سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ پڑھتے تھے: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَماَ بَیْنَہُمَا وَمِلْ ئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْ ئٍ بَعْدُ۔ ( اللہ نے اس کو سن لیا، جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! اورتیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والے خلا کے بھرنے کے بقدر اور اس چیز کے بھراؤ کے برابر، جو تو چاہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، راوی کہتا ہے کہ میرا گمان ہے کہ انھوں نے مرفوعاً بیان کیا تھا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔ (اللہ نے اس کو سن لیا،جس نے اس کی تعریف کی،اے اللہ! اے ہمارے رب!تیرے ہی لئے تعریف ہے، آسمان کے بھراؤ اور زمین کے بھراؤ کے بقدر اور اس چیز کے بھرنے کے بقدر، جسے تو چاہے۔)
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، اللَّہُمَّ طَہِّرْنِیْ بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدَ وَالْمَائِ الْبَارِدِ، اَللّٰہُمَّ طَہِّرْنِیْمِنَ الذُّنُوْبِ وَنَـقِّنِیْ مِنْہَا کَمَایُنَـقَّی الثَّوْبُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْوَسَخِ۔ )) (اے اللہ! تیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمان کے بھرنے اور زمین کے بھرنے کے بقدر اوراس چیز کے بھراؤ کے بقدر، جو تو چاہے، اے اللہ! مجھے برف،اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ پاک کردے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے پاک کردے اور ان سے اس طرح صاف کردے جیسے سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔)
سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ن ے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتا ہے اور اس کے بعد اس کے پیچھے والا اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ کہتا ہے تواس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ کہو، پس جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوگیا تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔
سیدنارفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا تو آپ کے پیچھے ایک آدمی نے یہ کلمہ کہا: رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَ کًا فِیْہِ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: ابھی ابھی کلمات کہنے والا کون تھا؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میں نے چونتیس پینتیس فرشتے دیکھے، وہ ان کلمات کی طرف لپک رہے تھے کہ کون ان کو سب سے پہلے لکھتا ہے۔
سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نماز میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تو اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرتے، سجدے سے کھڑے ہوتے اور دو سجدوں سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے تھے۔
سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد یہ کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، أَھْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَ کُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ، لَامَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ (اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمانوں کے بھراؤ جتنی، زمین کے بھراؤ جتنی اور ان کے بعد اس چیز کے بھراؤ جتنی جو تو خود چاہے۔ تعریف اور بزرگی والے! جو کچھ بندہ کہتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے اور سب تیرے بندے ہیں، جو تو دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اورکسی شان والے کو اس کی شان تجھ سے کوئی فائدہ نہیں دیتی۔)