TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان - رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان - رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 13 · 9 Hadith
۔ (۱۷۰۷) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ قَالَ ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَماَ بَیْنَہُمَا وَمِلْ ئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْ ئٍ بَعْدُ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹)
سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ پڑھتے تھے: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَماَ بَیْنَہُمَا وَمِلْ ئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْ ئٍ بَعْدُ۔ ( اللہ نے اس کو سن لیا، جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! اورتیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والے خلا کے بھرنے کے بقدر اور اس چیز کے بھراؤ کے برابر، جو تو چاہے۔
Takhreej
(۱۷۰۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۷۱ (انظر: ۷۲۹)
1707
Sahih
۔ (۱۷۰۸) عَنْ سَعِیْدِ بِنْ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَحْسِبُہُ رَفَعَہُ قَالَ: إِذَا کَانَ رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، راوی کہتا ہے کہ میرا گمان ہے کہ انھوں نے مرفوعاً بیان کیا تھا، کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔ (اللہ نے اس کو سن لیا،جس نے اس کی تعریف کی،اے اللہ! اے ہمارے رب!تیرے ہی لئے تعریف ہے، آسمان کے بھراؤ اور زمین کے بھراؤ کے بقدر اور اس چیز کے بھرنے کے بقدر، جسے تو چاہے۔)
Takhreej
(۱۷۰۸) تخریج: أخرجہ مسلم مرفوعا: ۴۷۸ (انظر: ۲۴۹۹)
1708
Sahih
۔ (۱۷۰۹) وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (۱۹۳۱۴)
Takhreej
(۱۷۰۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۷۶ (انظر: ۱۹۱۰۴)
1709
Sahih
۔ (۱۷۱۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ (وَفِیْ لَفْظٍ یَدْعُوْ إِذَا رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ): ((اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، اللَّہُمَّ طَہِّرْنِیْ بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدَ وَالْمَائِ الْبَارِدِ، اَللّٰہُمَّ طَہِّرْنِیْ مِنَ الذُّنُوْبِ وَنَـقِّنِیْ مِنْہَا کَمَایُنَـقَّی الثَّوْبُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْوَسَخِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۲۸)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، اللَّہُمَّ طَہِّرْنِیْ بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدَ وَالْمَائِ الْبَارِدِ، اَللّٰہُمَّ طَہِّرْنِیْمِنَ الذُّنُوْبِ وَنَـقِّنِیْ مِنْہَا کَمَایُنَـقَّی الثَّوْبُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْوَسَخِ۔ )) (اے اللہ! تیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمان کے بھرنے اور زمین کے بھرنے کے بقدر اوراس چیز کے بھراؤ کے بقدر، جو تو چاہے، اے اللہ! مجھے برف،اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ پاک کردے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے پاک کردے اور ان سے اس طرح صاف کردے جیسے سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔)
Takhreej
(۱۷۱۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۷۶ (انظر: ۱۹۱۱۸)
1710
Sahih
۔ (۱۷۱۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا قَالَ الْقَارِیئُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقَالَ مَنْ خَلْفَہُ: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ غُفِرَلَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہ۔)) (مسند احمد: ۹۳۹۰)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ن ے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتا ہے اور اس کے بعد اس کے پیچھے والا اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ کہتا ہے تواس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۷۱۱)تخریج:أخرجہ مسلم: ۴۰۹ (انظر: ۹۴۰۱)
1711
Sahih
۔ (۱۷۱۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا قَالَ الإِْمَامُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ فَإِنَّ مَنْ وَافَقَ قَوْلُہُ قَوْلَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَلَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۹۹۲۵)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ کہو، پس جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوگیا تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔
Takhreej
(۱۷۱۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۹۶، ۳۲۲۸، ومسلم: ۴۰۹، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۹۹۲۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ مقتدی کو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ نہیں کہنا چاہئے، کیونکہیہاں مقتدی کو یہ کلمہ کہنے سے منع نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے لیے رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہنے کے وقت کا تعین کیا گیا ہے۔ درج ذیل دلائل کی بنا پر ہر کسی کو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہناچاہئے: سَمِعَاللّٰہُلِمَنْحَمِدَہٗ نمازنبوی کی ترتیب میں شامل ہے اور امام کی اقتدا میں اس کے نہ پڑھنے پر دلالت کرنے والی کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہااورفرمایا: ((صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ۔)) (بخاری) … تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ سیّدنا رفاعہ بن رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَاتَتِمُّ صَلَاۃٌ لِاَحَدٍ مِنَ النَّاسِ حَتّٰی … یُکَبِّرَ… ثُمَّ یَرْکَعَ… ثُمَّ یَقُوْلَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗحَتّٰییَسْتَوِیَ قَائِمًا۔))… کسی آدمی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ تکبیر نہ کہے … رکوع نہ کرے … اور پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ نہکہے… (ابوداود،حاکم) یہ حدیث واضح نص ہے کہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کےبغیر نماز مکمل نہیں ہوتی، لہٰذا اس کلمہ سے مقتدیوں کو روکنے کے لیے واضح دلیل کی ضرورت ہے۔یہی معاملہ وَلَا الضَّالِّیْنَ اور آمِیْن کا ہے، کہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کی فرضیت دوسری نصوص سے ثابت ہو چکی ہے۔
1712
Sahih
۔ (۱۷۱۳) عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّانُصَلِّیْیَوْمًا وَرَائَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا رَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ وَقَالَ ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) قَالَ رَجُلٌ وَرَائَ ہُ: رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَ کًافِیْہِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ الْمُتَکَلِّمُ آنِفًا؟)) قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ رَأَیْتُ بِضْعَۃً وَّثَلاَثِیْنَ مَلَکًا یَبْتَدِرُوْنَہَا أَیُّہُمْیَکْتُبُہَا أَوَّلًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۰۵)
سیدنارفاعہ بن رافع زرقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ایک دن ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا تو آپ کے پیچھے ایک آدمی نے یہ کلمہ کہا: رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَ کًا فِیْہِ۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: ابھی ابھی کلمات کہنے والا کون تھا؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میں نے چونتیس پینتیس فرشتے دیکھے، وہ ان کلمات کی طرف لپک رہے تھے کہ کون ان کو سب سے پہلے لکھتا ہے۔
Takhreej
(۱۷۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۹۹(انظر: ۱۸۹۹۶)
Explanation
فوائد:… اتنی بڑی فضیلت کے باوجود نمازی لوگوں کی اکثریت جلد بازی اور اپنی عادت کے سامنے عاجز ہو کر یہ کلمہ دوہرانے سے غافل ہے۔ حدیث میں ثلاثین (تیس) کے ساتھ بِضْعَۃٌ کا لفظ آیا ہے جس کا اطلاق تین سے نو تک کے کسی بھی عدد پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہماری زبان میں بضعۃ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے چند کا لفظ مناسب رہے گا یعنی تیس سے چند زائد فرشتے۔ (عبداللہ رفیق)
1713
Sahih
۔ (۱۷۱۴) عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَنَا أَشْبَہُکُمْ صَلاَۃً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَالَ ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) قَالَ ((اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ)) قَالَ وَکَانَ یُکَبِّرُ إِذَا رَکَعَ وَإِذَا قَامَ مَنْ السُّجُودِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السَّجَْدَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۹۸۳۶)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نماز میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تو اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہتے اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع کرتے، سجدے سے کھڑے ہوتے اور دو سجدوں سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے تھے۔
Takhreej
(۱۷۱۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۹۵ (انظر: ۸۲۵۳)
1714
Sahih
۔ (۱۷۱۵) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَالَ ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) قَالَ ((اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، أَھْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَ کُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ، لَامَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۵۰)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد یہ کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، أَھْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَ کُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ، لَامَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ (اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمانوں کے بھراؤ جتنی، زمین کے بھراؤ جتنی اور ان کے بعد اس چیز کے بھراؤ جتنی جو تو خود چاہے۔ تعریف اور بزرگی والے! جو کچھ بندہ کہتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے اور سب تیرے بندے ہیں، جو تو دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اورکسی شان والے کو اس کی شان تجھ سے کوئی فائدہ نہیں دیتی۔)
Takhreej
(۱۷۱۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۷۷ (انظر: ۱۱۸۲۸)
Explanation
فوائد:… عام طور پر لوگ رکوع کے بعد قومہ میں رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنے کو ہی کافی سمجھتے ہیں اور عرصۂ دراز سے ان کییہی روٹین بھی ہے، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عدمِ رغبت کی علامت ہے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے بہترین انداز میں اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ہے، لیکن ہمارا نفس ہمیں ایسا کرنے پر آمادہ ہی نہیں کرتا۔
1715
Sahih

Chapters

13
01
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
5 Hadith
02
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
6 Hadith
03
جس نے رکوع وسجود پورا نہ کیا، اس کی نماز کے باطل ہونے کا بیان
2 Hadith
04
رکوع میں ذکر کا بیان
8 Hadith
05
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
06
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
6 Hadith
07
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
9 Hadith
08
سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
19 Hadith
09
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
10
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
6 Hadith
11
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
5 Hadith
12
دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس میں جو پڑھا جاتا ہے، اس کا بیان
3 Hadith
13
جلسہ استراحت کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.