TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1938 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 10 in this chapter
نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان (نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
۔ (۱۹۳۸) عَنْ جَابِرٍ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ مُنْطَلِقٌ إِلٰی بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَأَتَیْتُہُ وَھُوَ یُصَلِّیْ عَلٰی بَعِیْرِہ فَکَلَّمْتُہُ فَقَالَ بِیَدِہِ ھٰکَذَا، ثُمَّ کَلَّمْتُہُ فَقَالَ بِیَدِہِ ھَکَذَا، وَأَنَا أَسْمَعُہُ یَقْرَأُ وَیُومِیئُ بِرَأْسِہِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ((مَا فَعَلْتَ فِی الَّذِی أَرْسَلْتُکَ؟ فَإِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی إِلاَّ أَنِّی کُنْتُ أُصَلِّیْ۔)) (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) وَھُوَ مُوَجِّہٌ حِیْنَئِذٍ إِلَی الْمَشْرِقِ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۹۷)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے (کسی کے لئے کام) بھیجا، جبکہ آپ خود بنو مصطلق کی طرف جارہے تھے، جب میں آپ کے پاس واپس آیا جبکہ آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے اسی حالت میں آپ سے بات کی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں نے پھر بات کرنا چاہی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کر دیا، جبکہ میں سن رہا تھا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلاوت کررہے تھے اور سر سے اشارہ کر رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: جس کام کیلئے میں نے تجھے بھیجا تھا، اس کا کیا بنا؟ مجھے بولنے سے روکنے والی چیز صرف یہ تھی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مشرق کی طرف متوجہ تھے۔
1938
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۹۳۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۴۰ (انظر: ۱۴۳۴۵)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اس حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز میں اشارہ کرکے بات کرنے والے کو بات کرنے سے روکنا چاہا، پھر بعد میں وضاحت بھی کر دی کہ نماز کی وجہ سے بات تو نہیں کی جا سکتی تھی۔ سبحان اللہ! جہاں اس حقیقت پر امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ دانستہ طور پر کلام کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے، وہاں اللہ تعالیٰ نے نماز میں صبر و تحمل، خشوع و خضوع اور عاجزی و انکساری کو برقرار رکھنے کے لئے جن امور کی اجازت دی ہے، ان میں ایک کا بیان ان احادیث ِ مبارکہ میں ہے کہ ضرورت کے وقت کسی کو کوئی اشارہ کیا جا سکتا ہے۔یہ اسلام کی کمال حکمت ِ عملی ہے کہ اس نے اشارہ کرنے کی رخصت دے کر نمازیوں کو کئی قسم کی بے چینیوں اور خشوع و خضوع کے منافی امور سے محفوظ کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی آدمی دورانِ نماز کسی کو روکنا چاہتا ہو یا اس حالت میں کوئی فرد اس سے اجازت طلب کرتا ہے، تو بجائے اس کے کہ وہ جلدی جلدی اور انتہائی بے سکون انداز میں نماز کی تکمیل کرے، اسے چاہیے کہ وہ شریعت کی رخصتوں پر عمل کرتے ہوئے اشارہ کر کے یا سبحان اللہ کہہ کر اپنے مقصود کی طرف اشارہ کر دے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے ایک حدیث سے استنباط کرتے ہوئے لکھا ہے: اس حدیث سے بڑی وضاحت و صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ دورانِ نماز مردوں کا سبحان اللہ کہہ کر اور عورتوں کا تالی بجا کر اجازت کا جواب دینا جائز ہے۔ ہاتھ اور سر سے اشارہ کرنا تو بالاولی جائز ہو گا اور اس کا جواز کئی احادیث سے ثابت ہوتا ہے، میں نے بعض کی تخریج صحیح ابوداود میں ان نمبروں (۸۵۸، ۸۵۹، ۸۶۰، ۸۷۰) کے تحت کی ہے۔ احناف نے اس موضوع پر یہ حدیث پیش کی ہے: ((مَنْ اَشَارَ فِیْ صَلَاتِہٖاِشَارَۃً تُفْہَمُ عَنْہُ فَلْیُعِدْ لَھَا۔)) یعنی: جس نے نماز میں ایسا اشارہ کیا، جس سے کوئی بات سمجھی جا سکتی ہے، تو وہ اپنی نماز دوبارہ ادا کرے۔ میں نے اس حدیث کے ضعف کی حقیقت کی وضاحت (ضعیف ابی داود: ۱۶۹) اور (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۱۱۰۴)میں کی ہے۔ (صحیحہ: ۴۹۷) ہم قارئین کے استفادہ کے لیے مذکورہ بالا حدیث پر کی گئی بحث نقل کر دیتے ہیں، امام البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ((مَنْ اَشَارَ فِیْ صَلَاتِہٖاِشَارَۃً تُفْہَمُ عَنْہُ فَلْیُعِدْ لَھَا۔))یَعْنِیْ الصَّلَاۃَ۔ یعنی: جس نے نماز میں ایسا اشارہ کیا، جس سے کوئی بات سمجھی جا سکتی ہے، تو وہ اپنی نماز دوبارہ ادا کرے۔ یہ حدیث منکر ہے، اس کو امام ابوداود (۹۴۴)، امام طحاوی (۱/ ۲۶۳) اور امام دارقطنی (۱۹۵۔ ۱۹۶)نے روایت کیا ہے، اس حدیث کے ضعف کی وجہ ابن اسحق ہے، جو مدلس ہے اور اس نے یہ روایت عن کے ساتھ بیان کی ہے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ جناب زیلعی حنفی نے اس حدیث کو (نصب الرایۃ: ۲/ ۹۰) میں حدیثجیّد کہا، حالانکہ وہ ابن جوزی سے یہ بیان کر چکے ہیں کہ انھوں نے اس کو اسی علت کی بنا پر التحقیق میں معلول کہا۔ فقہ حنفی کی کتاب (الھدایۃ) میں حنفی مسلک کے حق میں اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا: نمازی زبان سے سلام کا جواب نہیں دے سکتا اور نہ ہاتھ سے اشارہ کر کے دے سکتا ہے، کیونکہیہ معنوی طور پر کلام ہو گی۔ اگر کوئی نمازی سلام کی نیت سے کسی سے مصافحہ کرتا ہے تو اس کی نماز باطل ہو گی۔ اس مسلک کی دلیلیہی حدیث ہے، جس کا ضعف واضح ہو چکا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ حدیث دوسری احادیث ِ صحیحہ کے مخالف بھی ہے، جن کے مطابق نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز میں اشارہ کرنا ثابت ہے۔ اسی لیے ہم نے اس حدیث کو منکر کہا، ابن ابو داود کے سابقہ کلام مین یہ اشارہ موجود ہے، اسی لیے عبد الحق اشبیلی نے اپنی کتاب احکام (۱۳۷۰) میں اس حدیث کے بعد کہا: صحیح بات یہ ہے کہ صحیح مسلم وغیرہ کی احادیث کی روشنی میں اشارہ کرنا جائز ہے۔ ان کی مراد سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث ہے،جس کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اشارہ کے ذریعے سلام کا جواب دیا تھا، میں نے اس کی تخریج (صحیح ابی داود: ۸۵۹) میں کی ہے، اور سیدنا انس (صحیح ابی داود: ۸۷۱)کی حدیث سے بھی اشارے کا ثبوت ملتا ہے۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۱۱۰۴) نماز کے دوران ضرورت کے پیش نظر اشارہ کرنے کے مزید دلائل (۱) سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں: سورج گرہن کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ کسوف پڑھا رہے تھے، خواتین و حضرات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: لوگوں کو کیا ہوا (کہ وہ اب نماز پڑھ رہے ہیں)؟ انھوں نے نماز ہی میں آسمان (یعنی سورج) کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا۔ میں نے کہا: یہ کوئی نشانی ہے؟ انھوں نے جی ہاں کا اشارہ کیا۔ (بخاری: ۱۰۵۳) یہ واقعہ نہ صرف نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی کا ہے، بلکہ آپ کی اقتدا میں کھڑے ہونے والی عورتوں کا ہے، اس میں دو دفعہ اشارے اور ایک دفعہ سبحان اللہ کہنے کا ذکر ہے۔ (۲) سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صلح کرانے کے لیے بنو عمرو کی طرف گئے، مسجد نبوی میں نماز کا وقت ہو گیا، سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے امامت کے فرائض ادا کرنا شروع کیے، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور صف میں کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے ابو بکر صدیق کو متنبہ کرنے کے لیے تالیاں بجائیں، چونکہ وہ نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتے تھے، اس لیے لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجانا شروع کر دیں، بالآخر انھوں نے پیچھے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صف میں کھڑے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنے مقام پر ٹھہرے رہو اور(نماز کی امامت جاری رکھو)۔ آخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسی صورتحال میں مردوں کو سبحان اللہ کہنے اور عورتوں کو تالی بجانے کا حکم دیا۔ (بخاری: ۶۸۴) (۳) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیمار ہونے کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائی، جبکہ آپ کی اقتدا کرنے والے لوگ کھڑے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر امام کی اقتدا کے مسئلہ کی وضاحت کی۔ (بخاری: ۶۸۸) (۴) سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عصر کی نماز کے بعد ظہر کے بعد والی دو رکعتیں ادا کر رہے تھے، تو اس دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سوال کرنے والی لونڈی کی طرف اشارہ کیا تھا، جس کی وجہ سے وہ پیچھے ہٹ گئی تھی۔ (بخاری: ۱۲۳۳) (۵) سیدنا عبدا للہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھتے، جب سجدہ کرتے تو حسن اور حسین اچھل کر آپ کی پیٹھ پر چڑھ جاتے۔ جب صحابہ ارادہ کرتے کہ انھیں روکیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اشارہ کرتے کہ ان کو (اپنے حال پر) چھوڑ دو۔ جب نماز پوری کرتے تو انھیں اپنی گودی میں بٹھا لیتے اور فرماتے: جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ ان دونوں سے محبت کرے۔ (صحیح ابن خزیمہ: ۸۸۷، مسند ابو یعلی: ۶۰/ ۲، صحیحہ: ۳۱۲) (۶) سیدنا عبد اللہ بن زید اور حضرت ابو بشیر انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کو ایک دن وادیٔ بطحا میں نماز پڑھا رہے تھے، ایک عورت نے سامنے سے گزرنا چاہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ ٹھہر جا۔ پس وہ پیچھے ہٹ گئی ، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو وہ سامنے سے گزر گئی۔ (مسندأحمد: ۵/۲۱۶، صحیحہ: ۳۰۴۲) ان اور اس موضوع پر دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے دورانِ نماز کسی کی طرف اشارہ کرنے کی رخصت برقرار رکھی ہے۔

Related Chapters

1,417
1
Chapter: What Has Been Related About The 'The Tasbih Is For The Men And Clapping Is For The Women'
باب: نماز میں امام کے سہو پر مردوں کے ”سبحان اللہ“ کہنے اورعورتوں کے دستک دینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
2
نماز میں (غلطی پر تنبیہ کے لیے) مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں
Sunnan Ibn e Maja
3
مردوں کے لیے سہو کو بتانے کے لیے نماز میں سبحان اللہ کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
Musnad Ahmad
5
(3) CHAPTER. What is allowed for the men as regards the saying of Subhan Allah and Al-hamdulilldh during As-Salat (prayer).
نماز میں مردوں کا سبحان اللہ اور الحمدللہ کہنا
Sahih Bukhari
6
(65) CHAPTER. The superiority of Tasbih [i.e., saying Subhan Allah (Glorified be Allah)].
سبحاناللہ کہنے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
7
Chapter: The Virtue Of Tahlil (Saying La Ilaha Ill-Allah), Tasbih (Saying Subhan Allah) And (Du'a) Supplication
لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ کہنے اور دعا کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
8
CHAPTER: Responding To The One Who Has Sneezed In The Prayer.
باب: نماز میں چھینک کے جواب میں «یرحمک اللہ» کہنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
9
CHAPTER: Clapping During The Prayer.
باب: نماز میں عورتوں کے تالی بجانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
10
Chapter: The Virtue Of Glorifying Allah
تسبیح (سبحان اللہ) کہنے کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
11
نماز عشاء کو عتمہ کہنے کے جواز کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
عورتوں کے لیے سہو کو بتانے کے لیے نماز میں تالی بجانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
13
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Making Signals During Salat
باب: نماز میں اشارہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About: At-Tasbih, At-Takbir, And At-Tahmid When Going To Sleep
باب: سوتے وقت سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
18
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
19
نماز میں مسلمانوں کے ننگا ہونے کی ممانعت اور ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
20
مسافرکے لیے اپنی سواری پر بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
21
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
Musnad Ahmad
22
نماز کے بعد امام کے ٹھہرنے کی مقدار کا اور اس کے دائیںیا بائیں طرف پھرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
23
(نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
24
اللہ کے ڈر سے نماز میں رونے کے جائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
25
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
26
نماز میں بچہ اٹھانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
27
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
Musnad Ahmad
28
تاریکی میں نمازی کے سامنے عورت کے سونے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
29
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
30
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
31
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
Musnad Ahmad
32
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
33
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
34
بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے جواز کا بیان اور نبی کریم aکے علاوہ کے لیے نماز کے اجر کا آدھا ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
35
مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل Bکا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
36
رسول اللہaکا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھانے کا بیان
Musnad Ahmad
37
نماز میں امام کا اپنا نائب بنانے کا اور نائب بنانے والے امام کے آنے کے بعد نائب کا مقتدی بن جانے کا جواز
Musnad Ahmad
38
اکیلے آدمی کا (دورانِ نماز) امامت کی طرف منتقل ہوجانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
39
’’سیّدناعبد اللہ بن عمرd عید والے دن نکلے اور نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہ پڑھی، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریمaنے ایسے ہی کیا تھا۔‘‘
Musnad Ahmad
40
قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
Musnad Ahmad
41
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
42
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
Musnad Ahmad
43
عیدین جیسے مواقع پر دف بجانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
44
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
Musnad Ahmad
45
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
46
عُسفان کے مقام پر بپا ہونے والے غزوۂ بنی لحیان کا بیان، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ خوف ادا کی تھی
Musnad Ahmad
47
غزوۂ ذات الرقاع کا بیان، اس میں بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ خوف ادا کی
Musnad Ahmad
48
ان صحابہ کا بیان جنھوں نے یہ روایت کی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ کے اندر نماز ادا نہیں کی
Musnad Ahmad
49
ان لوگوں کا بیان جو اس بات کے قائل ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی تھی
Musnad Ahmad
50
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

466
Musnad Ahmad
2705
۔ (۲۷۰۵) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ (بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ) قَالَ: کَانَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا مُسْلِمٌ وَھُوَ فِی صَلَاۃٍ سَأَلَ اللّٰہَ خَیْرًا اِلَّا آتَاہُ اِیَّاہُ، قَالَ وَقَلَّلہَا أَبُو ھُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ۔ قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّیَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ، قُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعَیْدٍ الْخُدْرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ھٰذِہِ السَّاعَۃِ أَنْ یَکُوْنَ عِنْدَہُ مِنْھَا عِلْمٌ، فَأَتَیْتُہُ (فَذَکَرَ حَدِیثًا طَوِیلًا ثُمَّ قَالَ) قُلْتُ: یَا أَبَا سَعِیْدٍ! اِنَّ أَبَا ھُرَیْرَۃَ حَدَّثَنَا عَنِ السَّاعَۃِ الَّتِی فِی الْجُمُعَۃِ فَہَلْ عِنْدَکَ مِنْہَا عِلْمٌ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہَا فَقَالَ: ((اِنِّی کُنْتُ قَدْ أُعْلِمْتُہَا ثُمَّ أُنْسِیْتُہَا کَمَا أُنْسِیْتُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ۔)) قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ فَدَخَلْتُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۴۷)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث بیان کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں مسلمان نماز کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے جس خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے۔ سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے اس کے قلیل ہونے کی طرف اشارہ کیا۔ جب سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تو میں نے (دل میں کہا کہ) اللہ کی قسم! اگر میں سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جاؤں اور ان سے اس گھڑی کے بارے میں سوال کروں، ممکن ہے کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی علم ہو۔ پس میں ان کے پاس گیا، … طویل حدیث ذکر کی…، میں ان کے پاس گیا اور کہا: اے ابو سعید! سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن کی گھڑی کے بارے میں ایک حدیث بیان کی ہے، کیا آپ کے پاس اس (کے وقت کے تعین) کا کوئی علم ہے؟ سیّدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس گھڑی کے بارے بتلایا تو گیا تھا، لیکن پھر شب ِ قدرکی طرح مجھے یہ بھلا دی گئی۔ پھر میں ان کے پاس سے نکلا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا۔
Musnad Ahmad
10552
۔ (۱۰۵۵۲)۔ حَدَّثَنَا أَبُوْ سَلَمَۃَ وَیَحْیٰی قَالَ: لَمَّا ھَلَکَتْ خَدِیْجَۃُ جَائَ تْ خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمٍ، اِمَرَأَۃُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَا تَزَوَّجُ؟ قَالَ: ((مَنْ؟)) قَالَتْ: اِنْ شِئْتَ بِکْرًا وَاِنْ شِئْتَ ثَیِّبًا، قَالَ: ((فَمَنِ الْبِکْرُ؟)) قَالَتْ: اِبْنَۃُ أَحَبِّ خَلْقِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اِلَیْکَ عَائِشَۃُ بِنْتُ أَبِیْ بَکْرٍ، قَالَ: ((وَمَنْ ثَیِّبٌ؟)) قَالَتْ: سَوْدَۃُ ابْنَۃُ زَمْعَۃَ، قَدْ آمَنَتْ بِکَ وَاتْبَعَتْکَ عَلٰی مَا تَقُوْلُ، قَالَ: ((اذْھَبِیْ فَاذْکُرِیْھِمَا عَلَیَّ۔)) فَدَخَلَتْ بَیْتَ أَبِیْ بَکْرٍ فَقَالَتْ: یَا أُمَّ رُوْمَانَ! مَاذَا أَدْخَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ مِنَ الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ، قَالَتْ: وَمَا ذَاکِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْطُبُ عَلَیْہِ عَائِشَۃَ، قَالَتِ: انْتَظِرِیْ أَبَابَکْرٍ حَتّٰییَأْتِیَ فَجَائَ أَبُوْبَکْرٍ فَقَالَتْ: یَا أَبَابَکْرٍ مَاذَا أَدْخَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ مِنَ الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاکِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْطُبُ عَلَیْہِ عَائِشَۃَ، قَالَ: وَھَلْ تَصْلُحُ لَہُ اِنَّمَا ھِیْ ابْنَۃُ أَخِیْہِ، فَرَجَعْتْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہُ، قَالَ: ((ارْجَعِیْ اِلَیْہِفَقُوْلِیْ لَہُ: أَنَا أَخُوْکَ وَأَنْتَ أَخِیْ فِی الْاِسْلَامِ، وَابْنَتُکَ تَصْلُحُ لِیْ۔)) فَرَجَعَتْ فَذَکَرَتْ لَہُ ذٰلِکَ لَہُ، قَالَ: انْتَظِرِیْ وَخَرَجَ، قَالَتْ أُمُّ رُوْمَانَ: اِنَّ مُطْعِمَ بْنَ عَدِیٍ قَدْ کَانَ ذَکَرَھَا عَلَی اِبْنِہِ فَوَاللّٰہِ! مَا وَعَدَ وَعْدًا قُطُّ فَأَخْلَفَہُ لِأَبِیْ بَکْرٍ، فَدَخَل أَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلٰی مُطْعِمِ بْنِ عَدِیٍّ وَعِنْدَہُ امْرَأَتُہُ أُمُّ الْفَتٰی، فَقَالَتْ: یَاابْنَ أَبِیْ قُحَافَۃَ! لَعَلَّکَ مُصْبٍ صَاحِبَنَا مُدْخِلُہُ فِیْ دِیْنِکَ الَّذِیْ أَنْتَ عَلَیْہِ اِنْ تَزَوَّجَ اِلَیْکَ؟ قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ لِلْمُطْعِمِ بْنِ عَدِیٍّ: اَقَوْلَ ھٰذِہِ تَقُوْلُ، قَالَ: اِنَّھَا تَقُوْلُ ذٰلِکَ، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِہِ وَقَدْ اَذْھَبَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ مَا کَانَ فِیْ نَفْسِہِ مِنْ عِدَتِہِ الَّتِیْ وَعَدَہُ فَرَجَعَ، فَقَالَ: اِدَعِیْ لِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَتْہُ فَزَوَّجَھَا اِیَّاہُ، وَعَائِشَۃُیَوْمَئِذٍ بِنْتُ سِتِّ سِنِیْنَ، ثُمَّّ خَرَجَتْ فَدَخَلَتْ عَلَی سَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ فَقَالَتْ: مَاذَا أَدْخَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْکَ مِنَ الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ! قَالَتْ: وَمَا ذَاکِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخْطُبُکَ عَلَیْہِ، قَالَتْ: قَالَتْ: وَدِدْتُ، ادْخُلِیْ اِلٰی أَبِیْ فَاذْکُرِیْ ذَاکِ لَہُ، وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْرًا قَدْ اَدْرَکَہُ السِّنُّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ الْحَجِّ، فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ فَحَیَّتْہُ بِتَحِیَّۃِ الْجَاھِلِیَّۃِ، فَقَالَ: مَنْ ھٰذِہِ؟ فَقَالَتْ: خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمٍ، قَالَ: فَمَا شَأْنُکِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخْطُبُ عَلَیْہِ سَوْدَۃَ، قَالَ: کُفْئٌ کَرِیْمٌ، مَاذَا تَقُوْلُ صَاحِبَتُکِ؟ قَالَتْ: تُحِبُّ ذَاکَ، قَالَ: ادْعُھَا اِلَیَّ فَدَعَیْتُھَا قَالَ: أَیْ بُنَیَّۃُ! اِنَّ ھٰذِہِ تَزْعَمُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَرْسَلَ یَخْطُبُکِ، وَھُوَ کُفْئٌ کَرِیْمٌ، أَ تُحِبِّیْنَ أَنْ أُزَوِّجَکِ بِہٖ؟قَالَتْ: نَعَمْ،قَالَ: ادْعِیْہِ لِیْ، فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَیْہِ فَزَوَّجَھَا اِیَّاہُ، فَجَائَ ھَا أَخُوْھَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَۃَ مِنَ الْحَجِّ فَجَعَلَ یَحْثِیْ فِیْ رَأْسِہِ التُّرَابَ، فَقَالَ بَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ: لَعَمْرُکَ! اِنِّیْ لَسَفِیْہٌیَوْمَ أَحْثِیْ فِیْ رَأْسِیَ التُّرَابَ اَنْ تَزَوَّجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَوْدَۃَ بِنْتَ زَمْعَۃَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ فَنَزَلْنَا فِیْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الخَزْرَجِ فِی السُّنْحِ، قَالَتْ: فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ بَیْتَنَا وَاجْتَمَعَ اِلَیْہِ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَنِسَائٌ، فَجَائَ تْنِیْ أُمِّیْ وَاِنِّیْ لَفِیْ اَُرْجُوْحَۃٍ بَیْنَ عَذْقَیْنِ تَرْجَحُ بِیْ، فَاَنْزَلَتْنِیْ مِنَ الْأُرْجُوْحَۃِ وَلِیَ جُمَیْمََۃٌ فَفَرَقَتْھَا وَمَسَحَتْ وَجْھِیْ بِشَیْئٍ مِنْ مَائٍ ثُمَّّ أَقْبَلَتْ تَقُوْدُنِیْحَتّٰی وَقَفَتْ بِیْ عِنْدَ الْبَابِ وَاِنِّیْ لَاَنْھَجُ حَتّٰی سَکَنَ مِنْ نَفْسِیْ، ثُمَّّ دَخَلَتْ بِیْ فَاِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ جَالِسٌ عِنْدَ سَرِیْرٍ فِیْ بَیْتِنَا، وَعِنْدَہُ رِجَالٌ وَنِسَائٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَاَجْلَسَتْنِیْ فِیْ حِجْرِہِ، ثُمَّّ قَالَتْ: ھٰؤُلَائِ أَھْلُکَ فَبَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِیْھِمْ وَبَارَکَ لَھُمْ فِیْکَ، فَوَثَبَ الرِّجَالُ وَالنِّسَائُ فَخَرَجُوْا، وَبَنٰی بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِنَا مَا نُحِرَتْ عَلَیَّ جَزُوْرٌ وَلَاذُبِحَتْ عَلَیَّ شَاۃٌ حَتّٰی أَرْسَلَ اِلَیْنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ بِجَفْنَۃٍ کَانَ یُرْسِلُ بِھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ اِذَا دَارَ اِلٰی نِسَائِہِ، وَأَنَا یَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۸۸)
۔ ابو سلمہ اور یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وفات پا گئیں تو سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ خولہ بنت ِ حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ شادی نہیںکریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کس سے؟ انھوں نے کہا: اگر آپ کنواری کو چاہتے ہیں تو وہ بھی مل سکتی ہے اور اگربیوہ چاہتے ہے تو وہ بھی مل سکتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کنواری کون ہے؟ انھوں نے کہا: آپ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے محبوب ترین شخص کی بیٹی ہے، عائشہ بنت ابی بکر ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: بیوہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: سودہ بنت زمعہ، وہ آپ کے ساتھ ایمان لائی ہے اور آپ کے فرمان کے مطابق آپ کی پیروی کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، تم جاؤ اور دونوں کو میرے بارے میں یہ پیغام دو۔ پس سیدہ خولہ، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں داخل ہوئی اور کہا: اے ام رومان! اللہ تعالیٰ نے کیا خیر و برکت تمہارے گھر میں داخل کر دی ہے! اس نے کہا: وہ کیا، سیدہ خولہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا ہے، میں عائشہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی منگنی کا پیغام لے کر آئی ہوں، اس نے کہا: ابو بکر کے آنے کا انتظار کر، اتنے میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے، سیدہ خولہ نے کہا: اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں پر کیا خیر و برکت نازل کر دی ہے! انھوں نے کہا: وہ کیا، اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا ہے، میں عائشہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی منگنی کا پیغام لے کر آئی ہوں، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ عائشہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جائز ہے، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بھتیجی ہے، پس وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جا اور ان کو کہہ: میں تیرا اور تو میرا اسلامی بھائی ہے اور تیری بیٹی میرے لیے جائز ہے۔ پس وہ لوٹی اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بات بتلائی، اب کی بار انھوں نے کہا: تو پھر تو انتظار کر، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نکل پڑے، اُدھر سیدہ ام رومان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ تفصیل بتائی کہ مطعم بن عدی نے عائشہ کے لیے اپنے بیٹے کا ذکر کیا تھا، پس اللہ کی قسم ہے کہ کبھی ایسے نہیں ہوا کہ وہ وعدہ کرے اور پھر ابو بکر کے لیے اس کی پاسداری نہ کرے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مطعم بن عدی کے پاس پہنچ گئے، اس کی بیوی ام الفتی اس کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی، اس کی بیوی نے کہا: اے ابن ابی قحافہ! اگر ہمارا بندہ تیری طرف شادی کر لے تو ممکن ہو گا کہ تو اس کو بے دین بنا کر اپنے دین میں داخل کردے، یہ سن کر سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مطعم بن عدی سے کہا: کیایہی بات ہے جو یہ کر رہی ہے؟ اس نے کہا: بس یہ تو یہی بات کہتی ہے، (سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سمجھا کہ مطعم اپنی بیوی سے اتفاق کر رہا ہے) لہٰذا وہ اس کے پاس سے نکل پڑے اور ان کے دل میں اس شخص کے وعدے کے بارے میں جو بات تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کو ختم کر دیا، پس ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس لوٹ آئے اور خولہ سے کہا: تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلا، پس اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلایا اور انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نکاح کر دیا، اس وقت سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی عمر چھ برس تھی، پھر سیدہ خولہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وہاں سے نکلی اور سیدہ سودہ بنت زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئی اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ پر کیا خیر و برکت نازل کر دی ہے! اس نے کہا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تجھے منگنی کا پیغام دینے کے لیے مجھے بھیجا ہے، انھوں نے کہا: میں تو یہ چاہتی ہوں، لیکن تو میرے ابو کے پاس جا اور ان سے اس چیز کا ذکر وہ عمر رسیدہ بزرگ تھے اور ادھیڑ عمری کی وجہ سے حج سے پیچھے رہ گئے تھے، پس وہ ان کے پاس گئی اور ان کو جاہلیت والا سلام کہا، اس نے کہا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: میں خولہ بنت حکیم ہوں، اس نے کہا: توکیسے آئی ہے؟ اس نے کہا: محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا ہے، میں سودہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی منگنی کا پیغام لے کر آئی ہوں، اس نے کہا: یہ تو بڑا بہترین کفو ہے، لیکن تیری سہیلی سودہ خود کیا چاہتی ہے؟ اس نے کہا: وہ تو اس چیز کو پسند کر رہی ہے، اس نے کہا: اس کو میری طرف بلا، پس میں اس کو بلا لائی، اس نے کہا: اے میری پیاری بیٹی! یہ خولہ بتا رہی ہے کہ محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منگنی کے لیے تجھے پیغام بھیجا ہے، یہ بڑا بہترین کفو ہے، تو کیا تو یہ پسند کرے گی کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تیری شادی کر دوں؟ سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: خولہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلا کر لے آ، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے اور اس نے سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادی کر دی، جب سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بھائی عبد بن زمعہ حج سے واپس آیا اور اسے اس شادی کا علم ہوا تو اس نے اپنے سر پر مٹی پھینکنا شروع کر دی، لیکن اس نے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد کہا تھا: تیری عمر کی قسم! جس دن میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی شادی کی وجہ سے اپنے سر پر مٹی ڈالی تھی، اس دن میں بیوقوف تھا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: پس ہم لوگ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے اور سُنْح مقام پر بنو حارث بن خزرج کے ہاں اترے، پھر جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور انصاریوں کے خواتین و حضرات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہو گئے، میری ماںمیرے پاس آئی، جبکہ میں کھجور کے دو درختوں کے درمیان بندھے ہوئے پنگھوڑے میں تھی، انھوں نے مجھے پنگھوڑے سے اتارا، میرے سر کے بال کندھوں تک تھے، انھوں نے ان میں کنگھی کی اور میرےچہرے کو پانی سے دھویا اور پھروہ مجھے چلاتی ہوئی آگے بڑھیں،یہاں تک کہ دروازے پر کھڑی ہو گئیں، مجھے سانس چڑھا ہوا تھا، پھر جب میرا سانس تھما تو وہ مجھے لے کر گھر میں داخل ہوئیں وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چارپائی پر تشریف فرما تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس انصاری خواتین و حضرات بھی موجود تھے، میری ماں نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بٹھا کر کہا: یہ تیرے اہل ہیں، اللہ تعالیٰ ان میں تیری لیے اور تجھ میں ان کے لیے برکت نازل فرمائے، پھر خواتین و حضرات اٹھے اور گھر سے باہر چلے گئے، وہیں ہمارے گھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ساتھ خلوت اختیار کی، میری شادی پر نہ اونٹ ذبح کیے گئے اور نہ بکریاں، سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہماری طرف کھانے کا ایک برتن بھیجا تھا، عام طور پر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شادی کے موقع پر اپنی بیوی سے خلوت اختیار کرتے تھے تو وہ یہ کھانا بھیجا کرتے تھے، اس وقت میری عمر نو برس تھی۔
Jam e Tirmazi
826
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَهَلَّ فَانْطَلَقَ يُهِلُّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَزِيدُ مِنْ عِنْدِهِ فِي أَثَرِ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے تلبیہ پکارا اور تلبیہ پکارتے ہوئے چلے، وہ کہہ رہے تھے: «لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
Nafi` narrated: When Ibn Umar would say the talbiyah he would continue saying: Labbaik Allahumma labbaik. Labbaik la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni`mata laka wal-mulk, la sharika laka (I respond to Your call O Allah! I respond to Your call, You have no partner, I respond to You call. All praise, thanks and blessings are for You. And You have no partners with You). He said: Abdullah bin Umar would say: 'This is the Talbiyah of the Messenger of Allah.' He would himself add the following after the Talbiyah of the Messenger of Allah: Labbaik labbaika wa-sa'daik, wal-khairuu fi yadaik. Labbaika war-raghba'u ilaika wal-amal ('I respond to Your call, and I am obedient to Your orders, all good is in Your Hands. I respond to Your call and the requests and deeds are for You).'
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے اخیر میں اپنی طرف سے ان الفاظ کا اضافہ کرتے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں حاضر ہوں تیری خدمت میں اور خوش ہوں تیری تابعداری پر اور ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے اور تیری طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Musnad Ahmad
32
۔ (۳۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ شَہِدَ مُعَاذًا حِیْنَ حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ یَقُوْلُ: اِکْشِفُوْا عَنِّی سَجْفَ الْقُبَّۃِ، أُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أُحَدِّثَکُمُوْہُ إِلَّا أَنْ تَتَّکِلُوْا، سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِہِ أَوْ یَقِیْنًا مِنْ قَلْبِہِ لَمْ یَدْخُلِ النَّارَ، وَقَالَ مَرَّۃً: دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَلَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۱۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ساتھ سیدنا معاذ ؓکی وفات کے وقت ان کے پاس حاضر تھا، انھوں نے کہا: قبّے کا پردہ اٹھا دو، میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس سے پہلے یہ حدیث بیان کرنے سے یہ مانع تھا کہ تم توکل کر لو گے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دل کے اخلاص یا (راوی نے کہا) یقین سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، اور ایک دفعہ کہا: تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور آگ اس کو نہیں چھو سکے گی۔
Musnad Ahmad
44
۔ (۴۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُوْجِبَتَانِ، مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۶۸)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو واجب کر دینے والی خصلتیں ہیں، جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
Musnad Ahmad
79
۔ (۷۹)۔عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صَوْمِ رَمَضَانَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۴۳۹)
سیدنا جریر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
Musnad Ahmad
89
۔ (۸۹)۔عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْ لِیْ فِیْ الْاِسُلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْہُ أَحَدًا غَیْرَکَ، قَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ: بَعْدَکَ، قَالَ: ((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۹۴)
سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ آپ کے علاوہ (ابو معاویہ نے آپ کے بعد کے لفظ بولے ہیں) کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوں اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔
Musnad Ahmad
98
۔ (۹۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (ؓ) أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُْولَ اللّٰہِ! أَیُّ الْاِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۵۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ مسلمان کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ اور سالم رہیں۔
Musnad Ahmad
99
۔ (۹۹)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ فِیْہِ: أَیُّ الْمُسْلِمِیْنَ بَدْلَ قَوْلِہِ أَیُّ الْاِسْلَامِ۔ (مسند أحمد: ۱۵۲۸۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کون سا اسلام افضل ہے کے بجائے یہ سوال کیا گیا: کون سے مسلمان افضل ہیں۔