مسنداحمد

Musnad Ahmad

سجدہ سہو کے ابواب

جو شخص چار رکعت والی نماز کی پانچ رکعتیں ادا کر لے

۔ (۲۰۰۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الظُّہْرَ خَمْسًا، فَقِیْلَ: زِیْدَ فِی الصَّلَاۃِ؟ قِیْلَ: صَلَّیْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۳۵۶۶)

سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہرکی پانچ رکعات پڑھادیں، کسی نے پوچھا: کیانماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ کسی نے کہا: آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سجدے کئے۔

۔ (۲۰۰۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی بِہِمْ خَمْسًا، ثُمَّ انْفَتَلَ فَجَعَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ یُوَشْوِشُ إِلٰی بَعْضٍ، فَقَالُوْا لَہُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! صَلَّیْتَ خَمْسًا؟ فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ بِہِمْ سَجْدَتَیْنِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((إِنَّمَا أَنا بَشَرٌ أَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ۔)) (مسند احمد: ۴۲۸۲)

۔ (دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو پانچ رکعات پڑھا دیں اورسلام پھیر کر ان کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے، بعض لوگ ایک دوسرے کے ساتھ پوشیدہ طور پر باتیں کرنے لگے پس انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ نے پانچ رکعات پڑھا دی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھرے اور دو سجدے کر کے سلام پھیر دیا اور فرمایا: میں ایک انسان ہی ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔

۔ (۲۰۰۴) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَجَدَھُمَا بَعْدَ السَّلَامِ، وَقَالَ مَرَّۃَ: إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَجَدَ السَّجْدَتَیْنِ فِی السَّہْوِ بَعْدَ السَّلَامِ۔ (مسند احمد: ۳۵۷۰)

۔ (تیسری سند) سیدنا عبداللہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام کے بعد سجدے کیے اور ایک مرتبہ فرمایا: یقینا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سہو میں سلام کے بعد دو سجدے کئے۔

۔ (۲۰۰۵) (وَمِنْ طَرِیقٍ رَاِبعٍ) عَنْ الْأَ سْوَدِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرِ خَمْسًا ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَاتَانِ السَّجْدَ تَانَ لِمَنْ ظَنَّ مِنْکُمْ أَنَّہُ زَادَ أَوْنَقَصَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۸۳)

۔ (چوتھی سند)سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھا دیں اور پھرسہو کے دو سجدے کیے اور اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں، جسے یہ خیال آنے لگے کہ اس سے زیادتی ہو گئی ہے یا کمی۔

۔ (۲۰۰۶) (وَمِنْ طَرِیقٍ خَامِسٍ) عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَہَا فِی الصَّلَاۃِ فَسَجَدَ بِہِمْ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ بَعْدَ الْکَلَامِ۔ (مسند احمد: ۴۳۵۸)

۔ (پانچویں سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں بھول گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کلام کرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔