مسنداحمد

Musnad Ahmad

رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب

رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان

۔ (۱۷۰۷) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ قَالَ ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَماَ بَیْنَہُمَا وَمِلْ ئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْ ئٍ بَعْدُ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹)

سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ پڑھتے تھے: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَماَ بَیْنَہُمَا وَمِلْ ئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْ ئٍ بَعْدُ۔ ( اللہ نے اس کو سن لیا، جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! اورتیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والے خلا کے بھرنے کے بقدر اور اس چیز کے بھراؤ کے برابر، جو تو چاہے۔

۔ (۱۷۰۸) عَنْ سَعِیْدِ بِنْ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَحْسِبُہُ رَفَعَہُ قَالَ: إِذَا کَانَ رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۰)

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، راوی کہتا ہے کہ میرا گمان ہے کہ انھوں نے مرفوعاً بیان کیا تھا، کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔ (اللہ نے اس کو سن لیا،جس نے اس کی تعریف کی،اے اللہ! اے ہمارے رب!تیرے ہی لئے تعریف ہے، آسمان کے بھراؤ اور زمین کے بھراؤ کے بقدر اور اس چیز کے بھرنے کے بقدر، جسے تو چاہے۔)

۔ (۱۷۱۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ (وَفِیْ لَفْظٍ یَدْعُوْ إِذَا رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ): ((اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، اللَّہُمَّ طَہِّرْنِیْ بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدَ وَالْمَائِ الْبَارِدِ، اَللّٰہُمَّ طَہِّرْنِیْ مِنَ الذُّنُوْبِ وَنَـقِّنِیْ مِنْہَا کَمَایُنَـقَّی الثَّوْبُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْوَسَخِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۲۸)

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، اللَّہُمَّ طَہِّرْنِیْ بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدَ وَالْمَائِ الْبَارِدِ، اَللّٰہُمَّ طَہِّرْنِیْمِنَ الذُّنُوْبِ وَنَـقِّنِیْ مِنْہَا کَمَایُنَـقَّی الثَّوْبُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْوَسَخِ۔ )) (اے اللہ! تیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمان کے بھرنے اور زمین کے بھرنے کے بقدر اوراس چیز کے بھراؤ کے بقدر، جو تو چاہے، اے اللہ! مجھے برف،اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ پاک کردے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے پاک کردے اور ان سے اس طرح صاف کردے جیسے سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔)

۔ (۱۷۱۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا قَالَ الْقَارِیئُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقَالَ مَنْ خَلْفَہُ: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ غُفِرَلَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہ۔)) (مسند احمد: ۹۳۹۰)

سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ن ے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتا ہے اور اس کے بعد اس کے پیچھے والا اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ کہتا ہے تواس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔

۔ (۱۷۱۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا قَالَ الإِْمَامُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ فَإِنَّ مَنْ وَافَقَ قَوْلُہُ قَوْلَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَلَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۹۹۲۵)

۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ کہو، پس جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوگیا تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔

۔ (۱۷۱۳) عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّانُصَلِّیْیَوْمًا وَرَائَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا رَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ وَقَالَ ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) قَالَ رَجُلٌ وَرَائَ ہُ: رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَ کًافِیْہِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ الْمُتَکَلِّمُ آنِفًا؟)) قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ رَأَیْتُ بِضْعَۃً وَّثَلاَثِیْنَ مَلَکًا یَبْتَدِرُوْنَہَا أَیُّہُمْیَکْتُبُہَا أَوَّلًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۰۵)

سیدنارفاعہ بن رافع زرقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ایک دن ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا تو آپ کے پیچھے ایک آدمی نے یہ کلمہ کہا: رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَ کًا فِیْہِ۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: ابھی ابھی کلمات کہنے والا کون تھا؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میں نے چونتیس پینتیس فرشتے دیکھے، وہ ان کلمات کی طرف لپک رہے تھے کہ کون ان کو سب سے پہلے لکھتا ہے۔

۔ (۱۷۱۴) عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَنَا أَشْبَہُکُمْ صَلاَۃً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَالَ ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) قَالَ ((اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ)) قَالَ وَکَانَ یُکَبِّرُ إِذَا رَکَعَ وَإِذَا قَامَ مَنْ السُّجُودِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السَّجَْدَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۹۸۳۶)

سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نماز میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تو اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہتے اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع کرتے، سجدے سے کھڑے ہوتے اور دو سجدوں سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے تھے۔

۔ (۱۷۱۵) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَالَ ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) قَالَ ((اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، أَھْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَ کُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ، لَامَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۵۰)

سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد یہ کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، أَھْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَ کُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ، لَامَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ (اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمانوں کے بھراؤ جتنی، زمین کے بھراؤ جتنی اور ان کے بعد اس چیز کے بھراؤ جتنی جو تو خود چاہے۔ تعریف اور بزرگی والے! جو کچھ بندہ کہتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے اور سب تیرے بندے ہیں، جو تو دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اورکسی شان والے کو اس کی شان تجھ سے کوئی فائدہ نہیں دیتی۔)