TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سجدہ سہو کے ابواب - سجدہ سہو کے ابواب - Book 34 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 34 of Musnad Ahmad, with 6 chapters and 39 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

39 Hadith · 6 Chapters
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۷۲) عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ لَہُ عُمَرُ: یَاغُلَامُ! ھَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِہِ إِذَا شَکَّ الرَّجُلُ فِی صَلاَتِہِ مَاذَا یَصْنَعُ؟ قَالَ: فَبَیْنَمَا ھُوَ کَذٰلِکَ إِذْ أَقْبَلَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ: فِیْمَ أَنْتَمَا؟ فَقَالَ عُمَرُ: سَأَلْتُ ھٰذَا الْغُلاَمَ ھَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِہِ إِذَا شَکَّ الرَّجُلُ فِی صَلاَتِہِ مَاذَا یَصْنَعُ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہٖفَلَمْ یَدْرِ أَوَاحِدَۃً صَلّٰی أَمْ ثِنْتَیْنِ فَلْیَجْعَلْہَا وَاحِدَۃً، وَإِذَا لَمْ یَدْرِ ثِنْتَیْنِ صَلّٰی أَمْ ثَلاَثًا فَلْیَجْعَلْھَا ثِنْتَیْنِ، وَإِذَا لَمْ یَدْرِ أَثَلَاثًا صَلّٰی أَمْ أَرْبَعًا فَلْیَجْعَلْہَا ثَلَاثًا، ثُمَّ یَسْجُدُ إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ وَھُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ سَجْدَتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۶)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اے لڑکے! کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کسی صحابی سے کوئی ایسی حدیث سنی ہے کہ اگر نمازی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ یہی بات ہو رہی تھی کہ اتنے میں سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچ گئے اور انھوں نے پوچھا: تم کیا بات کر رہے ہو؟ سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اس لڑکے سے پوچھا ہے کہ کیا اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یا کسی صحابی سے کوئی اس قسم کی حدیث سنی ہے کہ جب آدمی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ یہ سن کر سیدنا عبد الرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اوروہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو تو وہ ایک رکعت ہی سمجھ لے، جب اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیںیا تین تو وہ ان کو دو ہی سمجھ لے اور جب اسے یہ معلوم نہ ہو سکے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیںیا چار تو وہ ان کو تین ہی سمجھ لے، پھر جب نماز سے فارغ ہو نے لگے تو بیٹھے بیٹھے اور سلام سے پہلے دو سجدے کر لے۔
Takhreej
(۱۹۷۲) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ الترمذی: ۳۹۸، وابن ماجہ: ۱۲۰۹ (انظر: ۱۶۵۶)
Explanation
فوائد:… جب نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور وہ کوئی ظن غالب قائم نہ کر سکے تو احتیاط کرتے ہوئے کم تعداد پر بنیاد رکھ کر نماز مکمل کرے اور ایسی صورت میں سلام سے پہلے دو سجدے کر لے، ان کو سجدۂ سہو کہتے ہیں۔
1972
Sahih
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۷۳) عَنْ مُرَّۃَ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ یَزْیِدَ بْنِ أَبِیْ کَبْشَۃَ عَنْ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ صَلَّیْتُ فَلَمْ أَدْرِ أَشَفَعْتُ أَمْ أَوْتَرْتُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِیَّایَ وَأَنْ یَتَلَعَّبَ بِکُمُ الشَّیْطَانُ فِیْ صَلاَتِکُمْ، مَنْ صَلّٰی مِنْکُمْ فَلَمْ یَدْرِ أَشَفَعَ أَوْ أَوْتَرَ فَلَیْسْجُدْ سَجْدَ تَیْنِ فَإِنَّہُمَا تَمَامُ صَلَاتِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۵۰)
سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نمازپڑھی لیکن (بھول گیا)، جس کی وجہ سے اب یہ پتہ نہیں چل رہا کہ جفت رکعات پڑھی ہیںیا طاق؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اپنے آپ کواس سے ڈراتا ہوں کہ شیطان تمہاری نماز میں تم سے کھیلنے لگ جائے، تم میںسے جو آدمی نماز پڑھے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ جفت رکعات پڑھ لی ہیںیا طاق تو وہ دو سجدے کر لے، ان سے اس کی نماز کی تکمیل ہو جائے گی۔
Takhreej
(۱۹۷۳) تخریج: حسن وانظر الحدیث بالسند الثانی(انظر: ۴۵۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کو دوسری روایات کی روشنی میں سمجھیں گے کہ ایسا نمازی کمی کی صورت میں پہلے کمی کو پورا کرے گا، پھر سجدے کرے گا۔
1973
Sahih
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۷۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلّٰی بِنَا یَزِیْدُ ابْنُ أَبِی کَبْشَۃَ الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَیْنَا بَعْدَ صَلَاتِہٖفَقَالَ: إِنِّیْ صَلَّیْتُ مَعَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَسَجَدَ مِثْلَ ھَاتَیْنِ السَّجْدَتَیْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَیْنَا فَأَعْلَمَنَا أَنَّہُ صَلّٰی مَعَ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَ کَرَ مِثْلَہُ أَوْنَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۴۵۱)
۔ (دوسری سند)مرہ بن معبد کہتے ہیں: یزید بن ابو کشبہ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں نے مروان بن حکم کے ساتھ نماز پڑھی تھی، انہوں نے اسی طرح دو سجدے کیے تھے، پھر وہ ہماری طرف پھرے اور ہمیں یہ بتلایا کہ انھوں نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا تھا، پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔
Takhreej
(۱۹۷۴) تخریج: اسنادہ حسن۔ أوردہ البخاری فی تاریخہ الکبیر : ۸/ ۳۵۵، وأخرجہ أبو نعیم فی معرفۃ الصحابۃ : ۲۸۵ (انظر: ۴۵۱)
1974
Sahih
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۷۵) عَنْ إِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلاَۃً فَلَا أَدْرِیْ زَادَ أَمْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ، قِیْلَ لَہُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ حَدَثَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْئٌ؟ قَالَ: ((لاَ، وَمَا ذَاکَ؟)) قَالُوْا: صَلَّیْتَ کَذَا وَکَذَا،، قَالَ: فَثَنٰی رِجْلَیْہِ فَسَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ، وَإِذَاشَکَّ أَحَدُ کُمْ فِی الصَّلاَۃِ فَلْیَتَحَرَّ الصَّلاَۃ،َ فَإِذَا سَلَّمَ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۳۶۰۲)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک نماز پڑھائی،مجھےیہ یاد نہیں رہا کہ زیادتی ہو گئی تھییا کمی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز مشروع ہو گئی ہے؟ آ پ نے فرمایا: (نہیں، اور وہ کیا ہے (جو تم محسوس کر رہے ہو)؟ لوگوںنے کہا: آپ نے اتنی اتنی نماز پڑھائی ہے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور سہوکے دو سجدے کئے، پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا: میںتوایک انسان ہی ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو اسی طرح میں بھی بھول جاتا ہوں، جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ نماز (کی رکعات کی تعداد کی درست صورت کو) تلاش کرے اور جب سلام پھیرے تو دو سجدے کر لے۔
Takhreej
(۱۹۷۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۰۱، ۶۶۷۱، ومسلم: ۵۷۲ (انظر: ۳۶۰۲)
1975
Sahih
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۷۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ فَثَنٰی رِجْلَہُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہِ فَقَالَ: ((لَوْ حَدَثَ فِی الصَّلَاۃِ شَیْئٌ لَأَنْبَأْ تُکُمُوہُ وَلٰکِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِنْ نَسِیْتُ فَذَکِّرُونِی وَأَیُّکُمْ مَا شَکَّ فِی صَلَاتِہِ فَلْیَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذٰلِکَ لِلصَّوَابِ فَلْیُتِمَّ عَلَیْہِ وَیُسَلِّمْ ثُمَّ یَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۴۱۷۴)
۔ (دوسری سند)اسی قسم کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا پاؤں موڑا،قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے، پھر ہم پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر نماز میںکوئی نئی چیز مشروع ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتاتا، بات یہ ہے کہ میں صرف ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، پس اگر میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کرا دیا کرو اور تم میں جس کسی کو بھی نماز میں شک ہو جائے تو وہ ایسی صورت کو تلاش کرے جو درستگی کے زیادہ قریب ہو، پھر اس نماز کو مکمل کرے اور سلام پھیر کر دو سجدے لے۔
Takhreej
(۱۹۷۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۴۱۷۴)
Explanation
فوائد:… وہ ایسی صورت کو تلاش کرے جو درستگی کے زیادہ قریب ہو۔ اس سے مراد ظن غالب ہے کہ وہ مختلف قرائن کو دیکھ کر ایسا فیصلہ کرے جس پر اس کے نفس کو اطمینان ہو۔ یہ صورت اس صورت سے مختلف ہے، جس میں بندے کو ایسا شک ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے کم پر یقین کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، اس شک والی صورت کی وضاحت اس باب کی پہلی حدیث میں ہو چکی ہے۔
1976
Sahih
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۷۷) عَنْ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَاکُنْتَ فِی الصَّلَاۃَ فَشَکَکْتَ فِی ثَلاَثٍ أَوْ اَرْبَعٍ، وَأَکْثَرُ ظَنِّکَ عَلٰی أَرْبَعٍ، تَشَہَّدْتَّ ثُمَّ سَجَدْتَّ سَجْدَتَیْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسْلِّمَ، ثُمَّ تَشَہَّدْتَ أَیْضًا ثُمّ َسَلَّمْتَ۔)) (مسند احمد: ۴۰۷۵)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تونماز میں ہو اور تینیا چار رکعتوں میں شک ہو جائے، البتہ تیرا زیادہ گمان چار پر ہو، تو تو تشہد پڑھ اور سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور اس کے بعد سلام پھیر۔
Takhreej
(۱۹۷۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو عبیدۃ لم یسمع من ابیہ عبد اللہ بن مسعود، وخصیف بن عبد الرحمن الجزری سیء الحفظ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۰۲۸ (انظر: ۴۰۷۵)
1977
Zaeef
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۷۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: ((إِذَا شَکَکْتَ فِیْ صَلَاتِکَ وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمْ تَدْ رِثَلَاثًا صَلَیْتَ أَمْ أَرْبَعًا، فَاِنْ کَانَ أَکْبَرُ ظَنِّکَ أَنَّکَ صَلَّیْتَ ثَلاَثًا فَقُمْ فَارْکَعْ رَکْعَۃً ثُمَّ سَلِّمْ ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ تَشَہَّدْ ثُمَّ سَلِّمْ، وَإِنْ کَانَ أَکْبَرُ ظَنِّکَ أَنَّکَ صَلَّیْتَ أَرْبَعًا فَسَلِّمْ ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ تَشَہَّدْ ثُمَّ سَلِّمْ۔ (مسند احمد: ۴۰۷۶)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب تجھے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور تو بیٹھا ہوا ہو اور تجھے یہ پتہ نہ چل سکے کہ تو نے تین رکعات پڑھی ہیںیا چار، تو اگر تیرا غالب ظن یہ ہو کہ تو نے تین رکعتیں پڑھ لی ہیں تو تو کھڑا ہو جا اور ایک رکعت ادا کر، پھر سلام پھیر، پھر دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور پھر سلام پھیر، اور اگر غالب ظن یہ ہو کہ تو نے چار رکعتیں پڑھ لی ہیں تو سلام پھیر دے، پھر دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور پھر سلام پھیر دے۔
Takhreej
(۱۹۷۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، وھذا موقوف والحدیث بالطریق الاول مرفوع (انظر: ۴۰۷۶)
1978
Zaeef
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۷۹) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَأْتِیْ أَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ وَھُوَ فِیْ صَلَاتِہِ فَیُلَبِّسُ عَلَیْہِ حَتّٰی لَا یَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ)) (مسند احمد: ۷۲۸۴)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو اس کے پاس شیطان آتا ہے تو اس پر اس کی نماز کو اتنا خلط ملط کر دیتا ہے کہ وہ یہ بھی نہیں جان سکتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے، پس جو آدمی ایسی صورتحال پائے تو وہ دو سجدے کرے، اس حال میں کہ وہ بیٹھا ہوا ہو۔
Takhreej
(۱۹۷۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۲۳۲، ومسلم: ۳۸۹ (انظر: ۷۲۸۶)
1979
Sahih
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۸۰) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فَلَا یَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ، وَإِذَا جَائَ أَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ فَقَالَ إِنَّکَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَلْیَقُلْ کَذَبْتَ إِلاَّ مَاوَجَدَ رِیْحَہُ بَأَنْفِہِ أَوْ سَمِعَ صَوْتَہُ بَأُذُنِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۹۸)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور وہ (اس قدر بھول جائے کہ یہ) بھی نہ جان سکے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے تووہ بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کرلے اور جب شیطان کسی کے پاس آ کر کہے کہ تو بے وضو ہو گیا ہے تو وہ اسے کہے کہ تو نے جھوٹ کہا، الا یہ کہ وہ اپنے ناک سے بو محسوس کر لے یا اپنے کان سے آواز سن لے۔
Takhreej
(۱۹۸۰) تخریج: صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ عیاض۔ أخرجہ ابوداود: ۱۰۲۹، والترمذی: ۳۹۶، وابن ماجہ: ۱۲۰۴ (انظر: )
Explanation
فوائد:… اگلی حدیث میں اس تفصیل کا بیان ہے کہ سجدۂ سہو کرنے سے پہلے رکعات کی تکمیل کیسے کرنی ہو گی۔ شیطان کا بے وضو کہنے سے مراد بے وضگی کا وسوسہ ڈالنا ہے، ایسی صورت میں نمازی کو اس کے وسوسے سے متأثر نہیں ہونا چاہیے اور ایسے خیال کو فوراً دفع کر دینا چاہیے، ہاں اگر نمازی کو وضو ٹوٹ جانے کا یقین ہو جائے تو وہ دوبارہ وضو کرے۔
1980
Sahih
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۸۱) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہِ فَلَمْ یَدْرِکَمْ صَلّٰی فَلْیَبْنِ عَلَی الْیَقَیْنِ حَتّٰی إِذَا اسْتَیْقَنَ أَنْ قَدْ أَتَمََ فَلَیْسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ، فَإِنَّہُ إِنْ کَانَتْ صَلَاتُہُ وِتْراً صَارَتْ شَفْعًا وَإِنْ کَانَتْ شَفْعًا کَانَ ذٰلِکَ تَرْغِیْمًا لِلشَّیْطَانِ)) (مسند احمد: ۱۱۷۱۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے، تو وہ یقین پر بنیاد رکھے (اور مزید رکعات ادا کرے) حتی کہ اسے نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو جائے، پھر وہ سلام سے پہلے دو سجدے کرے، اگر اس کی (پڑھی ہوئی زائد نماز) طاق رکعات ہوں گی تو وہ (سہو کے دو سجدوں) کی بنا پر جفت بن جائے گی اور اگر اس کی نماز جفت (یعنی پوری ہی) ہو گی تو یہ سجدے شیطان کو خاک آلود کریں گے۔
Takhreej
(۱۹۸۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۷۱ (انظر: ۱۱۶۸۹)
Explanation
فوائد:… اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی چار رکعتی نماز کی پانچ رکعتیں ادا کر لیتا ہے تو چار رکعت بطورِ فرض قبول ہوں گے اور بقیہ ایک رکعت، سہوکے دوسجدوں کے ساتھ مل کر دو نفل کے قائم مقام ہو جائے گی۔ اور اگر اس نے نماز پوری ہی پڑھی ہو گی تو سہو کے سجدوں کی وجہ سے شیطان ذلیل ہو گا کہ اس نے تو نماز کو باطل ہو جانے اور نمازی پر اس کو خلط ملط کر دینے کی کوشش کی تھی، لیکن اس نے زائد دو سجدوں کے ذریعے اسے مزید ذلیل کر دیا۔
1981
Sahih
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۸۲) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُکُمْ بِحَدِیْثٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالُوْا: بَلٰی۔ قَالَ: فَأَشْہَدُ أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: مَنْ صَلّٰی صَلَاۃًیَشُکُّ فِی النُّقْصَانِ فَلْیُصَلِّ حَتّٰییَشُکَّ فِی الزِّیَادَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۹)
سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیامیں تمہیں وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ انھوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص نماز پڑھتا ہے اور اسے اس کے کم ہونے کا شک ہوتا ہے تو وہ نماز پڑھتا رہے، یہاں تک کہ اسے زیادہ ہونے میں شک ہونے لگے۔
Takhreej
(۱۹۸۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، اسماعیل بن مسلم المکی البصری متروک الحدیث، قالہ النسائی۔ أخرجہ البزار: ۹۹۷، وابویعلی: ۸۵۵، والدارقطنی: ۱/ ۳۶۹، والبیھقی: ۲/ ۳۳۲ (انظر: ۱۶۸۹)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم درج ذیل حدیث کی بنا پر درست ہے: سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی کو نماز میں شک ہو جائے اور اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو، تو وہ اس کو ایک سمجھے اور اگر اسے یہ شک پڑ جائے کہ دو رکعات پڑھی ہیںیا تین، تو ان کو تین سمجھے، … …۔ (حسن لغیرہ، مسند احمد: ۱۶۵۶، ترمذی: ۳۹۸، ابن ماجہ: ۱۲۰۹)
1982
Zaeef
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۸۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ شَکَّ فِی صَلَاتِہِ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَ مَایُسَلِّمُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۱)
سیدناعبد اللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز میں شک کرے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔ ایک روایت میں ہے: وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرلے۔
Takhreej
(۱۹۸۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن مسافع لا یعرف بجرح ولا تعدیل، ومصعب بن شیبۃ لین الحدیث، وعقبۃ (والصواب: عتبۃ) بن محمد لیس بمعروف، وذکرہ ابن حبان فی الثقات و ضعّفہ ابن قدامۃ فی المغنی ، ثم ھو مضطرب۔ أخرجہ النسائی: ۳/ ۳۰ (انظر: ۱۷۴۷، ۱۷۶۱)
1983
Zaeef
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۸۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَاإِغْرَارَ فِیْ صَلَاۃٍ وَلاَ تَسْلِیْمَ۔)) (مسند احمد: ۹۹۳۸)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ نماز (کے ارکان) میںنقص پیدا کرنا جائز ہے اور نہ (نماز میں) سلام کہنا ہے۔
Takhreej
(۱۹۸۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابوداود: ۹۲۸، ۹۲۹ (انظر: ۹۹۳۶، ۹۹۳۷)
Explanation
فوائد:… امام البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوعمرو شیبانی نے کہا: لَاغِرَارَ کا معنییہ ہے کہ آدمی اپنی نماز سے اس حال میں نہ نکلے کہ اسے نماز کے کسی حصے کے باقی رہنے کا گمان ہو، بلکہ (وہ اس وقت سلام پھیرے) جب اسے نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو۔ ابن اثیر نے کہا: غِرَارُ الصَّلَاۃِ سے مراد نماز کی کیفیات و ارکان میں نقص کرنا ہے اور غِرَارُ التَّسْلِیْمِ سے مراد یہ ہے کہ نمازی (جوابًا) وَعَلَیْکَ کہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے کہا: وَلَا تَسْلِیْمَ کا یہ معنی نہیں کہ غیر نمازی، نمازی کو سلام نہ کہے، کیونکہ کئی احادیث میں ثابت ہے کہ صحابہ کرام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہتے تھے (اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اشارے سے جواب دیتے تھے)۔ جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد قبا میں گئے اور نماز پڑھ رہے تھے، اسی اثنا میں انصاری لوگ آئے اور آپ کو سلام کہا، حالانکہ آپ نماز میں تھے۔ میں نے سیدنا بلال سے پوچھا: جب یہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حالت ِ نماز میں سلام کہتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کا جواب کیسے دیتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ (اشارہ کرتے ہوئے) اس طرح کرتے تھے۔ پھر (آپ کے ہاتھ کی کیفیت بیان کرنے کے لیے) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی ہتھیلی کو آگے کی طرف پھیلا دیا۔ (ابوداود) (صحیحہ: ۳۱۸) خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ جب تک نمازی کو نماز کی تکمیل کا یقین نہ ہو جائے وہ سلام نہیں پھیر سکتا، نیز وہ سلام کا جواب بول کر نہیں دے سکتا، کیونکہ اسے کلام کہتے ہیں، جو نماز میں حرام ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
1984
Sahih
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ (یَعْنِیْ اِبْنَ مَہْدِیٍّ) عَنْ سُفْیَانَ (یَعْنِیْ الثَّوْرِیَّ) قَالَ: سَمِعْتُ أَبِیْیَقُوْلُ: سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو اَلشَّیْبَانِیَّ عَنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا إِغْرَارَ فِی الصَّلاَۃِ۔)) فَقَالَ: إِنَّمَا ھُوَ لَاغِرَارَ فِی الصَّلاَۃِ، وَمَعْنَی غِرَارَ یَقُولُ لاَیَخْرُجُ مِنْہَا وَھُوَ یَظُنُّ أَنَّہُ قَدْ بَقِیَ عَلَیْہِ مِنْہَاشَیْئٌ حَتّٰییَکُونَ عَلَی الْیَقِیْنِ وَالْکَمَالِ۔ (مسند احمد: ۹۹۳۸) ذکر الامام احمد ھذا القول بعد الحدیث السابق: ۸۸۷
سفیان ثوری کہتے ہیں: میرے باپ نے ابو عمرو شیبانی سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قول لَا إِغْرَارَ فِی الصَّلاَۃِ۔ (نمازمیںنقص پیدا کرنا نہیں ہے۔) کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا: یہ روایت اس طرح ہے: لَا غِرَارَ فِی الصَّلَاۃِ۔ اور لَا غِرَار کا معنییہ ہے کہ بندہ اس حال میں نماز سے نہ نکلے کہ اسے یہ گمان بھی ہو کہ اس کی نماز کا کچھ حصہ باقی ہے، (وہ اس وقت نکلے) جب اسے مکمل ہونے کا یقین ہو۔
Explanation
فوائد:… اس باب کی صحیح احادیث میں سہو کے دو سجدوں کی درج ذیل تین صورتیں بیان کی گئی ہیں: (۱) اگر نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور وہ حتمی فیصلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے کم تعداد پر بنیاد رکھے تو وہ سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔ (۲) اگر نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور مختلف قرائن کی روشنی میں اسے کسی صورت پر ظن غالب ہو جائے تو وہ سلام کے بعد سجدے کرے۔ (۳) اگر سلام کے بعد کسی زیادتی کا پتہ چلے یا ایسی کمی کا جس کا اعادہ نہیں کیا جاتا، تو اسی وقت سجدے کئے جائیں اور پھر سلام پھیرا جائے۔ (بخاری، مسلم) مثلا سلام پھیرنے کے بعد پتہ چلے کہ پانچ رکعتیں پڑھ لی گئی ہیںیا تشہد رہ گیا ہے۔ باقی صورتوں کا ذکر اگلے ابواب میں آ رہا ہے۔
1985
Sahih
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۸۶) عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ عَمَّارًا (یَعْنِی بْنَ یَاسِرٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَقَالَ لَہُ عَبْدُالرَّحْمٰنِ ابْنُ الْحَارِثِ: یَا أَبَا الْیَقْظَانِ! لَا أَرَاکَ إِلاَّ خَفَّفْتَہُمَا۔ قَالَ: ھَلْ نَقَصْتُ مِنْ حُدُودِھَا شَیْئًا؟ قَالَ: َلا، وَلٰکِنْ خَفَّفْتَہُمَا، قَالَ: إِنِّی بَادَرْتُ بِہِمَا السَّہْوَ، إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ الرَّجُلَ لَیُصَلِّیْ وَلَعَلَّہُ أَنْ لَا یَکُوْنَ لَہُ مِنْ صَلَاتِہِ إِلاَّ عُشْرُھَا أَوْ تُسْعُہَا أَوْ ثُمْنُہَا أَوْ سُبْعُہَا،…۔)) حَتَّی انْتَھٰی إِلٰی آخِرٍ الْعَدَدِ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۸۵)
سیدنا عماربن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دو رکعت نماز پڑھی، عبدالرحمن بن حارث نے ان سے کہا: اے ابو الیقظان! میرا خیالیہ ہے کہ آپ نے ان میں تخفیف کی ہے۔ انہوں نے کہا: کیا میں نے اس کی حدود و قیود میں سے کسی چیز کی کمی کی ہے؟ وہ کہنے لگے: نہیں، لیکن آپ نے ان میں تخفیف کی ہے۔ انہوں نے کہا: (اصل بات یہ ہے کہ) میں نے بھولنے سے پہلے جلدی جلدی ان کو ادا کر لیا ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک آدمی تو نماز پڑھتا ہے، لیکن ممکن ہے کہ اس کے لیے اس کی نماز سے نہ ہو مگر دسواں حصہ، یا نواں حصہ، یا آٹھواں حصہ، یا ساتواں حصہ، …۔ حتی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آخری عدد تک پہنچ گئے۔
Takhreej
(۱۹۸۶)تخریج:صحیح۔ أخرجہ البزار فی مسندہ : ۱۴۲۰، وابن حبان: ۱۸۸۹، ورواہ النسائی فی الکبری : ۶۱۱، وابن ابی شیبۃ: ۱/۳۴۰ مختصرا (انظر: ۱۸۸۷۹)
1986
Sahih
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۸۷) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ َلاسٍ الْخُزَاعِیِّ قَالَ: دَخَلَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ الْمَسْجِدَ فَرَکَعَ فِیِہِ رَکْعَتَیْنِ أَخَفَّھُمَا وَأَتَمَّہُمَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ، فَقُمْنَا إِلَیْہِ فَجَلَسْنَا عِنْدَہُ ثُمَّ قُلْنَا لَہُ لَقَدْ خَفَّفْتَ رَکْعَتَیْکَ ھَاتَیْنِ جِدًّا یَا أَبَا الْیَقْظَانِ! فَقَالَ: إِنِّیْ بَادَرْتُ بِہِمَا الشَّیْطَانَ أَنْ یَدْخُلَ عَلَیَّ فِیْہِمَا، قَالَ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۱۳)
۔ (دوسری سند)ابن لاس خزاعی کہتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز ادا کی، وہ بہت تخفیف والی تھیں، لیکن مکمل بھی تھیں، پھر وہ بیٹھ گئے، ہم کھڑے ہوئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے، ہم نے کہا: ابو الیقظان! آپ نے ان دو رکعتوں میں تخفیف کی ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں نے ان کو اپنے اندر شیطان کے داخل ہونے سے پہلے ادا کر لیا ہے، پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۱۹۸۷) تخریج: حدیث صحیح، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۱۸۳۲۳)
Explanation
فوائد:… سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انھوں نے نماز تو اختصار سے پڑھی ہے، لیکن پوری توجہ کے ساتھ ادا کی ہے، اگر وہ طوالت اختیار کرتے تو ممکن تھا کہ شیطان دوسرے خیالات میں مبتلا کر دیتا۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ہماری شریعت میں طویل قیام محبوب عمل ہے اور نماز میں شیطان کے وسوسوں سے بچنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو طریقہ بتلایا ہے، اس کا بیان اگلی حدیث ِ مبارکہ میں آ رہا ہے۔
1987
Sahih
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
۔ (۱۹۸۸) عَنْ أَبِی العَلاَئِ بْنِ الشِّخِّیْرِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِی الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: یَارَسُولَ اللّٰہِ! حَالَ الشَّیْطَانُ بَیْنِی َوَبَیْنَ صَلَاتِیْ وَبَیْنَ قِرَائَ تِیْ قَالَ: ((ذَاکَ شَیْطَانٌیُقَالُ لَہُ خِنْزَبٌ فَإِذَا أَنْتَ حَسَسْتَہُ فَتَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنْہُ وَاتْفُلْ عَنْ یَسَارِکَ ثَلاَثًا۔)) قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَاکَ فَاَذْھَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَنِّیْ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۵۷)
سیدنا عثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! شیطان میرے اور میری نماز اور قراء ت کے درمیان حائل ہوگیا ہے، آپ نے فرمایا: یہ شیطان ہے، اس کو خنزب کہتے ہیں، جب تو اسے محسوس کرے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگ اور تین دفعہ اپنی بائیں جانب تھوک دے۔ انھوں نے کہا: پس میں نے یہ عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وسوسہ ختم کردیا۔
Takhreej
(۱۹۸۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۰۳ (انظر: ۱۷۸۹۷)
Explanation
فوائد:… یقینی طور پر اس وقت نمازیوں کی بھاری تعداد حقیقی نماز سے غافل ہے اور کئی قسم کے وسوسوں میں مبتلا ہے، لیکن جب کسی کو اِس حدیث میں مذکورہ طریقہ بتلایا جاتا ہے تو غفلت کی وجہ سے یا دوسرے لوگوں سے جھجک کر اس پر عمل بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ قارئین کرام! آپ شہادت دیں گے کہ آپ نے بہت کم کسی نمازی کو دیکھا ہو گا کہ وہ نماز کے اندر اس طرح شیطان سے پناہ مانگے، حالانکہ یہ بات یہیقینی ہے کہ اس وقت نمازیوں کی بھاری تعداد حقیقی نماز سے غافل ہے اور کئی قسم کے وسوسوں میں مبتلا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ طریقۂ نبوی استعمال نہیں کیا جاتا، اس کی کئی وجوہات ہیں، مثلا: غفلت، دین میں عدم دلچسپی، فکر ِ آخرت کی کمی، لوگوں سے جھجک، جلد بازی، عبادت کے معیار سے ناواقفیت، نماز کے کلمات کو نہ سمجھنا۔ وغیرہ۔
1988
Sahih
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ
۔ (۱۹۸۹) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ (یَعْنِیْ ابْنَ سِیْرِیْنَ) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِحْدٰی صَلَاتَیِ الْعَشِیِّ، قَالَ: ذَکَرَھَا أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَنَسِیَہَا مَحَمَّدٌ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَأَتٰی خَشَبَۃً مُعْرُوْضَۃً فِی الْمَسْجِدِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ أَتٰی جِذْعًا فِی الْقِبْلَۃِ کَانَ یُسْنِدُ إِلَیْہِ ظَھْرَہُ فَأَسْنَدَ إِلَیْہِ ظَھْرَہُ) فَقَالَ بِیَدِہِ عَلَیْہَا کَأَنَّہُ غَضْبَانُ وَخَرَجَتِ السَّرْعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ قَالُوْا: قُصِرَتِ الصَّلَاۃُ، قَالَ: وَفِی الْقَوْمِ أَبُوبَکْرٍ وَعُمَرُ، فَہَابَاہُ اَنْ یُکَلِّمَاہُ، وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ فِیْیَدَیْہِ طُوْلٌ، یُسَمّٰی ذَا الْیَدَیْنِ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَسِیْتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاۃُ؟ فَقَالَ: ((لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقَصَرِ الصَّلَاۃُ (وَفِی رِوَایَۃٍ مَاقُصِرَتْ وَمَا نَسِیْتُ)۔)) قَالَ: فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ إِلاَّ رَکْعَتَیْنِ، قَالَ: ((کَمَا یَقُوْلُ ذَُوالْیَدَیْنِ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، فَجَائَ فَصَلَّی الَّذِی تَرَکَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُوْدِہِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَکَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُوْدِہِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَکَبَّرَ، قَالَ: فَکَانَ مُحَمَّدٌ یُسْئَلُ: ثُمَّ سَلَّمَ؟ فَیَقُوْلُ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۷۲۰۰)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پچھلے پہر کی (ظہر اور عصر کی) دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تو اس نماز کا ذکر کیا تھا، لیکن ابن سیرین اس کو بھول گئے تھے، بہرحال آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی کے پاس آ گئے۔ایک روایت میں ہے: پھر آپ قبلہ کی سمت پڑے ہوئے ایک تنے کے پاس آئے آپ اس کے ساتھ کمر کی ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔ پس آپ نے اس کے ساتھ کمر کی ٹیک لگا لی اور اپنا ہاتھ بھی اس پر رکھ لیا، گویا کہ آپ غصے میں ہیں،اُدھر مسجد کے دروازوں سے جلد باز لوگ یوں کہتے ہوئے نکلتے گئے: نماز کم ہو گئی ہے۔ لوگوں میں سیدنا ابو بکراورسیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی موجود تھے، لیکن وہ دونوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کرنے سے گھبرا گئے، لوگوں میں ایک آدمی تھا، اس کے ہاتھ ذرا لمبے تھے، اسی وجہ سے اسے ذوالیدین کہتے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیںیا نماز کم ہوگئی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے۔ وہ کہنے لگا: یقینا آپ نے دو رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ نے پوچھا: (بات ایسے ہی ہے) جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور نماز کی جتنی رکعتیں رہ گئی تھیں، وہ ادا کیں، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور عام سجدوں کی طرح یا ان سے بھی لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، پھر عام سجدوں کی طرح یا لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، ابن عون کہتے ہیں: جب محمد بن سیرین سے پوچھا گیا کہ کیا (سجدوں کے بعد) سلام پھیرا تھا، تو انھوں نے کہا: مجھے سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حوالے سے یہ بتلایا گیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تھا۔
Takhreej
(۱۹۸۹) تخریج: أخرجہ مطولا و مختصرا البخاری: ۴۸۲، ۱۲۲۹، ۶۰۵۱، ومسلم: ۵۷۳ (انظر: ۷۲۰۱، ۷۳۷۶)
1989
Sahih
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ
۔ (۱۹۸۹م) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ سَمِعَ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَیَقُوْلُ سَمِعْتُ أَبَاھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ صَلّٰی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِحْدٰی صَلَاتَیِ الْعَشِیِّ إِمَّا الظُّہْرَ وَأَکْثَرُ ظَنِّیْ أَنَّہَا الْعَصْرُ فَذَکَرَ نَحْوَ مَاتَقَدَّمَ۔ (مسند احمد: ۷۳۷۰)
۔ (دوسری سند)محمد بن سیرین کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، انھوں نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پچھلے پہر کی دو نمازوںمیںسے ایک نماز پڑھائی ظہر یا عصر پڑھی، اور میرا زیادہ گمان یہ ہے انھوںنے نمازِ عصر کا ذکر کیا تھا، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
1989
Sahih
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ
۔ (۱۹۹۰) (وِمِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ فَقَالَ لَہُ ذُوالشَّمَالَیْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرٍو، وَکَانَ حَلِیْفًا لِبَنِیْ زُھْرَۃَ: أَخُفِّفَتِ الصَّلَاۃُ أَمْ نَسِیْتَ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَقُوْلُ ذُوالْیَدَیْنِ؟)) قَالُوْا: صَدَقَ یَا نَبِیَّ اللَّہِ! فَأَتَمَّ بِہِمُ الرَّکَعَتَیْنِ اللَّتَیْنِ نَقَصَ۔ (مسند احمد: ۷۶۵۳)
۔ (تیسری سند) سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، سیدنا ذوالشمالین بن عبد عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، بنو زہرہ کے حلیف تھے، نے آپ سے کہا: آیا نماز میں تخفیف کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس نے سچ کہا ہے، پھر آپ نے ان کو ساتھ لے کر وہ دو رکعتیں مکمل کیں، جو رہ گئی تھیں۔
Takhreej
(۱۹۹۰) تخریج: أخرجہ مالک فی المؤطا : ۱/ ۹۴، وابوداود: ۱۰۱۳، والنسائی: ۳/ ۲۵، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۷۶۵۳)
Explanation
فوائد:… ائمۂ حدیث کا اتفاق ہے کہ اس حدیث میں امام زہری کو وہم ہوا، جس کی وجہ سے انھوں نے اس قصے کو ذوالشمالین بن عبد عمرو کی طرف منسوب کر دیا، حالانکہ یہ صحابی غزوۂ بدر میں شہید ہو گئے تھے اور اس حدیث میں بیان کیا گیا واقعہ سات سن ہجری کے بعد پیش آیا تھا، مزید تفصیل آگے آ رہی ہے، سنن نسائی کی ایک روایت میں بھی ذوالشمالین ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
1990
Sahih