TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1952 - نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان - نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 7 in this chapter
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
۔ (۱۹۵۲) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: اِسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِمٌ یُصَلِّی فَمَشٰی فِی الْقِبْلَۃِ إِمَّا عَنْ یَمِیْنِہِ وَاِمَّا عَنْ یَسَارِہٖ حَتَّی فَتَحَ لِیْ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی مُصَلاَّہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۹۹)
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: میں نے دروازے پر دستک دی، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، پس آپ دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے قبلہ کی طرف چلے، یہاں تک کہ میرے لیے دروازہ کھول دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی جائے نماز پر لوٹ گئے۔
1952
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۹۵۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۵۹۷۲)

Related Chapters

140
1
نماز کے بعد امام کے ٹھہرنے کی مقدار کا اور اس کے دائیںیا بائیں طرف پھرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
2
سحری سے فراغت اور نماز فجر کے درمیان کے وقفہ کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
3
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
Musnad Ahmad
4
کوئی نقش بنوانے یا پیوند وغیرہ لگانے کے لیے ریشم کی معمولی مقدار کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
5
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
Musnad Ahmad
6
Chapter: The Height Of That Which Serves As A Sutrah For The One Who Is Praying
نمازی کے سترے کی مقدار
Sahih Muslim
7
Chapter: It is recommended to pray Subh early, at the beginning of its time, when it is still dark; and the length of recitation therein
صبح کی نماز جلد ، اس کے اول وقت میں ، جو رات کی آخری تاریکی کا وقت ہے ، پڑھنا مستحب ہے ، نیز اس میں قراءت کی مقدارکا بیان
Sahih Muslim
8
نماز کی فرضیت اور اس سلسلے میں انس بن مالک کی حدیث کی سند میں راویوں کے اختلاف اور اس (کے متن) میں ان کے لفظی اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
9
سورج گرہن کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان۔
Sunnan Nisai
10
Chapter: What Has Been Related About the Length Of The Sitting After The First Two Rak'ah
باب: پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ (تشہد کے لیے بیٹھنے) کی مقدار کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related That The Injuries Caused By The Animal Are Without Liability And The Khumus Is Due On Rikaz
باب: جانوروں کا زخم رائیگاں ہے یعنی اس میں تاوان نہیں اور مدفون مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا​
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Judge
باب: قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Guardian Of One Who Was Killed Deciding Between Qisas or Pardon
باب: قصاص اور عفو کے سلسلے میں مقتول کے ولی (وارث) کے فیصلے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Is Not Allowed For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Is Disliked For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
17
Chapter: Regarding A Sacrificial Animal With A Stump Horn Or Ear
باب: ٹوٹی سینگ اور پھٹے کان والے جانوروں کی قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Exhortation Of The Prophet (saws) Regarding Fighting
باب: جہاد کے سلسلے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی وصیت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Dislike Of Encouraging Beasts To Fight On Another [And Striking Them Or Branding Them On The Face]
باب: جانوروں کو باہم لڑانے، مارنے اور ان کے چہرے پر داغنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Skins Of Dead Animals When They Are Tanned
باب: دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال کے استعمال کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Whatever A Lot Of It Intoxicates, A Little Of It Is Unlawful
باب: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے
Jam e Tirmazi
22
صحیح اور ضعیف کے سلسلے میں اہلِ حدیث کی معرفت اور علی اکمل الوجوہ ثابت ہونے والی حدیث لینے کا بیان
Musnad Ahmad
23
وضواور غسل کے پانی کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
24
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
25
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
26
زکوۃ وصول کرتے ہوئے لوگوں کے قیمتی مال سے اجتناب کرنے، بکریوں میں سے کس قسم کی بکری کا کفایت کرنے اور زکوۃ کی واجب مقدار سے افضل یا زائد دینے کا بیان
Musnad Ahmad
27
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
28
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
29
قربانی کے اونٹوں کو اشعار کرنا اور ہدی کے تمام جانوروں کو قلادے ڈالنا
Musnad Ahmad
30
ان جانوروں کا بیان کہ عیب کی وجہ سے جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور جن کی قربانی مکروہ ہے اور جن کی مستحبّ ہے
Musnad Ahmad
31
غلام کو اس کے جرم کے مطابق مارنے کے جواز کا اور اس مقدار سے زائد سزا دینے پر سختی کا بیان
Musnad Ahmad
32
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
33
اچھے انداز میں قرض کی ادائیگی اور اس کا مطالبہ کرنے، قرض دار کی قرض خواہ کے لیے دعا کرنے اور لیے ہوئے قرض سے زیادہ مقدار دے دینے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
34
بیت المال کے جانوروں کے لئے چراگاہوں کا بیان
Musnad Ahmad
35
گری پڑی چیز پر گواہ بنانے اور کم مقدار اور زیادہ مقدار کی چیز کی مدتِ اعلان کا بیان
Musnad Ahmad
36
چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا
Musnad Ahmad
37
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
Musnad Ahmad
38
تعزیر کی مقدار اور تہمتوں کی وجہ سے قید کر لینے کا بیان
Musnad Ahmad
39
مہر کی قلیل اور کثیر مقدار پر شادی کرنے کے جواز اور معتدل چیز کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
40
رضاعت کی وہ مقدار جس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی
Musnad Ahmad
41
پرورش میں والدین کے تنازعہ اور اختلاف کے وقت بچے کے سلسلے میں قرعہ اندازی کرنے اور سن تمیز تک پہنچنے کی صورت میں اس کا اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
42
خوبصورت لباس کی رخصت، لیکن اس سلسلے میں تواضع کے مستحب ہونے اور شہرت اور اسبال کی کراہت کے ابواب خوبصورت لباس اور اس میںتواضع کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
43
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ کی طرف سے دنیوی مال و دولت عطا کرنے کی پیش کش کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بے رغبتی کا اظہار کیا اور معمولی مال پر قناعت فرمائی
Musnad Ahmad
44
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
Musnad Ahmad
45
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
46
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
47
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
48
(10) CHAPTER. “Protect yourself from Hell-fire even with a half date, or with the little object of charity.”
اس بارے میں کہ جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے یا کسی معمولی سے صدقہ کے ذریعے ہو
Sahih Bukhari
49
(107) CHAPTER. To twist (and make) the garlands for the Budn (Hady camels for sacrifice) and cows.
گائے اونٹ وغیرہ قربانی کے جانوروں کے قلادے بٹنے کا بیان
Sahih Bukhari
50
(109) CHAPTER. Whoever puts the garlands round the necks of the Hady (animals meant for sacrifice) with one's own hands.
اس کے بارے میں جس نے اپنے ہاتھ سے ( قربانی کے جانوروں کو ) قلائد پہنائے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

38
Musnad Ahmad
1951
۔ (۱۹۵۱) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فِی الْبَیْتِ وَالْبَابُ عَلَیْہِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَمَشٰی حَتّٰی فَتَحَ لِیْ ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی مَقَامِہِ، وَوَصَفَتْ أَنَّ الْبَابَ فِی الْقِبْلَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور دروازہ بند ہوتا تھا، پھر جب میں آتی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (آگے) چلتے اور میرے لیے دروازہ کھول کر اپنے مقام پر واپس آ جاتے تھے۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ وہ دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔
Musnad Ahmad
506
۔ (۵۰۶)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّبَیْدِیِّؓ قَالَ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمیَقُوْلُ: ((لَا یَبُوْلُ أَحَدُکُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔)) وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸۵۲)
سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں پہلا آدمی ہوں، جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی آدمی قبلہ رخ ہو کر پیشاب نہ کرے۔ اور میں پہلا آدمی ہوں، جس نے لوگوں کو یہ حدیث بیان کی۔
Musnad Ahmad
509
۔ (۵۰۹)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ أَبِیْ أَیُوْبَ الْأَنْصَارِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا أَتٰی أَحَدُکُمُ الْغَائِطَ فَلَا یَسْتَقْبِلَنَّ الْقِبْلَۃَ وَلَکِنْ لِیُشَرِّقْ أَوْ لِیُغَرِّبْ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِیْضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبْلَۃِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُاللّٰہَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۲۱)
سیدنا ابو ایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کوئی آدمی قضائے حاجت کے لیے آئے تو وہ قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، اسے چاہیے کہ وہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کر لے۔ وہ کہتے ہیں: جب ہم شام میں آئے تو دیکھا کہ طہارت خانے قبلہ رخ بنائے گئے تھے،پس ہم پھر جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
512
۔ (۵۱۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَہَانَا عَنْ أَنْ نَسْتَدْبِرَالْقِبْلَۃَ أَوْ أَنْ نَسْتَقْبِلَہَا بِفُرُوْجِنَا اِذَا أَہْرَقْنَا الْمَائَ، قَالَ: ثُمَّ رَأَیْتُہُ قَبْلَ مَوْتِہِ بِعَامٍ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۴۹۳۳)
سیدنا جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف پیٹھ یا منہ کرنے سے منع فرمایا، لیکن میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی وفات سے ایک سال قبل قبلہ کی طرف رخ کر کے (قضائے حاجت کرتے ہوئے) دیکھا۔
Musnad Ahmad
513
۔ (۵۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: رَقِیْتُ یَوْمًا فَوْقَ بَیْتِ حَفْصَۃَ فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی حَاجَتِہِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ مُسْتَدْبِرَالْقِبْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۴۶۰۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن سیدہ حفصہ ؓ کے گھر کی چھت پر چڑھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ شام کی طرف منہ کر کے اور قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔
Musnad Ahmad
515
۔ (۵۱۵)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَخَلّٰی عَلَی لَبِنَتَیْنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۵۷۴۷)
سیدنا ابن عمرؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ دو اینٹوں پر بیٹھ کر اور قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کر رہے تھے۔
Musnad Ahmad
516
۔ (۵۱۶)۔ عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَؓ، أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَبُوْلُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ، قَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: قَالَ أَبِیْ: ثَنَا اِسْحٰقُ یَعْنِی الطَّبَّاعَ مِثْلَہُ، قَالَ: أَخْبَرَنِیْ أَبُوْ قَتَادَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۹۲۸)
سیدنا ابو قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔
Musnad Ahmad
1341
۔ (۱۳۴۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَسْجِدِ فَرَأَی فِی الْقِبْلَۃِ نُخَامَۃً، فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہُ قَالَ: ((إِنَّ أَحَدَ کُمْ إِذَا صَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ فَإِنَّہُ یُنَاجِیْ رَبَّہٗوَإِنَّاللّٰہَتَبَارَکَوَتَعَالٰییَسْتَقْبِلُہُ بِوَجْہِہِ فَـلَا یَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْقِبْلَۃِ وَلَاعَنْ یَمِیِنِہ۔)) ثُمَّ دَعَا بِعُودٍ فَحَکَّہُ ثُمَّ دَعَا بِخَلُوقٍ فَحَضَبَہُ۔ (مسند احمد: ۴۹۰۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجدمیں نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قبلہ کی سمت میں ایک کھنکار نظر آیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازسے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجا ت کر تا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے سامنے ہو تا ہے، اس لیے تم میں سے کوئی شخص قبلہ کی طر ف اور نہ ہی اپنی دائیں طر ف کھنکار پھینکا کرے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لکڑی منگوا کر اسے کھرچ دیا اور خوشبو منگوا کر وہاں لگا دی۔
Musnad Ahmad
1349
۔ (۱۳۴۹) عَنْ أَبِیْ سَہْلَۃَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلاً أَمَّ قَوْمًا فَبَسَقَ فِی الْقِبْلَۃِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ فَرَغَ: ((لَایُصَلِّ لَکُمْ۔)) فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِکَ أَنْ یُصَلِّیَ لَھُمْ فَمَنَعُوْہُ وَأَخَبَرُوْہُ بِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ ذَلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((نَعَمْ)) وَحَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ: ((آذَیْتَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۷۷)
سیّدناابو سہلہ سائب بن خلاد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اس نے دوران نماز قبلہ کی طرف تھوکا۔ جس وقت وہ فارغ ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ شخص آئندہ تمہیں نماز نہ پڑھائے۔ بعد میںجب اس نے نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اسے منع کر دیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان اسے سنا دیا، اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: ہاں، (میں نے منع کیا ہے) کیونکہ تو نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی ہے۔