مسنداحمد

Musnad Ahmad

نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان

اللہ کے ڈر سے نماز میں رونے کے جائز ہونے کا بیان

۔ (۱۹۴۸) عَنْ مُطَرِّفِ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ) عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْتَھَیْتُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّی وَلِصَدْرِہِ أَزِیْزٌ کَأَ زِیْزِ الْمِرْجَلِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) مِنَ الْبُکَائِ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۲۱)

سیدنا عبداللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس حال میں پہنچا کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے ہنڈیا کے ابلنے کی طرح آواز آ رہی تھی۔

۔ (۱۹۴۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِیْ حَدِیْثِ مَرْضِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّذِیْ تُوُفِّیَ فِیْہِ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مُرُوْا أَبَابَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبَابَکْرٍ رَجُلٌ رَقِیْقٌ لاَ یَمْلِکُ دَمْعَہُ، وَإِنَّہُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ بَکٰی، قَالَتْ: مَا قُلْتُ ذٰلِکَ إِلاَّ کَرَاھِیَۃَ أَنَّ یَتَاثَّمَ النَّاسُ بِأَبِیْ بَکْرٍ أَنْ یَّکُوْنَ أَوَّلَ مَنْ قَامَ مَقَامَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((مُرُوْا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) فَرَاجَعْتُہُ، فَقَالَ: ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ، إِنَّکُنَّ صَوَاحِِبُ یُوسُفَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۶۲)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس بیماری کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہو گئے تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو بکر کو حکم کرو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ ابو بکرنرم دل آدمی ہیں، اپنے آنسوؤں پر قابو نہیںپا سکتے، اس لیے جب وہ قرآن پڑھیں گے تو رو پڑیں گے۔ میں نے یہ بات صرف اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے کہی تھی کہ لوگ گناہ میں پڑ جائیں گے کہ ابو بکر سب سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مقام پر کھڑے ہو گئے ہیں۔لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ میں نے تکرار کرتے ہوئے پھر وہی بات کہی، لیکن اس بار آپ نے فرمایا: ابو بکرکو حکم دوکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں،یقینا تم حضرت یوسف علیہ السلام کی صواحب کی طرح ہو۔