مسنداحمد

Musnad Ahmad

رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب

دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس میں جو پڑھا جاتا ہے، اس کا بیان

۔ (۱۷۵۱) عَنْ عَائِشَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَارَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ السُّجُوْدِ لَمْ یَسْجُدْ حَتّٰییَسْتَوِیَ قَاعِدًا۔ (مسند احمد: ۲۶۱۳۵)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدے سے سر اٹھاتے تودوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کر تے جب تک برابر ہو کر بیٹھ نہ جاتے۔

۔ (۱۷۵۲) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بِنْ أَبْزٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ صَلّٰییَصِفُ صَلاَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَجَدَ حَتّٰی أَخَذَ کُلُّ عُضْوٍمَأْخَذَہُ، ثُمَّ رَفَعَ حَتّٰی أَخَذَ کُلُّ عُضْوٍ مَأْ خَذَہُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتّٰی أَخَذَ کُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَہُ، ثُمَّ رَفَعَ فَصَنَعَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ کَمَا ضَنَعَ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی، ثُمَّ قَالَ: ھٰکَذَا صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۴۵)

سیدناعبد الرحمن بن ابزی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز بیان کرتے ہوئے نماز پڑھی تو سجدہ کیا (اور اتنی دیر ٹھہرے رہے کہ)ہر عضو اپنے مقام پر ٹھہر گیا، پھر اٹھے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر ٹھہر گئی، پھر دوسرا سجدہ کیا حتی کہ ہر ہڈی نے اپنی جگہ کو پکڑلیا، پھر اٹھے اوردوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا جیسے پہلی رکعت میں کیاتھا، پھر کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز اس طرح کی تھی۔

۔ (۱۷۵۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ فِیْ صَلاَۃِ اللَّیْلِ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۸۹۵)

سیدناعبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کی نماز میں دو سجدوں کے درمیانیہ دعا پڑھی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔)