ بھی فرمایا تھا: جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ حتی کہ وہ اپنی جگہ پر مطمئن ہو جائیں، پھر جب تو سجدہ کرے تو اپنے ماتھے کو زمین پر جگہ دے حتی کہ تو زمین کا حجم محسوس کرے۔
Takhreej
(۱۶۸۱) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۴۷، والترمذی: ۳۹ مختصرا (انظر: ۲۶۰۴)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ماتھے کو دوران سجدہ اس طرح رکھا جائے کہ وہ زمین پر اچھی طرح ٹک جائے اور یہ اس وقت ممکن ہو گا کہ جب نماز میں اعتدال اور سکون ہو گا اور ناک کو بھی زمین پر رکھ دیا جائے گا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شروع میں مسنون عمل یہ تھا کہ دورانِ رکوع ہاتھوں کو تشبیک دے کر ان کو گھٹنوںکے درمیان رکھا جائے اور دو مقتدی امام کی دائیں بائیں جانب کھڑے ہوں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نیا حکم اور عمل یہ پیش کیا کہ رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر اس طرح رکھا جائے کہ ان سے ان کو پکڑرکھا ہو اور ایک مقتدی امام کے دائیں جانب اور دو اس کے پیچھے کھڑے ہوں گے۔ اب امت ِ مسلمہ میں دوسرے طریقے کے مطابق ہی عمل ہو رہا ہے۔
1681
Sahih
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
۔ (۱۶۸۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الطَفَاوِیُّ ثَنَا سَعْیِدٌ الْجُرَیْرِیُّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی تَمِیْمٍ وَأَحْسَنَ الثَّنَائَ عَلَیْہِ عَنْ أَبِیْہِ أَوْ عَمَّہِ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَأَلْنَاہُ عَنْ قَدْرِ رُکُوْعِہٖوَسُجُوْدِہٖ،فَقَالَ: قَدْرَمَایَقُوْلُ الرَّجُلُ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ ثَلاَثًا۔ (مسند احمد: ۲۰۳۱۸)
بنو تمیم کا ایک آدمی اپنے باپ یا چچا سے روایت کرتا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی، (یہ سن کر) ہم نے ان سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رکوع و سجود کی مقدار کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے کہا: اتنا ہوتا تھا کہ کوئی آدمی تین دفعہ کہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ۔
Takhreej
(۱۶۸۲) تخریج: اسنادہ ضیعف لجھالۃ الرجل التمیمی۔ أخرجہ البھیقی: ۲/ ۱۱۱ (انظر: ۲۰۰۵۹)
1682
Zaeef
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
۔ (۱۶۸۳) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا خَلَفُ بِنُ الْوَلِیْدِ ثَنَا خَالِدٌ عَنْ سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ عَنِ السَّعْدِیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَمِّہٖقَالَ: رَمَقْتُرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی صَلاَتِہِ فَکَانَ یَمْکُثُ فِی رُکُوْعِہٖ وَسُجُوْدِہٖقَدْرَمَایَقُوْلُ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖثَلاَثًا۔ (مسنداحمد: ۲۲۶۸۵)
۔ (دوسری سند)ان کا باپ ان کے چچے سے روایت کرتا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز میں بغور دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع وسجود میں اتنی دیر ٹھہرتے تھے، جیسے کوئی آدمی تین دفعہ یہ کلمہ کہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ۔
Takhreej
(۱۶۸۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ السعدی ومن فوقہ۔ أخرجہ ابوداود: ۸۸۵ (انظر: ۲۲۳۲۹)
1683
Zaeef
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
۔ (۱۶۸۴) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَشْبَہَ صَلاَۃً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ھٰذَا الغْلُاَمِ یَعْنِیْ عُمَرَ ابْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ،، قَالَ: فَحَزَرْنَا فِی الرُّکَوْعِ عَشْرَ تَسْبِیْحَاتٍ وَفِی السُّجُودِ عَشْرَ تَسْبِیْحَاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۹۰)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اس نوجوان (یعنی عمر بن عبد العزیز) کی بہ نسبت کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا، جو نماز میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ زیادہ مشابہ ہو۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: ہم نے اس نوجوان کے رکوع و سجود میں دس دس دفعہ تسبیحات کا اندازہ لگایا۔
Takhreej
(۱۶۸۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، وھب بن مانوس فی عداد المجھولین۔ أخرجہ ابوداود: ۸۸۸، والنسائی: ۲/ ۲۲۴ (انظر: ۱۲۶۶۱)
1684
Zaeef
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
۔ (۱۶۸۵) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَتْ صَلاَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا صَلّٰی فَرَکَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ، وَإِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ السُّجُودِ، وَبَیْنَ السَّجْدَ تَیْنِ قَرِیْبًا مِنَ السَّوَائِ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۶۱)
سیدنابراء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز پڑھتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رکوع، رکوع سے سر اٹھا کر کھڑا ہونا، سجدہ اور سجدوں سے سر اٹھا کر بیٹھنایعنی دو سجدوں کے درمیان والا جلسہ تقریباًبرابر برابر ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۷۹۲، صحیح مسلم: ۴۷۱)
Takhreej
(۱۶۸۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۹۲، ومسلم: ۴۷۱ (انظر: ۱۸۴۶۹)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت میں ان امور کے ساتھ قیام اور تشہد کا بھی ذکر ہے، یعنییہ تمام چیزیں برابر برابر ہوتی تھیں، بہرحال اس صورت کو بعض حالات پر محمول کریں گے، کیونکہ زیادہ تر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قیام طویل ہوتا تھا، اسی طرح تشہد بھی رکوع و سجود اور قومہ و جلسہ کی بہ نسبت لمبا ہوا کرتا تھا، جیسا نمازوں کی قراء ت والے ابواب مین یہ تفصیل گزر چکی ہے۔
1685
Sahih
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
۔ (۱۶۸۶) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یَحْیَی بْنَ سَعَیْدٍ الْأُمَوِیُّ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ ثَنَا أَبُو الْعَالِیَۃِ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لِکُلِّ سُوْرَۃٍ حَظُّہَا مِنَ الرُّکُوْعِ وَالسُّجُودِ (وَفِی رِوَایَۃٍ أَعْطُوْا کُلَّ سُورَۃٍ حَظَّہَا مِنَ الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ)۔)) قَالَ: ثُمَّ لَقِیْتُہُ بَعْدُ فَقُلْتُ لَہُ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَۃِ بِالسُّوَرِ، فَتَعْرِفُ مَنْ حَدَّثَکَ ھٰذَا الْحَدِیْثَ؟ قَالَ إِنِّیْ لَأَعْرِفُہُ وَأَعْرِفُ مُنْذُ کَمْ حَدَّثَنِیْہِ، حَدَّثَنِیْ مُنْذُ خَمْسِیْنَ سَنَۃً۔ (مسند احمد: ۲۰۹۲۷)
ایک صحابی رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر سورت کے لئے رکوع و سجود سے اس کا حصہ ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ہر سورت کو رکوع وسجود سے اس کا حصہ دے دو۔ عاصم کہتے ہیں: میں بعد میں ابو العالیہ کو ملا اور اسے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو ایک رکعت میں کئی سورتوں کی تلاوت کر جاتے ہیں، کیا تو یہ جانتا ہے کہ کس نے تجھے یہ حدیث بیان کی ہے؟ اس نے کہا: کوئی شک نہیں کہ میں اسے جانتا ہوں اور میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ کتنا عرصہ ہو گیا ہے کہ اس نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی، اس نے پچاس برس پہلے یہ حدیث بیان کی تھی۔
Takhreej
(۱۶۸۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۳۶۹ (انظر: ۲۰۵۹۰، ۲۰۶۵۱)
Explanation
فوائد:… امام ابن ابی شیبہ نے اس حدیث کو کتاب الصلاۃ کے باب من کان لا یجمع بین السورتین فی رکعۃ میں ذکر کیا۔ امام ابن ابی شیبہیہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ایک رکعت میں صرف ایک سورت کی تلاوت کرنی چاہیے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کئی احادیث میں ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیں پڑھنا ثابت ہیں، جیسا کہ اسی کتاب میں احادیث نمبر۵۵۲، ۵۵۳، ۵۵۴ میں اس مسئلہ کو واضح کیا گیا ہے۔ اس لیے مذکورہ بالا حدیث کا مصداق وہ شخص ہے جو عمدگی ٔ حروف اور وضاحت کے اعتبار سے نماز میں قرآن مجید کا تلاوت کا حق ادانہیں کرتا، بلکہ اسے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھ جاتا ہے۔ یا اس حدیث کامفہوم یہ ہے کہ اگر قراء ت لمبی ہو تو رکوع و سجود بھی لمبے ہونے چاہئیں اور اگر قراء ت مختصر ہو تو رکوع و سجود بھی مختصر ہونے چاہئیں، جیسا کہ حدیث نمبر (۶۲۸) سے ثابت ہوتا ہے۔
1686
Sahih
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
۔ (۱۶۸۷) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا رَکَعَ لَوْ وُضِعَ قَدْحٌ مِنْ مَائٍ عَلٰی ظَہْرِہِ لَمْ یُہْرَاقْ۔ (مسند احمد: ۹۹۷)
سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رکوع کرتے تو (ایسے برا برہوتے تھے) کہ اگر پانی کا پیالہ آپ کی پیٹھ پر رکھا جائے تو وہ بھی نہ بہتا۔
Takhreej
(۱۶۸۷) تخریج: حسن انظر سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: ۳۳۳۱۔
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت سے بھی اس حدیث کا معنی ثابت ہو جاتا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رکوع کرتے تو سر کو نیچے کرتے نہ اوپر، بلکہ ان کیفیتوں کے درمیان میں رکھتے تھے۔ نیز درج حدیث بھی قابل توجہ ہے: سیدنا ابومسعود بدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَاتُجْزِیئُ صَلَاۃُ الرَّجُلِ حَتّٰی یُقِیْمَ ظَھْرَہٗفِیْ الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ۔))… ایسی نماز کفایت نہیں کرتی جس کے رکوع و سجدہ میں آدمی اپنی پیٹھ (بالکل) سیدھی نہ کرے۔ اس سنت لازمہ پرعمل کرنا صرف اس وقت ممکن ہے جب آدمی اعتدال اور اطمینان کے ساتھ نماز پڑھے گا۔ (ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
1687
Sahih
جس نے رکوع وسجود پورا نہ کیا، اس کی نماز کے باطل ہونے کا بیان
۔ (۱۶۸۸) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عُثْمَانَ الْأَ نْصَارِیِّ عَنْ ھَانِیئِ بْنِ مَعَاوِیَۃَ الصَّدَفِیِّ حَدَّثَہُ قَالَ: حَجَجْتُ زَمَانَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَلَسْتُ فِی مَسْجِدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا رَجُلٌ یُحَدِّثُہُمْ، قَالَ: کُنَّا عَنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَصَلّٰی فِی ھٰذَا الْعَمُودِ فَعَجَّلَ قَبْلَ أَنْ یُتِمَّ صَلاَتَہُ ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّ ھٰذَا لَوْ مَاتَ لَمَاتَ وَلَیْسَ مِنَ الدِّیْنِ عَلٰی شَیْئٍ، إِنَّ الرَّجُلَ لَیُخَفِّفُ صَلاَتَہُ وَیُتِمُّہَا، قَالَ فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ مَنْ ھُوَ؟ فَقِیْلَ عُثْمَانُ بْنُ حَنِیْفٍ الْأَ نْصَارِیُّ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۷۵)
ہانی بن معاویہ صدفی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانے میں حج کیا، میں مسجد نبوی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں ایک آدمی لوگوں کو حدیث بیان کررہا تھا، اس نے کہا: ہم ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے کہ ایک آدمی نے آکر اس ستون کے پاس نماز پڑھی اور اس نے اپنی نماز پور ی کرنے میں جلدی کی اور پھر وہ چلا گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ شخص مر جائے تو اس حالت میں مرے گا کہ دین کی کسی چیز سے یہ متصف نہیں ہو گا۔ آدمی اپنی نماز مکمل کرتے ہوئے بھی تخفیف کر سکتا ہے۔ میں نے اس (حدیث بیان کرنے والے) آدمی کے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ سیدنا عثمان بن حنیف انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Takhreej
(۱۶۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لسوء حفظ ابن لھیعۃ، ولجھالۃ حال البراء بن عثمان و ھانیٔ بن معاویۃ الصدفی۔ أخرجہ: الطبرانی فی الکبیر : ۸۳۱۰ (انظر: ۱۷۲۴۳)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، اس کی اصل اگلی حدیث ہے۔ اس کا بغور مطالعہ کریں۔
1688
Zaeef
جس نے رکوع وسجود پورا نہ کیا، اس کی نماز کے باطل ہونے کا بیان
۔ (۱۶۸۹) عَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبٍ قَالَ: دَخَلَ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ یُصَلِّیْ مِمَّا یَلِیْ أَبْوَابَ کِنْدَۃَ فَجَعَلَ لَایُتِمُّ الرُّکُوْعَ وَلاَ السُّجُودَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَہُ حُذَیْفَۃُ: مُنْذُ کَمْ ھٰذِہِ صَلاَتُکَ؟ قَالَ: مُنْذُ أَرْبَعَیْنَ سَنَۃً، قَالَ: فَقَالَ لَہُ حَذَیْفَۃُ: مَاصَلَّیْتَ مُنْذُ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً، وَلَوْ مُتَّ وَھٰذِہِ صَلاَتُکَ لَمُتَّ عَلٰی غَیْرِ الْفِطَرَۃِ الَّتِیْ فُطِرَ عَلَیْہَا مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْہِیُعَلِّمُہُ، فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَیُخَفِّفُ فِیْ صَلاَتِہِ وَإِنَّہُ لَیُتِمُّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۴۷)
زید بن وہب کہتے ہیں: سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو کندہ سے قریبی علاقے کا ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا،وہ رکوع پورا کر رہا تھا نہ سجدہ، جب وہ فارغ ہوا تو سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے کہا: کب سے تو اس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟ اس نے کہا: چالیس سال سے۔ سیدناحذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے کہا: (حقیقتیہ ہے کہ) تو نے چالیس سال سے نماز پڑھی ہی نہیں ہے اور اگر تو اس حالت میں فوت ہوجاتا کہ تیری نماز یہی ہوتی تو تو اس دین پر نہ مرتا جو حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عطا کا گیا۔ پھر وہ اس پر متوجہ ہوئے اور اسے نماز کی تعلیم دیتے ہوئے کہا: آدمی رکوع و سجود پورا کرکے بھی نماز میں تخفیف کرلیتا ہے، (ضروری نہیں کہ جلدی ہی کی جائے)۔
Takhreej
(۱۶۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۹۱ (انظر: ۲۳۲۵۸)
Explanation
فوائد:… سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قول سے پتہ چل رہا ہے کہ اطمینان کے بغیر نماز باطل ہے۔ آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کو جلدی سے نماز ادا کرنا پڑ جائے تو وہ مختصر قیام کر لے اور رکوع و سجود میں نقص نہ آنے دے۔ کئی احادیث میں رکوع و سجود میں اطمینان اور اعتدال کی تعلیم دی گئی ہے، پانچ چھ صفحات کے بعد اس عنوان رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان کا مطالعہ کریں، بطورِ مثال ایک حدیث کا ذکر یہاں بھی کر دیا جاتا ہے: حضرت طلق بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَایَنْظُرُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ إِلٰی صَلَاۃِ عَبْدٍ لَایُقِیْمُ فِیْھَا صُلْبَہٗبَیْنَ رُکُوْعِھَا وَسُجُوْدِھَا۔))… اللہ تعالیٰ اس بندے کی نماز کی طرف نہیں دیکھتا، جس میں وہ رکوع و سجود کے دوران کمر سیدھی نہیں کرتا۔ (مسند أحمد: ۴/۲۲)
1689
Sahih
رکوع میں ذکر کا بیان
۔ (۱۶۹۰) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَکَعَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّیْ خَشَعَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّیْ وَعَظْمِیْ وَعَصَبِیْ وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِہِ قَدَمِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۹۶۰)
سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رکوع کرتے تھے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّیْ خَشَعَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّیْ وَعَظْمِیْ وَعَصَبِیْ وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِہِ قَدَمِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ (اے اللہ! تیرے لئے ہی میں نے رکوع کیا،تجھ پر ہی میں ایمان لایا اور تیرے لئے ہی میں مطیع ہوا ، تو میرا رب ہے، میرا کان، میری نظر، میرا مغز، میری ہڈی، میرا پٹھا اور جس کے ساتھ میرا قدم ٹھہرا ہو اہے، سب اللہ رب العالمین کے لئے جھکے ہیں۔)
Takhreej
(۱۶۹۰) تخریج: أخرجہ مسلم مطولا: ۷۷۱ (انظر: ۷۲۹، ۹۶۰)
1690
Sahih
رکوع میں ذکر کا بیان
۔ (۱۶۹۱) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ} قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِجْعَلُوْھَا فِیْ رُکُوْعِکُمْ۔)) فَلَمَّا نَزَلَتْ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی} قَالَ: ((اِجْعَلُوْھَا فِیْ سُجُوْدِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۴۹)
سیدناعقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب یہ آیت {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ} نازل ہوئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس (کے مصداق کو) اپنے رکوع میں اپنا لو۔ جب {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی} نازل ہوئی تو فرمایا: اس (کے مصداق کو) اپنے سجدے میں اپنا لو۔
Takhreej
(۱۶۹۱) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین۔ أخرجہ ابوداود: ۸۶۹، وابن ماجہ: ۸۸۷ (انظر: ۱۷۴۱۴)
Explanation
فوائد:… یعنی اللہ تعالیٰ نے ان دو آیات میں جو حکم دیا ہے، رکوع و سجود میں اس پر عمل کرو۔
1691
Sahih
رکوع میں ذکر کا بیان
۔ (۱۶۹۲) عَنْ حُذَیْفَۃَ (بْنِ الْیَمَانِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ یَقُوْلُ فِیْ رُکُوْعِہِ ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ)) وَفِیْ سُجُودِہٖ ((سُبْحَانَرَبِّیَ الْأَعَلٰی)) قَالَ: وَمَا مَرَّ بِآیَۃِ رَحْمَۃٍ إِلاَّ وَقَفَ عِنْدَ ھَا فَسَأَلَ وَلاَ آیَۃِ عَذَابٍ إِلاَّ تَعَوَّذَ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۳۶۲۹)
سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ اور سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعَلٰی کہتے تھے، نیز جب آپ رحمت والی آیت کے پاس سے گزرتے تو ٹھہرتے اور رحمت کا سوال کرتے اور جب عذاب والی آیت کے پاس سے گزرتے تواس سے پناہ مانگتے تھے۔
Takhreej
(۱۶۹۲) تخریج: أخرجہ مطولا و مختصرا مسلم: ۷۷۲ (انظر: ۲۳۲۴۰)
Explanation
فوائد:… رحمت کا سوال کرنے اور عذاب سے پناہ مانگنے کے لیے عربی زبان میں کوئی جملہ کہا جا سکتا ہے۔
1692
Sahih
رکوع میں ذکر کا بیان
۔ (۱۶۹۳) عَنْ عَائِشَۃِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ فِیْ رُکُوْعِہِ وَ سُجُوْدِہِ ((سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۶۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع وسجود میں یہ دعا پڑھتے تھے: سُبُّوْحٌ قُدُّ وْسٌرَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ۔ (وہ پاک اور مقدس ذات، جو فرشتوں اور روح (یعنی جبریل) کا ربّ ہے۔)
Takhreej
(۱۶۹۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۸۷ (انظر: ۲۴۰۶۳)
Explanation
فوائد:… سُبُّوحٌ اور قُدُّوْسٌ کے معانی مُسَبَّح اور مُقَدَّس کے ہیں، اردو میں ان کے معانییہ بنتے ہیں: سُبُّوحٌ وہ ذات جو نقائص، شریک اور ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کی الوہیت کے شایان شان نہیں ہوتی۔ قُدُّوْسٌ :وہ ذات جو ہر اس چیز سے طاہر ہو جو خالق کو زیب نہیں دیتی۔
1693
Sahih
رکوع میں ذکر کا بیان
۔ (۱۶۹۴) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ أَنْ یَقُوْلُ فِیْ رُکُوْعِہِ وَسُجُوْدِہِ ((سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اِغْفِرْلِیْ)) یَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۶۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع و سجود میں کثرت سے یہ دعا پڑھتے تھے: سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اِغْفِرْلِیْ (اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ،تو مجھے بخش دے۔) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قرآن مجید پر عمل کرتے ہوئے یہ دعا پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۱۶۹۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۹۶۸، ومسلم: ۷۸۴ (انظر: ۲۴۱۶۳)
Explanation
فوائد:… قرآن مجید پر عمل کرنے کا کیا مفہوم ہے، اس کی وضاحت اگلی روایت میں آ رہی ہے۔
1694
Sahih
رکوع میں ذکر کا بیان
۔ (۱۶۹۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ مِمَّا یُکْثِرُ أَنْ یَقُوْلُ: ((سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔)) قَالَ: فَلَمَّا نَزَلَتْ {إِذَاجَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} قَالَ: ((سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔)) (مسند احمد: ۳۷۱۹)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے: سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔ (اے ہمارے رب! تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے)۔ پھر جب یہ سورت {إِذَاجَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} نازل ہوئی تو آپ یہ دعا کرتے: سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحَیْمُ۔ (اے ہمارے ربّ!تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ، اے اللہ مجھے بخش دے، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔)
Takhreej
(۱۶۹۵) تخریج: حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، ابو عبیدۃ لم یسمع من ابیہ عبد اللہ بن مسعود۔ أخرجہ الطیالسی: ۳۳۹، والحاکم: ۲/ ۵۳۸ (انظر: ۳۷۱۹)
1695
Sahih
رکوع میں ذکر کا بیان
۔ (۱۶۹۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: مُنْذُ أُنْزِلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} کَانَ یُکْثِرُ أَنْ یَقُولُ إِذَا قَرَأَھَا ثُمَّ رَکَعَ بِہَا أَنْ یَقُوْلُ: ((سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔)) ثَلاَثًا ۔ (مسند احمد: ۳۷۴۵):
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: جب سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} نازل ہوئی تو جب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی تلاوت کرتے تو زیادہ تر اس کے بعد والے رکوع میں تین دفعہ یہ دعا پڑھتے تھے: سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔
Takhreej
(۱۶۹۶) تخریج: حسن لغیرہ، وھذا اسناد منقطع۔ أخرجہ ابویعلی: ۵۲۳۰، والبزار ۵۴۴ وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۳۶۸۳)
1696
Sahih

Chapters

13
01
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
5 Hadith
02
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
6 Hadith
03
جس نے رکوع وسجود پورا نہ کیا، اس کی نماز کے باطل ہونے کا بیان
2 Hadith
04
رکوع میں ذکر کا بیان
8 Hadith
05
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
06
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
6 Hadith
07
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
9 Hadith
08
سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
19 Hadith
09
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
10
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
6 Hadith
11
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
5 Hadith
12
دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس میں جو پڑھا جاتا ہے، اس کا بیان
3 Hadith
13
جلسہ استراحت کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.