TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان - نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان - نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 11 of نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 14 · 7 Hadith
۔ (۱۹۵۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَیْنِ فِی الصَّلَاۃِ، اَلْعَقْرَبِ وَالْحَیَّۃِ۔ (مسند احمد: ۷۳۷۳)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سیاہ چیزوںیعنی بچھو اور اور سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔
Takhreej
(۱۹۵۰) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۹۲۱، والترمذی: ۳۹۰، وابن ماجہ: ۱۲۴۵، والنسائی: ۳/ ۱۰ (انظر: ۷۳۷۹، ۱۰۱۱۶، ۱۰۱۵۴)
Explanation
فوائد:… اس ضمن میں تھوڑا یا زیادہ چلنے کا یا قبلہ رخ رہنے یا نہ رہنے کا فرق کرنا، یہ سب امور بلادلیل ہیں۔ اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کو چاہیے کہ وہ ان دو جانوروں کو قتل کرے۔ لامحالہ طور پر وہ کچھ کرنا پڑے گا، جس سے ان جانوروں کو قتل کرنا پڑتاہے۔
1950
Sahih
۔ (۱۹۵۱) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فِی الْبَیْتِ وَالْبَابُ عَلَیْہِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَمَشٰی حَتّٰی فَتَحَ لِیْ ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی مَقَامِہِ، وَوَصَفَتْ أَنَّ الْبَابَ فِی الْقِبْلَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور دروازہ بند ہوتا تھا، پھر جب میں آتی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (آگے) چلتے اور میرے لیے دروازہ کھول کر اپنے مقام پر واپس آ جاتے تھے۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ وہ دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔
Takhreej
(۱۹۵۱)تخریج:اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۹۲۲، والترمذی: ۶۰۱ (انظر: ۲۴۰۲۷)
Explanation
فوائد:… اس میں کوئی شک نہیں کہ نماز میں ہر قسم کی زائد حرکت منع ہے،کیونکہ اس سے نماز کا خشوع و خضوع متاثر ہوتا ہے، باب نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان میں اس قسم کے بعض امور کا ذکر ہو چکا ہے، لیکن بعض دفعہ کسی اشد ضرورت کی بنا پر نماز کے اندر کوئی خارجی کام یا حرکت کرنے کی نوبت آجاتی ہے، سب سے پہلے ہم شریعت میں ثابت ہونے والی ایسی مثالوں کا ذکر کرتے ہیں۔ (۱) ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا} یعنی: جب تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہییا سوار ہی سہی۔ (سورۂ بقرہ: ۲۳۸) اس آیت میں خوف کے وقت پیدل چلتے ہوئے یا سواری پربیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ (۲) سانپ اور بچھو کو قتل کرنا۔ اِس اور اگلے دو امور کا ذکر اسی باب میں ہے۔ (۳) قبلہ کی سمت میں واقع دروازہ کھولنا۔ (۴) سیدنا ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سواری کی لگام پکڑ کر نماز پڑھنا اور اس کے ساتھ پیچھے ہٹ جانا، پھر اس فعل کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنتوں سے استدلال کرنا۔ (۵) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بچی کو اٹھا کر نماز پڑھنا اور رکوع کرتے وقت اس کو زمین پر بٹھا دینا اور پھر اگلی رکعت میں اٹھا لینا۔ (اس کا ذکراگلے باب میں آ رہا ہے)۔ (۶) نماز کسوف میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جنت کے انگور کا خوشہ پکڑنے کے لیے آگے بڑھنا اور جہنم کو دیکھ کر پیچھے ہٹنا۔ (بخاری: ۱۲۱۲) (۷) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جو کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے سرپر ہاتھ رکھا اور ان کے کان کو مروڑا اور گھما کر دائیں جانب کھڑا کر دیا۔ (بخاری: ۱۸۳، ۹۹۲، ۱۱۹۸، مسلم: ۱۸۲) (۸) سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صلح کرانے کے لیے بنو عمرو کی طرف گئے، مسجد نبوی میں نماز کا وقت ہو گیا، سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے امامت کے فرائض ادا کرنا شروع کیے، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور صف میں کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے ابو بکر صدیق کو متنبہ کرنے کے لیے تالیاں بجائیں، چونکہ وہ نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتے تھے، اس لیے لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجانا شروع کر دیں، بالآخر انھوں نے پیچھے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صف میں کھڑے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنے مقام پر ٹھہرے رہو اور(نماز کی امامت جاری رکھو)۔ لیکن ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہاتھ اٹھائے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آپ کو نماز جاری رکھنے کے بارے حکم دینے پر اللہ کی حمد بیان کی اور پھر پیچھے ہو گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آگے بڑھ کر امامت سنبھال لی۔ (بخاری: ۶۸۴، مسلم: ۱۰۳) (۹) صحابہ کرام کو تعلیم دینے کی خاطر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر نماز پڑھائی اور سجدے کرنے کے لئے نیچے اتر آئے اور پھر منبر پر چڑھ گئے۔ (بخاری، مسلم) (۱۰) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ایک صحابی نے سخت گرمی کی وجہ سے کچھ کنکریاں ہاتھ میں پکڑ لیں، تاکہ وہ ٹھنڈی رہیں، جب بھی وہ سجدہ کرتے تو زمین کی حرارت سے بچنے کے لئے ان کو زمین پر بچھا دیتے۔ (ابوداود) (۱۱) نمازی کا اپنے آگے سے گزرنے والے کو روکنا، وگرنہ اس سے لڑائی کرنا۔ ان احادیث اور اس موضوع سے متعلقہ دوسری احادیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت اس قسم کی حرکات و سکنات میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ یہ شریعت ِ اسلامیہ کی کمال حکمت ہے کہ جہاں اس نے دورانِ نماز عجزو انکساری اور خشوع و خضوع کو اپنانے اور فضول حرکتوں سے گریز کرنے کا حکم دیا، وہاں انسانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور نماز کے سکون کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے بعض گنجائشوں کو بھی برداشت کر لیا۔ مثال کے طور پر ایک دفعہ ہم گھر کے سارے افراد گھر میں باجماعت نماز پڑھ رہے تھے، دوران نماز ایک چھوٹی سی بچی ہاتھ اٹھا کر سٹینڈ والے پنکھے کی طرف بڑھی، ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ اگر وہ اسی انداز میں پنکھے تک پہنچ گئی تو انگلیوں کو شدید نقصان ہو سکتا ہے، یہ صورتحال دیکھ کر ایک نمازی آگے بڑھا اور بچی کو اٹھا کر واپس اپنی جگہ پر آکر نماز کو جاری رکھا۔ اس نمازی کا یہ فعل روحِ شریعت کے عین مطابق ہے۔ قارئین کرام! اگر وہ آدمی آگے بڑھ کر بچی کو نہ اٹھاتا تو سارے افراد نماز کے بقیہ حصے کو کس کشمکش میں ادا کرتے اور یہ کیسی عبادت ہوتی کہ ایک بچی کی انگلیاں کٹ رہی ہوں اور کسی کو اس کو بچانے کی اجازت نہ ہو۔ ہمارے ہاں سب سے بڑی مصیبتیہ ہے کہ جتنی لوگوں کے علم اور مطالعہ میں سستی اور کمی ہے، اتنی ہی فتوی بازی میں تیزی اور کثرت ہے، ہم لوگ صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں، عبادت کا مقصد کیا ہے، اس کی روح کیا اور شریعت میں دی گئی رخصتوں کی تفصیل کیا ہے، ان امور سے ہمارا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ ہماری عوام کا عملی نظریہیہ ہے کہ اگر کوئی آدمی نماز کا ایک کلمہ بھی سوچے سمجھے بغیر اور انتہائی بے توجہی کے عالَم میں نماز ادا کر لے تو اس کی نماز میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر کوئی آدمی نماز کے ایک ایک جملے کو سمجھتا ہے، لیکن دورانِ نماز کسی ضرورت کی وجہ سے بچہ اٹھا لیتا ہے تو فتوی باز عوام اور جاہلوں کے نزدیک اس کی نماز بڑی حد تک متأثر ہو گییا پھر باطل ہو جائے گی۔ ضروری تنبیہیہ ہے کہ اگر نمازی، نماز کے کلمات کو سمجھ کر ادا کر رہا ہو تو ایسی حرکات سے نماز میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں سب سے بڑی مصیبتیہ ہے کہ لوگوں نے بغیر کسی غور و فکر کے نماز، ذکر اور قرآن کے الفاظ رٹے ہوتے ہیں، جب بیچ میں کوئی معمولی سی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو ان کی نماز ان پر خلط ملط ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ سلام پھیرنے کے بعد دوسروں پر برس پڑتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو علم ہونا چاہیے کہ اگر محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز میں خشوع و خضوع اور عجز و انکساری اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہییہ رخصتیں عطا کی ہیں، جو آدمی ان رخصتوں کو قبول کرنے سے کتراتا ہے، دوسرے الفاظ میں وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آگے بڑھنے کی مذموم کوشش کرتا ہے۔
1951
Sahih
۔ (۱۹۵۲) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: اِسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِمٌ یُصَلِّی فَمَشٰی فِی الْقِبْلَۃِ إِمَّا عَنْ یَمِیْنِہِ وَاِمَّا عَنْ یَسَارِہٖ حَتَّی فَتَحَ لِیْ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی مُصَلاَّہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۹۹)
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: میں نے دروازے پر دستک دی، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، پس آپ دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے قبلہ کی طرف چلے، یہاں تک کہ میرے لیے دروازہ کھول دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی جائے نماز پر لوٹ گئے۔
Takhreej
(۱۹۵۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۵۹۷۲)
1952
Sahih
۔ (۱۹۵۳) عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: کَانَ أَبُوْبَرْزَۃَ الْأَسْلَمِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بَالْأَھْوَازِ عَلٰی حَرْفِ نَہْرٍ وَقَدْ جَعَلَ اللِّجَامَ فِیْیَدِہِ وَجَعَلَ یُصَلِّیْ، فَجَعَلَتِ الدَّابَّۃُ تَنْکُصُ وَجَعَلَ یَتَأَخَّرُ مَعَھَا، فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَوَارِجِ یَقُولُ: اَللّٰہُمَّ اخْزِ ھٰذَا الشَّیْخَ کَیْفَیُصَلِّیْ؟ قَالَ: فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَکُمْ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سِتًّا أَوْسَبْعًا أَوْثَمَا نِیًا فَشَہِدْتُّ أَمْرَہُ وَتَیْسِیْرَہُ، فَکَانَ رُجُوْعِیْ مَعَ دَابَّتِی أَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ تَرْکِھَا فَتَنْزِعُ إِلٰی مَأْلَفِہَا فَیَشُقُّ عَلَیَّ، وَصَلّٰی أَبُو بَرْزَۃَ الْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۰۸)
ازرق بن قیس کہتے ہیں: سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اہواز مقام میں دریا کے ایک کنارے پر تھے، انھوں نے سواری کی لگام اپنے ہاتھ میں پکڑ کر نماز شروع کر دی، اتنے میں سواری پیچھے ہٹنے لگ گئی اور وہ بھی اس کے ساتھ پیچھے ہونے لگ گئے، ایک خارجی آدمی نے یہ منظر دیکھ کر کہا: اے اللہ! اس شیخ کو ذلیل کر، یہ کیسے نماز پڑھ رہا ہے۔جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: میں نے تمہاری بات سنی ہے، (حقیقتیہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چھ یا سات یا آٹھ غزوے کیے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معاملات اور آسانی کا مشاہدہ کیا،(جن سے میں نے یہ استدلال کیا کہ) میرا نماز کے اندر سواری کے ساتھ پیچھے ہٹ جانا، یہ اس سے ہلکا تھا کہ میں اس کو چھوڑ دیتا اور وہ اپنی چراگاہ کی طرف چلی جاتی اور یہ میرے لیے مشقت کا باعث بنتی۔ سیدنا ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دو رکعت عصر کی نماز پڑھی تھی۔
Takhreej
(۱۹۵۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۲۱۱ دون تعیین الصلاۃ وعدد رکعاتھا (انظر: ۱۹۷۷۰)
Explanation
فوائد:… یقینا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ سیدنا ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے دی گئی رخصتوںکی روشنی میں اس انداز میں نماز پڑھنے کو درست سمجھا۔
1953
Sahih
۔ (۱۹۵۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّییَلْتَفِتُیَمِیْنًا وَشِمَالاً وَلاً یَلْوِی عُنُقَہُ خَلْفَ ظَہْرِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کی حالت میں دائیں بائیں جھانک لیتے تھے، لیکن اپنی گردن کو اپنے پیٹھ کی طرف نہیں مروڑتے تھے۔
Takhreej
(۱۹۵۴) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۵۸۷، والنسائی: ۳/ ۹ (انظر: ۲۴۸۵)
Explanation
فوائد:… نماز کو باطل کر دینے والی چیزوں کے تحت باب نمبر ۴ میں اس مسئلے پر بحث کی گئی ہے۔
1954
Sahih
۔ (۱۹۵۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ ھِنْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عِکْرِمَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَلْحَظُ فِیْ صَلاَتِہِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَلْوِیَ عُنُقَہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۶)
عکرمہ کا ایک شاگرد بیان کرتا ہے کہ جنابِ عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں گردن موڑے بغیر اِدھر اُدھر دیکھ لیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۹۵۵) تخریج: ھذا مرسل۔ أخرجہ الترمذی: ۵۸۸ (انظر: ۲۴۸۶)
1955
Sahih
۔ (۱۹۵۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: رَأَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَسْتَشْرِفُ لِشَیْئٍ وَھُوَ فِی الصَّلاَۃِ،یَنْظُرُ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۴۰۸۳)
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا وہ کسی چیز کے لئے نظر اٹھاتے، جبکہ وہ نماز میں ہوتے اور اس کی طرف دیکھ لیتے تھے۔
Takhreej
(۱۹۵۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۴۰۸۳)
Explanation
فوائد:… یقینی طور پر ان احادیث کو ضرورت پر محمول کریں گے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی بڑی مصلحت کی بنا پر ادھر ادھر دیکھنے کو مناسب سمجھا، ہم اس موضوع پر باب نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان میں گفتگو کر آئے ہیں۔
1956
Sahih

Chapters

14
01
نماز میں کلام کرنے کی ممانعت کا بیان
4 Hadith
02
نماز کو توڑ دینے والے امور کا بیان
8 Hadith
03
نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
10 Hadith
04
نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
8 Hadith
05
(نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان
7 Hadith
06
پیشابیا پاخانہ کو روک کر، کھانے کی موجودگی میں اور اونگھ کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
07
نماز میں گونگی بکل، سدل، اسبال، نقش و نگار والے کپڑوں اور عورتوں کی چادروں کی کراہت کا بیان
6 Hadith
08
نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
09
نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان (نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
10 Hadith
10
اللہ کے ڈر سے نماز میں رونے کے جائز ہونے کا بیان
2 Hadith
11
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
7 Hadith
12
نماز میں بچہ اٹھانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
13
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
7 Hadith
14
تاریکی میں نمازی کے سامنے عورت کے سونے کے جواز کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.