مسنداحمد

Musnad Ahmad

رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب

رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان

۔ (۱۶۹۸) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَقْرَأَ الرَّجُلُ وَھُوَ رَاکِعٌ أَوْسَاجِدٌ۔ (مسند احمد: ۶۱۹)

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی رکوع یا سجدے میں تلاوت کرے۔

۔ (۱۶۹۹) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلَہُ رَجُلٌ: أَأَقْرَأُ فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنِّیْ نُہِیْتُ أَنْ أَقْرَأَ فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُودِ، فَإِذَا رَکَعْتُمْ فَعَظِّمُوْا اللّٰہَ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَہِدُوْافِی الْمَسْأَلَۃِ فَقَمِنٌ أَنْ یُسْتَجَابَ لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۷)

عمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ کیا میں رکوع و سجود میں تلاوت کر سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے رکوع و سجود میں قراء ت کرنے سے منع کیا گیا ہے، جب تم رکوع کرو تو اللہ کی عظمت بیان کیا کرو اور جب سجدہ کرو تو دعا کرنے کوشش کرو، پس زیادہ لائق ہے کہ تمہارے لیے قبول کیا جائے۔

۔ (۱۷۰۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلاَ إِنِّیْ نُہِیْتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاکِعًا أَوْسَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّکُوْعُ فَعَظِّمُوْا فِیْہِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُوْدُ فَاجْتَہِدُ وْافِی الدُّعَائِ فَقَمِنٌ أَنْ یُسْتَجَابَ لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۰)

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبر دار! یقینا مجھے رکوع وسجود میں تلاوت کرنے سے منع کر دیا گیا ہے، لہٰذا تم رکوع میں ربّ تعالیٰ کی تعظیم بیان کیا کرو اور سجدہ میں دعا کرنے میں کوشش کیا کرو، بہت لائق ہے کہ تمہارے لیے قبول کیا جائے۔