TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اللہ کے ڈر سے نماز میں رونے کے جائز ہونے کا بیان - اللہ کے ڈر سے نماز میں رونے کے جائز ہونے کا بیان - نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 10 of نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 14 · 2 Hadith
۔ (۱۹۴۸) عَنْ مُطَرِّفِ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ) عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْتَھَیْتُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّی وَلِصَدْرِہِ أَزِیْزٌ کَأَ زِیْزِ الْمِرْجَلِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) مِنَ الْبُکَائِ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۲۱)
سیدنا عبداللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس حال میں پہنچا کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے ہنڈیا کے ابلنے کی طرح آواز آ رہی تھی۔
Takhreej
(۱۹۴۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابوداود: ۹۰۴ (انظر: ۱۶۳۱۲)
1948
Sahih
۔ (۱۹۴۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِیْ حَدِیْثِ مَرْضِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّذِیْ تُوُفِّیَ فِیْہِ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مُرُوْا أَبَابَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبَابَکْرٍ رَجُلٌ رَقِیْقٌ لاَ یَمْلِکُ دَمْعَہُ، وَإِنَّہُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ بَکٰی، قَالَتْ: مَا قُلْتُ ذٰلِکَ إِلاَّ کَرَاھِیَۃَ أَنَّ یَتَاثَّمَ النَّاسُ بِأَبِیْ بَکْرٍ أَنْ یَّکُوْنَ أَوَّلَ مَنْ قَامَ مَقَامَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((مُرُوْا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) فَرَاجَعْتُہُ، فَقَالَ: ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ، إِنَّکُنَّ صَوَاحِِبُ یُوسُفَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۶۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس بیماری کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہو گئے تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو بکر کو حکم کرو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ ابو بکرنرم دل آدمی ہیں، اپنے آنسوؤں پر قابو نہیںپا سکتے، اس لیے جب وہ قرآن پڑھیں گے تو رو پڑیں گے۔ میں نے یہ بات صرف اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے کہی تھی کہ لوگ گناہ میں پڑ جائیں گے کہ ابو بکر سب سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مقام پر کھڑے ہو گئے ہیں۔لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ میں نے تکرار کرتے ہوئے پھر وہی بات کہی، لیکن اس بار آپ نے فرمایا: ابو بکرکو حکم دوکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں،یقینا تم حضرت یوسف علیہ السلام کی صواحب کی طرح ہو۔
Takhreej
(۱۹۴۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۱۸ (انظر: ۲۴۰۶۱)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اس انداز میں نماز کے اندر رونا پسندیدہ چیز ہے۔ یہ فرق کرنا خواہ مخواہ کا تکلف ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ڈر یا جنت و جہنم کییاد کی وجہ سے رونا آجائے تو نماز باطل نہیں ہو گی اور اگر کسی تکلیفیا مصیبت کی وجہ سے رونا آ جائے تو نماز باطل ہو جائے گی۔ یہ فرق کسی شرعی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا مقصد یہ نہیں تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بجائے کسی اور صحابی کا تعین کر دیں، بلکہ وہ اپنے باپ کے حق میں مزید تاکید چاہتی تھیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر ابو بکر کا ہی نام لیں گے۔ صاحب فوائد فاضلn نے اس بات کا کوئی حوالہ نہیں دیا کہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا مزید تاکید چاہتی تھیں۔ جبکہ زیر مطالعہ حدیث جو کہ صحیح مسلم میں بھی ہے اور اس سے پتا چلتا ہے کہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پیشِ نظر لوگوں کا گناہ میں پڑ جانے کا خطرہ تھا۔ صحیح بخاری (۴۴۴۵) میں بھی صاف آ رہا ہے کہ عائشہ کا خیال تھا کہ (نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد پہلے والی برکت باقی نہ رہنے کی وجہ سے) آپ کی جگہ آنے والے پہلے شخص کے ساتھ لوگ نحوست محسوس کریں گے اور عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس صورتِ حال سے الگ کرنا چاہتی تھیں۔بہرحال اصل اعتبار تو بخاری و مسلم کے حوالہ سے عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے اپنے بیان کا ہے، نہ کہ دلیل کے بغیر صرف ظن اور رائے کا۔ حضرتیوسف علیہ السلام کی صاحبات سے مراد زلیخا ہے، جس نے مختلف خواتین کو بلایا تو دعوت کے لیے تھا، لیکن اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ یوسف کا حسن کا اندازہ کر لیں اور اسے یوسف کی محبت میں معذور سمجھیں۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بھی کہہ تو کچھ اور رہی تھیں، لیکن ان مقصد کچھ اور تھا۔ حدیث میں لفظ تو جمع استعمال کیے گئے ہیں، لیکن ان مراد ایک ایک خاتون ہے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور زلیخا۔ اس جگہ صواحب یوسف سے مراد صرف زلیخا نہیں بلکہ دیگر عورتیں بھی ہیں۔ وہ کوئی چال چل رہی تھیں درج ذیل قرآنی عبارات سے اس بات پر روشنی پڑتی ہے۔ ۱۔ یوسف علیہ السلام کی بات: {رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْ اِلَیْہِ} اے میرے رب! قید مجھے اس سے زیادہ پسند ہے، جس کی طرف یہ (عورتیں) مجھے بلا رہی ہیں۔ ۲۔ یوسف علیہ السلام کی بات: {اِنَّ رَبِّیْ بِکَیْدِہِنَّ عَلِیْمٌ} یقینا میرا رب ان کی چال کو خوب جانتا ہے۔ ۳۔ عزیز مصر کا عورتوں سے سوال: {مَا خَطْبُکُنَّ اِذْ رَاوَتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِہٖ} تمہاراکیا معاملہ ہے جب تم نے یوسف کو اس کے نفس کے بارے بہکایا۔ اس بات کی تفصیل مذکورہ آیات کے تحت تفسیر القرآن الکریم از حافظ عبدالسلام بن محمدn میں دیکھیں۔ ((اِنَّکُنَّ لَاَنْتُنَّ صَوَاحِبُ یُوْسُفَ)) سے مراد صرف عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نہیں۔ (صحیح بخاری: ۶۲۹) میں ہے کہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے کہنے پر حفصصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بھی ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بجائے عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لوگوں کی امامت کرانے کے حوالہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کی تھی۔
1949
Sahih

Chapters

14
01
نماز میں کلام کرنے کی ممانعت کا بیان
4 Hadith
02
نماز کو توڑ دینے والے امور کا بیان
8 Hadith
03
نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
10 Hadith
04
نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
8 Hadith
05
(نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان
7 Hadith
06
پیشابیا پاخانہ کو روک کر، کھانے کی موجودگی میں اور اونگھ کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
07
نماز میں گونگی بکل، سدل، اسبال، نقش و نگار والے کپڑوں اور عورتوں کی چادروں کی کراہت کا بیان
6 Hadith
08
نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
09
نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان (نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
10 Hadith
10
اللہ کے ڈر سے نماز میں رونے کے جائز ہونے کا بیان
2 Hadith
11
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
7 Hadith
12
نماز میں بچہ اٹھانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
13
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
7 Hadith
14
تاریکی میں نمازی کے سامنے عورت کے سونے کے جواز کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.