TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان - نفل نماز کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of نفل نماز کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 13 · 13 Hadith
۔ (۲۰۴۳، ۲۰۴۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِکُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْھَا قُبُوْرًا۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((صَلُّوْافِیْ بُیُوْتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْھَا قُبُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۴۶۵۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنی نمازوں کا کچھ حصہ گھروں میں بھی ادا کیا کرو اور انہیں قبرستان نہ بنائو۔ ایک روایت میں ہے: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور ان کو قبریں نہ بنا لو۔
Takhreej
(۲۰۴۳، ۲۰۴۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۳۲،۱۱۸۷ ومسلم: ۷۷۷ (انظر: ۴۵۱۱، ۴۶۵۳)
2043
Sahih
۔ (۲۰۴۳، ۲۰۴۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِکُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْھَا قُبُوْرًا۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((صَلُّوْافِیْ بُیُوْتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْھَا قُبُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۴۶۵۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنی نمازوں کا کچھ حصہ گھروں میں بھی ادا کیا کرو اور انہیں قبرستان نہ بنائو۔ ایک روایت میں ہے: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور ان کو قبریں نہ بنا لو۔
Takhreej
(۲۰۴۳، ۲۰۴۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۳۲،۱۱۸۷ ومسلم: ۷۷۷ (انظر: ۴۵۱۱، ۴۶۵۳)
2044
Sahih
۔ (۲۰۴۵) عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ قَالَ: سَأَلْنَا عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ تَطَوُّعِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّہَارِ، فَقَالَ: إِنَّکُمْ لَا تُطِیْقُوْنَہُ، قَالَ: قُلْنَا: أَخْبِرْنَا بِہِ، نَأْخُذُ مِنْہُ مَا أَطَقْنَا، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا صَلَّی الْفَجْرَ أَمْھَلَ حَتّٰی إِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ ھٰہُنَا یَعْنِی مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَ ھَا مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ مِنْ ھٰہُنَا یَعْنِی مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ یُمْہِلُ حَتّٰی إِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ ھٰہُنَا یَعْنِی مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَھَا مِنْ صَلَاۃِ الظُّہْرِ مِنْ ھٰہُنَا یَعْنِیْ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلّٰی أَرْبَعًا وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّہْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَھَا، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ یَفْصِلُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ بِالتَّسْلِیْمِ عَلَی الْمَلَائِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَالنَّبِیِّیْنَ وَمَنْ تَبِعَہُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ، قَالَ: قَالَ عَلَیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: تِلْکَ سِتَّ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً تَطَوُّعُ النَّبِیِّ ّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّہَارِ وَقَلَّ مَنْ یُدَاوِمُ عَلَیْہَا۔ (مسند احمد: ۶۵۰)
عاصم بن ضمرۃ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے وقت کی نفلی نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: تم تو اس کی ادائیگی کی طاقت ہی نہیں رکھتے۔ ہم نے کہا: آپ ہمیں بتا تو دیں، جتنی طاقت ہم میں ہوئی، ہم اس کے مطابق عمل کریں گے، انہوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو ٹھہر جاتے حتیٰ کہ جب سورج مشرق کی سمت میں اتنا بلند ہو جاتا جتنا کہ عصر کی نماز کے وقت مغرب کی طرف ہوتا ہے، اس وقت آپ اٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹھہر جاتے، حتیٰ کہ جب سورج مشرق کی سمت میں وہاں آ جاتا، جہاں ظہر کے وقت مغرب میں ہوتا ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار رکعت ادا کرتے، پھر چار رکعتیں ظہر سے پہلے پڑھتے، جکہ سورج ڈھل چکا ہوتا تھا، ظہر کے بعد دو رکعتیں اورعصر سے پہلے چار رکعت ادا کرتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے درمیان مقرب فرشتوں، نبیوں اور ان کی پیروی کرنے والے مومنوں اور مسلمانوں کے لیے سلامتی کی دعا کرنے کے ساتھ فرق کرتے (یعنی سلام پھیرتے)۔ پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ سولہ رکعات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دن کے وقت نفل نماز ہے اور ایسے لوگ کم ہی ہیں، جو ان پر ہمیشگی کرتے ہیں۔
Takhreej
(۲۰۴۵) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۱۶۱، والترمذی: ۴۲۴، ۴۲۹، والنسائی: ۲/ ۱۲۰ (انظر: ۶۵۰)
2045
Sahih
۔ (۲۰۴۶) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ حَبِیْبُ بْنُ أَبِیْ ثَابِتٍ لِأَبِیْ إِسْحَاقَ حِیْنَ حَدَّثَہُ: یَا اَبَا إِسْحَاقَ! یَسْوٰی حَدِیْثُکَ ھٰذَا مِلْئَ مَسْجِدِکَ ذَھَبًا، (وَفِی لَفْظٍ:) قَالَ حَبِیْبُ بْنُ أَبِیْ ثَابِتٍ: یَا أَبَا إِسْحَاقَ! مَاأُحِبُّ أَنَّ لِیْ بِحَدِیْثِکَ ھٰذَا مِلْئَ مَسْجِدِکَ ھَذَا ذَھَبًا۔ (مسند احمد: ۱۲۰۸)
جبیب بن ابی ثابت نے کہا: اے ابو اسحاق! اے ابو اسحاق! آپ کییہ حدیث تو آپ کی سونے سے بھری ہوئی مسجد کے برابر ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: حبیب بن ابی ثابت نے کہا: اے ابو اسحاق! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے لئے آپ کی اس حدیث کے بدلے سونے سے بھری ہو مسجد ہو۔
Takhreej
(۲۰۴۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۱۲۰۸)
2046
Sahih
۔ (۲۰۴۷) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ مِنَ التَّطَوُّعِ ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ وَبِالنَّھَارِ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً۔ (مسند احمد: ۱۲۶۱)
اور اس سے یہ بھی روایت ہے فرمایا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کے وقت نوافل آٹھ رکعات اور دن کے وقت بارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۰۴۷) تخریج: سعید بن خثیم وفضیل بن مرزوق صدوقان یھمان۔ أخرجہ ابویعلی: ۴۹۵ (انظر: ۱۲۶۱)
Explanation
فوائد:… ابو اسحاق سے صحیح اسانید سے مروی روایات میں دن میں سولہ رکعت نفلی نماز کا ذکر ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۹۳۵) میں گزر چکا ہے۔
2047
Sahih
۔ (۲۰۴۸) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی عَلٰی کُلِّ إِثْرِصَلَاۃٍ (وَفِیْ رِوایَۃٍ: فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ) مَکْتُوْبَۃٍ رَکْعَتَیْنِ اِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۶)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۰۴۸) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۷۵(انظر: ۱۰۱۲، ۱۲۲۶)
2048
Sahih
۔ (۲۰۴۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الظُّہْرِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ ھَا، وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِیْ بَیْتِہِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ فِیْ بَیْتِہِ، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِیْ حَفْصَۃُ أَنَّہُ کَانَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ حِیْنَیَطْلُعُ الْفَجْرُ وَیُنَادِی الْمُنَادِیْ بِا لصَّلَاۃِ قَالَ أَیُّوبُ (أَحَدُالرُّوَاۃِ) أُرَاہُ قَالَ خَفِیْفَتَیْنٍ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْجُمْعَۃِ فِی بَیْتِہِ۔ (مسند احمد: ۴۵۰۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعت، اس کے بعد دو رکعت، مغرب کے بعد دو رکعت گھر میں، عشاء کے بعد دو رکعت گھر میں نماز پڑھی، اور مجھے سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بتایا کہ جب فجر طلوع ہوجاتی اور مؤذن نماز کے لئے اذان کہہ دیتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہلکی پھلکی دو رکعتیں ادا کرتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں گھر میں پڑھتے تھے۔
Takhreej
تخریج: أخرجہ مطولا و مختصرا البخاری: ۱۱۶۵، ۱۱۸۰، ومسلم:۸۸۲، وابوداود: ۱۱۲۸، والترمذی: ۴۲۵، ۴۳۲، والنسائی: ۳/ ۱۱۳ (انظر: ۴۵۰۶، ۴۵۹۱)
2049
Sahih
۔ (۲۰۵۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ الظُّہْرِ سَجْدَتَیْنِ وَبَعْدَھَا سَجْدَتَیْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَیْنِ وَبَعْدَ الْعِشَائِ سَجْدَتَیْنِ وَبَعْدَ الْجُمْعَۃِ سَجْدَ تَیْنِ، فَأَمَّا الْجُمْعَۃُ وَالْمَغْرِبُ فِی بَیْتِہِ، قاَلَ: وَأَخْبَرَ تْنِی أُخْتِی حَفْصَۃُ أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّی سَجْدَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ وَکَانَتْ سَاعَۃً لَا أَدْخُلُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۴۶۶۰)
۔ (دوسری سند)سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو ،اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ اور مغرب کے بعد والی نماز گھر میں پڑھتے تھے۔ اور مجھے میری بہن سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتایا کہ جب فجر طلوع ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ ایسی گھڑی تھی کہ میں اس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس نہیں جاتاتھا۔
Takhreej
(۲۰۵۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۷۲، ومسلم: ۷۲۹، وروایۃ البخاری: فأما المغرب والعشاء ففی بیتہ، وروایۃ مسلم: فأما المغرب والعشاء والجمعۃ، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۴۶۶۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے ظہر سے پہلے دو سنتیں ثابت ہو رہی ہے، اگلے باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیشہ ظہر سے پہلے چار سنتیں پڑھا کرتے تھا، اب اِس سے مراد یہ ہے کہ بسا اوقات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے یا سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو صرف دو رکعتوں کا علم ہو سکا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار ہی پڑھا کرتے تھے، یہ دونوں احتمال ممکن ہیں، بہرحال چار کی افضلیت مسلّم ہے۔
2050
Sahih
۔ (۲۰۵۱) عَنْ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: کَانَتْ صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّتِیْ لَایَدَعُ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الظُّہْرِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَھَا وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ۔ (مسند احمد: ۵۱۲۷)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ظہر سے پہلے دو، اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور فجر سے پہلے دو رکعتیں،یہ ایسی نماز تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس کو ترک نہیں کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۰۵۱) تخریج: حدیث صحیح، انظر الحدیث السابق: ۹۳۸ (انظر: ۵۱۲۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے ظہر سے پہلے دو سنتیں ثابت ہو رہی ہے، اگلے باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیشہ ظہر سے پہلے چار سنتیں پڑھا کرتے تھا، اب اِس سے مراد یہ ہے کہ بسا اوقات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے یا سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو صرف دو رکعتوں کا علم ہو سکا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار ہی پڑھا کرتے تھے، یہ دونوں احتمال ممکن ہیں، بہرحال چار کی افضلیت مسلّم ہے۔
2051
Sahih
۔ (۲۰۵۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ التَّطَوُّعِ فَقَالَتْ: کَانَ یُصَلِّیْ قَبْلَ الظُّہْرِ أَرْبَعًا فِیْ بَیْتِی ثُمَّ یَخْرُجُ فَیُصَلِّیْ بِالنَّاسِ ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی بَیْتِیْ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، وَکَانَ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی بَیْتِہِ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، وَکَانَ یُصَلِّیْ بِہِمُ الْعِشَائَ ثُمَّ یَدْخُلُ بَیْتِیْ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، وَکَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ تِسْعَ رَکَعَاتٍ فِیْہْنَّ الْوِتْرُ، وَکَانَ یُصَلِّی لَیْلاً طَوِیْلاً قَائِمًا وَلَیْلاً طَوِیْلاً جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَھُوَ قَائِمٌ رَکَعَ وَسَجَدَ وَھُوَ قَائِمٌ وَإِذَا قَرَأَ وَھُوَ قَاعِدٌ رَکَعَ وَسَجَدَ وَھُوَ قَاعِدٌ وَکَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَخْرُجُ فَیُصَلِّیْ بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الْفَجْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۰)
عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھ کر نکلتے تھے، پھر لوگوں کو نماز پڑھا کر میرے گھر واپس آتے اور دو رکعتیں ادا کرتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا کر گھر میں واپس آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے،پھر آپ عشاء کی نماز پڑھاکر میرے گھر میں داخل ہوتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو وتر سمیت نو رکعت نماز پڑھتے تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو کافی وقت کھڑے ہو کر اور کافی وقت بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو کر قراء ت کر رہے ہوتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہوکر ہی ادا کرتے تھے اور جب قراء ت بیٹھ کر کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر ہی اداکرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعت نماز ادا کر کے چلے جاتے اور جا کر لوگوں کو نماز پڑھاتے۔
Takhreej
(۲۰۵۲) تخریج: أخرجہ بتمامہ ومختصرا مسلم: ۷۳۰ (انظر: ۲۴۰۱۹)
2052
Sahih
۔ (۲۰۵۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: کَانَ یُصَلِّیْ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّھْرِ وَثِنْتَیْنِ بَعْدَھَا، وَثِنْتَیْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَثِنْتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَثِنْتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ، ثُمَّ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ تِسْعًا۔ قُلْتُ أَقَائِمًا أَوْ قَاعِدًا؟ قَالَتْ: یُصَلِّیْ لَیْلاً طَوِیْلاً قَائِمًا وَلَیْلاً طَوِیْلاً قَاعِدًا۔ قُلْتُ کَیْفَیَصْنَعُ إِذَا کَانَ قَائِمًا وَکَیْفَیَصْنَعُ إِذَا کَانَ قَاعِدًا؟ قَالَتْ: إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَکَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَکَعَ قَاعِدًا، وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۳۹)
وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر سے پہلے چار،اس کے بعد دو، عصر سے پہلے دو، مغرب کے بعد دو اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، اوررات کو نو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔میں نے کہا: کھڑے ہو کر پڑھتےیا بیٹھ کر؟ انہوں نے کہا: کافی دیر کھڑے ہوکر اور کافی دیر بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، میں نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوکر اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو کیسے کرتے؟ انہوں نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوکر قراء ت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہوکر کرتے اور جب بیٹھ کر قراء ت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے اور نمازِ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۰۵۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۵۸۱۹)
Explanation
فوائد:… سجدے تو بیٹھ کر ہی کیے جاتے ہیں، اس حدیث میں سجدوں سے پہلے والی کیفیت بیان کی گئی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت کھڑے ہوتے یا بیٹھے ہوتے۔ لیکنیہ بھی سنت ہے کہ بیٹھ کر قراء ت شروع کی جائے، پھر اسی رکعت میں کھڑے ہو کر کچھ تلاوت کر کے رکوع و سجود کیے جائیں، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا بَدَّنَ وَثَقُلَ یَقْرَأُ مَا شَائَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَھُوَ جَالِسٌ فَإِذَا غَبَرَ مِنَ السُّوْرَۃِ ثَلَاثُوْنَ أَوْأَرْبَعُوْنَ آیَۃً قَامَ فَقَرَأَھَا ثُمَّ سَجَدَ۔… رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب عمر رسیدہ اور بھاری ہوگئے، تو جتنی اللہ تعالیٰ چاہتا آپ بیٹھ کر تلاوت کرتے اور جب سورت کی تیسیا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے اور ان کی تلاوت کر کے پھر سجدہ کرتے۔ (بخاری: ۱۱۴۸، مسلم: ۷۳۱)
2053
Sahih
۔ (۲۰۵۴) عَنْ قَابُوْسٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: أَرْسَلَ أَبِیْ اِمْرَأَۃً إِلٰی عَائِشَۃَیَسْأَلُھَا أَیُّ الصَّلَاۃِ کَانَتْ أَحَبَّ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُوَاظِبَ عَلَیْہَا؟ قَالَتْ: کَانَ یُصَلِّیْ قَبْلَ الظُّہْرِ أَرْبَعًا یُطِیْلُ فِیْہِنَّ الْقِیَامَ وَیُحْسِنُ فِیْہِنَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ، فَأَمَّا مَالَمْ یَکُنْیَدَعُ صَحِیْحًا وَلَا مَرِیْضًا وَلَا غَائِبًا وَلَا شَاھِدًا، فَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۶۵)
قابوس کے باپ نے ایک عورت کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف بھیجا کہ وہ ان سے یہ پوچھ کر آئے کہ کون سی نماز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھی کہ آپ اس پر ہمیشگی کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے اور ان میں لمبا قیام کرتے اور اچھے انداز میں رکوع و سجود ادا کرتے، رہا مسئلہ اس نماز کا کہ جسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تندرستی کی حالت میں، بیماری کی حالت میں، اور سفر میں اور حضر میں نہ چھوڑتے ہوں، وہ فجر سے پہلے والی دو رکعتیں ہیں۔
Takhreej
(۲۰۵۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ المرأۃ التی أرسلھا والد قابوس، وقابوس فیہ لین، وقال ابن حبان: کان ردیء الحفظ، ینفرد عن أبیہ بما لا أصل لہ۔ أخرجہ الطیالسی: ۱۵۷۵، وأخرجہ مختصرا ابن ماجہ: ۱۱۵۶، وابن ابی شیبۃ: ۲/ ۲۰۰ (انظر: ۲۴۱۶۴)
2054
Zaeef
۔ (۲۰۵۵) عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ بِعَنْبَسَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ الْمَوْتُ، اِشْتَدَّ جَزَعُہُ، فَقِیْلَ لَہُ: مَا ھٰذَا الْجَزَعُ؟ قَالَ إِنِّی سَمِعْتُ أُمَّ حَبِیْبَۃَیَعْنِی أُخْتَہُ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَلّٰی أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّہْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَھَا حَرَّمَ اللّٰہُ لَحْمَہُ عَلَی النَّارِ۔)) فَمَا تَرْکْتُہُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُہُنَّ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۰۰)
حسان بن عطیہ کہتے ہیں: جب عنبسہ بن ابی سفیان کی موت کا وقت آیا تو ان کی گھبراہٹ بڑھ گئی، کسی نے ان سے کہا: یہ گھبراہٹ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اپنی بہن سیدہ ام حبیبہ سے سنا ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار اورا س بعد چار رکعات پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے گوشت کو آگ پر حرام کردے۔ اور میں نے جب سے ان سے یہ حدیث سنی ہے، ان آٹھ رکعات کو ترک نہیں کیا۔
Takhreej
(۲۰۵۵) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۴۲۸، والنسائی: ۳/۲۶۴، ۲۶۵ (انظر: ۲۶۷۶۴)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث اس سیاق کے ساتھ صحیح ہے: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی صورت میں ظہر سے پہلے چار اور فجر سے پہلے دو سنتیں نہیں چھوڑا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۱۱۸۲، مسند احمد: ۲۴۳۴۰)
2055
Sahih