TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز کو توڑ دینے والے امور کا بیان - نماز کو توڑ دینے والے امور کا بیان - نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 14 · 8 Hadith
۔ (۱۸۸۸) عَنْ حُصَیْنٍ الْمُزَنِیِّ قَالَ: قَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلَی الْمِنْبَرِ: أَیُّہَا النَّاسُ! إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لاَ یَقْطَعُ الصَّلاَۃَ إِلاَّ الْحَدَثُ، لاَ أَسْتَحْیِیْکُمْ مِمَّا لَایَسْتَحْیِیْ مِنْہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: وَالْحَدَثُ أَنْ یَفْسُوَ أَوْ یَضْرِطَ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۴)
سیدناعلی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منبر پر کہا: لوگو! بلاشبہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: نماز کو حَدَث کے علاوہ کوئی چیز نہیں توڑتی۔ میں اس چیز سے تم سے شرم محسوس نہیں کرتا، جس سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہیں شرماتے تھے، حَدَث یہ ہے کہ بندہ پھسکی چھوڑے یا گوز مارے۔
Takhreej
(۱۸۸۸) تخریج: حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف حبان بن علی، وحصین المزنی لم یرو عنہ غیر ضرار بن مرۃ، وقال ابن معین: لا اعرفہ، وذکرہ ابن حبان فی الثقات أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۱۹۸۶، والبیھقی: ۱/ ۲۲۰ (انظر: ۱۱۶۴)
1888
Sahih
۔ (۱۸۸۹) عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ھِلاَ لٍ سَمِعَ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ الصَّامِتِ عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَقْطَعُ صَلَاۃَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ یَکُنْ بَیْنَیَدَیْہِ کَآخِرَۃِ الرَّحْلِ الْمَرْأَۃُ وَالْحِمَارُ وَالْکَلْبُ الْأَ سْوَدُ۔)) قُلْتُ: مَا بَالُ الْأَ ْسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ؟ قَالَ: اِبْنَ أَخِیْ! سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَمَا سَأَلْتَنِیْ، فَقَالَ: ((اَلْکَلْبُ الْأَسْوَدُ شَیْطَانٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۴۹)
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب نمازی کے سامنے کچاوے کی پچھلی لکڑی (جتنی بلند) کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ عبد اللہ بن صامت نے کہا: سرخ کتے میں سے سیاہ کتے (کو مخصوص کرنے) کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: بھتیجے! جس طرح تو نے مجھ سے سوال کیا، اسی طرح میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۸۸۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۱۰(انظر: ۲۱۳۲۳)
Explanation
فوائد:… باب نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم سترہ کی مقدار اور موضوع پر تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔
1889
Sahih
۔ (۱۸۹۰) عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَ یَقْطَعُ صَلَاۃَ الْمُسْلِمِ شَیْئٌ إِلاَّ الْحِمَارَ وَالْکَافِرَ وَالْکَلْبَ وَالْمَرْأَۃَ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُیَارَسُوْلَ اللّٰہِ لَقَدْ قُرِنَّا بِدَوَابِّ سُوئٍ ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۵۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کی نماز کو گدھے، کافر، کتے اور عورت کے علاوہ کوئی چیز نہیں توڑتی۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ ہمیں تو برے جانوروں کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔
Takhreej
(۱۸۹۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، وفی متنہ نکارۃ، راشد بن سعد المقرئی الحبرانی کثیر الارسال وقد عنعن فی روایتہ عن عائشۃ، وضعفہ الدارقطنی (انظر: ۲۴۵۴۶)
Explanation
فوائد:… یہ روایت ضعیف ہے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی اور محفوظ روایت اگلی حدیث کے بعد آ رہی ہے۔
1890
Zaeef
۔ (۱۸۹۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقْطَعُ الصَّلاَۃَ الْمَرْأَۃُ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ الْحَائِضُ) وَالْحِمَارُ وَالْکَلْبُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۴۸)
سیدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حائضہ عورت، گدھا اور کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔
Takhreej
(۱۸۹۱) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۹۵۱ (انظر: ۱۶۷۹۷، ۲۰۵۷۲)
1891
Sahih
۔ (۱۸۹۲) عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ بَلَغَہَا أَنَّ نَاسًا یَقُوْلُوْنَ: إِنَّ الصَّلاَۃَیَقْطَعُہَا الْکَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَۃُ۔۔ قَاَلَتْ: أَلَا أَرَاھُمْ قَدْ عَدَلُوْنَا بِالْکِلَابِ وَالْحُمُرِ رُبَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ بِاللَّیْلِ وَأَنَا عَلَی السَّرِیْرِ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ فَتَکُوْنُ لِیَ الْحَاجَۃُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ السَّرِیْرِ کَرَاھِیَۃَ أَنْ أَسْتَقْبِلَہُ بِوَجْہِیْ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۵۴)
اسود کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو یہ بات پہنچی کہ لوگ کہتے ہیں کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں تو وہ کہنے لگیں: کیا میں لوگوں کو اس طرح نہیں دیکھ رہی کہ انھوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برا برکردیا ہے، حالانکہ بسا اوقات ایسے ہوتا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو نماز پڑھتے اور میں آپ اور قبلہ کے درمیان چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی، جب مجھے کوئی ضرورت پڑتی تو چارپائی کی پاؤں والی طرف سے کھسک جاتی، اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے کہ میں اپنا چہرہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کروں۔
Takhreej
(۱۸۹۲) تخریج: ذکرہ الامام احمد فی عدۃ اماکن مطولا ومختصرا۔ أخرجہ البخاری: ۳۸۳، ۳۸۴، ۵۱۵، ۵۱۹، ومسلم: ۵۱۲، ۷۴۴ (انظر: ۲۴۰۸۸، ۲۴۱۵۳)
1892
Sahih
۔ (۱۸۹۳) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمُوْنَا بِالْکَلْبِ وَالْحِمَارِ، قَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ وَأَنَا مُعْتَرِضَۃٌ بَیْنَیَدَیْہِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَسْجُدَ غَمَزَ یَعْنِیْ رِجْلِیْ فَضَمَمْتُہَا إِلَیَّ ثُمَّ یَسْجُد۔ (مسند احمد: ۲۴۶۷۰)
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: بری بات ہے کہ تم نے ہمیں کتے اور گدھے کے برابر کردیا، حالانکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حالت میں نماز پرھتے ہوئے دیکھا کہ میں آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور جب آپ سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تومیری ٹانگ دباتے تھے، پس میں اس کو اپنی طرف کھینچ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔
Takhreej
(۱۸۹۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۱۹، ومسلم: ۷۴۴، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۴۱۶۹)
Explanation
فوائد:… بلا شک و شبہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ روایت ثابت ہے کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو کاٹ دیتے ہیں، صرف اس باب کے مطابق چار صحابہ نے اس کو بیان کیا ہے، لیکنیہ حدیث سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علم میں نہیں تھی، اس پر مستزاد یہ کہ انھوں نے چارپائی سے کھسک جانے اور ٹانگ کو پیچھے کھینچ لینے سے عورت کا سامنے سے گزر جانے کا استدلال کیا، حالانکہ اس سے گزرنا لازم نہیں آتا، اگر یہ گزرنا ہوتا تو قطعی طور پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی اجازت نہ دیتے، جیسا کہ دوسری قولی اور فعلی احادیث سے اندازہ ہوتا ہے۔
1893
Sahih
۔ (۱۸۹۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوعًا: یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ الْکَلْبُ وَالْمَرْأَۃُ الْحَائِضُ۔ (مسند احمد: ۳۲۴۱)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کتا،اور حائضہ عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں۔
Takhreej
(۱۸۹۴) تخریج: اسنادہ علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابوداود: ۷۰۳، وابن ماجہ: ۹۴۹، والنسائی: ۲/ ۶۴ (انظر: ۳۲۴۱)
1894
Sahih
۔ (۱۸۹۵) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقْطَعُ الصَّلَا ۃَ الْمَرْأَۃُ وَالْکَلْبُ وَالْحِمَارُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۷۰)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت، کتا اور گدھا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔
Takhreej
(۱۸۹۵) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۴۹۹، وابونعیم: ۹/ ۲۲۳ (انظر: ۷۹۸۳)
Explanation
فوائد:… یہ اس موضوع سے متعلقہ مختلف احادیث ِ مبارکہ ہیں،درج ذیل حدیث بھی ذہن نشین کر لیں: سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو تو پالان کی پچھلی لکڑی جتنی اونچی چیز اس کے لیے سترہ بن سکتی ہے، اگر اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کی (اونچائی) جتنی کوئی چیز نہ ہو تو گدھا، عورت اور کالا کتا اس کی نماز کو کاٹ دیں گے۔ (صحیح مسلم: ۵۱۰) اس میں کوئی شک نہیں کہ دیگر مثالوں کی طرح سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے انکار والی روایت کو ان کی لا علمی پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے اور کئی صحابہ کرام یہ حدیث بیان کرنے والے موجود ہیں کہ گدھا، کتا اور عورت نماز کاٹ دیتے ہیں۔ بہرحال ان احادیث کے مختلف مفاہیم بیان کیے گئے ہیں، غور فرمائیں، پہلے اقوال نقل کرتے ہیں: امام نووی نے الخلاصۃ میں کہا: جمہور نے مختلف احادیث میں جمع وتطبیق کی صورت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نماز کو کاٹنے سے مراد اس کے خشوع کو ختم کرنا ہے۔ سیدنا علی ، سیدنا عثمان اور سیدنا ابن عمر کا خیال ہے کہ نمازی کے سامنے سے گزر جانے والی کوئی چیز اس کی نماز کو نہیں کاٹ سکتی۔ امام مالک، امام شافعی اور اصحاب الرائے کا بھییہی مسلک ہے۔ جبکہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور حسن بصری اس طرف گئے ہیں کہ عورت، گدھا اور کتا واقعی نماز کو کاٹ دیتے ہیں، حسن بصری نے بطور دلیلیہ حدیث پیش کی: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((یَقْطَعُ صَلَاۃَ الرَّجُلِ اِذَا لَمْ یَکُنْ بَیْنَیَدَیْہِ قِیْدُ آخِرَۃِ الرَّحْلِ، اَلْحِمَارُ وَالْکَلْبُ الْاَسْوَدُ وَالْمَرْأَۃُ)) یعنی: اگر نمازی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو گدھا، کالا کتا اور عورت اس کی نماز کو کاٹ دیتے ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ قول مروی ہے کہ حائضہ عورت اور کالا کتا نماز کو قطع کردیتے ہیں۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور امام احمد اور امام اسحاق کا خیالیہ ہے صرف کالے کتے سے نماز متأثر ہوتی ہے۔ یہ مختلف اقوال ہیں، اس ضمن میں درج ذیل حدیث بھی قابل غور ہے: سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ شَیْئٌ، وَادْرَؤُوْا مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَاِنَّمَا ھُوَ شَیْطَانٌ۔)) یعنی: کوئی چیز نماز کو نہیں کاٹ سکتی اور جتنی طاقت رکھتے ہو، (گزرنے والے کو) ہٹاؤ، کیونکہ وہ شیطان ہوتا ہے۔ (ابوداود: ۷۱۹) اس کی سند میں مجالد بن سعیدسيء الحفظ ہے، لیکن درج ذیل روایات سے اس کو قوت ملتی ہے: (۱) سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ شَيْئٌ۔)) یعنی: کوئی چیز نماز کو نہیں کاٹتی۔ (طبرانی: ۷۶۸۸، دارقطنی:۱/ ۳۶۸) اس کی سند میں عُفَیر بن معدان ضعیف ہے۔ (۲) سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَایَقْطَعُ صَلَاۃَ الْمَرْئِ امْرَأَۃٌ، وَلَا کَلْبٌ، وَلَا حِمَارٌ۔)) یعنی: آدمی کی نماز کو نہ عورت کاٹتی ہے، نہ کتا اور نہ گدھا۔ (دارقطنی: ۱/ ۳۶۸) (۳) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ شَیْئٌ۔)) یعنی: کوئی چیز نماز کو قطع نہیں کرتی۔ (دارقطنی: ۱/۳۶۷) ان روایات میں بھی ضعف موجود ہے۔ (۴) سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جو چیز نمازی کے سامنے سے گزرتی ہے، وہ اس کی نماز نہیں کاٹتی۔ (مؤطا امام مالک: ۱/ ۱۵۶، سندہ صحیح علی شرط الشیخین) (۵) سیدنا عثمان اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: کوئی چیز نماز کو قطع نہیں کرتی، البتہ حسب ِ استطاعت (گزرنے والی چیزوں) کو پیچھے ہٹاؤ۔ (ابن ابی شیبہ: ۱/ ۲۸۰، سندہ صحیح) (انظر: ۳۲۴۱، ۷۹۸۳) معلوم ایسے ہوتا ہے کہ حائضہ عورت، کتے اورگدھے کے نماز کاٹ دینے سے مراد یہ ہے کہ اس کے خشوع اور اجرو ثواب میں کمی آجاتی ہے، اس تاویل کی وجہ درج بالا احادیث کے ساتھ ساتھ درج ذیل حدیث بھی ہے۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((إِذَا صَلّٰی أَحَدُ کُمْ إِلٰی سُتْرَۃٍ فَلْیَدْنُ مِنْھَا لَا یَقْطَعُ الشَّیْطَانُ عَلَیْہِ صَلَاتَہُ۔)) (ابوداود: ۶۹۵،والنسائی: ۲/ ۶۲، مسند احمد ۱۶۰۹۰) یعنی: جب تم میںسے کوئی سُترے کی طرف نماز پڑھے تو وہ اس کے قریب ہوجائے تاکہ شیطان اس پر اس کی نماز قطع نہ کرے۔ اس حدیث میں بھی قطع کرنے سے مراد خشوع وخضوع اور اجر وثواب میں کمی ہے، تو جب خود شیطان کے گزرنے سے نماز قطع نہیں ہوتی تو جن چیزوں کو شیطان کے مشابہ قرار دیا گیا ہے، ان کی وجہ سے بھی نماز منقطع نہیں ہونی چاہیے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نمازی کو سترہ کا اہتمام کرنا چاہیے، ہم باب نمازی کے آگے سترہ رکھنے اور اس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم میں اس کی مکمل وضاحت کر چکے ہیں، لیکن اگر نمازی کے سامنے سے حائضہ عورت، گدھا یا کتا گزر جاتا ہے تو اس کے خشوع اور ثواب میں کمی آجاتی ہے۔ مولفِ فوائدn نے خود ذکر کیا ہے کہ چار صحابہ سے مرفوعاً ثابت ہے کہ عورت، کتے اور گدھے کے نمازی کے آگے سے گزر جانے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے نماز نہ ٹوٹنے کے حوالہ سے فہم اور استدلال کی مولف نے تردید کی ہے۔ نماز نہ ٹوٹنے کے متعلق جو روایات پیش کی گئی ہیں وہ سب ضعیف ہیں۔ ابن عمر، عثمان اور علی کے اقوال آخر میں ذکر کیے گئے ہیں، وہ اگر سنداً ثابت بھی ہوں تو وہ ہمارے لیے حجت نہیں ہیں۔ پھر یہ اقوال صحیح احادیث کے مخالف ہیں۔ آخر میں سہل بن ابی حثمہ کی حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ جب شیطان کے آگے سے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی تو شیطان کے مشابہ چیز کے گزرنے سے نماز کیسے ٹوٹے گی۔ حالانکہ اس حدیث مین یہ بیان ہوا ہے کہ نمازی ستر کے قریب ہو کر نماز پڑھے تاکہ وہ آدمی کی نماز توڑ نہ دے۔ (ترجمہ بھی اسی طرح کیا گیا ہے) اس حدیث میں سترہ کے قریب نہ ہونے کی نماز کے قطع ہونے کا اشارہ مل رہا ہے، نہ کہ نماز کے قطع نہ ہونے کی بات۔ بہرحال صحیح صریح مرفوع روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت، کتے اور گدھے کے نمازی کے آگے سے گزرنے سے نماز قطع ہو جاتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
1895
Sahih

Chapters

14
01
نماز میں کلام کرنے کی ممانعت کا بیان
4 Hadith
02
نماز کو توڑ دینے والے امور کا بیان
8 Hadith
03
نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
10 Hadith
04
نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
8 Hadith
05
(نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان
7 Hadith
06
پیشابیا پاخانہ کو روک کر، کھانے کی موجودگی میں اور اونگھ کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
07
نماز میں گونگی بکل، سدل، اسبال، نقش و نگار والے کپڑوں اور عورتوں کی چادروں کی کراہت کا بیان
6 Hadith
08
نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
09
نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان (نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
10 Hadith
10
اللہ کے ڈر سے نماز میں رونے کے جائز ہونے کا بیان
2 Hadith
11
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
7 Hadith
12
نماز میں بچہ اٹھانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
13
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
7 Hadith
14
تاریکی میں نمازی کے سامنے عورت کے سونے کے جواز کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.