ہانی بن معاویہ صدفی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حج کیا، میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں ایک آدمی لوگوں کو حدیث بیان کررہا تھا، اس نے کہا: ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ ایک آدمی نے آکر اس ستون کے پاس نماز پڑھی اور اس نے اپنی نماز پور ی کرنے میں جلدی کی اور پھر وہ چلا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ شخص مر جائے تو اس حالت میں مرے گا کہ دین کی کسی چیز سے یہ متصف نہیں ہو گا۔ آدمی اپنی نماز مکمل کرتے ہوئے بھی تخفیف کر سکتا ہے۔ میں نے اس (حدیث بیان کرنے والے) آدمی کے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ سیدنا عثمان بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ ہیں۔
زید بن وہب کہتے ہیں: سیدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو کندہ سے قریبی علاقے کا ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا،وہ رکوع پورا کر رہا تھا نہ سجدہ، جب وہ فارغ ہوا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: کب سے تو اس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟ اس نے کہا: چالیس سال سے۔ سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: (حقیقتیہ ہے کہ) تو نے چالیس سال سے نماز پڑھی ہی نہیں ہے اور اگر تو اس حالت میں فوت ہوجاتا کہ تیری نماز یہی ہوتی تو تو اس دین پر نہ مرتا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کا گیا۔ پھر وہ اس پر متوجہ ہوئے اور اسے نماز کی تعلیم دیتے ہوئے کہا: آدمی رکوع و سجود پورا کرکے بھی نماز میں تخفیف کرلیتا ہے، (ضروری نہیں کہ جلدی ہی کی جائے)۔