TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1754 - جلسہ استراحت کا بیان - رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
جلسہ استراحت کا بیان
۔ (۱۷۵۴) عَنْ أَبِیْ قِلاَبَۃَ قَالَ: جَائَ أَبُوْ سُلَیْمَانَ مَالِکُ بْنُ الْحُوَیْرِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلٰی مَسْجِدِنَا فَقَالَ: وَاللّٰہِ! إِنِّیْ لَأُصَلِّیْ وَمَا أُرِیْدُ الصَّلاَۃَ، وَلٰکِنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أُرِیَکُمْ کَیْفَ رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ، قَالَ فَقَعَدَ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی حِیْنَ رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ السَّجْدَۃِ الْأَخِیْرَۃِ ثُمَّ قَامَ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۸۴)
ابو قلابہ کہتے ہیں: سیدنا ابو سلیمان مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہماری مسجد میں آئے اور کہا: اللہ کی قسم! میں ضرور نماز پڑھوں گا، حالانکہ میرا ارادہ نماز پڑھنے کا نہیں ہے، میں تو تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا، پھر انھوں نے (نماز پڑھی اور اس میں) جب انھوں نے پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے سر اٹھا تو وہ ایک دفعہ بیٹھ گئے، پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے۔
1754
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۷۵۴) تخریج: أخرجہ ابوداود: ۸۴۳، والنسائی: ۲/ ۲۲۳، وأخرجہ البخاری مختصرا وبالفاظ متقارب منہ: ۸۲۳ (انظر: ۱۵۵۹۹)

Related Chapters

0
No related chapter found.
No related chapter matched that.

Related Hadith

8
Musnad Ahmad
1243
۔ (۱۲۴۳) عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ: أتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ مُتََقَارِبُوْنَ فَأَقَمْنَا مَعَہُ عِشِْرِیْنَ لَیْلَۃً۔ قَالَ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَحِیْمًا رَفِیقاً فَظَنَّ أنَّاَ قَدِ اشْتَقْنَا أَھْلَنَا فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا فِیْ أَھْلِنَا فَأَخْبَرْنَاہُ فَقَالَ: ((اِرْجِعُوْا إِلٰی أَھْلِیْکُمْ فأَقِیْمُوْا فِیہِمْ وَعَلِّمُوْھُمْ وَمُرُوْھُمْ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۸۳)
سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم تقریبا ایک عمر کے نوجوان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور بیس راتیں قیام کیا۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بڑے رحیم اور نرم دل تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محسوس کیا ہم اپنے گھر والوں کے مشتاق ہو گئے ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے ان (افراد)کے متعلق پوچھا جو ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے تھے؟ جب ہم نے ساری بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے گھر والوں میں واپس چلے جاؤ اور ان میں رہو، اور ان کو (دین)سکھاؤ،ان کو حکم دو کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان کہے، پھر تم میں بڑی عمر والا امامت کروائے۔
Musnad Ahmad
1536
۔ (۱۵۳۶)عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہُ رَآی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْفَعُیَدَیْہِ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنْ السُّجُوْدِ حَتّٰییُحَاذِیَ بِھِمَا فُرُوْعَ أُذُنَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۸۹)
سیّدنامالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا جب آپ رکوع کرنے کا ارادہ کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے اور جب سجدوں سے اپنا سر اٹھاتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں اپنے کانوں کے اوپر والے حصے کے برابر کرتے ۔
Musnad Ahmad
1762
۔ (۱۷۶۲) عَنْ خُفَافِ بْنِ إِیْمَائِ بْنِ رَحْضَۃَ الْغِفَارِیِّ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ وَنَحْنُ مَعَہُ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ الْأَخِیْرَۃِ قَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ لِحْیَانَ وَرِعْلًا وَذَ کْوَانَ وَعُصَیَّۃَ، عَصَوُا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ، أَسْلَمُ سَالَمَھَا اللّٰہُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللّٰہُ لَھَا، ثُمَّ وَقَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاجِدًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَرَأَ عَلَی النَّاسِ: ((یَاأَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّیْ أَنَا لَسْتُ قُلْتُہُ، وَلٰکِنَّ اللّٰہَ عَزْوَجَلَّ قَالَہُ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ حُفَافٌ فَجُعِلَتْ لَعْنَۃُ الْکَفَرَۃِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۸۷)
سیدنا خفاف بن ایماء غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، جبکہ ہم آپ کے ساتھ تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آخری رکوع سے سر اٹھایا تو یہ بد دعا کی: اللہ لعنت کرے، لحیان پر، رعل پر، ذکوان پر اور عصیہ پر، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اورغفار کو اللہ معاف فرمائے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدے میں گر پڑے،جب آپ (نماز سے)فارع ہوئے تو فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ کلمات نہیں کہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے کہے ہیں۔ ایک روایت میںہے: خفاف نے کہا: اسی وجہ سے کافروں پر لعنت کرنا بنا دیا گیا۔
Musnad Ahmad
1770
۔ (۱۷۷۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہْرًا مُتَتَا بِعًا فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ وَالصُّبْحِ فِی دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ إِذَا قَالَ ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) مِنَ الرَّکْعَۃِ الْأَخِیْرَۃِ،یَدْعُوْ عَلَیْہِمْ، عَلٰی حَیٍّ مِنْ َبنِیْ سُلَیْمٍ عَلٰی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَیَؤْ مِّنُ مَنْ خَلْفَہُ، أَرْسَلَ إِلَیْہِمْیَدْعُوْھُمْ إِلَی الإِْسْلاَمِ فَقَتَلُوْھُمْ، قَالَ عَفَّانُ فِیْ حَدِیْثِہِ قَالَ وَقَالَ عِکْرِمَۃُ ھٰذَا کَانَ مِفْتَاحَ الْقُنُوْتِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۶)
سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسلسل ایک ماہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں میں قنوت کی، جب آپ آخری رکعت میں سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تویہ قنوت کرتے، جس میں بنو سلیم کے ایک قبیلے رِعل، ذکوان اور عصیہ پر بددعا کرتے اور پیچھے والے مقتدی آمین کہتے، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ صحابہ کو ان لوگوں کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا، لیکن انہوں نے انہیں قتل کردیا۔ عفان نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ عکرمہ کہتے تھے کہ یہ قنوت شروع ہونے کا سبب تھا۔
Musnad Ahmad
2536
۔ (۲۵۳۶) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِی ثَنَا سُرَیْجٌ وَیُوْنُسُ قَالَا ثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنَ زَیْدٍ عَنْ أَبِی قِلَابَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ اللَّیْثِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ، قَالَ: فَأَقَمْنَا عِنْدَہُ نَحْوًا مِنْ عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً، فَقَالَ لَنَا: ((لَوْ رَجَعْتُمْ اِلَی بِلَادِکُمْ)) وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَحِیْمًا ((فَعَلَّمْتُمُوْھُمْ۔)) قَالَ سُرَیْجٌ وَأَمَرْتُمُوْھُمْ أَنْ یُصَلُّوْا صَلَاۃَ کَذَا حِیْنَ کَذَا قَالَ یُوْنُسُ وَمُرُوْھُمْ فَلْیُصَلُّوْا صَلَاۃَ کَذَا فِی حِیْنِ کَذَا وَصَلَاۃَ کَذَا فِی حِیْنِ کَذَا، فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ وَلْیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۰۳)
سیّدنا مالک بن حویرث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نوجوان لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور تقریبا بیس راتیں قیام کیا، چونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رحم دل تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: اگر تم اپنے شہروں کی طرف لوٹ جائو اور ان کو تعلیم دو اور انھیں حکم دو کہ وہ فلاں فلاں نماز فلاں فلاں وقت میں پڑھیں، جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان کہے اور وہ آدمی تمہاری امامت کرائے، جو تم میں بڑا ہو۔
Musnad Ahmad
2537
۔ (۲۵۳۷، ۲۵۳۸)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلَابَۃً عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ وَلِصَاحِبٍ لَہُ: ((اِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَأَذِّنَا وَأَقِیْمَا وَقَالَ مَرَّۃً فَأَقِیْمَا ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُ کُمَا۔)) قَالَ خَالِدٌ: فَقُلْتَ لِأَبِی قِلَابَۃَ: فَأَیْنَ الْقِرَائَۃُ؟ قَالَ: اِنَّہُمَا کَانَا مُتَقَارِبَیْنِ۔ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ:) ((صَلُّوا کَمَا تَرَوْنِی أُصَلِّی)) (مسند احمد: ۱۵۶۸۶)
(دوسری سند )سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اور اس کے ساتھی کو فرمایا: جب نماز کا وقت آجائے، تو تم اذان دینا، پھراقامت کہنا اور جو تم میں بڑا ہے، وہ جماعت کروائے گا۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے کہا: قراء ت (کی بنا پر امام بنانے کا)مسئلہ کہاں گیاَ انہوں نے کہا: بیشک وہ دونوں (قراء ت اور باقی علم میں) قریب قریب تھے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نماز اس طرح پڑھنا، جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
Musnad Ahmad
2538
۔ (۲۵۳۷، ۲۵۳۸)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلَابَۃً عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ وَلِصَاحِبٍ لَہُ: ((اِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَأَذِّنَا وَأَقِیْمَا وَقَالَ مَرَّۃً فَأَقِیْمَا ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُ کُمَا۔)) قَالَ خَالِدٌ: فَقُلْتَ لِأَبِی قِلَابَۃَ: فَأَیْنَ الْقِرَائَۃُ؟ قَالَ: اِنَّہُمَا کَانَا مُتَقَارِبَیْنِ۔ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ:) ((صَلُّوا کَمَا تَرَوْنِی أُصَلِّی)) (مسند احمد: ۱۵۶۸۶)
(دوسری سند )سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اور اس کے ساتھی کو فرمایا: جب نماز کا وقت آجائے، تو تم اذان دینا، پھراقامت کہنا اور جو تم میں بڑا ہے، وہ جماعت کروائے گا۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے کہا: قراء ت (کی بنا پر امام بنانے کا)مسئلہ کہاں گیاَ انہوں نے کہا: بیشک وہ دونوں (قراء ت اور باقی علم میں) قریب قریب تھے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نماز اس طرح پڑھنا، جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
Musnad Ahmad
2540
۔ (۲۵۴۰) عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ الْعُقَیْلِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْہُمْ یُکْنَی أَبَا عَطِیَّۃَ قَالَ: کَانَ مَالِکُ بْنُ الْحُوَیْرِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَأْتِیْنَا فِی مُصَلَّانَا یَتَحَدَّثُ، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ یَوْمًا فَقُلْنَا: تَقَدَّمْ، فَقَالَ: لَا، لِیَتَقَدَّمْ بَعْضُکُمْ حَتّٰی أُحَدِّثَکُمْ لِمَ لَا أَتَقَدَّمُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَـلَا یَؤُمَّہُمْ، وَلْیَؤُمَّہُمْ رَجُلٌ مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۰۶)
ابوعطیہ کہتے ہیں: سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس ہماری جائے نمازمیں آتے تھے اور باتیں کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت ہوگیا، ہم نے ان سے کہا: آگے بڑھو اور ( نماز پڑھاؤ)، لیکن انھوں نے کہا: نہیں، تمہارا اپنا کوئی آدمی آگے بڑھے، میں تم کو بیان کرتا ہوں کہ میں آگے کیوں نہیں بڑھ رہا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا: جو آدمی دوسروں کی ملاقات اور زیارت کرنے کے لیے ان کے پاس آئے، وہ ان کو امامت نہ کرائے، بلکہ ان کا اپنا کوئی آدمی جماعت کرائے۔