مسنداحمد

Musnad Ahmad

رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب

رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان

۔ (۱۷۰۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَ یَنْظُرُ اللّٰہُ إِلٰی صَلاَۃِ رَجُلٍ لاَ یُقِیْمُ صُلْبَہٗبَیْنَ رُکُوْعِہٖوَسُجُوْدِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۰۸۱۲)

سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نماز کی طرف نہیں دیکھتا، جو رکوع و سجود میںاپنی کمر سیدھی نہیںکرتا۔

۔ (۱۷۰۲) عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ الْحَنْـفِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۰۵)

طلق بن علی حنفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔

۔ (۱۷۰۳) عَنْ عَلَیِّ بِنْ شَیْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ خَرَجَ وَافِدًا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَصَلَّیْنَا خَلْفَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَحَ بِمُؤْخِرِ عَیْنَیْہِ إِلٰی رَجُلٍ لاَ یُقِیْمُ صُلْبَہُ فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ! إِنَّہُ لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لاَ یُقِیْمُ صُلْبَہُ فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۰۶)

سیدنا علی بن شیبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں وفد کی صورت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، پس ہم نے نبی کریم کی اقتدا میں نماز پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیح گوشۂ چشم سے ایک ایسے آدمی کی طرف دیکھا، جو رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کر رہا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت! بیشک اس آدمی کی کوئی نماز نہیں ہے، جو رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا۔

۔ (۱۷۰۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِنْ أَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَۃً الَّذِیْیَسْرِقُ مِنْ صَلاَتِہِ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَیَسْرِقُ مِنْ صَلاَتِہِ؟ قَالَ: ((لَایُتِمُّ رُکُوْعَہَا وَلاَ سُجُوْدَھَا أَوْ قَالَ لَایُقِیْمُ صُلْبَہُ فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۱۹)

سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چوری کے لحاظ سے سب سے برا شخص وہ ہے جو اپنی نماز سے چوری کرتا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ نماز سے کیسے چوری کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ رکوع و سجود پورا نہیں کرتا، یا فرمایا کہ وہ رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا ۔

۔ (۱۷۰۵) وَعَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ ۔ (مسند احمد: ۱۱۵۵۳)

سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔

۔ (۱۷۰۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ السَّجْدَۃِ أَوِ الرَّکْعَۃِ فَیَمْکُثُ بَیْنَہُمَا حَتّٰی نَقُوْلَ: أَنَسِیَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۸۲)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سجدہ یا رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت اتنی دیر تک ٹھہرتے کہ ہم یہ کہتے کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھول گئے ہیں؟