نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
۔ (۱۹۵۲) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: اِسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَائِمٌ یُصَلِّی فَمَشٰی فِی الْقِبْلَۃِ إِمَّا عَنْ یَمِیْنِہِ وَاِمَّا عَنْ یَسَارِہٖ حَتَّی فَتَحَ لِیْ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی مُصَلاَّہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۹۹)
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: میں نے دروازے پر دستک دی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، پس آپ دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے قبلہ کی طرف چلے، یہاں تک کہ میرے لیے دروازہ کھول دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی جائے نماز پر لوٹ گئے۔
1952
Sahih