مسنداحمد

Musnad Ahmad

نفل نماز کے ابواب

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان


۔ (۲۰۵۱) عَنْ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: کَانَتْ صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّتِیْ لَایَدَعُ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الظُّہْرِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَھَا وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ۔ (مسند احمد: ۵۱۲۷)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ظہر سے پہلے دو، اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور فجر سے پہلے دو رکعتیں،یہ ایسی نماز تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس کو ترک نہیں کرتے تھے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۰۵۱) تخریج: حدیث صحیح، انظر الحدیث السابق: ۹۳۸ (انظر: ۵۱۲۷)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اس حدیث سے ظہر سے پہلے دو سنتیں ثابت ہو رہی ہے، اگلے باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیشہ ظہر سے پہلے چار سنتیں پڑھا کرتے تھا، اب اِس سے مراد یہ ہے کہ بسا اوقات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے یا سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو صرف دو رکعتوں کا علم ہو سکا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار ہی پڑھا کرتے تھے، یہ دونوں احتمال ممکن ہیں، بہرحال چار کی افضلیت مسلّم ہے۔