TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1949 - اللہ کے ڈر سے نماز میں رونے کے جائز ہونے کا بیان - نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
اللہ کے ڈر سے نماز میں رونے کے جائز ہونے کا بیان
۔ (۱۹۴۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِیْ حَدِیْثِ مَرْضِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّذِیْ تُوُفِّیَ فِیْہِ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مُرُوْا أَبَابَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبَابَکْرٍ رَجُلٌ رَقِیْقٌ لاَ یَمْلِکُ دَمْعَہُ، وَإِنَّہُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ بَکٰی، قَالَتْ: مَا قُلْتُ ذٰلِکَ إِلاَّ کَرَاھِیَۃَ أَنَّ یَتَاثَّمَ النَّاسُ بِأَبِیْ بَکْرٍ أَنْ یَّکُوْنَ أَوَّلَ مَنْ قَامَ مَقَامَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((مُرُوْا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) فَرَاجَعْتُہُ، فَقَالَ: ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ، إِنَّکُنَّ صَوَاحِِبُ یُوسُفَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۶۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس بیماری کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہو گئے تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو بکر کو حکم کرو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ ابو بکرنرم دل آدمی ہیں، اپنے آنسوؤں پر قابو نہیںپا سکتے، اس لیے جب وہ قرآن پڑھیں گے تو رو پڑیں گے۔ میں نے یہ بات صرف اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے کہی تھی کہ لوگ گناہ میں پڑ جائیں گے کہ ابو بکر سب سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مقام پر کھڑے ہو گئے ہیں۔لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ میں نے تکرار کرتے ہوئے پھر وہی بات کہی، لیکن اس بار آپ نے فرمایا: ابو بکرکو حکم دوکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں،یقینا تم حضرت یوسف علیہ السلام کی صواحب کی طرح ہو۔
1949
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۹۴۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۱۸ (انظر: ۲۴۰۶۱)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اس انداز میں نماز کے اندر رونا پسندیدہ چیز ہے۔ یہ فرق کرنا خواہ مخواہ کا تکلف ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ڈر یا جنت و جہنم کییاد کی وجہ سے رونا آجائے تو نماز باطل نہیں ہو گی اور اگر کسی تکلیفیا مصیبت کی وجہ سے رونا آ جائے تو نماز باطل ہو جائے گی۔ یہ فرق کسی شرعی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا مقصد یہ نہیں تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بجائے کسی اور صحابی کا تعین کر دیں، بلکہ وہ اپنے باپ کے حق میں مزید تاکید چاہتی تھیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر ابو بکر کا ہی نام لیں گے۔ صاحب فوائد فاضلn نے اس بات کا کوئی حوالہ نہیں دیا کہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا مزید تاکید چاہتی تھیں۔ جبکہ زیر مطالعہ حدیث جو کہ صحیح مسلم میں بھی ہے اور اس سے پتا چلتا ہے کہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پیشِ نظر لوگوں کا گناہ میں پڑ جانے کا خطرہ تھا۔ صحیح بخاری (۴۴۴۵) میں بھی صاف آ رہا ہے کہ عائشہ کا خیال تھا کہ (نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد پہلے والی برکت باقی نہ رہنے کی وجہ سے) آپ کی جگہ آنے والے پہلے شخص کے ساتھ لوگ نحوست محسوس کریں گے اور عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس صورتِ حال سے الگ کرنا چاہتی تھیں۔بہرحال اصل اعتبار تو بخاری و مسلم کے حوالہ سے عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے اپنے بیان کا ہے، نہ کہ دلیل کے بغیر صرف ظن اور رائے کا۔ حضرتیوسف علیہ السلام کی صاحبات سے مراد زلیخا ہے، جس نے مختلف خواتین کو بلایا تو دعوت کے لیے تھا، لیکن اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ یوسف کا حسن کا اندازہ کر لیں اور اسے یوسف کی محبت میں معذور سمجھیں۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بھی کہہ تو کچھ اور رہی تھیں، لیکن ان مقصد کچھ اور تھا۔ حدیث میں لفظ تو جمع استعمال کیے گئے ہیں، لیکن ان مراد ایک ایک خاتون ہے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور زلیخا۔ اس جگہ صواحب یوسف سے مراد صرف زلیخا نہیں بلکہ دیگر عورتیں بھی ہیں۔ وہ کوئی چال چل رہی تھیں درج ذیل قرآنی عبارات سے اس بات پر روشنی پڑتی ہے۔ ۱۔ یوسف علیہ السلام کی بات: {رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْ اِلَیْہِ} اے میرے رب! قید مجھے اس سے زیادہ پسند ہے، جس کی طرف یہ (عورتیں) مجھے بلا رہی ہیں۔ ۲۔ یوسف علیہ السلام کی بات: {اِنَّ رَبِّیْ بِکَیْدِہِنَّ عَلِیْمٌ} یقینا میرا رب ان کی چال کو خوب جانتا ہے۔ ۳۔ عزیز مصر کا عورتوں سے سوال: {مَا خَطْبُکُنَّ اِذْ رَاوَتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِہٖ} تمہاراکیا معاملہ ہے جب تم نے یوسف کو اس کے نفس کے بارے بہکایا۔ اس بات کی تفصیل مذکورہ آیات کے تحت تفسیر القرآن الکریم از حافظ عبدالسلام بن محمدn میں دیکھیں۔ ((اِنَّکُنَّ لَاَنْتُنَّ صَوَاحِبُ یُوْسُفَ)) سے مراد صرف عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نہیں۔ (صحیح بخاری: ۶۲۹) میں ہے کہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے کہنے پر حفصصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بھی ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بجائے عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لوگوں کی امامت کرانے کے حوالہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کی تھی۔

Related Chapters

3,573
1
(48) CHAPTER. If somebody is leading the Salat (prayer) and (in the meanwhile) the first (usual) Imam comes, the Salat is valid whether the former retreats or does not retreat.
ایک شخص نے امامت شروع کر دی پھر پہلا امام آ گیا اب پہلا شخص ( مقتدیوں میں ملنے کے لیے ) پیچھے سرک گیا یا نہیں سرکا ، بہرحال اس کی نماز جائز ہو گی اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے
Sahih Bukhari
2
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The 'The Tasbih Is For The Men And Clapping Is For The Women'
باب: نماز میں امام کے سہو پر مردوں کے ”سبحان اللہ“ کہنے اورعورتوں کے دستک دینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (S) Saying: I Hear The Crying Of A Small Boy During Salat and Shorten It
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نماز میں بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز ہلکی کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About 'When The Iqamah Has Been Called For Salat Then There Is No Salat But The Obligatory'
باب: جب جماعت کھڑی ہو جائے تو فرض کے سوا کوئی نماز جائز نہیں ہے
Jam e Tirmazi
6
Chapter: (Mentioning) What Is Allowed From Walking And Actions During Voluntary Salat
باب: نفل نماز میں کس قدر چلنا اور کتنا کام کرنا جائز ہے؟
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Crying Out Of Fear Of Allah, Most High
باب: اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
9
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
10
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ
دوران نماز نا جائز اور مباح اعمال کا بیان
Mishkat
11
دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے
Musnad Ahmad
12
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
Musnad Ahmad
13
نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان (نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
Musnad Ahmad
14
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
15
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
16
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
Musnad Ahmad
17
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
18
رسول اللہaکا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھانے کا بیان
Musnad Ahmad
19
’’سیّدناعبد اللہ بن عمرd عید والے دن نکلے اور نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہ پڑھی، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریمaنے ایسے ہی کیا تھا۔‘‘
Musnad Ahmad
20
شدتِ خوف میں نماز کا طریقہ او راس میں کلام اور اشاروں وغیرہ کا جائز ہونا
Musnad Ahmad
21
میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان
Musnad Ahmad
22
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
Musnad Ahmad
23
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
Musnad Ahmad
24
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
25
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
26
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
Musnad Ahmad
27
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
Musnad Ahmad
28
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
Musnad Ahmad
29
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
30
عُسفان کے مقام پر بپا ہونے والے غزوۂ بنی لحیان کا بیان، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ خوف ادا کی تھی
Musnad Ahmad
31
غزوۂ ذات الرقاع کا بیان، اس میں بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ خوف ادا کی
Musnad Ahmad
32
ان صحابہ کا بیان جنھوں نے یہ روایت کی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ کے اندر نماز ادا نہیں کی
Musnad Ahmad
33
ان لوگوں کا بیان جو اس بات کے قائل ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی تھی
Musnad Ahmad
34
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
35
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے امت کو آخری تاکید نماز کی تھی، نیز صحابہ کرام کا آپ کو آخری بار دیکھنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موت شہادت کی موت تھی
Musnad Ahmad
36
صحابہ کرام اور اہل بیت پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کا اثر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی روح قبض ہونے پر ان کے دہشت زدہ ہونے، رونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انتقال کے بعد سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بوسہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
37
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز جنازہ کا بیان
Musnad Ahmad
38
باب ششم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
Musnad Ahmad
39
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
(17) CHAPTER. (The Statement of Allah) “But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free.” (V.9:5)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ ( کافر ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ( یعنی ان سے جنگ نہ کرو )
Sahih Bukhari
41
(4) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayers) with a single garment wrapped round the body.
اس بیان میں کہ صرف ایک کپڑے کو بدن پر لپیٹ کر نماز پڑھنا جائز و درست ہے
Sahih Bukhari
42
(11) CHAPTER. To pray without a Rida.
بغیر چادر اوڑھے صرف ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے
Sahih Bukhari
43
CHAPTER. To offer Salat (the prayer) on the bed.
بچھونے پر نماز پڑھنا ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
44
CHAPTER. To offer Salat (prayer) with the shoes on.
جوتوں سمیت نماز پڑھنا ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
45
CHAPTER. To offer Salat (prayer) wearing Khuff (leather socks).
موزے پہنے ہوئے نماز پڑھنا ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
46
CHAPTER. The Statement of Allah: “... And take you (people) the Maqam (place) of Ibrahim (Abraham) (or the stone on which Abrahim stood while he was building the Kabah) as a place of prayer (for some of your Salat e.g., two Raka after the Tawaf of Kabah) ...”
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ’’ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ ۔ ‘‘ ( البقرہ : 125 )
Sahih Bukhari
47
(46) CHAPTER. About (taking) the mosques in the houses.
اس بیان میں ( کہ بوقت ضرورت ) گھروں میں جائے نماز ( مقرر کر لینا جائز ہے )
Sahih Bukhari
48
(56) CHAPTER. The saying of the Prophet , “The earth has been made for me a Masjid (place for praying) and a thing to purify (to perform Tayammum).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میرے لیے ساری زمین پر نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے ( یعنی تیمم کرنے ) کی اجازت ہے
Sahih Bukhari
49
(86) CHAPTER. (If) a mosque (is built) on a road, it should not be a cause of harm for the people.
عام راستوں پر مسجد بنانا جب کہ کسی کو اس سے نقصان نہ پہنچے ( جائز ہے ) اور امام حسن ( بصریٰ ) اور ایوب اور امام مالک رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے
Sahih Bukhari
50
(87) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayers) in a mosque situated in a market.
بازار کی مسجد میں نماز پڑھنا اور عبداللہ بن عون نے ایک ایسے گھر کی مسجد میں نماز پڑھی جس کے دروازے عام لوگوں پر بند کئے گئے تھے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

10
Musnad Ahmad
2580
۔ (۲۵۸۰) عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ قِتَالٌ بَیْنَ بَنِی عَمْرِو ابْنِ عَوْفٍ فَبَلَغَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَاھُمْ بَعْدَ الظُّہْرِ لِیُصْلِحَ بَیْنَہُمْ وَقَالَ: ((یَا بِلَالُ! اِنْ حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ وَلَمْ آتِ فَمُرْ أَبَا بَکْرٍ یُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) قَالَ: فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ أَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاۃَ (وَفِی رِوَایَۃٍ أَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ) ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَکْرٍ فَتَقَدَّمَ بِہِمْ وَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ مَا دَخَلَ أَبُوْبَکْرٍ فِی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا رَأَوْہُ صَفَّحُوا وَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَشُقُّ النَّاسَ حَتّٰی قَامَ خَلْفَ أَبِی بَکْرٍ، قَالَ: وَکَانَ أَبُوْبَکْرٍ اِذَا دَخَلَ الصَّلَاۃَ لَمْ یَلْتَفِتْ فَلَمَّا رَأَی التَّصْفِیْحَ لَا یُمْسَکُ عَنْہُ، اِلْتَفَتَ فَرَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَلْفَہُ فَأَوْمَأَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ أَنِ امْضِہْ فَقَامَ أَبُوْبَکْرٍ ھُنَیَّۃً، فَحَمِدَ لِلّٰہِ عَلٰی ذَلِکَ ثُمَّ مَشَی الْقَہْقرٰی، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاتَہُ قَالَ: ((یَا أَبَا بَکْرٍ! مَا مَنَعَکَ اِذْ أَوْمَأْتُ اِلَیْکَ أَنْ لَاتَکُوْنَ مَضَیْتَ ’’وَفِی رِوَایَۃٍ أَنْ تَمْضِیَ‘‘ فِی صَلَاتِکَ؟)) قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: لَمْ یَکُنْ لِاِبْنِ أَبِی قُحَافَۃَ أَنْ یَؤُمَّ رَسُوْلَ اللّٰہَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ فَقَالَ لِلنَّاسِ: ((اِذَا نَابَکُمْ فِی صَلَاتِکُمْ شَیْئٌ فَلْیُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْیُصَفِّحِ ’’وَفِی رِوَایَۃٍ وَلْیُصَفِّقِ‘‘ النِّسَائُ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَأَنْتُمْ لِمَ صَفَّحْتُمْ؟)) قَالُوْا: لِنُعْلِمَ أَبَابَکْرٍ، قَالَ: ((اِنَّ التَّصْفِیْحَ لِلنِّسَائِ وَالتَّسْبِیْحَ لِلرِّجَالِ)) (مسند احمد: ۲۳۲۰۵)
سیّدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بنی عمرو بن عوف قبیلے کے ما بین کوئی لڑائی ہوگئی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات موصول ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر کے بعد ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے ان کے پاس گئے اور فرمایا: بلال، اگر نماز کا وقت ہوجائے اور میں نہ پہنچ سکوں تو ابوبکر کو حکم دینا کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ جب عصر کا وقت ہوا تو سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اذان دی ،پھر اقامت کہی اور سیّدنا ابوبکر کو حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں۔ پس وہ آگے بڑھے (اور نماز شروع کی)، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف لے آئے، جب لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو تالیاں بجانا شروع کردیں، اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو چیرتے ہوئے آئے اور سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب نماز میں داخل ہوتے تو کسی چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے، اس دفعہ جب انھوں نے سوچا کہ تالیاں رک نہیں رہیں تو وہ پیچھے متوجہ ہوئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے پیچھے دیکھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ وہ نماز جاری رکھیں، سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھوڑی دیر تو ٹھہرے رہے، لیکن پھر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہوئے الٹے پاؤں پیچھے ا ٓ گئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے بڑھے اورلوگوں کو نماز پڑھائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کی تو فرمایا: اے ابوبکر! جب میں نے تم کو اشارہ کر دیا تھا توتم کو نماز جاری رکھنے سے کس چیز نے روک دیا تھا؟ سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابن ابی قحافہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امامت کروائے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے فرمایا: جب تم کو نماز میں کوئی امر لاحق ہو جائے تو مرودں کو سبحان اللہ کہنا چاہئے اورعورتوں کو تالی بجانا چاہئے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا تم نے تالیاں کیوں بجائی تھیں؟ انہوں نے کہا: ہم ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو (آپ کی آمد کا) بتانا چاہتے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے۔
Musnad Ahmad
2424
۔ (۲۴۲۴) عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: مَرِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ یُصَلِّی بِالنَّاسِ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! اِنْ أَبِی رَجُلٌ رَقِیقٌ، فَقَالَ: مُرُوْا أَبَابَکْرٍ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ فَاِنَّکُنَّ صَوَاحِبَاتُ یُوْسُفَ۔)) فَأَمَّ أَبُوْبَکْرٍ النَّاسَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَیٌّ۔ (مسند احمد: ۲۳۴۴۸)
سیّدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوگئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز
Musnad Ahmad
2611
۔ (۲۶۱۱) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی مَرْضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ: ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ یُصَلِّی بِالنَّاسِ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: اِنَّ أَبَابَکْرٍ رَجُلٌ أَسِیْفٌ، فَمَتٰی یَقُوْمُ مَقَامَکَ تُدْرِکُہُ الرِّقَّۃُ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ یُوْسُفَ، مُرُوْا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) فَصَلّٰی أَبُوْبَکْرٍ وَصَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَلْفَہُ قَاعِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۷۷۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس بیماری میں وفات پا گئے تھے، اس میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ سیّدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: ابوبکر بڑے نرم دل (اور جلد رونے والے) آدمی ہیں،جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہو جائے گی۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بھی یوسفf کی صاحبات ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پھر سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نماز پڑھائی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔
Musnad Ahmad
257
۔ (۲۵۷)۔عَنْ حَنْظَلَۃَ الْکَاتِبِؓ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَّرَنَا الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ حَتَّی کَأَ نَّا رَأْیَ الْعَیْنِ، فَقُمْتُ اِلَی أَہْلِیْ فَضَحِکْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ أَہْلِیْ وَوَلَدِیْ فَذَکَرْتُ مَا کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجْتُ فَلَقِیْتُ أَبَابَکْرٍ(ؓ) فَقُلْتُ: یَا أَبَابَکْرٍ! نَافَقَ حَنْظَلَۃُ، قَالَ: وَمَا ذَاکَ؟ قُلْتُ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَّرَنَا الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ حَتَّی کَأَ نَّا رَاْیَ عَیْنٍ، فَذَہَبْتُ اِلَی أَہْلِیْ فَضَحِکْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ وَلَدِیْ وَأَہْلِیْ، فَقَالَ: اِنَّا لَنَفْعَلُ ذٰلِکَ، قَالَ: فَذَہَبْتُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمفَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: ((یَا حَنْظَلَۃُ! لَوْ کُنْتُمْ تَکُوْنُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ کَمَا تَکُوْنُوْنَ عِنْدِیْ لَصَافَحَتْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: بِأَجْنِحَتِہَا) وَأَنْتُمْ عَلَی فُرُشِکُمْ وَبِالطَّرِیْقِ، یَا حَنْظَلَۃُ! سَاعَۃً وَ سَاعَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۵۴)
سیدنا حنظلہ کاتبؓ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جنت اور جہنم کے موضوع پر ہمیں خطاب کیا، یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، پھر میں اٹھ کر اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا اور اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ہنستا کھیلتا رہا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس مجھ پر طاری تھی، پس میں نکل پڑا اور سیدنا ابو بکرؓ کو ملا اور کہا: اے ابو بکر! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے، انھوں نے کہا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں جنت و جہنم کے موضوع پر وعظ کیا اور یوں لگا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آ گئی ہیں، لیکن جب میں اپنے اہل و عیال کے پاس گیا تو (اس کیفیت کو بھول کر) اپنے بیوی بچوں سے ہنسنے کھیلنے لگا۔ سیدنا ابو بکر ؓ نے کہا: بیشک ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں، یہ سن کر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس چلا گیا اور یہ ساری بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: حنظلہ! اگر گھروں میں بھی تمہاری وہی کیفیت ہو، جو میرے پاس ہوتی ہے تو بستروں اور راستوں پر فرشتے اپنے پروں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں، لیکن حنظلہ! کبھی اِس طرح اور کبھی اُس طرح۔
Musnad Ahmad
2185
۔ (۲۱۸۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِأَبِیْ بَکْرٍ: ((مَتٰی تُوْتِرُ؟)) قَالَ: أَوَّلَ اللَّیْلِ بَعْدَ الْعَتَمَۃِ، قَالَ: ((فَأَنْتَ یَاعُمَرُ؟)) قَالَ: آخِرَ اللَّیْلِ، قَالَ: ((أَمَّا أَنْتَ یَا أَبَابَکْرٍ! فَأَخَذْتَ بِالثِّقَۃِ وَأَمَّا أَنْتَ یَاعُمَرُ! فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّۃِ)) (مسند احمد: ۱۴۳۷۴)
سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم کب وتر پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: رات کے شروع میں ہی عشاء کی نماز کے بعد، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم کب پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: رات کے آخر میں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! تم نے احتیاط کو اور اے عمر! تم نے قوت کواختیار کیاہے۔
Musnad Ahmad
8613
۔ (۸۶۱۳)۔ عن ابْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ، قَالَ: نَظَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَ صْحَابِہِ، وَہُمْ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَنَیِّفٌ، وَنَظَرَ إِلَی الْمُشْرِکِینَ فَإِذَا ہُمْ أَ لْفٌ وَزِیَادَۃٌ، فَاسْتَقْبَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِبْلَۃَ، ثُمَّ مَدَّ یَدَیْہِ وَعَلَیْہِ رِدَاؤُہُ وَإِزَارُہُ ثُمَّ قَالَ: ((اللّٰہُمَّ أَ یْنَ مَا وَعَدْتَنِی، اللّٰہُمَّ أَ نْجِزْ مَا وَعَدْتَنِی، اللّٰہُمَّ إِنَّکَ إِنْ تُہْلِکْ ہَذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ أَ ہْلِ الْإِسْلَامِ، فَلَا تُعْبَدْ فِی الْأَ رْضِ أَ بَدًا۔)) قَالَ: فَمَا زَالَ یَسْتَغِیثُ رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَیَدْعُوہُ حَتّٰی سَقَطَ رِدَاؤُہُ، فَأَ تَاہُ أَ بُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَأَخَذَ رِدَائَ ہُ فَرَدَّاہُ، ثُمَّ الْتَزَمَہُ مِنْ وَرَائِہِ، ثُمَّ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! کَفَاکَ مُنَاشَدَتُکَ رَبَّکَ، فَإِنَّہُ سَیُنْجِزُ لَکَ مَا وَعَدَکَ، وَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَ نِّی مُمِدُّکُمْ بِأَ لْفٍ مِنْ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ} فَلَمَّا کَانَ یَوْمُئِذٍ وَالْتَقَوْا، فَہَزَمَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُشْرِکِینَ، فَقُتِلَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا، وَأُسِرَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا، فَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبَابَکْرٍ وَعَلِیًّا وَعُمَرَ ، فَقَالَ أَبُوبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَانَبِیَّ اللّٰہِ ہٰؤُلَائِ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِیرَۃُ وَالْإِخْوَانُ، فَإِنِّی أَرٰی أَ نْ تَأْخُذَ مِنْہُمْ الْفِدْیَۃَ، فَیَکُونُ مَا أَ خَذْنَا مِنْہُمْ قُوَّۃً لَنَا عَلَی الْکُفَّارِ، وَعَسَی اللّٰہُ أَ نْ یَہْدِیَہُمْ، فَیَکُونُونَ لَنَا عَضُدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا تَرٰییَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! مَا أَ رٰی مَا رَأٰ ی أَبُوبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَلٰکِنِّی أَرٰی أَ نْ تُمَکِّنَنِی مِنْ فُلَانٍ قَرِیبًا لِعُمَرَ، فَأَ ضْرِبَ عُنُقَہُ، وَتُمَکِّنَ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ عَقِیلٍ فَیَضْرِبَ عُنُقَہُ، وَتُمَکِّنَ حَمْزَۃَ مِنْ فُلَانٍ أَ خِیہِ فَیَضْرِبَ عُنُقَہُ حَتّٰییَعْلَمَ اللّٰہُ أَ نَّہُ لَیْسَتْ فِی قُلُوبِنَا ہَوَادَۃٌ لِلْمُشْرِکِینَ، ہَؤُلَائِ صَنَادِیدُہُمْ وَأَ ئِمَّتُہُمْ وَقَادَتُہُمْ، فَہَوِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَلَمْ یَہْوَ مَا قُلْتُ فَأَ خَذَ مِنْہُمْ الْفِدَائَ، فَلَمَّا أَ نْ کَانَ مِنْ الْغَدِ قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: غَدَوْتُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا ہُوَ قَاعِدٌ وَأَ بُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَإِذَا ہُمَا یَبْکِیَانِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ خْبِرْنِی مَاذَا یُبْکِیکَ أَ نْتَ وَصَاحِبَکَ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُکَائً بَکَیْتُ وَإِنْ لَمْ أَ جِدْ بُکَائً تَبَاکَیْتُ لِبُکَائِکُمَا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الَّذِی عَرَضَ عَلَیَّ أَصْحَابُکَ مِنْ الْفِدَائِ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَیَّ عَذَابُکُمْ أَ دْنٰی مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ لِشَجَرَۃٍ قَرِیبَۃٍ۔)) وَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَ نْ یَکُونَ لَہُ أَ سْرٰی حَتّٰییُثْخِنَ فِی الْأَ رْضِ… إِلٰی قَوْلِہِ: {لَوْلَا کِتَابٌ مِنْ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَ خَذْتُمْ} مِنْ الْفِدَائِ ثُمَّ أُحِلَّ لَہُمُ الْغَنَائِمُ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عُوقِبُوا بِمَا صَنَعُوا یَوْمَ بَدْرٍ مِنْ أَ خْذِہِمْ الْفِدَائ، َ فَقُتِلَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ، وَفَرَّ أَ صْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَکُسِرَتْ رَبَاعِیَّتُہُ وَہُشِمَتِ الْبَیْضَۃُ عَلٰی رَأْسِہِ، وَسَالَ الدَّمُ عَلٰی وَجْہِہِ، وَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {أَ وَلَمَّا أَ صَابَتْکُمْ مُصِیبَۃٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَیْہَا} الْآیَۃَ بِأَخْذِکُمُ الْفِدَائَ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا،جبکہ وہ تین سوسے کچھ زائد تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرکوں کی طرف دیکھا اور وہ ایک ہزار سے زائد تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے، اپنے دونوں ہاتھوں کو لمبا کیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک چادر اور ایک ازار زیب ِ تن کیا ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا، وہ کہاں ہے، اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا، اس کو پورا کر دے، اے اللہ! اگر تو نے اہل اسلام کی اس جماعت کو ختم کر دیا تو زمین میں کبھی بھی تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ربّ سے مدد طلب کرتے رہے اور دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چادر گر گئی، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے، انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چادر اٹھائی اور اس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ڈال کر پیچھے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پکڑ لیا اور پھر کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنے ربّ سے جو مطالبہ کر لیا ہے، یہ آپ کو کافی ہے، اس نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے، وہ عنقریب اس کو پورا کر دے گا، اس وقت اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَ نِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ۔}… اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالی نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا، جو لگاتار چلے آئیں گے۔ (سورۂ انفال: ۹) پھر جب اس دن دونوں لشکروں کی ٹکر ہوئی اور اللہ تعالی نے مشرکوں کو اس طرح شکست دی کہ ان کے ستر افراد مارے گئے اور ستر افراد قید کر لیے گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر، سیدنا علی اور سیدنا عمر سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ لوگ ہمارے چچوں کے ہی بیٹے ہیں، اپنے رشتہ دار اور بھائی ہیں، میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے ہیں، اس مال سے کافروں کے مقابلے میں ہماری قوت میں اضافہ ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالی ان کو بعد میں ہدایت دے دے، اس طرح یہ ہمارا سہارا بن جائیں۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انھو ں نے کہا: اللہ کی قسم! میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا، میرا خیال تو یہ ہے کہ فلاں آدمی، جو میرا رشتہ دار ہے، اس کو میرے حوالے کریں، میں اس کی گردن اڑاؤں گا، عقیل کو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سپرد کریں، وہ اس کو قتل کریں گے، فلاں شخص کو سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حوالے کریں، وہ اس کی گردن قلم کریں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالی کو علم ہو جائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکوں کے لیے کوئی رحم دلی نہیں ہے، یہ قیدی مشرکوں کے سردار، حکمران اور قائد ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے پسند کی اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے کو پسند نہیں کیا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فدیہ لے لیا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب اگلے دن میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تو آپ اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتائیں جو آپ کو اور آپ کے ساتھی کو رُلا رہی ہے؟ اگر مجھے بھی رونا آ گیا تو میں بھی روؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو تمہارے رونے کی وجہ سے رونے کی صورت بنا لوں گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھیوں نے فدیہ لینے کے بارے میں جو رائے دی تھی، اس کی وجہ سے مجھ پر تمہارا عذاب پیش کیا گیا ہے، جو اس درخت سے قریب ہے۔ اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد قریب والا ایک درخت تھا، اس وقت اللہ تعالی نے یہ آیات نازل کیں: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰییُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْز’‘ حَکِیْم’‘۔ لَوْ لَا کِتٰب’‘ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَاب’‘ عَظِیْم’‘} نبی کے ہاتھ قیدی نہیں چاہییں جب تک کہ زمین میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے، تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا ارادہ آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے، اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی۔ (سورۂ انفال:۶۷) پھر ان کے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا، جب اگلے سال غزوۂ احد ہوا تو بدر والے دن فدیہ لینے کی سزا دی گئی اور ستر صحابہ شہید ہو گئے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بھاگ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دانت شہید کر دئے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر پر خود کو توڑ دیا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر خون بہنے لگا، پس اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی: {اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃ’‘ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر’‘۔} (کیا بات ہے کہ جب احد کے دن)تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے، تم یہ کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے، بے شک اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۶۵) یعنی فدیہ لینے کی وجہ سے۔
Musnad Ahmad
8637
۔ (۸۶۳۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَ نَّ امْرَأَ ۃً مُغِیبًا أَتَتْ رَجُلًا تَشْتَرِی مِنْہُ شَیْئًا فَقَالَ: ادْخُلِی الدَّوْلَجَ حَتّٰی أُعْطِیَکِ، فَدَخَلَتْ فَقَبَّلَہَا وَغَمَزَہَا فَقَالَتْ: وَیْحَکَ إِنِّی مُغِیبٌ فَتَرَکَہَا وَنَدِمَ عَلٰی مَا کَانَ مِنْہُ، فَأَ تَی عُمَرَ فَأَ خْبَرَہُ بِالَّذِی صَنَعَ، فَقَالَ: وَیْحَکَ فَلَعَلَّہَا مُغِیبٌ، قَالَ: فَإِنَّہَا مُغِیبٌ، قَالَ: فَأْتِ أَبَابَکْرٍ فَاسْأَ لْہُ، فَأَتٰی أَ بَابَکْرٍ فَأَ خْبَرَہُ، فَقَالَ أَ بُو بَکْرٍ: وَیْحَکَ لَعَلَّہَا مُغِیبٌ، قَالَ: فَإِنَّہَا مُغِیبٌ، قَالَ: فَأْتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ خْبِرْہُ، فَأَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ خْبَرَہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعَلَّہَا مُغِیبٌ۔)) قَالَ: فَإِنَّہَا مُغِیبٌ، فَسَکَتَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَزَلَ الْقُرْآنُ: {وَأَقِمْ الصَّلَاۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ} إِلٰی قَوْلِہِ: {لِلذَّاکِرِینَ} قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ ہِیَ فِیَّ خَاصَّۃً أَ وْ فِی النَّاسِ عَامَّۃً؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: لَا، وَلَا نَعْمَۃَ عَیْنٍ لَکَ بَلْ ہِیَ لِلنَّاسِ عَامَّۃً، قَالَ: فَضَحِکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((صَدَقَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، ایک عورت جس کا خاوند گھر سے باہر تھا، وہ ایک آدمی کے پاس کچھ خریدنے آئی۔ اس نے کہا: اس حجرہ میں اندر چلی جاؤ، تاکہ میں تمہیں تمہاری چیز دے سکوں، جب وہ داخل ہوئی تو اس آدمی نے اس سے بوس و کنار کیا، اس عورت نے کہا: بڑا افسوس ہے، میرا خاوند گھر سے باہر تھا تونے یہ کیا کیا، اس آدمی نے اسے چھوڑ دیا اور نادم ہوا، پھر وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور جو کیا تھا انہیں بتا دیا، انہوں نے کہا: لگتا ہے اس عورت کا خاوند گھر پر نہ ہو گا، تب وہ سودا خریدنے آئی ہو گی؟ اس نے کہا: جی ہاں وہ گھر سے باہر تھا۔ انہوں نے کہا؛ تو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چلا جا اور ان سے پوچھ لے، پس وہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا انہیں ساری بات بتائی، انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، شاید اس کا خاوند گھر پر نہ ہو، اس نے کہا: جی ہاں، اس پر خاوند گھر پر نہیں تھا، پھرسیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا اور آپ کو ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ تفصیل بتا، پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو آپ کو واقعہ بتایا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لگتا ہے کہ اس عورت کا خاوند گھر سے باہر تھا؟ اس آدمی نے کہا: جی ہاں، واقعی وہ گھر پر نہ تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے اوریہ قرآن مجید نازل ہوا: {وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ۔} … اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہیاد کرنے والوں کے لیےیاد دہانی ہے۔ اس آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول! کیایہ حکم میرے لئے خاص ہے یا لوگوں کے عام ہے؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہیں، اس سے صرف تیری ہی آنکھیں ٹھنڈی نہیںہوں گی، بلکہ یہ تمام لوگوں کے لئے خوشبخری ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا کرفرمایا: عمر نے سچ کہا ہے۔
Musnad Ahmad
10552
۔ (۱۰۵۵۲)۔ حَدَّثَنَا أَبُوْ سَلَمَۃَ وَیَحْیٰی قَالَ: لَمَّا ھَلَکَتْ خَدِیْجَۃُ جَائَ تْ خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمٍ، اِمَرَأَۃُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَا تَزَوَّجُ؟ قَالَ: ((مَنْ؟)) قَالَتْ: اِنْ شِئْتَ بِکْرًا وَاِنْ شِئْتَ ثَیِّبًا، قَالَ: ((فَمَنِ الْبِکْرُ؟)) قَالَتْ: اِبْنَۃُ أَحَبِّ خَلْقِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اِلَیْکَ عَائِشَۃُ بِنْتُ أَبِیْ بَکْرٍ، قَالَ: ((وَمَنْ ثَیِّبٌ؟)) قَالَتْ: سَوْدَۃُ ابْنَۃُ زَمْعَۃَ، قَدْ آمَنَتْ بِکَ وَاتْبَعَتْکَ عَلٰی مَا تَقُوْلُ، قَالَ: ((اذْھَبِیْ فَاذْکُرِیْھِمَا عَلَیَّ۔)) فَدَخَلَتْ بَیْتَ أَبِیْ بَکْرٍ فَقَالَتْ: یَا أُمَّ رُوْمَانَ! مَاذَا أَدْخَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ مِنَ الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ، قَالَتْ: وَمَا ذَاکِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْطُبُ عَلَیْہِ عَائِشَۃَ، قَالَتِ: انْتَظِرِیْ أَبَابَکْرٍ حَتّٰییَأْتِیَ فَجَائَ أَبُوْبَکْرٍ فَقَالَتْ: یَا أَبَابَکْرٍ مَاذَا أَدْخَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ مِنَ الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاکِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْطُبُ عَلَیْہِ عَائِشَۃَ، قَالَ: وَھَلْ تَصْلُحُ لَہُ اِنَّمَا ھِیْ ابْنَۃُ أَخِیْہِ، فَرَجَعْتْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہُ، قَالَ: ((ارْجَعِیْ اِلَیْہِفَقُوْلِیْ لَہُ: أَنَا أَخُوْکَ وَأَنْتَ أَخِیْ فِی الْاِسْلَامِ، وَابْنَتُکَ تَصْلُحُ لِیْ۔)) فَرَجَعَتْ فَذَکَرَتْ لَہُ ذٰلِکَ لَہُ، قَالَ: انْتَظِرِیْ وَخَرَجَ، قَالَتْ أُمُّ رُوْمَانَ: اِنَّ مُطْعِمَ بْنَ عَدِیٍ قَدْ کَانَ ذَکَرَھَا عَلَی اِبْنِہِ فَوَاللّٰہِ! مَا وَعَدَ وَعْدًا قُطُّ فَأَخْلَفَہُ لِأَبِیْ بَکْرٍ، فَدَخَل أَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلٰی مُطْعِمِ بْنِ عَدِیٍّ وَعِنْدَہُ امْرَأَتُہُ أُمُّ الْفَتٰی، فَقَالَتْ: یَاابْنَ أَبِیْ قُحَافَۃَ! لَعَلَّکَ مُصْبٍ صَاحِبَنَا مُدْخِلُہُ فِیْ دِیْنِکَ الَّذِیْ أَنْتَ عَلَیْہِ اِنْ تَزَوَّجَ اِلَیْکَ؟ قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ لِلْمُطْعِمِ بْنِ عَدِیٍّ: اَقَوْلَ ھٰذِہِ تَقُوْلُ، قَالَ: اِنَّھَا تَقُوْلُ ذٰلِکَ، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِہِ وَقَدْ اَذْھَبَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ مَا کَانَ فِیْ نَفْسِہِ مِنْ عِدَتِہِ الَّتِیْ وَعَدَہُ فَرَجَعَ، فَقَالَ: اِدَعِیْ لِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَتْہُ فَزَوَّجَھَا اِیَّاہُ، وَعَائِشَۃُیَوْمَئِذٍ بِنْتُ سِتِّ سِنِیْنَ، ثُمَّّ خَرَجَتْ فَدَخَلَتْ عَلَی سَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ فَقَالَتْ: مَاذَا أَدْخَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْکَ مِنَ الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ! قَالَتْ: وَمَا ذَاکِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخْطُبُکَ عَلَیْہِ، قَالَتْ: قَالَتْ: وَدِدْتُ، ادْخُلِیْ اِلٰی أَبِیْ فَاذْکُرِیْ ذَاکِ لَہُ، وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْرًا قَدْ اَدْرَکَہُ السِّنُّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ الْحَجِّ، فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ فَحَیَّتْہُ بِتَحِیَّۃِ الْجَاھِلِیَّۃِ، فَقَالَ: مَنْ ھٰذِہِ؟ فَقَالَتْ: خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمٍ، قَالَ: فَمَا شَأْنُکِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخْطُبُ عَلَیْہِ سَوْدَۃَ، قَالَ: کُفْئٌ کَرِیْمٌ، مَاذَا تَقُوْلُ صَاحِبَتُکِ؟ قَالَتْ: تُحِبُّ ذَاکَ، قَالَ: ادْعُھَا اِلَیَّ فَدَعَیْتُھَا قَالَ: أَیْ بُنَیَّۃُ! اِنَّ ھٰذِہِ تَزْعَمُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَرْسَلَ یَخْطُبُکِ، وَھُوَ کُفْئٌ کَرِیْمٌ، أَ تُحِبِّیْنَ أَنْ أُزَوِّجَکِ بِہٖ؟قَالَتْ: نَعَمْ،قَالَ: ادْعِیْہِ لِیْ، فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَیْہِ فَزَوَّجَھَا اِیَّاہُ، فَجَائَ ھَا أَخُوْھَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَۃَ مِنَ الْحَجِّ فَجَعَلَ یَحْثِیْ فِیْ رَأْسِہِ التُّرَابَ، فَقَالَ بَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ: لَعَمْرُکَ! اِنِّیْ لَسَفِیْہٌیَوْمَ أَحْثِیْ فِیْ رَأْسِیَ التُّرَابَ اَنْ تَزَوَّجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَوْدَۃَ بِنْتَ زَمْعَۃَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ فَنَزَلْنَا فِیْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الخَزْرَجِ فِی السُّنْحِ، قَالَتْ: فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ بَیْتَنَا وَاجْتَمَعَ اِلَیْہِ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَنِسَائٌ، فَجَائَ تْنِیْ أُمِّیْ وَاِنِّیْ لَفِیْ اَُرْجُوْحَۃٍ بَیْنَ عَذْقَیْنِ تَرْجَحُ بِیْ، فَاَنْزَلَتْنِیْ مِنَ الْأُرْجُوْحَۃِ وَلِیَ جُمَیْمََۃٌ فَفَرَقَتْھَا وَمَسَحَتْ وَجْھِیْ بِشَیْئٍ مِنْ مَائٍ ثُمَّّ أَقْبَلَتْ تَقُوْدُنِیْحَتّٰی وَقَفَتْ بِیْ عِنْدَ الْبَابِ وَاِنِّیْ لَاَنْھَجُ حَتّٰی سَکَنَ مِنْ نَفْسِیْ، ثُمَّّ دَخَلَتْ بِیْ فَاِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ جَالِسٌ عِنْدَ سَرِیْرٍ فِیْ بَیْتِنَا، وَعِنْدَہُ رِجَالٌ وَنِسَائٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَاَجْلَسَتْنِیْ فِیْ حِجْرِہِ، ثُمَّّ قَالَتْ: ھٰؤُلَائِ أَھْلُکَ فَبَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِیْھِمْ وَبَارَکَ لَھُمْ فِیْکَ، فَوَثَبَ الرِّجَالُ وَالنِّسَائُ فَخَرَجُوْا، وَبَنٰی بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِنَا مَا نُحِرَتْ عَلَیَّ جَزُوْرٌ وَلَاذُبِحَتْ عَلَیَّ شَاۃٌ حَتّٰی أَرْسَلَ اِلَیْنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ بِجَفْنَۃٍ کَانَ یُرْسِلُ بِھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ اِذَا دَارَ اِلٰی نِسَائِہِ، وَأَنَا یَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۸۸)
۔ ابو سلمہ اور یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وفات پا گئیں تو سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ خولہ بنت ِ حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ شادی نہیںکریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کس سے؟ انھوں نے کہا: اگر آپ کنواری کو چاہتے ہیں تو وہ بھی مل سکتی ہے اور اگربیوہ چاہتے ہے تو وہ بھی مل سکتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کنواری کون ہے؟ انھوں نے کہا: آپ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے محبوب ترین شخص کی بیٹی ہے، عائشہ بنت ابی بکر ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: بیوہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: سودہ بنت زمعہ، وہ آپ کے ساتھ ایمان لائی ہے اور آپ کے فرمان کے مطابق آپ کی پیروی کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، تم جاؤ اور دونوں کو میرے بارے میں یہ پیغام دو۔ پس سیدہ خولہ، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں داخل ہوئی اور کہا: اے ام رومان! اللہ تعالیٰ نے کیا خیر و برکت تمہارے گھر میں داخل کر دی ہے! اس نے کہا: وہ کیا، سیدہ خولہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا ہے، میں عائشہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی منگنی کا پیغام لے کر آئی ہوں، اس نے کہا: ابو بکر کے آنے کا انتظار کر، اتنے میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے، سیدہ خولہ نے کہا: اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں پر کیا خیر و برکت نازل کر دی ہے! انھوں نے کہا: وہ کیا، اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا ہے، میں عائشہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی منگنی کا پیغام لے کر آئی ہوں، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ عائشہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جائز ہے، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بھتیجی ہے، پس وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جا اور ان کو کہہ: میں تیرا اور تو میرا اسلامی بھائی ہے اور تیری بیٹی میرے لیے جائز ہے۔ پس وہ لوٹی اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بات بتلائی، اب کی بار انھوں نے کہا: تو پھر تو انتظار کر، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نکل پڑے، اُدھر سیدہ ام رومان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ تفصیل بتائی کہ مطعم بن عدی نے عائشہ کے لیے اپنے بیٹے کا ذکر کیا تھا، پس اللہ کی قسم ہے کہ کبھی ایسے نہیں ہوا کہ وہ وعدہ کرے اور پھر ابو بکر کے لیے اس کی پاسداری نہ کرے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مطعم بن عدی کے پاس پہنچ گئے، اس کی بیوی ام الفتی اس کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی، اس کی بیوی نے کہا: اے ابن ابی قحافہ! اگر ہمارا بندہ تیری طرف شادی کر لے تو ممکن ہو گا کہ تو اس کو بے دین بنا کر اپنے دین میں داخل کردے، یہ سن کر سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مطعم بن عدی سے کہا: کیایہی بات ہے جو یہ کر رہی ہے؟ اس نے کہا: بس یہ تو یہی بات کہتی ہے، (سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سمجھا کہ مطعم اپنی بیوی سے اتفاق کر رہا ہے) لہٰذا وہ اس کے پاس سے نکل پڑے اور ان کے دل میں اس شخص کے وعدے کے بارے میں جو بات تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کو ختم کر دیا، پس ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس لوٹ آئے اور خولہ سے کہا: تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلا، پس اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلایا اور انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نکاح کر دیا، اس وقت سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی عمر چھ برس تھی، پھر سیدہ خولہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وہاں سے نکلی اور سیدہ سودہ بنت زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئی اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ پر کیا خیر و برکت نازل کر دی ہے! اس نے کہا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تجھے منگنی کا پیغام دینے کے لیے مجھے بھیجا ہے، انھوں نے کہا: میں تو یہ چاہتی ہوں، لیکن تو میرے ابو کے پاس جا اور ان سے اس چیز کا ذکر وہ عمر رسیدہ بزرگ تھے اور ادھیڑ عمری کی وجہ سے حج سے پیچھے رہ گئے تھے، پس وہ ان کے پاس گئی اور ان کو جاہلیت والا سلام کہا، اس نے کہا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: میں خولہ بنت حکیم ہوں، اس نے کہا: توکیسے آئی ہے؟ اس نے کہا: محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا ہے، میں سودہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی منگنی کا پیغام لے کر آئی ہوں، اس نے کہا: یہ تو بڑا بہترین کفو ہے، لیکن تیری سہیلی سودہ خود کیا چاہتی ہے؟ اس نے کہا: وہ تو اس چیز کو پسند کر رہی ہے، اس نے کہا: اس کو میری طرف بلا، پس میں اس کو بلا لائی، اس نے کہا: اے میری پیاری بیٹی! یہ خولہ بتا رہی ہے کہ محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منگنی کے لیے تجھے پیغام بھیجا ہے، یہ بڑا بہترین کفو ہے، تو کیا تو یہ پسند کرے گی کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تیری شادی کر دوں؟ سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: خولہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلا کر لے آ، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے اور اس نے سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادی کر دی، جب سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بھائی عبد بن زمعہ حج سے واپس آیا اور اسے اس شادی کا علم ہوا تو اس نے اپنے سر پر مٹی پھینکنا شروع کر دی، لیکن اس نے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد کہا تھا: تیری عمر کی قسم! جس دن میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی شادی کی وجہ سے اپنے سر پر مٹی ڈالی تھی، اس دن میں بیوقوف تھا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: پس ہم لوگ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے اور سُنْح مقام پر بنو حارث بن خزرج کے ہاں اترے، پھر جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور انصاریوں کے خواتین و حضرات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہو گئے، میری ماںمیرے پاس آئی، جبکہ میں کھجور کے دو درختوں کے درمیان بندھے ہوئے پنگھوڑے میں تھی، انھوں نے مجھے پنگھوڑے سے اتارا، میرے سر کے بال کندھوں تک تھے، انھوں نے ان میں کنگھی کی اور میرےچہرے کو پانی سے دھویا اور پھروہ مجھے چلاتی ہوئی آگے بڑھیں،یہاں تک کہ دروازے پر کھڑی ہو گئیں، مجھے سانس چڑھا ہوا تھا، پھر جب میرا سانس تھما تو وہ مجھے لے کر گھر میں داخل ہوئیں وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چارپائی پر تشریف فرما تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس انصاری خواتین و حضرات بھی موجود تھے، میری ماں نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بٹھا کر کہا: یہ تیرے اہل ہیں، اللہ تعالیٰ ان میں تیری لیے اور تجھ میں ان کے لیے برکت نازل فرمائے، پھر خواتین و حضرات اٹھے اور گھر سے باہر چلے گئے، وہیں ہمارے گھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ساتھ خلوت اختیار کی، میری شادی پر نہ اونٹ ذبح کیے گئے اور نہ بکریاں، سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہماری طرف کھانے کا ایک برتن بھیجا تھا، عام طور پر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شادی کے موقع پر اپنی بیوی سے خلوت اختیار کرتے تھے تو وہ یہ کھانا بھیجا کرتے تھے، اس وقت میری عمر نو برس تھی۔
Musnad Ahmad
10618
۔ (۱۰۶۱۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَقْبَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَدِیْنَۃِ وَھُوَ مُرْدِفٌ أَبَابَکْرٍ وَأَبُوْبَکْرٍ شَیْخٌیُعْرَفُ وَنَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَابٌّ لَایُعْرَفُ، قَالَ: فَیَلْقَی الرَّجُلُ أَبَا بَکْرٍ فَیَقُوْلُ: یَا أَبَابَکْرٍ! مَنْ ھٰذَا الرَّجُلُ الَّذِیْ بَیْنَیَدَیْکَ؟ فَیَقُوْلُ: ھٰذَا الرَّجُلُ یَھْدِیْنِیْ اِلَی السَّبِیْلِ فَیَحْسَبُ الْحَاسِبُ أَنّہُ أَنَّمَا یَھْدِیْہِ اِلَی الطَّرِیْقِ وَاِنَّمَا یَعْنِیْ سَبِیْلَ الْخَیْرِ فَالْتَفَتَ أَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَاِذَا ھُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَھُمْ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! ھٰذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا قَالَ: فَالْتَفَتَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اصْرَعْہُ۔)) فَصَرَعَتْہُ فَرَسُہُ ثُمَّّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ قَالَ: ثُمَّّ قَالَ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! مُرْنِیْ بِمَا شِئْتَ، قَالَ: ((قِفْ مَکَانَکَ، لَاتَتْرُکَنَّ اَحَدًا یَلْحَقُ بِنَا۔)) قَالَ: فکَانَ أَوَّلُ النَّھَارِ جَاھِدًا عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ وَکَانَ آخِرَ النَّھَارِ مَسْلَحَۃً لَہُ قَالَ: فَنَزَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ جَانِبَ الْحَرَّۃِ ثُمَّّ بَعَثَ اِلَی الْأَنْصَارِ فَجَائُ وْا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمُوْا عَلَیْھِمَا وَقَالُوْا ارْکَبَا آمِنَیْنِ مُطْمَئِنَّیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۳۷)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پیچھے سوار تھے، سیدنا ابو بکر بڑی عمر کے تھے، انکو پہنچان لیا جاتا تھا، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نوجوان لگتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں پہچانا جاتا تھا، اس لیے لوگ سیدناابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملتے اور کہتے: یہ آپ کے آگے بیٹھا ہوا آدمی کون ہے؟ وہ کہتے: یہ راستے کی طرف میری رہنمائی کرنے والا آدمی ہے، سائل یہ خیال کرتا کہ وہ ان کا راستہ بتلانے والا ہے، جبکہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مراد خیر و بھلائی والا راستہ تھی، جب ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پیچھے کو متوجہ ہوئے تو کیا دیکھا کہ ایک گھوڑ سوار ان کو آ ملا ہے، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ ایک گھوڑ سوار ہم تک پہنچ گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اللہ! اس کو گرا دے۔ پس اس کے گھوڑے نے اس کو گرا دیا، پھر وہ گھوڑا کھڑا ہو کر ہنہنانے لگا، اس گھوڑ سوار نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ جو چاہتے ہیں، مجھے حکم دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہی کھڑا ہو جا اور کسی کو نہ چھوڑ کہ وہ ہمیں پا سکے۔ یہ شخص دن کے شروع میں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے لڑنے والا تھا، لیکن دن کے آخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دفاع کرنے والا بن گیا، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حرّہ کی ایک جانب اترے اور انصاریوں کو بلا بھیجا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، ان دونوں ہستیوں کو سلام کیا اور پھر کہا: امن اور اطمینانکے ساتھ سوار ہو جاؤ۔