سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوگئے اور بیٹھنا بھول گئے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز مکمل کر کے سلام پھیرنے لگے تو دو سجدے کئے اور پھر سلام پھیر کر نماز ختم کی۔ایک روایت میں ہے: جب آپ نے آخری دو رکعتیں پڑھ لیں تو لوگ آپ کے سلا م پھیرنے کے انتظار میں تھے تو آپ نے تکبیر کہہ کر سجدہ کیا، پھر تکبیر کہی اور دوسرا سجدہ کیا اور پھر سلام پھیر دیا۔
۔ (دوسری سند)سیدناابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، ہمارا خیال ہے کہ وہ عصر تھی، ہوا یوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری رکعت کے بعد بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، جب سلام پھیرنے کے قریب تھے تودو سجدے کئے اور لوگوں نے بھی سجدے کیے،یہ (سجدے) بیٹھنا بھول جانے کی وجہ سے کیے تھے۔
یوسف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ان کے آگے یعنی ان کا امام بن کر نماز ادا کی،ایک مقام پر آپ بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہو گئے، لوگوں نے سبحان اللہ تو کہا لیکن وہ کھڑے ہو گئے اور نماز جاری رکھی، پھر سہو کے دو سجدے کیے، جب کہ وہ نماز مکمل کرنے کے بعد بیٹھے ہوئے تھے، پھر منبر پر بیٹھ گئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص نماز سے کوئی چیز بھول جائے تو وہ اس طرح دو سجدے کر لیا کرے۔
زیادبن علاقہ نے کہا: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی،وہ دو رکعتیں ادا کرنے کے بعد بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، جب لوگوں نے سبحان اللہ کہاتو انہوں نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بھی کھڑے ہوجائیں، جب اپنی نماز سے فارغ ہونے لگے تو انھوں نے سلام پھیرا، پھر دوسجدے کیے اور پھر سلام پھیرا، اس کے بعدکہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر یا عصر میں ہماری امامت کرائی اور آپ (درمیانے تشہد کو چھوڑ کر) تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے، جب ہم نے سبحان اللہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں متنبہ کرنے کے لیے سبحان اللہ کہا اور ہمیں کھڑے ہونے کا اشارہ کیا، پس ہم بھی کھڑے ہو گئے، جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کئے اورفرمایا: جب کسی کو مکمل سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو وہ بیٹھ جائے اور جب وہ مکمل سیدھا کھڑا ہوجائے توپھر نہ بیٹھے۔